Tuesday, April 25, 2017

تاج محل ۔
رنگ و نور کا ایک سیلاب تھا ہر طرف رنگین آنچل سر سرا رہے تھے قہقہے آبشار کی صورت بہہ رہے تھے ۔ہوسٹل کے ہرے بھرے لان میں فنکشن کا انتظام کیا گیا تھا ۔ہر طرف زندگی تھی ہر جانب ایک جوش ایک ولولہ تھا اور ایسے میں جب وہ ملے تو تاج محل خود بخود  بننے لگا  ۔وہ نازک جزبوں کا کنوارے سپنوں کا ایک نرم احساس کا  تاج محل ہی تو تھا جو دعا اور شاہ جہاں بنا رہے تھے
 گویا دنیا انکے کہے پر چلنے لگی تھی ہر بات میں کتنی زندگی تھی اور زندگی کتنی بھر پور تھی ۔سب کچھ تو تھا اسکے پاس  ہاں ! جب کسی کے پاس ایک صرف ایک چاہنے والا ہو جو ہر لمحہ ہر سانس میں محبّتوں کا نذرانہ پیش کرے تو پھر کسی چیز کی کمی کہاں رہتی ہے ۔
جذبے انمول ہوجاتے ہیں لمحے سر سراتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور وقت کا تو احساس ہی نہیں رہتا کچھ یاد نہیں رہتا کچھ بھی نہیں ۔
اور رہے بھی کیسے جب کوئی ایسا کہے ۔۔
"تم جس طرف دیکھ لو راہیں جی اٹھیں ۔۔۔تم ہو تو سب کچھ ہے ۔۔تم میری تکمیل ہو ۔۔میں ابتک کیسے جی رہا تھا مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ دنیا اسقدر حسین ہے ۔
تمہارے ساتھ بتائے ہوئے پل تو میری زندگی کا حاصل ہیں ۔
تم ہو تو زندگی ہے خواب ہیں اور خواب کی تعبیریں ہیں اور میں اپنے اس خواب کی تعبیر ضرور حاصل کرونگا خواہ مجھے اسکے لئے کچھ بھی کر نا پڑے ۔ ہاں کچھ بھی ۔میں جان سے گزر جاؤنگا تمہیں پانے کے لئے ۔میرا کوئی نہیں بس تم ہو صرف تم ۔۔مجھے کبھی اکیلا نہ کر دینا ۔۔۔بکھر جاؤنگا میں ۔"
کون ایسا بے حس ہوگا جو یہ سب سنکر پگھل نہ جائے ۔شاید بے جان سنگِ مر مر کے سامنے دو زانوں ہوکر کوئی روز اسطرح کے جملے دہرائے تو وہ بھی پگھل کر آنسو بن جائے ۔وہ ضد وہ محبّت  یا جو کچھ بھی تھی جیت گئی کہ اسے جیتنا ہی تھا جب دو دل ایک ساتھ دحڑکنے لگیں تو اور کوئی آواز سنائی کہاں دیتی ہے ؟
اور جب یہ بات دعا کے گھر تک پہونچی تو ایک طوفان سا آگیا ۔
"مجھے یقین ہے کہ یہ بات غلط ہوگی " بہن کا اعتماد بول رہا تھا ۔
"میں اسے جان سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"بھائی کا جلال دہاڑ رہا تھا ۔
"مگر مجھے وہ پسند ہے  میں اسکے بنا نہیں جی سکوں گی ۔۔"وہ باپ کے زانوں پر سر رکھّے سسک رہی تھی ۔
وہ خاموش افسردہ اسکے آنسوؤں بھرے چہرے کو تک رہے تھے گویا سارے آنسو اپنے دل پر لے رہے ہوں ۔
"آخر تم وہاں پڑھنے گئی تھیں یا یہ سب کرنے  ہم زندہ ہیں نا تمہارے لئے سوچنے کو " بڑی بہن نے ایک تھپّڑ رسید کیا ۔
مگر باپ نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا ۔
"نہ مارو ۔۔بن ماں کی بچّی ہے "انھوں نے اپنے آنسوں کرتے کی آستین سے صاف کئے ۔
"فکر مت کرو انھوں نے دعا کا سر سینے سے لگا یا ۔۔۔بس مجھے کچھ وقت دے دو ۔۔"
مگر اسے صبر کہاں تھا ۔
ان ساری مشکلوں کو طے کرتی ہوئی ،اپنوں کے دلوں کو روندتی ہوئی آگے بڑھ گئی دعا ۔
نئی زندگی تھی ۔۔۔نئے نئے رنگ تھے وہاں پرانے آنسو یاد بھی کہاں آتے کسی کے ،خواہ وہ بہن کے ہوں بھائی کے یا اپنے شفیق باپ کے ۔شادی ہوگئی تاج محل کی بنیاد رکھ دی گئی ۔
مگر ایک درار تھی  ایک گرہ تھی  یا شاید احساسِ جرم ۔۔خوشیان کترا نے لگی تھیں ۔
بیفکری کی زندگی ختم ہوچکی تھی ۔بہت کچھ بر داشت  کر نا پڑ رہا تھا ۔
اور پھر قدرت کا ایک تماچہ ایسا تھا جس نے اسے بے حال کردیا ۔
"میں نے تو اسے گود میں بھی نہیں لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔"وہ چیخ چیخ کر رورہی تھی ۔
مگر وہاں کوئی نہیں تھا جو انکے آنسو ؤں کو اپنی پوروں میں سمیٹ لیتا وہ آنسو جو دعا اپنی پہلی اولاد کے لئے بہا رہی تھی وہ اسکا اپنا دامن ،اپنا گریبان بھگو رہے تھے ما متا کے درد نے اسے بے حال کردیا تھا ۔
یہ اسکی  پہلی دعا تھی جو ٹوٹ کر بکھر رہی تھی ۔ننھا ساوجود جھولے میں ہنستا کھیلتا خاموش ہوگیا ۔اور وہ کچھ نہ کر سکی ۔۔
ایک طوفان تھا جسنے تاج محل کو دھندلا کر دیا تھا  وہ تکلیف جس سے دعا گزری کوئی تصورّ نہیں کر سکتا تھا ۔۔اسکا ساتھی  بھی نہیں ۔
اور تب پتہ چلا کہ اولاد کا  درد کیسا ہوتا ہے
۔اور تب پتہ چلا کہ باپ بھائیوں کا سایہ کیا ہوتا ہے
۔۔اور تب سمجھ میں آیا کہ اکیلا پن کیا ہوتا ہے آنسو کیا ہوتے ہیں چیخیں کیا ہوتی ہیں ۔
دو برس کے بعد خالی گود کے ساتھ اپنے گھر کے در ودیوار دیکھے ۔
"آگیئں منھ کالا کر کے ۔۔" منھ پھیر لیا گیا ۔
"وہ شادی کر کے گئی تھی " کوئی ہمدرد بھی موجود تھا ۔
"ہنھ ۔۔   شادی ۔۔۔۔۔گھر والوں کی مرضی کے خلاف ۔۔"
"باپ تو راضی تھے ۔۔"ہمدرد کا دل دکھا شاید ۔
"راضی نہیں مجبور تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

 طنز کے سلسلے قائم رہے وہ دیواروں سے لپٹ کر روئی ۔
دوستوں نے منھ پھیر لیا عزیزوں نے اپنی محفلوں میں بلا نا چھوڑ دیا ۔اسکے دل میں کانٹے چبھتے ۔۔۔مگر ایک چپ تھی بس ایک چپ ۔
دبلا بدن کانٹے جیسا ہو گیا تھا ۔پیلا چہرہ ، خالی آنکھیں ۔ ۔لوگ اس پر ترس کھانے لگے تھے
۔کبھی کبھی تو اسکا شاہ جہاں بھی پوچھ بیٹھتا ۔۔
"تمہاری آنکھوں کی چمک کہاں کھو گئی ہے دعا ؟"
وقت کے بہت سارے ورق الٹ گئے ۔اللہ نے اپنی رحمت سے نواز دیا تھا ۔دعا کی گود بھر گئی تھی ۔۔
مگر تبھی دوسرا تماچہ اسکی زندگی کو روندتا چلا گیا ۔چاہنے والے ابّا کی میّت پر بھی نہ جاسکی ۔۔ہزاروں میل کی دوری ۔۔پر دیس میں اسنے دکھ اکیلے ہی منا یا جہاں نہ آسمان اپنا تھا نہ زمین ۔سمندر کا نمکین پانی اسکے آنسوں میں ملکر بہتا رہا ۔
تاج محل پر دھول تو بہت پہلے پڑنے لگی تھی مگر اب بھی کبھی دھندلا  دھندلا نظر آجاتا تھا ۔
اچھّی بیوی بننے کی کوشش میں اپنے آپ کو مٹا دیا اسنے ۔ہر حال میں خوش رہ کر دکھا یا اسنے ،گھر کو سجا یا سنوارا ۔اسکے دوستوں کی دعوتیں کرتی گرمی میں بے حال ہوکر بھی اپنے آپ کو سجا سنوار کر پیش کرتی ۔فر مائیشوں کے کھانے پکاتی کبھی تھکن کی شکایت بھی لبوں پر نہ آنے دیتی ۔
اب اور کیا چاہیئے تھا زندگی سے ۔مگر ابھی قدرت کے پاس کچھ تیر باقی تھے ۔
پر دیس تو سبھی جاتے ہیں مگر یوں جاکر وہاں کے باسی ہوجانا ؟ جبکہ بچّے یہاں منتظر ۔۔۔بیوی یہاں آس میں اور یہ میلوں کی دوری دلون کی دوری بن رہی تھی ۔اس زندگی کو جسے بڑے شوق سے جینے کے لیئے گھر والوں سے چھین کر لائے تھے ۔۔وہ یہاں مہینوں خط اور فون کے انتظار میں بے چین رہتی  ۔
سکوت ِ فکر میں ایک اور سال بیت گیا ۔دو سال ۔۔۔تین سال ۔۔چار ۔۔مگر دعا کا اعتبار اب بھی قائم
ادھر ادھُر کی گفتگو سنائی دیتی مگر دعا کی سما عت میں تو اسکی شہد جیسی باتیں گھلی تھیں ۔عرصہ ریت کی طرح اسکے اوپر سے گزر گیا
وہ ایک قیامت کی شام تھی ۔جب اسنے بے قرار ہوکر فون کیا ۔
"بہت یاد آرہی ہے تمہاری ۔۔بڑا عجیب خواب دیکھا ہے ۔۔" وہ بے چینی سے بیان کر رہی تھی اور ادھر ہان ہوں سے پتہ چل رہا تھا کہ فون ناگوار ہو رہا ہے ۔
"کچھ بولو۔۔۔"
کیا بولوں ؟ تمہارے خوابوں سے میرا کیا تعلق ۔۔۔۔؟"وہ ششدر رہ گئی ۔
'ارے کیا ہے یار جلدی بولو ۔۔یہاں میٹنگ چل رہی ہے ۔۔" پیچھے سے دبی دبی ہنسی سنائی دی ۔
"گیارہ بجے رات      کو    میٹنگ ؟؟ "تجسس تو فطری جذبہ ہے دل کی بات ٹوٹ کر ہونٹوں پہ آئی ۔
"ایک خوبصرت لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہو ں مصروف ہوں ۔۔اب بولو ۔"
وہ دکھ اور بے یقینی سے کانپنے لگی ۔۔تبھی ادھر کسی نے اٹھلا کر کہا ۔
"بس بہت ہوگیا اب بند کرو فون ۔"
وہاں نئی ممتاز محل ہنس رہی تھی ۔۔ایک نئی تعمیر جاری تھی ۔
اڑا ڑا ڑا دھڑام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پرا نا مکان گر تا ہے نیا مکان اٹھتا ہے ۔۔بڑھیا اپنے ارتن برتن اٹھاؤ ۔۔۔۔۔تاج ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہا تھا وہ ملبے میں دبی جارہی تھی جیسے کوئی   تاج محل کے پتھّروں سے  سنگسار کر رہا ہو اسے ۔
:٭ :٭ :٭









Monday, April 24, 2017

دل کے رشتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔انجم قدوائی
روز یہی ہوتا تھا روز یہی کرتی تھی وہ ۔سر خ ،سفید یا نیلی کوئی بھی فراک پہن کر آئے ،کتنی بھی فرِش نظر آئے مگر یہی حال ہوتا تھا ۔مالی ڈرایئور گھر کی کام والی کے بچّوں کے ساتھ  کھیلنا پسند تھا اسے ۔وہ ہیشہ صبح ایک پھول کی طرح نمودار ہوتی اور شام تک گہنائے ہوئے چاند کی طرح گھر کے اندر غروب ہوجاتی ۔
وہ اس چھوٹے سے اسکول کی کچّی دیوار پر چڑھی بیٹھی مستقل پیر ہلا رہی تھی ۔فراک کی جھالر پھٹ کر اسکے گھٹنے سے الجھی ہوئی  اور چپل دھول میں اٹی ہوئی تھی ۔
"حلیہ دیکھا تم نے اپنا ؟؟  اسنے کڑھ کر اسے ڈانٹا
"کیا ہوا ہے ۔۔۔؟  ماہی نے جھک کر اپنے پیروں پر نظر ڈالی ۔۔اور پھر بیفکری سے پیر ہلانے لگی ۔
"کچھ نہیں ہوا ؟؟ کتنی گندی لگ رہی ہو تم گاؤں کے گندے سندے بچوں کے ساتھ  کھیلا کر تی ہو "
"وہ بالکل گندے نہیں ہیں ،دن میں دوبار نہاتے ہیں نہر سے ۔۔"
"اچھّا ۔۔۔جہاں بھینسیں نہاتی ہیں وہیں نا ۔۔۔؟
ہاں تو ؟؟
"کچھ نہیں ۔۔۔جاؤ مرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
میں کیوں مروں   تم مرو ۔۔" وہ کود کر ادھا کھایا ہوا امرود پھینکتی ہوئی اپنے گھر کی طرف مڑ گئی ۔
وہ وہیں بیٹھا سوچتا رہا  کڑھتا رہا ۔
وہ ایسی ہی تھی صبح صبح  گلابی فراک پہنے دو چھوٹیاں گوندھے ہوئے  صاف ستھری ،گاؤں  کے اس پرائیمری اسکول میں آتی اور سب بچوں کے جانے کے بعد بھی جانے کا نام نہ لیتی ۔۔۔۔
وہ اس سے کچھ پوچھ نہیں سکتا تھا تھا نہ جانے کیا جھجھک تھی ان کے درمیان ۔
وہ خاموش اپنے آپ میں کھویا ۔
عمر گزرتی رہی       
حالات بدلتے رہے  ۔اب وہ بہت بدل گئی تھی اپنے آپ کو سجا نا سنوارنا آگیا تھا  شہر کے ہوسٹل میں رھ کر اسے اپنے چاروں طرف اجا لا پھیلائے رکھنے کا ہنر بھی ۔
وہ اب بھی کچھ نہ کہہ سکا اور وہ دور ہوتی چلی گئی ۔۔۔اور دور ۔۔اور دور ۔
خبریں ملتی رہتیں ۔اسکا میاں بڑا بزنس مین ہے  وہ بہت خوش ہے ۔بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر میکے آتی ۔لش لش کرتے لباس پہنتی اسکے جانے کے بعد بھی گاؤں میں کئی دن اسکا چر چا رہتا اور وہ کتاب میں منھ چھپائے بظاہر لاپر واہ اسکی دائیمی خوشیوں کی دعائیں کرتا  رہتا ۔
ایک نازک سی ہمسفر کے آجانے سے زندگی بہت بدل گئی ۔وہ بے حد مخلص اور بر داشت والی لڑکی تھی ۔اسمیں زرا بھی بچپنا نہیں تھا ۔وہ سنجیدگی سے مسکراتے ہوئے اسکی ساری ضروریات پوری کرتی  مگر ایک خلا تھا ۔۔۔۔۔۔۔جو پرُ ہی نہ ہوتا تھا
ہلکی ہلکی بوندیں پڑ رہی تھیں وہ کاہلی سے لیٹا رہا  ۔اینٹوں کے بنے ہوئے آنگن  میں دونوں  بچّے  شور مچاتے ہوئے بھیگ رہے تھے ۔وہ برامدے میں بیٹھا اُداسی سے انھیں کھیلتے دیکھتا رہا ۔
اذان کی آواز سے چونک کر کرتے کی آستین الٹتے ہوئے اسنے بیٹے کو پکارا ۔

چلو علی وضو کرو ۔۔۔
بس بابا تھوڑا سا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسنے دور پڑی ہوئی بال اٹھائی ۔
کل کھیلنا بیٹے مغرب کی اذان نہیں سنی آپ نے ۔۔۔؟"
وہ خود اُداس اُداس سا وضو کرتا رہا ۔
نہ جانے آج کیوں یاد آرہی ہے   رنج سے میرا  اتنا گہرا  رشتہ کیوں ہے ۔۔۔
ابتک تو وہ ٹھیک بھی ہوگئی ہو گی  اسکی طبیعت کی خرابی تو کافی پہلے کی بات ہے ۔اس گرمی میں تو وہ نینی تال یا کشمیر میں گھوم رہی ہوگی ۔۔بوٹنگ کر تی پھر رہی ہوگی ۔شاید آج اسنے گہری ہری ساری پہنی ہو ۔
وہ اپنی ذمہ داریاں دل وجان سے پوری کرتا رہا تھا پھر بھی دل کی یہ خلش کبھی کبھی بہت بے چین سا کر دیتی ۔اور جب چھوٹی بہن عاصمہ نے اسکی بیماری کا بتا یا تو اور بھی بے چین ہوگیا ۔کہتے ہیں وقت ایک سا نہیں رہتا ۔اب اسکی ہنسی میں آنسو ؤں کی نمی بھی در آئی ہے  آج عا صمہ کی باتیں اسکو دہلا رہی تھیں ۔ماہ رخ دو بچوں کی ماں ہے ۔ابتو کئی کئی دن اسکے گھر کی دہلیز سونی رہتی ہے  وہ بچوّں کے ساتھ راہ دیکھتی رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔پھر سنا وہ شہر چھوڑ گیا ۔تنہائیاں اسے نچوڑ رہی تھیں وہ دروازے پر آس لیئے بیٹھی رہتی ہے مایوسی نے اسکے جسم میں اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں ۔یہ بتا تے بتا تے عاصمہ کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں ۔اور پھر جب بیماری کی خبر آئی تو وہ ساری مصلحتیں بھول کر پہلی ٹرین سے دہلی میں تھا ۔
ہاسٹل کا سر چکرا تا ہوا ماحول عجیب سی وحشت وہ سارے مراحل سے گزرتا ہوا اسکے کمرے میں پہونچا تو اسکا دل پھٹنے لگا
کہاں تھی وہ ؟؟ یہ تو سایہ تھا اسکا  گہری ویران آنکھیں  مایوس نظر  ۔
ہونٹوں پر مسکراہٹ نام کو نہیں تھی  سر سراتی ہوئی تنہائی اسکے آس پاس ڈول رہی تھی ۔
اچانک کمرے میں خوشبو کا ایک بھپکا آیا ۔گرے سوٹ  ہاتھ میں قیمتی موبائیل تھامے ہوئے وہ اندر داخل ہوئے تو وہ گھبرا کر کھڑا ہوگیا ۔ہاتھ ملانے کے لیئے آگے بڑھا اور برُی طرح نظر انداز کیا گیا ۔رعونت بھری نظروں میں اسے باہر نکل جانے کا حکم تھا اور وہ باہر نکل گیا ۔
"اب تو ٹھیک بھی ہوگئی ہوگی ۔"۔۔اسنے خود کلامی کی ۔
اسنے برامدے کے ساتھ بنے چھوٹے سے باورچی خانے میں کام کرتی اپنی بیوی پر نظر ڈالی ۔اسکے سوتی  کپڑے گنجلے ہوئے  سے  تھے چہرے پر پسینے کے ساتھ ساتھ ایک آسودگی اور اطمینان بھی تھا ۔
دور کہیں ہاسپٹل کے اسپیشل وارڈ میں لیٹی ماہ رخ نے کروٹ بدلی تو ہاتھ میں لگی ہوئی ڈرپ کی سوئی نے بے چین کر دیا ۔
"آہ ۔۔۔۔۔"اسنے کراہ کر اپنا ہاتھ تھام لیا ۔
کمرے کے باہر کھڑا ہوا اسکا باوقار شوہر ڈاکٹر پر برس رہا تھا ۔
"آخر آپ بتا تے کیوں نہیں آپکو پرا بلم کیا ہے ۔۔۔؟"
"سر ۔۔پرابلم مجھے نہیں آپکی مسز کو ہے ۔"ڈاکٹر شاید اسکے انداز سے متا ثر تھا ۔
ہم لوگ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں باقی اللہ کی مرضی ۔"
"عجیب باتیں کر رہے ہیں آپ ۔میں پروگرس کی بات کر رہا ہوں اور آپ مجھے واعظ دے رہے ہیں ۔آپکو اندازہ بھی ہے کہ کتنی اہم میٹنگس چھوڑ کر یہاں بیٹھا ہوں ۔۔؟ "
"سر ۔۔ہم یقینی طور پر کیسے کچھ کہہ سکتے ہیں ہمارے ہاتھ میں جو ہے وہ کر رہے ہیں ۔اگر انکی زندگی ہے تو ضرور بچ جائینگی ورنہ حالت بہت خراب ہو چکی ہے ۔بہت دیر کر دی گئی علاج میں ۔"
"ہنھ ۔۔۔۔۔زندگی ہے تو بچ ہی جائینگی اسمیں آپکا کیا کمال ہے ۔۔" وہ بڑ بڑا تا ہوا کمرے کے اندر آگیا اور بیڈ کے قریب پڑے ہوئے صوفے پر ڈھیر ہو گیا ۔۔
سامنے پڑے اخبار کو اٹھاتے ہوئے اسنے پلنگ پر لیٹی ماہ رخ پر نظر ڈالی اور بڑ بڑانے لگا
"ایک ایک منٹ قیمتی ہے میرا ۔۔۔اور یہ ڈاکٹر ۔ہنھ ۔۔۔" اسنے جھٹکے سے اخبار کا صفحہ پلٹا ۔۔۔کاغذ کی کھڑ کھڑا ہٹ اور اسکے لہجہ کی ٹھنڈک ماہ رخ کے اندر تک گئی ۔اسنے بڑی دقّت سے آنکھیں کھول کر اپنے خوبرو شوہر پر نظر ڈالی ۔وہ آج بھی ویسا ہی خوبصورت تھا  لمبا قد  کھُلتا ہوا رنگ اور پھر اسکا اپنا رکھ رکھاؤ جسکی وجہ سے وہ لاکھوں میں الگ پہچا نہ جاتا تھا ۔اسکے بات کرنے کا ڈھنگ  اسکی مسکراہٹ اور ۔۔۔اور ۔۔۔اسکی بے وفائیاں ۔
شاید یہ آخری ہچکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دور کہیں دوسری رکعت پڑھتے پڑھتے اسے جھر جھری سی آئی آنکھوں کے آگئے اندھیرا سا چھا گیا ۔وہ مصّلے پر بیٹھ گیا ۔"یا اللہ اسکی حفاظت کر نا ۔" اسنے کانپ کر دعا کی اور چہرہ ہاتھوں سے چھپا کر نہ جانے کیوں آنسو بہا نے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, December 11, 2016

انجم قدوائی 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
''ھا ئیڈ پا رک کے ذرد پتّے ''
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اداسی کی ایک تیز لہر میرے دل کو کاٹ رہی تھی اور میں پناہ لینے کے لیئے ادھر ادھر چکّر لگا رہا تھا ۔پارک اس وقت ویران تھا ۔لندن کے اس پارک کی خا صیت اس کے درخت اور ان کے بڑے اور سنہرے پتّے ہیں ۔اسکے علاوہ وہیں سڑک پر پا رک کے جنگلے سے لگا کر ایک آرٹسٹ اپنی پینٹنگس سجا لیا کر تا تھا ۔پا رک کے بیچو ں بیچ ایک مصنو عی تا لاب بنا یا گیا ہے جس میں رنگ بر نگی بطخیں تیر تی رہتی ہیں ۔جی ہا ں ۔۔۔رنگ برنگی ۔۔۔
پہلی بار جب مینے انھیں دیکھا تو مجھے بھی بیحد حیرت ہوئی تھی لیکن میں نے انھیں ان کی خوراک ( جو کہ ڈبّے میں وہیں پر ملتی ہے ) دینے کے لیئے پا س بلایا تو وہ پھڑ پھڑا تی ہوئی قریب آگئیں اور میں قد رت کا یہ نظا رہ دیکھ کر حیران ہو ا ۔۔۔یہ سارے رنگ حقیقی تھے جسطرح تتلی کے پر ۔۔۔۔۔اس دن مجھے ان بطّخو ں کو کھا نا کھلا کر بہت اچھا لگا کہ میں روز بلا نا غہ وہا ں آتا اور تا لاب کے کنا رے بیٹھ کر انھیں دیکھتا رہتا ،کھلا تا رہتا ۔ایک عجیب سا سکون اور اپنا یئت تھی اس ما حول میں شا ید با غوں کھیتو ں تا لا بو ں کو چھو ڑ کر آنے سے میں اپنی جڑو ں سے کٹ کر رہ گیا تھا ۔اور یہی وجہ تھی کہ  پارک کے ،اس پر سکون گو شہ میں بیٹھ کر مجھے سب کچھ یا د کر نے کا کا فی وقت مل جاتا ۔
اکثر میں ان سنہرے بڑے بڑے پتّو ں کو اکٹھا کر تا رہتا اور سو چتا کہ جب میں واپس اپنے وطن جاؤنگا تو یہ سارے پتّے تمنّا کو دونگا وہ بہت ذیادہ خوش ہو گی ۔
تمنّا میر ی چھو ٹی بہن کا نام ہے وہ پر اسرار حد تک آرٹسٹک ہے ۔رنگو ں اور خوبصورت پتّو ں ،رنگ بر نگّے پرو ں کو جمع کر نے والی میر ی پیا ری تمنّا ۔۔۔۔۔۔
مگر جب اس درمیان میری دوستی لو سی سے ہو گئی ۔۔۔۔۔۔میرے پاس ہا یئڈ پارک کے لیئے وقت بہت کم رہ گیا ۔
لو سی سے میری ملا قات با رش میں بھیگتے ہوئے سڑک پر ہوئی تھی ۔وہ سڑک کچھ ڈھلوان تھی اور میں ہمیشہ کی طر ح پیدل ،چھتری شاید اسکے پاس بھی نہیں تھی جبکہ وہاں کے مو سم کا تقا ضہ یہی ہے کہ چھتری ہمیشہ ساتھ رکھنی چا ہیئے۔دراصل صبح سے مو سم با لکل صا ف تھا ، دھوپ چمک رہی تھی ۔میں اسی کا ہلی میں بغیر چھتری لیئے نکل پڑا ۔۔۔۔۔۔اور اچا نک زوردار تیز با رش شروع ہو گئی۔
ہا ں تو بات ڈھلان کی تھی اچا نک لو سی کا پیر لڑ کھڑایا یہ شرارت اسکی اونچی ہیل والی سینڈل کی تھی ،وہ نا رنجی شاخ کی طرح میری با ہو ں میں آگئی اسکا چہرہ تمتما رہا تھا ۔۔۔سلیقے سے کٹے ہوئے بال اسکے چہرے پر پھیل رہے تھے کتّھئی آنکھو ں میں اک عجیب سی چمک تھی ۔ میرا فلیٹ وہیں قریب ہی تھا اس نے میری پیشکش نہیں ٹھکرائی اور میرے ساتھ  گھر آگئی ۔
 سجا یا خوبصورت فلیٹ دیکھ کروہ حیران رہ گئی ۔اسکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔۔۔کہا ں سڑک پر پیدل چلنے والا معمولی سا ہندوستانی ،اور کہا ں یہ شاندار فلیٹ ؟ مینے بھی کو ئی صفائی نہیں دی ۔
یہ ہماری پہلی ملا قات تھی ۔۔پھر وہ مجھے اکثر ملنے لگی اور ہماری دوستی میں ذیادہ دیر نہیں لگی ۔
اکثر وہ اپنے کام سے دو پہر کو فا رغ ہو کر میر ے فلیٹ پر آجاتی اور میرا انتظار کر تی ،ایک ذائد چا بی بنوانا تو میرا فر ض تھا وہ میری "اچھی " دوست جو تھی ۔
اس دن جب میں گھر آیا تو وہ کچن میں کچھ کھٹ پٹ کر رہی تھی شا ید ابھی ابھی نہا کر آئی تھی باتھ روم کا دروازہ بھی کھلا ہو اتھا ۔۔۔باہر مو سم بہت اچھا تھا میر ا اردہ تھا کہ اسکو لیکر کہیں گھو منے جاؤنگا اسی لیئے اپنے دوست سے کار بھی مانگ لایا تھا ۔جب وہ کچن سے بھاگتی ہوئی آکر بھیگے بھیگے رخسا روں اور بھیگے بالو ں کے ساتھ مجھ سے لپٹ گئی تو میرے سارے ارادے ٹوٹ پھو ٹ گئے ۔۔۔اس دن پہلی بار مینے اسکے گلابی لبو ں کو چو ما تھا ۔
تب مجھ پر یہ انکشاف ہو ا کہ میں لو سی کے عشق میں گرفتار ہو چکا ہوں ۔
اسنے میری پسندیدہ ڈشیز سے پو ری ٹیبل بھر دی تھی کئی طر ح کے کھا نے بنا لیئے تھے اسنے ۔۔۔۔میرا مہینہ بھر کا راشن ختم پر تھا ۔۔مگر میں پھر بھی خوش تھا ۔"کیوں کیا تم نے یہ سب ۔۔۔۔کیوں ۔۔؟ اچھّا نہیں لگا ؟
 "نہیں ۔۔۔ایسا نہیں ہے مجھے بہت اچھا لگا میں وا قعی بہت خوش تھا ۔ کھانے کے بعد اس نے میری پسندیدہ سویئٹ ڈش ،پا یئن ایپل کسٹرڈ بھی لاکر رکھ دیا ۔اسے میری ہر پسند نا پسند کا اندازہ ہو گیا تھا ۔۔۔
کھانے کے بعد ہم لمبی ڈرایئو پر نکل گئیے ۔
دریائے ٹیمز کے کنارے ٹہلتے ٹہلتے مینے اسے اپنے ساتھ لگا لیا ۔
" لو سی ! آؤ شا دی کر لیں " مینے بڑے جزبو ں سے اسے پر پوز کیا ۔
"شادی ۔۔۔؟"وہ ایک جھٹکے سے مجھ سے الگ ہوئی ۔اسکی آنکھو ں میں ایک عجیب سی بات تھی جو میں سمجھ نہ سکا ۔۔۔
ہا ں لو سی ۔۔میرا دوست جیکب ایک کورس کرنے کے لیئے نیو یارک گیا ہوا ہے یہ فلیٹ اسی کا تو ہے اب وہ آنے والا ہے تو ہم دونو ں تمہارے روم میں کچھ دنو ں تک رہ لینگے اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔"مگر اسنے میری بات پو ری نہیں ہو نے دی ۔مینے اسکی طر ف دیکھا وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی اسکی آنکھو ں میں جو جزبہ میں نہیں سمجھ پایا تھا ،اچانک میری سمجھ میں آگیا ۔۔اسکی آنکھو ں میں میرے لیئے حقارت تھی تضحیک تھی اور گلا بی ہو نٹو ں پر طنزیہ مسکرا ہٹ تھی ۔
" تم نے ایسا سو چا بھی کیسے ؟؟ تم ہو کیا ۔۔تمہاری حیثیت کیا ہے ؟؟" وہ اور بھی نہ جانے کیا کیا کہتی رہی میں سنتا رہا ۔۔اسنے اپنا ہاتھ میرے ہا تھوں سے نہ جانے کب نکال لیا تھا اور جاکر گا ڑی میں بیٹھ گئی ۔۔میں شر مندہ بھی تھا اور حیران بھی ۔۔۔مگر رنجیدہ ہو نے کا میرے پاس نہ وقت تھا نہ موقع ۔۔۔۔اپنی روڈ پر آتے ہی اسنے مجھے گا ڑی روکنے کا اشارہ کیا اور تیزی سے بنا کچھ کہے اتر گئی ۔۔۔اتر تے وقت وہ چابی سیٹ پر رکھنا نہیں بھو لی تھی ۔۔۔۔۔۔
میں اسٹیرنگ پر ہاتھ رکھّے اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا دور ۔۔۔۔۔اور دور ۔۔۔۔بہت دور ۔۔
معلوم نہیں کیسے گھر آیا ۔۔۔۔بہت دیر تک ایک ہی رخ پر بیٹھا رہا ۔میرے جسم میں درد ہونے لگا تھا ۔۔پھر سر میں بھی شدید درد ہو نے لگا ۔۔۔۔کافی بنا نے کی بھی ہمّت نہیں ہوئی ۔۔نہ جانے کب سو گیا ۔
خواب میں مینے امّا ں کو دیکھا وہ میرے لیئے بیقرار نظر آیئں ۔۔۔اپنی دو نو ں بہنو ں کو دیکھا جو میرے لیئے بے چین تھیں پھر صاف شفّا ف بستر پر لیٹے اپنے بیمار ابّو کو دیکھا جو آنکھو ں میں بہت سا ری تمنّا یئں لیئے ہو ئے مجھے دیکھ رہے تھے ۔جنھو ں نے مجھے یہا ں کچھ بننے کے لیئے بھیجا تھا ان کی ساری تو قعات مجھ سے ہی وا بستہ تھیں ۔
میرا کورس تقریباً پورا ہو گیا تھا اور مینے ایک کمپنی سے لا زمت کی بات بھی کر لی تھی ۔عنقریب میں ان سارے خوابوں کو سچ کر دینے والا تھا جو ان سب نے میرے حوالے سے دیکھے تھے ۔
اور یہا ں یہ فلیٹ کیا اس سے لاکھ درجہ اچھّا گھر میں افورڈ کر سکتا تھا ۔۔۔بس میر ی بہنو ں کا گھر بس جائے ،ابّو کے سر سے ذمّے داری کا بو جھ اتر جائے امّاں کے سنجیدہ لبو ں پر پہلے کی طر ح ہنسی بکھری رہے جیسے ابّو کی بیماری سے پہلے بکھری رہتی تھی ۔
صبح اٹھ کر سب سے پہلے مینے لو سی کا سارا سا مان پیک کیا گھر اچھی طرح صاف کیا پھر کار واپس کر نے گیا تو اسکا سامان اسکی لینڈ لیڈی کو دیتا ہوا آیا ۔
آج پھر میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں اپنے پرانے دوستوں سے ملو ں ۔۔۔۔اسلیئے پھر اسی پرانے ٹھکانے پر آگیا ۔ اداسی کی ایک تیز لہر میرے دل کو کاٹ رہی تھی اور میں پناہ لینے کے لیئے ادھر ادھر چکّر لگارہا تھا ۔
دیر تک اپنی دوست بطخّوں کو کھانا کھلا تا رہا وہ سب کی سب مجھ سے اتنے دن نہ آنے پر نا راض لگ رہی تھی مگر مینے انھیں "سوری " کہکر منا لیا ۔
اچانک میری نظر ایک کو نے میں پڑی بنچ پر جا ٹہری ،جسپر ایک کم سن سی معصوم لڑکی اکیلی بیٹھی تھی ۔۔اسنے گہرے نیلے رنگ کا لباس پہنا ہو اتھا اس کے بے پناہ حسین چہرے پر بے پناہ دکھ تھا ۔
گلابی چہرے پر اسکے سنہرے بال ہوا سے بکھر تے جارہے تھے ،اسکا اسکارف با لوں سے کھل کر بینچ پر گر چکا تھا ۔
وہ ویران آنکھو ں سے خلا میں دیکھ رہی تھی ۔
اسکے ہاتھو ں میں بھی ایک چھو ٹا سا ڈبا تھا جسمیں بطخوں کا کھا نا تھا ۔۔مگر وہ کھلا نا بھول چکی تھی ۔۔۔
مینے اتنا حسین چہرہ یو ں سوگوار کبھی نہیں دیکھا تھا ۔۔میں آہستہ سے جاکر بینچ کے نز دیک گھانس پر بیٹھ گیا۔ اسے خبر بھی نہ ہو ئی
"ہیلو۔۔۔۔" مینے مد ھم سر میں اسے آواز دی ۔
" آں ۔۔۔۔۔ہا ں ہیلو ۔۔۔۔۔۔" وہ اچانک چونک اٹھی پہلے اپنے بکھرتے کپڑے سنبھالے پھر اسکارف اٹھایا ۔ہاتھ میں لیا ہوا ڈّبہ نیچے گر چکا تھا ،مینے وہ اٹھا کر اسکی جانب بڑھا یا ۔
"تھینک یو ۔۔۔۔۔"اس نے ہلکی سی آواز میں میرا شکریہ ادا کیا ،اسکی گہر ی گہری سنہری آنکھیں کسی سوگ میں تھیں ۔۔۔یا مجھے ایسا لگا ،شاید میں اداس تھا تو مجھے ساری دنیا اداس لگ رہی تھی ۔
"میں تمہا ری کو ئی مدد کر سکتا ہو ں ۔۔۔؟"
"اوہ ۔۔۔نو ۔۔۔"وہ زبر دستی مسکرائی اور نارمل نظر آنے کی کو شش کر نے لگی ۔میں اٹھ کر اسی بنچ پر ایک کنا رے بیٹھ گیا ۔۔ہم دو نو ں خا مو شی سے بطخوں کو کھا نا کھلا تے رہے پیا ری پیا ری رنگین تتلیو ں سی بطخیں ہمارا دل بہلا نے کی کو شش کر تی رہیں ۔پھر دھیرے دھیرے ہم انکے بارے میں بات کر نے لگے پھر ہم پارک کی خوبصورتی پر بات کر نے لگے ،یہا ں بیٹھے سنّا ٹے پر بات ہو ئی ۔۔۔۔پھر
نہ جانے کب ہم اپنے بارے میں بات کر نے لگے ۔مینے نہ جانے کیو ں اپنا سا را حال اسے ک سنادیا ۔اپنی ادسی کا سارا سبب بتا دیا ۔۔۔شروع سے آخیر تک ۔۔۔سا را حال کہہ ڈالا ۔۔۔وہ بہت صبر سے سب کچھ سنتی رہی ۔۔۔۔پھر اسنے بہت نر می سے میرا ہاتھ چھو کر تسّلی آمیز نظروں سے مجھے دیکھا اسکی آنکھیں پا نیو ں سے بھر ی ایک جھیل کی طر ح لگ رہی تھیں ۔
اور پھر اسنے ایسی ہی ایک دا ستان سنائی جو اسکی اپنی تھی ۔۔۔۔
نوید ہندوستان سے یہا ں وز ٹ ویزے پر آیا تھا ۔۔۔کچھ دنو ں کے لیئے ۔۔۔۔پھر لیزا سے ملا قات ہو ئی اس سے شادی کر لی"۔اسنے اپنے دوستوں کے سامنے مجھ سے نکا ح بھی کیا ۔۔میرا نام بھی "لیزا سے بدل کر لیلیٰ رکھ دیا میں خوش تھی بہت خوش "اسکی آواز بھّرا نے لگی پھر آہستہ آہستہ بو لنے لگی ۔ اوروہ یہا ں جاب کر نے لگا ،دونو ں بہت خوش تھے وقت بہت اچھّا گزر رہا تھا ۔۔۔۔
" وہ مجھ سے بے پناہ محبْت کر تا تھا ۔۔۔۔" لیزا اب بھی گہرے خواب میں تھی ۔۔۔
" پھر نہ جانے کیا ہوا ۔۔۔اس کے گھر سے کو ئی خط آیا ۔۔۔اور وہ مجھے چھو ڑ کر چلا گیا ۔۔۔کل اسنے فون پر مجھے طلاق کا لفظ تین بار کہہ دیا ۔۔۔اس سے کیا ہو تا ہے ؟؟؟ کیا ایسے کہنے سے سب کچھ ختم ہو جاتا ہے ؟ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں ؟ درمیان کچھ بھی نہیں بچتا ۔۔۔میر ی کنواری محبّت کا یہی انجام ہو نا تھا ۔۔؟ مینے ٹوٹ کر اسے چا ہا مجھے کیا ملا ۔۔۔۔؟"
اسنے اپنی گلا بی ہتھیلیا ں آنکھو ں پر رکھ لیں اسکا چہرہ غمو ں سے جل رہا تھا ۔۔۔سسکیو ں سے سارا بدن لرز رہا تھا ۔۔
مینے اسے خا مو ش کر نے کی کو شش نہیں کی ،اسے رونے دیا میں چا ہتا تھا کہ وہ خوب رولے ۔۔۔اور پھر کبھی نہ روئے ۔
اور یہی مینے اسے بھی کہا
"لیزا تم میر کا ندھے پر سر رکھ کر رو سکتی ہو مجھے اپنا اچھّا دوست سمجھ کر ۔۔۔اور بس اس سے ذیا دہ کچھ نہیں ۔۔میں تم سے اور کو ئی وعدہ نہیں کر تا ۔۔۔۔ اپنو ں سے بہت سے وعدے ہیں جو مجھے ایک عر صے کے بعد یا د آئے ہیں ۔۔میں انھیں بھو لنا نہیں چا ہتا ۔۔۔اتنا رولو کہ پھر کسی نو ید کی ضرورت نہ رہے "
مینے اسکی نرم سنہری زلفیں انگلیو ں سے سنوار دیں ۔
اسکی پلکو ں پر چمکتے ہوئے مو تی پو رو ں پر اتار لیئے اسکے گلابی معصوم چھو ٹے چھوٹے ہا تھوں کو اپنی چو ڑی ہتھیلی سے ڈھا نپ لیا ۔۔۔۔اور اسی لمحے با رش شروع ہو گئی ۔۔۔پا نی میر ے ہا تھو ں سے ہو کر اسکی ہتھیلی کو بھگو رہا تھا ہم دو نو ں بھیگ رہے تھے چھتریا ں دور پڑی تھیں ۔۔۔
پھر اسنے میر ے ہا تھو ں سے اپنا ہاتھ نکال لیا ۔۔۔۔اور ٹھنڈی سا نس لیکر کھڑی ہو گئی ۔اب وہ کافی پر سکون نظر آرہی تھی ۔
"کافی پیو گی ؟" مینے اپنا تھر مس کھو لا ۔۔۔۔
"نہیں ۔۔۔۔"لیزا نے اپنا سا مان سمیٹا اور مسکرا کر میری طرف دیکھا ۔
"کیا آج تم مجھے کسی اچھے ہو ٹل میں لنچ نہیں کروا ؤگے دوست ۔۔؟"
اسکے چہرے پر اک ایسی مسکرا ہٹ تھی جیسے شدید بارش کے بعد دھو پ نکل آئی ہو ۔
بارش تھم گئی تھی ۔۔۔پلکو ں اور بالو ں پر با رش کے قطرے چمک رہے تھے اور ہم دو نو ں ہا تھو ں میں ہاتھ لیئے پارک سے باہر نکل رہے تھے ۔۔۔ہمارے پیر وں تلے سنہرے پتّے چر مرا رہے تھے ۔
امید اب بھی کہں باقی تھی ۔ زندگی پھر جینے کے لیئے ہمک رہی تھی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


Tuesday, December 6, 2016

چلتی رہے زندگی ۔۔۔۔۔۔
مینے پہلا پاؤں بادلوں پر رکھ دیا ۔۔۔ایک نرم سی ٹھنڈ ک میرے اندر اتر آئی ۔۔ایک خوبصورت احساس سارے وجود میں تیرنے لگا ۔۔۔نرم سفید خنک بادل ۔۔۔وہ ایک خوبصورت شام تھی جب مینے حیدرآباد میں قدم رکھّا ۔۔۔
دنیا کے کئی شہر دیکھے ،سعودی عرب کا شہر ریاض ،امریکہ کا شہر شکاگو ،انگلنڈ کا شہر لندن ۔۔۔۔ایران کا شہر تہران ۔۔۔مگر اپنے ملک کا اتنا خوبصورت شہر پہلی بار دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برسات کا موسم شروع ہورہا تھا ہر طرف بادلوں کی دھند چھائی ہوئی تھی ۔۔۔اور میں چل پڑی تھی ایک لمبی سیر کے لئے حیدرآباد کی سمت ۔۔۔وہ حیدرآباد جسکے بارے میں صرف سنا تھا یا پڑھا تھا ۔۔نظام حیدرآباد کی لائیبرئری کے بارے میں ،حسین ساگر کے بارے میں اور ان شفّاف مو تیو ں کے بارے میں ۔۔۔اور میں سوچ رہی تھی یہ سب کچھ قریب سے دیکھنا کتنا روح پر ور ہوگا ۔۔۔
سب سے پہلے ہم حسین ساگر دیکھنے گئے یہ ایک خوبصورت جھیل ہے جو چاروں طرف شہر سے گھری ہوئی ہے ،اسکے درمیان گوتم بدھ کا بلند مجسمہ استادہ ہے ۔۔۔ایک طرف لمبنی باغ جہاں سبزہ کاٹ کر درمیان سے سڑک نکالی گئی ہے ،ایک طرف بچوں کا پارک ۔۔جہاں ایک چھوٹی سی ٹرین چلتی رہتی ہے ۔۔جھیل میں مستقل کشتیاں رواں دواں تھیں ۔۔۔ہم نے کشتی کا ٹکٹ لیا اور روانہ ہوئے ۔۔۔چند لمحوں کے سفر کے بعد ہم گوتم بدھ کے مجسّمہ کے قریب پہونچ گئے ،جو کہ اک ماہر نقّاش نے تراشا ہے ،طویل القامت  مجسمّہ پانی کے درمیان کھڑا مسکرا کر سبکو دعائیں دیتا دکھائی دیا ۔ آس پاس خوبصورت فوّاروں سے پانی رواں تھا ۔۔۔وہاں سبزے پر کئی لوگ بیٹھے نظر آئے دل کے سکون کے لئے بہترین جگہ تھی یہاں بڑی پر سکون سی خاموشی طاری تھی ۔۔۔
دوسرے دن ہم لوگ سالار جنگ میوزیم پہونچے ۔۔
اس میوزیم کی تعریف کے لئے میر ے پاس الفاظ کم پڑگئے ہیں ۔۔اس عمارت میں ایک پوری دنیا آباد ہے اندر داخل ہوتے ہی احساس ہوا کہ ہم ایک خوبصورت صدی میں آگئے ہیں ۔
میوزیم کا رقبہ کافی طویل تھا یہ ایک دن میں نہیں دیکھا جا سکتا تھا
یہ یقیناً ایک محل رہا ہوگا ۔۔۔بے شمارہال ،طویل راہدریاں   بیچ بیچ میں صحن جن میں طر ح طرح کے پھول اپنی بہار دیکھا رہے تھے  ہرطرف سبزہ پھیلا ہوا تھا ۔۔۔ایک صحن کے سرے پر ایک قدّ ِآدم  ٹی ۔وی لگا ہوا تھا  اسپر ڈرامے نشر کئے جارہے تھے اکثر لوگ وہیں کرسیوں پر بیٹھے محویت سے پروگرام دیکھ رہے تھے ۔۔مگر ہم وہاں نہیں رک سکے کیونکہ وہاں بے شمار چیزیں ایسی تھیں جن کی کشش ہمیں کھیچے لیئے جارہی تھی ۔
روغنی تصویریں ،چینی کے حسین پھولدار ضروف ،سنگ ِمر مر کے حسین ترین مجسّمہ ۔۔۔۔۔۔ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ایک کمرے میں گھڑیوں کا زخیرہ تھا مختلف انداز اور مختلف زمانوں کی بے شمار گھڑیاں وہاں رکھّی ہوئی تھیں  کہیں چینی کے فرشتے وقت اپنی پیٹھ پر اٹھائے کھڑے تھے اور کہیں کانسے کے جوکر وقت کو اپنے پیٹ پر سجائے کھڑے تھے ۔۔۔۔وہاں ایک بہت بڑا ہال تھا جو شاید ڈرایئنگ روم کہا جائے تو ذیادہ بہتر ہوگا ۔۔ہر طرف خوبصورے صوفے لگے تھے  اسکا رقبہ تقریباً 50/50 گز ہوگا چاروں طرف دیوارون پر عمدہ اور قیمتی تصویریں تھیں ۔۔بلکہ پینٹنگس کہنا ذیادہ مناسب ہوگا ،،ان میں مونا لیزا کی تاریخی  پینٹنگ بھی مسکرا رہی رھی ۔۔اسکے علاوہ بھی کئی تاریخی تصویرین تھیں جنکے بارے میں انکے نیچے تاریخ درج تھی ۔درمیان میں جو لکڑی کی منقّش میز رکھّی تھی ان پر بہترین کرسٹل کی شطر نج موجود تھی ،جسکے اوپر ننھے ننھے مہرے  بھی کرسٹل کے بنے ہوئے تھے ۔                                                                            ہال کے آخری سرے پر ایک کانسے کا مجسمہ استادہ تھا اور وہ ڈبل تھا میں شاید سمجھا نہ سکوں ۔۔۔لیکن وہ عجیب و غریب مجسمہ تھا ایک طرف ایک سپاہی بڑی سی تلوار لئے زرہ بکتر پہنے ہوئے  ہوئے تنا ہوا کھڑا تھا اسکے دوسری طرف ایک بڑا آیئنہ لگا ہوا تھا ۔۔اور وہی مجسمہ دوسری طرف سے دیکھئے تو ایک نازک اندام دوشیزہ گھونگھٹ میں سلام کے لئے جھکی نظر آرہی تھی ۔۔۔جسنے پیشواز پہنی ہوئی تھی ۔۔۔اور اپنی مخلوطی انگلیوں سے پیشواز کا دامن تھا ما ہوا تھا ۔حیرت حیرت ۔۔۔۔اور صرف حیرت ۔۔۔۔                                                     ۔۔۔ایک کمرے میں صرف بر تن تھے جن میں چاندی سونے سے لیکر چینی کانسے اور مٹّی تک کے بر تن سجے ہوئے تھے ۔۔چینی کی پیالیوں اور تشتریوں پر فارسی میں اشعار لکھے ہوئے تھے ۔۔۔پلیٹوں میں فارسی کے قطعات موجود تھے ۔چاندی کے کانٹوں چمچوں پر مہارت سے نظام حیدر آباد کے نام کندہ تھے ۔
اب حقّوں کی باری آئی تو دیکھا چینی کے کانچ کے چاندی کے ہر طرح کے حقّے سجے ہوئے تھے ،انکے پیندوں پر اشعار کندہ تھے
چاندی کی نےَ اور کانچ اتنا ہلکا جیسے چاندی کا ورق ۔۔۔حقّوں کے ساتھ ساتھ پائپ بھی سجے ہوئے تھے  طرح طڑھ کے ڈزائین ،طر ح طرح کے مٹریل ۔۔۔ہاتھی دانت کے پائپ بھی موجود تھے اور کانچ کے بھی ۔۔لکڑی کے بے شمار ۔۔۔ان پر مہارت سے نقاشی کی گئی تھی ،بیل بوٹے بنائے گئے تھے ،،سائیز بھی الگ الگ موجود تھے ۔
پوری دنیا کے آرٹ کے نمونے وہاں موجود تھے ،اکثر نقل بھی تھے مگر ایسے کہ انپر اصل کا گماں ہوتا تھا ۔
ایک بہت بڑا ہال کتابوں سےسجا ہوا تھا جہاں اردو فارسی عربی کے قلمی نسخے موجود تھے  سراج دکنی ،اور ولی دکنی کے دیوان سجے ہوئے تھے کچھ کتابیں نظام حیدرآباد کی لکھی ہوئی  تھیں ۔ہر قسم کے رسم الخط موجود تھے ۔قران ِ پاک کی تفسیر قلم اور روشنائی سے لکھی ہوئی ۔۔
پوری دنیا کے آرٹ کے نمونے سجے ہوئے تھے ۔
ایک چیز کا ذکر ضرور کرنا چاہونگی جسے میں آجتک بھول نہ سکی ۔وہ ایک مجسّمہ ہے جو کہ فرانس کے ایک ماہر نقّاش نے تراشا ہے ،یہ ایک قدّ ِآدم مجسمہ جو کہ ابراہیم علہیہ سلام ُکی بہو "ربیکا " کا ہے
سفید اور شفّاف بالکل جیتا جاگتا سا محسوس ہوتا ہے  اس مجسمّے کی خاصیت یہ ہے کہ اسکے جسم پر ایک ہلکا سا روبٹّہ پڑا ہوا ہے ۔۔اور وہ بھی سنگ ِ مر مر سے تراشا ہوا ۔۔۔
ماتھے سے ہونٹوں  تک آتے آتے اس روبٹہّ کی شکنیں اتنی واضع اور حیران کن ہیں کہ جو دیکھتا ہے وہ مبہوت رہ جاتا ہے ۔وہ کپڑا کمر سے نیچے تک جاتا ہے اور جھالر سی بن جاتی ہے ،،وہ حصّہ بھی سنگ ِ مر مر سے بنا ہوا ہے وہ جھالریں پیر کی ایڑیوں تک آتی ہیں اور پیروں میں سینڈل بھی خوبصورتی سے تراش کر بنائی گئی ہے  اس بے مثال مجسّمہ کی تاریخ بھی میں لکھ کر لائی تھی جو مضمون کی طوالت کے پیش ِ نظر ابھی نہیں لکھ رہی ہوں ۔انشاءاللہ  آئیندہ رقم کرونگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لمبنیٰ باغ کی طرح ایٹ اسٹریٹ  بھی حسین ساگر  کا ایک کنارہ ہے ،جسپر خوبصورتی سے ٹورسٹ کے بیٹھنے اور کھانے پینے کا انتظام کیا گیا ہے ۔رنگ برنگی کر سیاں ،سفید جالی کے کنارے نصف دائیرے کی شکل میں لگی ہوئی تھیں ۔اور یہ حصہ حسین ساگر کو چھو رہا تھا لوگ سیڑھیوں پر پانی میں پیر ڈالے بیٹھے تھے ۔۔دوسری طرف کی روشنیوں کا عکس پانی میں جھلملا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ منظر اتنا حسین تھا کہ جو میں بیان نہیں کر سکتی مگر آپ محسوس کر سکتے ہیں ۔
میں اور میری بیٹی کافی لیکر وہاں بیٹھ گئے  اور کنارے پر جلتی بجھتی روشنیوں کا جادو دیکھتے رہے ۔اور پھر رات اتر آئی ۔
حیدراآباد سنڑل مال بھی بیحد خوبصورت ہے مگر اب تو ہر جگہ ایک سے ایک عمدہ مال بن گئے ہیں اسلئے اسکا ذکر نہیں کرونگی ۔۔مگر وہان جو جویلری کی دوکانیں تھیں وہ اسقدر حسین تھیں ،قطار سے سچّے موتیوں کی لائینیں لگی ہوئی تھیں ۔۔اتنے سارے موتی مینے ایک ساتھ کبھی نہیں دیکھے تھے ۔۔۔ایک خوبصورت سجی ہوئی شاپ میں ایک کرسٹل کے بڑے سے پیالے میں سچّے موتی بھرے ہوئے رکھّے تھے ۔۔۔۔وہ میں ابتک نہیں بھول سکی ۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسدن صبح صبح بیٹی نے جگایا ۔۔۔۔اور بتایا کہ ہم "راموجی فلم سٹی " دیکھنے جارہے ہیں ۔9بجے بس وہاں سے روانہ ہوئی دور دور تک سیاہ پہاڑیاں اور حدّ ِ نگاہ تک سبزہ پھیلا ہوا تھا ۔ایک ڈیڑھ گھنٹے میں ہم اس علاقے میں داخل ہوئے  جہاں ایک اونچی پہاڑی پر دور سے "رامو جی فلم سٹی "کا مخفف آر۔ایف ۔سی ۔نظر آرہا تھا ۔
ہماری بس نہایت آرام دہ تھی اور میری بیٹی فارینا نے بس کے ٹکٹ لیتے وقت فلم سٹی کا ٹکٹ بھی لے لیا تھا اس لئے ہمیں کسی لائین میں نہیں لگنا تھا ۔۔۔آرام سے دوسری کھلی ہوئی بس میں بیٹھ کر آگے بڑھ گئے ۔وہ سرخ رنگ کی کھلی کھلی سی بسیں تھیں جو ہمیں پورا فلم سٹی گھمانے والی تھیں ۔وہ بسیں نہایت آرام دہ،جیسے ہم صوفے پر بیٹھے ہوں اور اوپر سرخ چارد تنی ہو ۔۔۔۔ہر طرف سے پورا علاقہ نظر آرہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سر سبز وشاداب ۔۔۔ایک گائیڈ نے ہمیں تاریخ بتا نا شروع کی ،وہاں پر کئی مغلیہ محلوں کی نقل بنی ہوئی تھی ان محلوں میں فلم کی شوٹنگ ہوتی ہے اور ہمیں نقل پر اصل کا گمان ہوتا ہے ۔۔۔ویسے تو وہا بہت ساری چیزیں قابلِ ذکر ہیں ایک رستوراں مجھے بیحد پسند آیا جہاں بیرے مغلیہ دور کی سر پگڑی اور سفید پیشواز پہن کر کھانا سرو کر رہے تھے ،کھانے کی پلیٹیں اور گلاس چاندی کے تھے کھانے میں  بھی بہت ذائقہ تھا ۔۔۔ہم دونوں نے خوب کھانا کھایا اور آیس کریم بھی ۔۔
بڑی بڑی سفید سیپیاں بناکر اسمیں سرخ پھول ،سفید ،نارنجی ،پھول لگائے گئے تھے ۔۔۔چاروں طرف  بے حد سجاوٹ تھی ۔





بے سائبان


 آآج پہلی بار یہ نہیں ہو ا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابکی تو جب سے سیتا گھر آئی ،اسکا یہی حال ہے ۔رات رات چیخ مار کر اٹھ جاتی ہے آنگن میں بھاگتی ہے کبھی چو کے میں جاکے چھپتی ہے ائر کبھی زینہ کے نیچے دبکتی ہے ۔اسکی آواز میں ایسا درد ہوتا ہے کی سن لو تو رونا آئے ۔بڑی اّماں دو بار جا کر بھوسیلے سے اسے نکال کر لائی ہیں ۔بھو سے کے ڈیر میں چھپی سیتا سبک سبک کر روتی جا ئے ۔۔۔۔۔بڑی امّا ں نے کس کس جتن سے بیا ہ کیا ۔۔اور اب دیکھو لیلا بھگوان کی۔۔۔۔۔
کرشنا نے ٹھنڈی سانس  بھر کے چو ڑیو ں کا ٹو کرا اٹھا لیا اور گلی میں نکل آئی "چو ڑیا ں لے لو چو ڑیا ں،رنگ بر نگی چو ڑیا ں ہر ی نیلی لال گلا بی  پیلی پیلی چو ڑیا ں "بولتے بولتے ایک بار پھر اسکا دل بیچین ہو گیا ۔پو رے محّلے میں ایک سیتا تھی جو سب سے زیا دہ شو ق سے چو ڑیا ن لیتی تھی ،چو ڑیو ں سے بھر ے بھرے ہاتھ سارے گاءو ں میں چھنکا تی پھرتی اور ایک مہینہ پو را نہ ہو تا پھر ننگے ہا تھ لیئے ٹو کرے کے پا س بیٹھی ہو تی " لا کر شنا ۔۔۔۔۔کو ئی اچھی سی چو ڑی نکال  کے دے " وہ جلدی جلدی سا رے ڈبّے کھو ل ڈالتی ۔مگر ابتو  کر شنا آواز بھی دے تو مڑ کر نہیں دیکھتی ۔اپنے ہی دھیا ن میں کھو ئی رہتی ہے ۔
وہ یہی سب سو چتی ہوئی گلی سے باہر نکل آئی کئی ننگ دھڑنگ بچّے کھلیا ن کے قریب  تالاب کے کے کنا رے کھیل رہے تھے ،کچھ تالاب میں کود کر ایک دوسرے پر پا نی اچھال رہے تھے ،کچھ عو رتیں  سر پر دھان کے گٹّھر لیئے چلی جا رہی تھین ۔کئی مر د عورتیں مو گری سنبھال چکے تھے ۔

"آج دھان پیٹا جیہئے ۔۔چلہیو کر سنا ؟؟"گلابو نے تالاب کے کو نے میں کو ڑا پھینکتے ہو ئے مڑ کر کر شنا کو دیکھا ۔
"ناہی آج نہ جابئے  گھر ما کو نو نہیں ہے روٹی کؤ بنائے "گلابو اپنا ٹو کرا لیکر دو سری طر ف مڑ گئی اسنے پھر چو ڑی کے لیئے آواز لگائی  مگر اسکی آواز بلکل خالی تھی ۔۔۔۔جیسے ٹین کے خالی ڈبّے لڑھک رہے ہو ں ۔وہ کھلے زینے سے ہو تی ہوئی سیتا کے گھر اتر گئی وہ روز ہی آجاتی تھی مگر سیتا کو تو جیسے کوئی فر ق ہی نہین پڑتا تھا ۔وہ تو بس پہلے دن کی طر ح خلائوں میں دیکھے جاتی ۔
"کئے امّا ں ۔۔۔۔سیتا رانی کو وید با بو کے  لئے چلیں ۔۔۔۔۔۔؟'کر شنا نے سیتا کا سر ہلکے ہلکے دبا تے ہو ئے بڑی امّا ں سے پو چھا ۔
بڑی امّاں کو فکرو ں نے بلکل لا غر کر دیا تھا ،سر کے سفید جھّو اجیسے بال  چھو ٹی چھو ٹی بیچین آنکھیں ۔۔۔اور چہرے پر پڑی وقت کی دھول اور گہری لکیر وں نے اسے انسان سے جانور بنا دیا تھا ۔ وہ آگے کو جھک کر چلتی اور لیٹتے وقت  ایک گٹھری کی طر ح جھلنگا چا رپا ئی پر گر جاتی ۔
سیتا کو بیا ہ کر اسکی ساری فکریں ختم ہو گئی تھیں ایک اکیلی جا ن کے  پیٹ کو تو گا ءو ں میں کو ئی نہ کوئی روٹی پا نی  دے ہی دیتا تھا  مگر یہ جوا ن جہا ن پھر سے سر پر نا زل ہو گئی تھی  کیا جانے دکھیا پر کیا بپتا پڑی منھ سے تو کچھ پھو ٹتی ہی نہیں تھی ۔
 
کر شنا کے سر سہلانے پر اسنے آنکھین کھو ل کر دیکھا  آنکھو ں میں تیرتی بے یقینی بیخوا بی اور چہرے پر پھیلے خوف نے اپنی پکّی سہیلی کو بہت کچھ بتا نے کی کو شش کی ۔
پر شا د کی بے وفائی بے رہمی  اور ظلم کی کہا نی اسکا روءاں روءا ں بیا ن کر رہا تھا سمجھنے کے لیئے بس ایک ہمدرد دل کی ضرو رت تھی ۔مگر ایک مجبو ری اور بے بسی تھی جس کی وجہ سے سب کی آنکھیں بند تھیں ،زبا ن بند تھی اور کھو ل کر کر تے بھی کیا ؟
جب سیتا بیاہ کر گئی تو پر شاد نے اسے بہت پیا ر دیا  وہ گڑیا جیسی سارے آنگن میں کدّکڑے لگاتی پھر تی  ساس نند بھی واری صد قے ہو تیں اور اسکے خو ش با ش چہرے کو دیکھ کر  پر شا د نہا ل ہو تا ۔
پھر ہو ا یہ کہ کچّا مکا ن پکّا بن گیا ۔چھو ٹا سا زینہ بنا کر اوپر  بڑا سا کمرہ ، صرف سیتا اور پر شاد کے لیئے بنا یا گیا ۔تب بھی سب ٹھیک رہا سب اسے بھا گوان ما نتے رہے  پر شا د کی چھو ٹی سی کرا نے کی دو کان بھی بڑی اچھی چل پڑی تھی ،اس نے دوکان بڑھا لی تھی  ایک لڑکا  بھی کام کے لیئے رکھ لیا تھا ۔دن بہ دن خو شیا ں آتی رہیں اور سیتا چہکتی رہی ۔
مصیبت تو تب آئی جب اسکا پکّا مکا ن دوسر ے  گا ئوں والوں کی نظر مین کھٹکنے لگا اور پھر دوکان پر گو ری چٹّی رمیا پر شاد سے ہنسی دل لگی کر نے آنے لگی اور اسی روز سے سا نو لی سی سیتا پر شا د کے جی سے اترنے لگی ۔
   
دوسرا بر س لگ گیا بچّہ نہ ہو نے کے کا رن امّا ں بھی اکھڑ ی اکھڑی  رہنے لگی ،نند بھی طعنے مارنے لگی ۔۔۔۔۔اور پھر ایک اور غضب ہو ا ،جس دن وہ سوتے سوتے اٹھ کر کھڑکی  پر آئی اور آنگن میں پر شاد اور رمّیا کی کھسر پھسر سننے کے بعد بھاگتی ہو ئی زینے سے  اتری اور لڑ کھڑا تی ہوئی کئی سیڑھیا ں نیچے آگئی ۔گر تے ہی پا ئوں کی ہّڈی ٹو ٹ گئی  تبھی وہ اچا نک سب کے دل سے گر گئی ۔سیتا کو پکّا یقین تھا کہ سیڑھی پر ےتیل رمیا نے ہی ڈالا تھا مگر سنتا کو ن ؟ اب تو وہ اپا ہج اور رمّیا مالکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر جو کچھ ہو ا وہ سو چکر ہی اسکا جی گھبرا تا  ۔اُپر کے کمرے  میں جا نا اسکے بس مین ہی کہا ں تھا ،بکر یو ں کے با ڑے میں چھپّر کے نیچے  بیٹھے بیٹھے سیتا  بو ڑھی ہو تی گئی  پکّے کمرے  کے بند دروا زوں کے پیچھے رمّیا کی چو ڑیا ں کھنکتی رہیں  پر شا د کی ہنسی مذاق کی آوازیں  سیتا کے کا نو ں میں پگھلا ہو ا سیسہ اتا رتی رہیں ۔
پیر کا زخم اب بر داشت سے باہر تھا ، کبھی کبھی زور زور سے  چلاّتی چیختی پر کئی نہ سنتا ۔۔۔۔پھر ایک دن وہ ایسے ہی رو رہی تھی  کہ پر شا دکا دو ست  آکر اسکے برا بر بیٹھ گیا ۔" کا ہے سو ر مچا ئے ہو بھو جی ! کو ئو نہ سنہئے ۔۔۔۔۔اب ہم آئے گیئن ہے نا ۔۔۔۔۔اب چُپی سا دھو ۔۔" اسکے منھ سے اتی ہو ئی  گندی سی بد بو  نے سیتا کو ہلا کر رکھ دیا ۔
"بھوٗجی کا ہے پریسا ن ہو ت ہو ۔۔۔بتا ؤ کہا ں پیرا ہو ت ہے ؟؟؟؟"(کیو ں پر یشا ن ہو تی ہو بتا ؤ کہا ں درد ہے )اسنے اپنا مضبو ط  با لو ں سے بھرا ہا تھ  سیتا کی نا زک سی پنڈلی پر  رکھا اور وہا ں سیتا کی پکار سننے والا کوئی  نہیں تھا ۔پھر وہ گھڑی آئی  جب فیصلہ اسکو خد ہی لینا پڑا ۔تبھی سے وہ امّا ں کی کٹیا میں آن پڑی ۔
   کرشنا نے اسکے بال سنوارے  چہرہ دھلا یا دھول پسینے سے اٹی سا ڑی بدلوائی ۔پیر کا زخم ابھی پو ری طر ح تھیک نہیں ہوا تھا ہڈّی جڑ جانے کے بعد بھی چلتے چلتے لڑکھڑا جا تی تھی وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زخم پر جڑی بو ٹی کا لیپ بھی لگاتی تھی کر شنا ۔۔۔۔
گاؤں کے سبھی لو گو ں کا جام نگر والے آشرم اور وہا ں کے با با پر شو رام پر پو را بھرو سہ تھا وہ چھو ٹی مو ٹی بیما ری کا علاج تو مفت ہی  کر دیتے تھے کئی عو رتیں بچے وہا ں جا کر ٹھیک ہو چکے تھے ۔انکی دوا علاج آس پا س کے کئی گا ؤں میں مشہو ر تھا ۔صبح اندھیرے سے جا کر حا ضری لگا نا پڑ تی تب کہیں شا م تک نمبر آتا تھا ۔کئی مر یض تو جا کر وہیں آشرم میں پڑ جاتے یا تو ٹھیک ہو کر یا پھر مر کر ہی نکلتے پھر بھگوان نے جسکی جتنی لکھدی اس سے زیا دہ با با جی کیسے بنا دیتے ؟؟؟
امّا ں سب کے کہنے پر تیا ر تو ہو گئی  مگر را ستہ لمبا تھا  راہ میں کئی جھا ڑ جھنکا ڑ ،ایسے میں کر شنا  کا جی نہ مانا وہ اپنی چو ڑیو ں کا ٹو کرا  گھر میں ڈال کر انکے ساتھ ہو لی ۔
" ہم ہو چلبئے بڑی امّا ں "اس نے آدھے را ستے سے انھیں جا لیا ۔
"ہا ں ری کر سنا تو چل ایکا لیئکے ہم سے تو اب چلا نا ہی جات "(کرشنا تو اسکو لیکر جا ہم سے اب چلا نہیں جا تا )امّاں اسکے آنے سے بیفکر ہو کر وہیں پڑے پتّھر پر بیٹھ گئی ۔
کرشنا سیتا کا ہاتھ تھام کر آہستہ آہستہ چلنے لگی ۔آشرم کا ادھا کائی لگا کلس دور سے چمک رہا تھا آس پا سنیم اور گو لر کے پیڑ کھڑے تھے  آشرم کے پیچھے ایک کو ٹھری میں با با جی کچھ بچوّ ں کو شکشا دے رہے تھے ۔
پہلے دونوں نے آشرم پر ما تھا ٹیکا ،کر شنا نے ہا تھ جو ڑ کر بھگوا ن سے سیتا کا بھلا ما نگا ۔ آشرم کے ایک چیلے نے آکر بپتا پو چھی اور اندر چلا گیا ۔وہ دونو ں پسینہ پو چھتی ہو ئی نیم کے نیچے بیٹھ گئیں ۔کچھ دور ہینڈ پمپ لگا دیکھ کر کر شنا اٹھی اور جا کر پا نی پیا ،پا س پڑی ایک مٹّی کی ہنڈیا میں سیتا کے لئے پا نی بھر لائی ۔اپنی دھو تی کے کو نے میں بندھے مر مرے اور چنے تھو ڑے خد لیکر با قی سیتا کو دے دیئے ۔
دھو پ کی تپش اب کم ہو نے لگی تھی ،ٹھنڈی ہو ا چلنا شرو ع ہو گئی دوسری طرف لگے جا من کے پتّے تا لیا ں بجا رہے تھے وہین تا لاب میں کچھ بھو ری اور سفید بطخیں  تیر رہی تھیں آس پا س گا ؤ ں کے بچےّ کھیل رہے تھے عو رتیں میلی میلی ساریا ں با ندھے آ جا رہی تھیں ۔
شام اور بڑھ آئی تو وہ چیلا پھر نمو دار ہوا ۔
"چلو با با جی بلا تے ہیں "
سیتا کر شنا کا ہا تھ تھام کر بڑی مشکل سے کھڑی ہو ئی  مگر چیلے نے اسے روک دیا ۔
" روگی کون ہے ؟؟"
" یہ ہے بھیا ۔۔۔۔سیتا بہن ۔۔۔۔"
" تو پھر تم یہں بیٹھو ہم دکھلا کر لاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔"وہ سیتا کو لیکر آگے بڑھ گیا ۔
لمبا سا چندن کا ٹیکہ لگائے سفید وستر لاکڑی کی کھڑا ویں پہنے  با با جی نے اپنی سر خ سر خ آنکھین اٹھا کر  سیتا کو دیکھا ۔وہ بھد سے زمین پر بٹھ گئی اور ہا تھ جو ڑ کر آنکھین بند کر لیں ۔
" بو لو کیا کشٹ ہے ۔۔۔۔۔؟؟"ان کی بھا ری آواز گو نجی سیتا نے ڈرتے ڈرتے سر اٹھا یا مگر ہو نٹو ں سے آواز نہ پھو ٹی ۔
"ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" با با جی نے ہنکا را بھرا ۔
"سو رگ بھگوا ن کا ہے نر ک بھگوا ن کا    ۔۔۔۔۔۔پیرا بھگوا ن کی ہے سکھ بھگوا ن کا " انھو نے چلتے چلتے کو ٹھری کا دروا زہ بھیڑ دیا ۔۔۔۔۔
"سب ما یا بھگوا ن کی ہے  سب لیلا بھگوا ن کی " انھو ں نے کنڈی چڑھا کر اسمیں لو ہے کی سلاخ  گا ڑ دی ۔
"بھگوان مہا ن ہے ،دکھ درد اسی کی دین ہے ۔۔۔۔۔پچھلے جنم کا  بھو گ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
بھبھو تی سے بھرا ہاتھ سیتا کے ما تھے پر مل دیا
" بھگوان ہے تو  جگ ہے جگ والے ہیں ۔۔۔اسکے آگے سب لا چا ر ۔۔۔۔" انھوں نے دو نو ں  ہتھیلیا ں سیتا کے کا ند ھو ں پر جما دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور باہر نیم کے نیچے کر شنا رات گئے تک راہ تکتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
https://ssl.gstatic.com/ui/v1/icons/mail/images/cleardot.gif


قرب ِ قیامت
"بھیّا ہو ۔۔۔۔۔دیکھو ای بکری گابھن ہے جانو "
"ہوں ۔۔۔۔۔۔"داد نے حقّہ کی منال منھ سے لگا کر اک لمبا کش لیا ۔
"ای کا چرائے کھا تر لے جائی کہ ناہی ۔۔۔۔"
"لے جا ؤ لے جاؤ ۔۔۔۔اچھّا ہے کچھ گھانس پتّے کھائے گی ،نہر کا تازہ پانی پیئے گی تو جان آئے گی نا ۔۔۔ابھی تو کچھ دن لگیں گے ؟جب دن قریب ہوں تو چھوڑ جا نا باڑے میں ۔۔۔"انھو ں نے پیر تخت سے نیچے لٹکائے تو غفور نے جلدی سے انکے جوتے پیر کے پاس کر دیئے ۔اور بکریوں کو ہنکا تا ہوا با ہر نکل گیا ۔
اسنے دالان کے کونے میں کھڑے ہوکر ساری بات سنی ۔ابھی ابھی اسکول سے واپس آیا تھا کپڑے بھی نہیں بدلے تھے بھاگ کر دادا سے لپٹ گیا ۔۔۔
"دادا ۔۔۔۔۔میں کھیلوں گا ان بچوّں سے ۔۔۔۔کب آئینگے بکری کے بچّے ؟"
"آجائینگے آجائینگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلیئے پہلے کپڑے بدلئے کھا نا وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلئے اندر آپکی امّی انتظار کر تی ہونگی ۔۔"
وہ دوڑتا ہوا اندر چلا گیا ۔۔۔۔۔
جب سے جاوید کے ابّا محا ذ  پر گئے تھے وہ دادا سے ذیادہ قریب ہوگیا تھا ۔رات کو ان سے بغیر کہانیاں سنے اسے نیند بھی نہیں آتی تھی ۔۔۔وقت گزرتا چلا جارہا تھا ایک رات کھانے کے بعد وہ دادا کے پاس کہانی سن رہا تھا
"ہمارا تمہارا خدا بادشاہ ۔۔خدا کا بنا یا رسول بادشاہ ۔۔۔" وہ کہانی اسی طرح شروع کرتے تھے ۔۔
"کسی شہر میں ایک بادشاہ رہا کرتا تھا اسکی سات بیٹیاں تھیں وہ ان سب سے بہت محبّت کرتا تھا ۔ایک بار ۔۔۔۔۔۔۔"
"بھیّا ہو ۔۔۔۔۔بکری بیانی ہے ۔۔۔(بکری نے بچّے دیے ہیں ) باہرڈیوڑھی سے غفور کی گھبرائی ہوئی سی آواز آئی " دادا نے مڑ کر اسکی بند ہوتی ہوئی آنکھوں کی طرف دیکھا اور آواز آہستہ کر کے بولے "ہاں ہاں تو ٹھیک ہے پانی گرم کر کے نہلا دو انھیں ۔۔۔۔۔"
"بھیّا جرا دوارے تو آیئے ۔۔۔۔دیکھئے تو ۔۔۔۔" غفورکی آواز کپکپا رہی تھی ۔دادا کچھ حیران ہوکر باہر نکل گئے تب اسنے رضائی اپنے پیروں سے ہٹائی اور آہستہ قدموں سے پلنگ سے اتر کر دالان میں جھانکنے لگا
غفور آہستہ آہستہ  کچھ بات کر رہا تھا  اور دادا خاموش تھے ،پھر وہ اندر آنے کے لئے مڑے تو وہ جلدی سے باہر نکل آیا ۔۔
"دادا ہم بھی دیکھینگے بکری کے بچّے ۔۔۔"
"اندر چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" دادا زور سے بولے تو وہ حیران ہوا مگر اسنے سامنے پڑے ہوئے ننھے وجود دیکھ ہی  لئے تھے ۔۔وہ سہم کر بھا گتا ہوا کمرے میں آیا اور رضائی اڑھ کر بھی کانپتا رہا تھا
دادا کب آئے اور کب انکے خرا ٹے گو نجنے لگے وہ اپنی آنکھیں بند کئیے خا موش لیٹا رہا ۔۔۔دو ننھے وجود اسکی نگا ہوں میں گھومتے رہے ۔۔نہ جانے کب تک وہ ڈرتا رہا اور کب ننید کی وادیوں مین اتر گیا ۔۔۔۔۔
صبح ہلکے اجالے میں دادی اور امّی کی باتوں کی آواز آرہی تھی ۔
"غضب خدا کا ۔۔۔۔انسان بالکل وحشی ہو چکا ہے ۔۔یہ سب قرب ِ قیامت کی نشا نیاں ہیں ۔۔اپنے نفس پر ذرا قابو نہیں ۔۔۔۔ بے زبان جانور کو بھی نہیں چھوڑتے ۔۔تو بہ توبہ ۔۔کیا قہر ہے "
وہ گھبرا کر اٹھ گیا اسے رات کی ساری باتیں خواب کی طرح یاد آنے لگیں ۔۔پھر اسنے سنا وہ بکری کے بچّے رات ہی کو ختم ہوگئے تھے ۔۔اسکی نگا ہوں میں ایک بار پھر وہ نو مولود بکری کے سر اور انسان کے جسم والے عجیب الخلقت بچّے آگئے ۔۔ ۔وہ کئی دن تک سہما سہما رہا ۔۔۔وہ سونے کے لئے لیٹتا تو وہ بکری کے منھ اور انسانی جسم والے بچّے آکر اسے ڈرانے لگتے ۔۔۔۔اسنے کہانیاں سننا چھوڑ دیا تھا ۔۔امّی کے پاس سونے لگا
مگر سوتے وقت اسُ بات کو یاد کر کے کانپ جا یا کرتا تھا ۔کئی دن گزر گئے تھے ابّا کا فون بھی آگیا تھا وہ چھٹیّ لیکر آنے والے تھے ۔
وہ صبح بھی روز جیسی تھی مگر وہ ابھی تک بستر میں تھا ۔امّی بہت دیر سے ناشتہ لئے بیٹھی تھیں ،انھوں نے کئی بار جاوید کو آواز دی ۔۔پھر خود آگئیں اور اسکا سر سہلا کر اسے جگانے لگیں
"اٹھ جا بیٹا ۔۔۔اسکول نہیں جائے گا تو اپنے ابّا جیسا کیسے بنے گا ۔۔اٹھ جا میرے لعل ۔۔۔۔"وہ انکی گود میں سر رکھّ کر لاڈ اٹھواتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر بے دلی سے اٹھ کر تیّا ر ہونے لگا ۔جب
 وہ اسکول جانے کے لئے تیّار ہوا تو  موسم کافی بہتر تھا کھلیُ کار میں خوشگوار ہوا سے اسکا دل ہلکا پھلکا سا ہو گیا تھا ۔۔۔چاروں طرف پھیلے ہوئے راستے کے پیڑوں میں شور مچاتی ہوا بہت اچھْی لگ رہی تھی صبح صبح کا سہا نا منظر خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔۔پیڑ کے پتّوں پر رکی ہوئی شبنم رہ رھ کر قطرہ قطرہ برس رہی تھی ۔اک دھند تھی جو چھَٹ رہی تھی ۔۔۔
کلاس مین جاتے ہوئے کئی بچّوں نے اسکی خیریت پوچھی وہ گنگنا تا ہوا اپنی جگہ آکر بیٹھ گیا ۔۔۔ایک ساتھی سے اسکی کاپی لیکر نوٹس اتارنے   لگا ۔
اچانک عجیب شور سا محسوس ہوا سارے بچّے کلاس روم سے باہر دیکھنے لگے ،تڑا تڑ گولیاں چل رہی تھیں اک بھگد ڑ سی ہو رہی تھی ہر طرف اندھا دھند گو لیاں برس رہی تھیں وہ غائب دماغی سے بچّوں کی چیخیں سن رہا تھا ۔۔ وہ دوڑ کر سامنے بنے ہوئے آتش دان میں چھپ گیا ۔اپنے آپ کو آتش دان میں چھپا کر اپنا بستہ اسنے سامنے کر لیا ۔۔۔۔۔کلاس میں اب کئی لوگ آچکے تھے بچّوں کی فلک شگاف چیخیں اسے دہلا رہی تھیں ۔دور کہیں
دادی سورۃ واقعہ پڑھ رہی تھیں " جب زمین بڑے زوروں سے ہلنے لگے گی اور پہاڑ ٹکرا کر چور چور ہو جائینگے پھر ذرّے بنکر اڑنے لگیں گے ۔۔۔۔۔" وہ تر جمہ سنا رہی تھیں شاید یہ وہی وقت ہے ۔۔۔۔۔رونے اور چلّانے کی آوازوں سے کان پھٹے جارہے تھےافرا تفری کا عالم تھا  گولوں کی آواز ۔۔۔با رود کی  نا گوار بو ۔۔اب اسکے پاس آگئی تھی ۔۔وہ دعائیں کر رہا تھا کاش کوئی آجائے اسے اوراسکے دوستوں کو بچا لے ۔۔۔اپنی بھینچ کر بند کی ہوئی آنکھیں کھولیں تو کچھ سائے اسکے سامنے تھے ،سامنے سے بستہ ہٹ چکا تھا وہ رائفل کی ذد میں تھا اس نے سر اٹھا کر دیکھا ۔۔۔اور حیران رہ گیا  اسکے سامنے انسانوں کے چہروں والے کئی بھیڑیے کھڑے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دادی کی آواز ابھی تک آہستہ آہستہ سنائی دے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر سب کچھ محو ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




روٹی اور گلاب ۔۔۔۔
"باجی روٹی دے دو ۔۔۔۔۔" وہ پھر آج صبح صبح دروازے پر آکھڑی ہوئی ۔میلا کچیلا سا شلوار سوٹ بالوں کی میلی لٹیں چہرے پر بکھری ہوئی ،تیرہ ،چودہ برس کا سِن ،ذہین معصوم آنکھیں ۔اور یہ لا چاری ۔
ایک دفعہ تو مینے بھی منع کر دیا تھا ۔
"جاؤ ابھی روٹی نہیں پکّی ۔۔۔"وہ سر جھکا ئے اگلے گھر کی طرف مڑ گئی مگر مجھے اچانک بے حد رنج ہوا کچھ اور دید یتی ۔بسکٹ یا ڈ بل روٹی کچھ بھی ۔۔۔۔روز تو نہیں آتی تھی وہ۔۔۔۔۔۔ محلّہ میں اکثر لو گوں نے منع کیا تھا کہ یہ لڑ کیاں چور ہوتی ہیں کبھی گھر کے اندر نہ بلایئے گا ۔آنکھو ں کا کاجل چراتی ہیں  آپکو پتہ بھی نہیں چلے گا ،اپنا کام کر جائینگی ۔
آج جب وہی آواز پھر سنائی دی
"باجی روٹی ۔۔۔۔۔"تو ایک لڑکی اور ساتھ کھڑی تھی ۔۔۔۔
"اچھّا ایسا کرو ۔۔یہ زینہ کے ساتھ بہت کو ڑا ہے جھاڑو لے لو اور دونوں ملکر یہاں صفائی کردو پھر لے جا نا روٹی ۔۔۔۔۔"
گھر کے پیچھے کا دروازہ کھول کر مینے جھاڑو دینے کے لئےاندر بلا یا ۔وہ اندر آئی تو گملے دیکھنے لگی ۔۔۔ساتھ والی لڑکی سے بولی
"دیکھ کیسا بڑا سا گلاب کا پھول ہے ۔۔۔"وہ دونوں دوسرے پھو لوں پر بھی تبصرہ کر تی جارہی تھیں ۔مینے جھاڑو دیکر انہیں باہر بھیجا اور خود بھی کچھ دیر ان گلا بوں کو دیکھتی رہی  ۔
کا فی در تک دونوں ملکر صفائی کر تی رہیں ۔مینے ایک پو لیتھین میں کئی روٹیاں اور رات کا سالن لپیٹ کر رکھ دیا پھر دس روپیے بھی ساتھ ہی رکھ دیے ۔وہ بڑی دلجئی سے صافا ئی میں جٹی ہو ئی تھی مینے غور سے اسکا چہرہ دیکھا بھولا سا چہرہ ،گو را رنگ جو کہ دھبوّں اور میل کی وجہ سے کم ہی نظر آرہا تھا ،میلے میلے ہاتھ پاؤں  جمپر کی آستیں پھٹ کر لٹک رہی تھی ۔پرا نا سا کڑھائی والا کر تا  شلوار جو کسی نے از راہ ِ ہمدردی دیا ہوگا ۔
اسے بھی پھول اچھّے لگتے ہیں ؟؟ کتنی خوشی سے کہہ رہی تھی وہ ۔
کو ئی بات نہیں میرے پاس تو بہت سارے پھول ہیں یہ گلاب اسکو دے دونگی ۔مینے بڑی احتیاط سے گلاب کو شاخ کے ساتھ نکا لا ۔وہ پیچھے جھا ڑو رکھنے آئی ۔

"یہ لو ۔۔۔۔" مینے گلاب کا بڑا سا سر خ پھول اسکی طرف بڑھا یا ۔اسکا چہرہ خطر ناک حد تک سفید ہو گیا ۔۔۔
"ہمکو روٹی دے دو باجی ۔۔۔۔" وہ ہکلائی ۔۔مینے دوسرے ہاتھ میں لیا ہوا پولیتھین اگے کیا ،اسنے جھپٹ کر پو لیتھین میرے ہاتھ سے لیا اور بھاگتی ہوئی  باہر نکل گئی ۔
اور میں گلاب کا پھول انگلیوں میں تھامے کھڑی ہوں ۔۔کہتے ہیں دُکھ غیب کی آنکھیں کھول دیتے ہیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭