خواب سراب
اور وہ آنسوؤں سے ہنستی روتی اسُ سے لپٹ۔گئی ۔
سارے معاملات طے ہونے میں ایک ماہ کہاں نکل گیا پتہ ہی نہیں چلا ۔اور اسکی روانگی کا دن آگیا ۔۔وہ ساری رات نہیں سوئی کاشف کے ساتھ جاگتی رہی اور دونوں پلانگ کرتے رہے
۔دو برس کا کانٹریکٹ اسُے دوبئی کے ہسپتال سے ملا تھا ۔۔ملازمت تو یہاں بھی تھی مگر دو سال کی چھٹی کی درخواست قبول ہوگئی اور اب وہ امّی کو سمجھا رہی تھی ۔۔
انکی آنکھیں مسلسل برس رہی تھیں بہت دکھُ اٹھا ئے تھے انھوں نے بہت درد برداشت کیا تھا ۔ساتھ ہی نور نے بھی وہ سب کچھ سہا تھا ۔شوہر کے انتقال کے بعد جب سسرال والوں نے بے عزّت کر کے گھر سے نکالا تو انکو بھائی کے گھر جا نا پڑا ۔۔جان سے پیارا بھائی جسکے لئے وہ اپنی ہر خوشی قربان کر تی آئی تھیں ۔۔اس کو انکا آنا بالکل پسند نہیں آیا
۔بھابی نے ایک پرانے اسٹور نما کمرے میں جگہ دی جسکی ایک طرف کی چھت بھی گر رہی تھی ۔۔۔اور وہاں سے آسمان نظر آتا تھا ۔
دونوں ماں بیٹی اسُ اسٹور نما کمرے میں ایک دیوار کے سہارے دری بچھا کر بیٹھ گئیں ۔۔بے انتہا سردی کی وجہ سے دونوں کانپ رہی تھیں اور چھت کے ٹوٹے کونے سے کہرا اندر بھر رہا تھا ۔۔۔
وہ امیّ کی گود میں سر چھپائے تھر تھر کانپ رہی تھی ۔تب بھابی نے پرا نا لحاف لاکر ان پر پھینکا اور باورچی خانے میں جاکر کھانا کھانے کی دعوت بھی دی ۔
کونے سے آتا ہوا کہرا گہرا ہورہا تھا اسنے سر اٹھا کر دیکھا کمرے میں بادل سے بھرے تھے ۔۔اسکا دم گھٹ رہا تھا ۔۔۔پانچ سال کی بچّی کے لئے یہ بیحد اذیت ناک وقت تھا ۔۔
پھر امی گھر کے کام کاج کر نے لگیں اور وہ کمرے سے نکل کر کبھی کبھی برامدے میں بیٹھ جاتی ۔پرا نا اسکول بیگ ساتھ لیکر آئی تو ایک دن ما موں کی نظر پڑگئی ۔۔اور اسےُ اسکول میں داخلہ مل گیا ۔۔۔وہ اپنی ذہانت سے وظیفہ لیتی ہوئی اب اس مقام پر تھی مگر وہ وقت اسکے دل ودماغ سے کبھی نہ نکل سکا ۔
امّی کو دلاسہ دیکر وہ باہر آگئی کرائے کا ایک چھوٹا سا کمرہ جو اس نے اپنی محنتوں سے اور کچھ ما موں کی مہر بانیوں سے حاصل کیا تھا ، امّی کا مسکن تھا ۔
آخر کار وہ وقت بھی آگیا جب وہ امیّ اور کاشف سے جدا ہوکر پردیس سدھاری ۔
شروع شروع میں اسُے دوبئی کے اسپتال میں کافی دقّت کا سامنا کر نا پڑا مگر کچھ مخلص ساتھیوں نے بہت سہارا دیا اور ہوسٹل میں ساتھ رہنے والی آمنہ
سے اسکی بہت دوستی ہوگئی ۔۔دونوں ساتھ ہی ہوسٹل سے نکلتے وہ اسپتال چلی جاتی اور رائمہ اپنے آفس کی راہ لیتی ۔
ایک برس بیت گیا تھا وہ گھر نہ جاکر بس پیسے بچانے کی مشین بنی ہوئی تھی ۔امی سے تو روز ہی فون پر بات کرتی انکو دلاسہ دیتی لیکن وہ اب ہر خوشی کی آس چھوڑ چکی تھی ۔
اپنے گھر کے لئے زمین تو پہلے سے ہی تھی ۔اب آہستہ آہستہ گھر بننا شروع ہوگیا تھا۔
جس دن اس کے گھر کی بنیاد پڑی ،کاشف نے تصویریں کھینچ کر اسےُ بھیجیں اسُ دن وہ اکیلے بیٹھ کر خوب روئی
اسکو اپنے پرانے سارے دن یاد آئے ،لامکانی کے سارے دکھُ اسکی آنکھوں میں گھوم گئے ۔اسُ دن وہ اپنی امّی کو فون کر کے بہت روئی ۔۔وہ اسےُ سنبھالتی رہیں تسّلیاں دیتی رہیں ۔۔۔انھوں نے ہمیشہ ہی حوصلہ دیا تھا آج بھی وہ اسُ کے ساتھ ہی کھڑی تھیں ۔
"آپ کیا کر رہی تھیں امیّ۔۔۔"اسُ نے آنسو پوچھ کر پوچھا ۔
"بیٹا یہ لاڈلی ہے نا ۔یاد ہے تمکو ؟ کموّبوا کی لڑکی ۔
ہاں بالکل یاد ہے کیا ہوا اسکو ؟ اب تو اسکول جاتی ہوگی
ہاں بیٹا اسکول تو جاتی ہے اب 12 برس کی ہوگئی ہے اس کا اباّ کہتا ہے کہ بیاہ کر دے گا ۔وہی معاملہ سُلجھا رہی تھی ۔چلو چھڑو تم اپنی صحت کا خاص خیال رکھو پتہ نہیں وہاں کیا کھاتی ہوگی ۔"امیّ نے بات بدل دی ۔مگر اس کی آنکھوں میں وہ ننھی سی لاڈلی آگئی ۔۔میلے میلے کپڑے پہنے پھٹی چپل اور کبھی بغیر چپل کے ۔امّی کے برامدے میں بیٹھی اسکول کا کام کرتی دکھائی دی ۔
"ارے نہیں امیّ منع کیجئے گا آپ ۔۔ابھی کیا شادی وادی ۔۔اس کے ابا کو سمجھا یئے
۔چلیئے کل پھر بات کروں گی اسُ نے فون بند کیا اور نماز کے لئے اٹھ گئی ۔
گھر کے کمرے وغیرہ تعمیر ہوگئے تھے یہاں اسُ کا کانٹریکٹ دو سال اور بڑھ گیا ۔گھر جانے کے بارے میں سو چتی تو پیسہ خرچ ہوتا نظر آتا ۔۔۔
وہ ہمّت کر کے ارادہ بدل دیتی ۔
چار برس کی مدّت ۔۔۔
وہ سیدھی امیّ کے گھر پہونچی وہ کمزور ہو گئی تھیں ۔کموّ بوا نے انکا بہت خیال رکھتی تھیں اس ِ وقت بھی وہ پاس کھڑی اسُ کے آجانے سے آنسوؤں سے ہنس رہی تھیں ۔
بس امّی بہت ہوگیا گھر تقریباً تیار ہے آپ پیکنگ کر لیجئے ہم کل آپکو لینے آئیں گے ۔۔دیکھئے کموّ بوا آپکی ذمہ داری ہے ۔
۔۔کافی دیر تک وہ وہیں بیٹھی رہی ۔کاشف کے آفس سے آنے کا وقت ہورہا تھا وہ سر پرائیز دینے کے لئے اچانک ہی جا نا چاہتی تھی ۔شام ہوتے ہوتے وہ ٹیکسی کر کے اپنے گھر کے لئیے روانہ ہوگئی ۔۔
اس کا گھر
اسُ کے ارمانوں کا گھر اسکے چار سال کی محنتوں کا پھل ۔۔۔وہ اب تک ہر قدم پر صرف تصویریں ہی دیکھتی آئی تھی آج اپنی آنکھوں سے اپنا گھر دیکھے گی ۔۔۔خوشی کا یہ احساس ایسا تھا کہ اسکو علاقہ شروع ہونے کا پتہ بھی نہ چلا اور وہ گیٹ پر پہونچ گئی ۔
ٹیکسی کو فارغ کر کے اسُ نے دروازے پر ہاتھ رکھّا ۔۔۔چوکی دار موجود تھا اسُ کو دیکھ کر الرٹ ہوگیا ،
"با با آپ نے کیسے پہچانا مجھے ۔؟
"بی بی صاحب آپ مجھے بھول گئیں میں تو صاحب کے ساتھ اکثر آپکے پرانے گھر آیا کر تا تھا ۔۔وہ جلدی سے سامان لیکر اندر کی طرف دوڑا کہ دراوزہ کھول سکے
اس کی پسند کا چھوٹا سالان ۔۔۔طرح طرح کے پھول ،،کاشف نے ان سب باتوں کا بے حد خیال رکھا تھا ۔۔۔برامدے میں پڑی کین کی کر سیاں
اور نقشین دروازے ۔۔وہ وہیں کرسی پر بیٹھ گئی اسُ کے پاس اند کی چابیاں نہین تھیں ۔
خوشی سے اسکو لرزہ سا طاری تھا ۔تب ہی کاشف کی گاڑی گیٹ میں داخل ہوئی اور رکتے ہی کاشف تیزی سے نکل کر اسکی طرف بڑھا ۔۔۔
پھر کچھ سوچ کر کمرے کا دروازہ کھول دیا اور وہ بے قرای سے کاشف سے لپٹ گئی ۔۔۔نہ جانے کتنا وقت بیت گیا ۔۔۔چار برس کا عرصہ کم نہیں ہوتا ۔۔۔
کاشف اسُ سے نہ جانے کیا کیا پوچھ رہا تھا وہ آنکھیں بند کیئے اسُ کے سینے پر سر ٹکائے کھڑی تھی ۔۔۔۔
بے حد خوب صورت احسا س اسُ کے اندر ہلکورے لے رہا تھا ۔
یہ ہے زندگی ۔۔۔یہ ہے جنّت جس سے وہ اتنے برس الگ رہی ۔۔۔اسُ نے سر اٹھا کر کاشف کا چہرہ دیکھا ۔۔۔وہ کچھ موٹا ہوگیا تھا چہرہ بھر گیا تھا آسود گی نظر آرہی تھی وہ اسُے لئے ہوئے بیڈ روم میں آگیا۔ اسُ کی پسند کا ہلکا نیلا آسمانی رنگ ہر دیوار پر مسکرا رہا تھا ۔۔۔وہ ایک بار پھر کاشف کے گلے لگ گئی ۔"کتنا خیال رکھا تم نے میری خوشی کا ہر چیز عین میری سوچ کے مطابق ہے کاشف ۔۔۔
کچن میں کھڑ پڑ ہو رہی تھی ۔۔۔کچھ دیر میں ایک لڑکی ٹرے میں سلیقے سے چائے لیئے ہوئے اندر آئی تو اسُ نے سوالیہ نظروں سے کاشف کو دیکھا ۔
"ارے پہچانہ نہیں ؟ یہ کموّ بوا کی لڑکی ہے ۔شام کی چائے کھانا اسی کی ذمہ داری ہے ۔اب تم آگئی ہو اسکو ٹھیک سے ٹرینڈ کر دینا "
اور ۔۔ارے واہ تم تو بڑی ہوگئی بھئی ۔
"باجی آپ کے آنے سے بہت اجالا سا ہوگیا ہے ۔
ہائیں ۔۔۔اتنی بڑی بڑی باتیں کر لیتی ہو ۔۔اس نے بڑھ کر لاڈلی کو گلے لگا یا ۔
لاڈلی کی کہانی بھی ان سب مؑعصوم بچیوں جیسی تھی ۔اسُ کے ابا نے اسے دگنی عمر کے آدمی کے ہاتھ بیچ دیا تھا ۔
مگر وہ وہاں نہیں گئی ۔۔نکاح نہیں ہونے دیا اپنے ماما کے گھر بھاگ آئی ۔اسُ کے ما ما نے اسُ کا بہت خیال رکھا ۔سب سے لڑجھگڑ کر اسُ کو تعلیم دلوائی اب وہ دسویں کا پرائوٹ امتحان دے رہی تھی اور پہلی دوسری کے بچوں کو گھر پر پڑھاتی تھی پھر یہاں کھانا پکا نے پر رکھ لی گئی ۔بہت ہمتّ سے وہ اپنی زند گی گزار رہی تھی ۔۔
۔مہک نے۔اسُ کو بہت پیار کیا اور ٹیوشن چھوڑ کر پورا دن اپنے پاس رکھنے کی آفر بھی دی تاکہ وہ سکون سے امتحان دے سکے ۔کچھ دنوں کی بات تھی مہک کو یہاں واپس جاب مل ہی جاتی ۔
صبح صبح لان پر ٹہلتے ہوئے وہ پھولوں سے باتیں کرتی رہی وہ دل ہی دل میں کاشف کی شکر گزار تھی ۔۔۔گھر اسُ کی مرضی کے عین مطابق تھا ۔کچھ اُوس مین بھیگے پھول ہتھیلوں میں بھر کے وہ کمرے کی طرف آئی مگر باہر ہی ٹھٹھک جا نا پڑا ۔کاشف کی دبی دبی آوازصبح کے سنّا ٹے میں صاف سنائی دے رہی تھی ۔۔۔
"کچھ دن صبر تو کرو ۔۔ابھی دو دن ہی تو ہوئے ہیں اسُ کو آئے ہوئے ۔۔۔فوراً تو نہیں بتا سکتا کہ یہاں کیا کر بیٹھا ہوں ۔۔
ہاں میں تمہاری مجبوری سمجھتا ہوں ۔۔جلد ہی راضی کر لونگا ۔وہ بہت اچھّی ہے ۔۔مجھے پتہ ہے وہ کوئی اعتراض نہیں کرے گی ۔۔
تم جلد میرے پاس میرے گھر میں ہوگی ہنی !۔۔۔کیوں پریشان ہو ۔۔اچھا اب بند کر تا ہوں آفس میں ملا قات ہوگی اوکے ؟ بے شرم بوسے کی تیز آواز اسکی سماعتیں جھلسا گئی
وہ لڑکھڑاتی ہوئی برا بر کے بیڈ روم میں آگئی ۔
۔۔سو نے کا گھر ۔
بہت اچھّی نوکری ہے ۔پیسے بھی ذیادہ ہیں ۔کیا فرق پڑتا ہے کچھ دن یہ تجربہ بھی سہی ۔۔"
"نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بالکل نہیں میں یہاں سے نہیں جاسکوں گا میرا اچھا خاصہ کام ہے ۔
"میں کب کہہ رہی ہوں کہ تم اپنی ملازمت چھوڑ دو ۔میں اکیلی جاسکتی ہوں وہاں کسی ہوسٹل میں رہ سکتی ہوں ۔۔ملازمت دے رہے ہیں تو رہنے کا انتظام بھی وہی لوگ کریں گے ۔۔فکر کی کیا بات ہے ۔" نیل پا لش صاف کرتے ہوئے اسُ نے کاشف کی طرف دیکھا ۔۔جو کسی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ۔پھر اچانک سر اٹھا کر گو یا ہوا ۔
"اور میں ؟؟ میں اکیلے کیسے یہاں رہوں گا ۔۔میرے لئے کچھ سوچا ؟
"ایک اچھّا گھر میرا خواب ہے کا شف !
۔۔اور میں یہاں کی ملازمت میں اپنا خواب پورا نہیں کر سکتی ۔۔۔مجھے جانے دو ۔۔۔اتنا اچھّا موقعہ بار بار نہیں ملتا ۔
خاموشی دونوں کے درمیان ٹہری رہی ۔۔۔کئی لمحے یوں ہی بیت گئے ۔
"جب تم نے طے کر ہی لیا ہے تو پھر مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو ۔۔"کاشف کی آواز اُداس تھی ۔وہ جلدی سے اٹھ کر اسکے پاس بیٹھ گئی ۔۔ہاتھ تھام کر اپنے گالوں پر رکھ لیا ۔۔۔
بالکل نہیں۔طے نہیں کیا ہے ۔۔۔اپنا خواب بتا رہی ہوں ۔۔تم کو کئی بار سنا چکی ہوں ۔۔۔اسکا لہجہ ٹو ٹنے لگا ۔۔۔
"یاد ہے مجھے ۔۔۔۔اباّ کے جانے کے بعد میں اور امیّ کیسے در در پھرے ہیں کسی عزیز نے ساتھ نہیں دیا سب نے منھ ُ پھیر لیا تھا ہم سے ۔ ۔۔میرا بچپن میرے سامنے درد کا سمندر بنا ہمیشہ کھڑا رہتا ہے ۔۔۔مجھے ایک گھر بنا نا ہے ۔۔میں امیّ کو بھی لا نا چاہتی ہوں ۔۔میں انکو تھوڑی سی خوشی دینا چاہتی ہوں ۔۔جو پلاٹ اباّ میرے نام چھوڑ گئے ہیں اسے فر وخت نہیں کر نا چاہتی ۔۔۔ہم دونوں مل کر بھی ایک گھر نہیں بنا سکتے اتنی تنخواہ نہیں ہے ہماری بات کو سمجھو ۔۔یوں ناراض ہوجاؤ گے تو میں کچھ نہیں کر سکوں گی حوصلہ دو مجھے ۔۔۔ہمتّ بڑھاؤ میری ۔۔۔"
اسکی آواز آنسوؤں میں گھُلنے لگی ۔
کاشف نے اسے قریب کر لیا ۔
۔اسکے آنسوں کو اپنی انگلیوں سے صاف کرتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا ۔۔اچھا ۔ٹھیک ہے یہاں بیٹھو میری بات سنو ۔۔تم کو یہاں کی ملازمت پسند نہیں تو تم اپنا ذاتی کلینک کھول لو ۔۔مین کھلوا دونگا ۔۔کہیں سے کچھ بھی کر کے ۔
"یہ بات نہیں ہے کاشف !۔۔وہاں اتنے بڑے ہاسپٹل میں بغیر کسی سفارش کے ملازمت مل رہی ہے وہاں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا ۔۔میرا مقصد صرف پیسے کما نا نہیں ۔۔میں ایکسپیرنس چاہتی ہو ں ۔۔بجائے اسِ کے کہ میرا حوصلہ بڑھا ؤ مجھے کمزور کر رہے وہ "اسُ کی آنکھیں بھر آئیں ۔
"رہ لو گی میرے بغیر ۔۔۔؟کاشف نے ہار مانتے ہوئے آخری پتہّ پھینکا ۔۔
"میرا جا نا مشکل نہ کرو ۔۔۔۔۔"
بہت اچھّی نوکری ہے ۔پیسے بھی ذیادہ ہیں ۔کیا فرق پڑتا ہے کچھ دن یہ تجربہ بھی سہی ۔۔"
"نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بالکل نہیں میں یہاں سے نہیں جاسکوں گا میرا اچھا خاصہ کام ہے ۔
"میں کب کہہ رہی ہوں کہ تم اپنی ملازمت چھوڑ دو ۔میں اکیلی جاسکتی ہوں وہاں کسی ہوسٹل میں رہ سکتی ہوں ۔۔ملازمت دے رہے ہیں تو رہنے کا انتظام بھی وہی لوگ کریں گے ۔۔فکر کی کیا بات ہے ۔" نیل پا لش صاف کرتے ہوئے اسُ نے کاشف کی طرف دیکھا ۔۔جو کسی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ۔پھر اچانک سر اٹھا کر گو یا ہوا ۔
"اور میں ؟؟ میں اکیلے کیسے یہاں رہوں گا ۔۔میرے لئے کچھ سوچا ؟
"ایک اچھّا گھر میرا خواب ہے کا شف !
۔۔اور میں یہاں کی ملازمت میں اپنا خواب پورا نہیں کر سکتی ۔۔۔مجھے جانے دو ۔۔۔اتنا اچھّا موقعہ بار بار نہیں ملتا ۔
خاموشی دونوں کے درمیان ٹہری رہی ۔۔۔کئی لمحے یوں ہی بیت گئے ۔
"جب تم نے طے کر ہی لیا ہے تو پھر مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو ۔۔"کاشف کی آواز اُداس تھی ۔وہ جلدی سے اٹھ کر اسکے پاس بیٹھ گئی ۔۔ہاتھ تھام کر اپنے گالوں پر رکھ لیا ۔۔۔
بالکل نہیں۔طے نہیں کیا ہے ۔۔۔اپنا خواب بتا رہی ہوں ۔۔تم کو کئی بار سنا چکی ہوں ۔۔۔اسکا لہجہ ٹو ٹنے لگا ۔۔۔
"یاد ہے مجھے ۔۔۔۔اباّ کے جانے کے بعد میں اور امیّ کیسے در در پھرے ہیں کسی عزیز نے ساتھ نہیں دیا سب نے منھ ُ پھیر لیا تھا ہم سے ۔ ۔۔میرا بچپن میرے سامنے درد کا سمندر بنا ہمیشہ کھڑا رہتا ہے ۔۔۔مجھے ایک گھر بنا نا ہے ۔۔میں امیّ کو بھی لا نا چاہتی ہوں ۔۔میں انکو تھوڑی سی خوشی دینا چاہتی ہوں ۔۔جو پلاٹ اباّ میرے نام چھوڑ گئے ہیں اسے فر وخت نہیں کر نا چاہتی ۔۔۔ہم دونوں مل کر بھی ایک گھر نہیں بنا سکتے اتنی تنخواہ نہیں ہے ہماری بات کو سمجھو ۔۔یوں ناراض ہوجاؤ گے تو میں کچھ نہیں کر سکوں گی حوصلہ دو مجھے ۔۔۔ہمتّ بڑھاؤ میری ۔۔۔"
اسکی آواز آنسوؤں میں گھُلنے لگی ۔
کاشف نے اسے قریب کر لیا ۔
۔اسکے آنسوں کو اپنی انگلیوں سے صاف کرتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا ۔۔اچھا ۔ٹھیک ہے یہاں بیٹھو میری بات سنو ۔۔تم کو یہاں کی ملازمت پسند نہیں تو تم اپنا ذاتی کلینک کھول لو ۔۔مین کھلوا دونگا ۔۔کہیں سے کچھ بھی کر کے ۔
"یہ بات نہیں ہے کاشف !۔۔وہاں اتنے بڑے ہاسپٹل میں بغیر کسی سفارش کے ملازمت مل رہی ہے وہاں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا ۔۔میرا مقصد صرف پیسے کما نا نہیں ۔۔میں ایکسپیرنس چاہتی ہو ں ۔۔بجائے اسِ کے کہ میرا حوصلہ بڑھا ؤ مجھے کمزور کر رہے وہ "اسُ کی آنکھیں بھر آئیں ۔
"رہ لو گی میرے بغیر ۔۔۔؟کاشف نے ہار مانتے ہوئے آخری پتہّ پھینکا ۔۔
"میرا جا نا مشکل نہ کرو ۔۔۔۔۔"
اور وہ آنسوؤں سے ہنستی روتی اسُ سے لپٹ۔گئی ۔
سارے معاملات طے ہونے میں ایک ماہ کہاں نکل گیا پتہ ہی نہیں چلا ۔اور اسکی روانگی کا دن آگیا ۔۔وہ ساری رات نہیں سوئی کاشف کے ساتھ جاگتی رہی اور دونوں پلانگ کرتے رہے
۔دو برس کا کانٹریکٹ اسُے دوبئی کے ہسپتال سے ملا تھا ۔۔ملازمت تو یہاں بھی تھی مگر دو سال کی چھٹی کی درخواست قبول ہوگئی اور اب وہ امّی کو سمجھا رہی تھی ۔۔
انکی آنکھیں مسلسل برس رہی تھیں بہت دکھُ اٹھا ئے تھے انھوں نے بہت درد برداشت کیا تھا ۔ساتھ ہی نور نے بھی وہ سب کچھ سہا تھا ۔شوہر کے انتقال کے بعد جب سسرال والوں نے بے عزّت کر کے گھر سے نکالا تو انکو بھائی کے گھر جا نا پڑا ۔۔جان سے پیارا بھائی جسکے لئے وہ اپنی ہر خوشی قربان کر تی آئی تھیں ۔۔اس کو انکا آنا بالکل پسند نہیں آیا
۔بھابی نے ایک پرانے اسٹور نما کمرے میں جگہ دی جسکی ایک طرف کی چھت بھی گر رہی تھی ۔۔۔اور وہاں سے آسمان نظر آتا تھا ۔
دونوں ماں بیٹی اسُ اسٹور نما کمرے میں ایک دیوار کے سہارے دری بچھا کر بیٹھ گئیں ۔۔بے انتہا سردی کی وجہ سے دونوں کانپ رہی تھیں اور چھت کے ٹوٹے کونے سے کہرا اندر بھر رہا تھا ۔۔۔
وہ امیّ کی گود میں سر چھپائے تھر تھر کانپ رہی تھی ۔تب بھابی نے پرا نا لحاف لاکر ان پر پھینکا اور باورچی خانے میں جاکر کھانا کھانے کی دعوت بھی دی ۔
کونے سے آتا ہوا کہرا گہرا ہورہا تھا اسنے سر اٹھا کر دیکھا کمرے میں بادل سے بھرے تھے ۔۔اسکا دم گھٹ رہا تھا ۔۔۔پانچ سال کی بچّی کے لئے یہ بیحد اذیت ناک وقت تھا ۔۔
پھر امی گھر کے کام کاج کر نے لگیں اور وہ کمرے سے نکل کر کبھی کبھی برامدے میں بیٹھ جاتی ۔پرا نا اسکول بیگ ساتھ لیکر آئی تو ایک دن ما موں کی نظر پڑگئی ۔۔اور اسےُ اسکول میں داخلہ مل گیا ۔۔۔وہ اپنی ذہانت سے وظیفہ لیتی ہوئی اب اس مقام پر تھی مگر وہ وقت اسکے دل ودماغ سے کبھی نہ نکل سکا ۔
امّی کو دلاسہ دیکر وہ باہر آگئی کرائے کا ایک چھوٹا سا کمرہ جو اس نے اپنی محنتوں سے اور کچھ ما موں کی مہر بانیوں سے حاصل کیا تھا ، امّی کا مسکن تھا ۔
آخر کار وہ وقت بھی آگیا جب وہ امیّ اور کاشف سے جدا ہوکر پردیس سدھاری ۔
شروع شروع میں اسُے دوبئی کے اسپتال میں کافی دقّت کا سامنا کر نا پڑا مگر کچھ مخلص ساتھیوں نے بہت سہارا دیا اور ہوسٹل میں ساتھ رہنے والی آمنہ
سے اسکی بہت دوستی ہوگئی ۔۔دونوں ساتھ ہی ہوسٹل سے نکلتے وہ اسپتال چلی جاتی اور رائمہ اپنے آفس کی راہ لیتی ۔
ایک برس بیت گیا تھا وہ گھر نہ جاکر بس پیسے بچانے کی مشین بنی ہوئی تھی ۔امی سے تو روز ہی فون پر بات کرتی انکو دلاسہ دیتی لیکن وہ اب ہر خوشی کی آس چھوڑ چکی تھی ۔
اپنے گھر کے لئے زمین تو پہلے سے ہی تھی ۔اب آہستہ آہستہ گھر بننا شروع ہوگیا تھا۔
جس دن اس کے گھر کی بنیاد پڑی ،کاشف نے تصویریں کھینچ کر اسےُ بھیجیں اسُ دن وہ اکیلے بیٹھ کر خوب روئی
اسکو اپنے پرانے سارے دن یاد آئے ،لامکانی کے سارے دکھُ اسکی آنکھوں میں گھوم گئے ۔اسُ دن وہ اپنی امّی کو فون کر کے بہت روئی ۔۔وہ اسےُ سنبھالتی رہیں تسّلیاں دیتی رہیں ۔۔۔انھوں نے ہمیشہ ہی حوصلہ دیا تھا آج بھی وہ اسُ کے ساتھ ہی کھڑی تھیں ۔
"آپ کیا کر رہی تھیں امیّ۔۔۔"اسُ نے آنسو پوچھ کر پوچھا ۔
"بیٹا یہ لاڈلی ہے نا ۔یاد ہے تمکو ؟ کموّبوا کی لڑکی ۔
ہاں بالکل یاد ہے کیا ہوا اسکو ؟ اب تو اسکول جاتی ہوگی
ہاں بیٹا اسکول تو جاتی ہے اب 12 برس کی ہوگئی ہے اس کا اباّ کہتا ہے کہ بیاہ کر دے گا ۔وہی معاملہ سُلجھا رہی تھی ۔چلو چھڑو تم اپنی صحت کا خاص خیال رکھو پتہ نہیں وہاں کیا کھاتی ہوگی ۔"امیّ نے بات بدل دی ۔مگر اس کی آنکھوں میں وہ ننھی سی لاڈلی آگئی ۔۔میلے میلے کپڑے پہنے پھٹی چپل اور کبھی بغیر چپل کے ۔امّی کے برامدے میں بیٹھی اسکول کا کام کرتی دکھائی دی ۔
"ارے نہیں امیّ منع کیجئے گا آپ ۔۔ابھی کیا شادی وادی ۔۔اس کے ابا کو سمجھا یئے
۔چلیئے کل پھر بات کروں گی اسُ نے فون بند کیا اور نماز کے لئے اٹھ گئی ۔
گھر کے کمرے وغیرہ تعمیر ہوگئے تھے یہاں اسُ کا کانٹریکٹ دو سال اور بڑھ گیا ۔گھر جانے کے بارے میں سو چتی تو پیسہ خرچ ہوتا نظر آتا ۔۔۔
وہ ہمّت کر کے ارادہ بدل دیتی ۔
چار برس کی مدّت ۔۔۔
وہ سیدھی امیّ کے گھر پہونچی وہ کمزور ہو گئی تھیں ۔کموّ بوا نے انکا بہت خیال رکھتی تھیں اس ِ وقت بھی وہ پاس کھڑی اسُ کے آجانے سے آنسوؤں سے ہنس رہی تھیں ۔
بس امّی بہت ہوگیا گھر تقریباً تیار ہے آپ پیکنگ کر لیجئے ہم کل آپکو لینے آئیں گے ۔۔دیکھئے کموّ بوا آپکی ذمہ داری ہے ۔
۔۔کافی دیر تک وہ وہیں بیٹھی رہی ۔کاشف کے آفس سے آنے کا وقت ہورہا تھا وہ سر پرائیز دینے کے لئے اچانک ہی جا نا چاہتی تھی ۔شام ہوتے ہوتے وہ ٹیکسی کر کے اپنے گھر کے لئیے روانہ ہوگئی ۔۔
اس کا گھر
اسُ کے ارمانوں کا گھر اسکے چار سال کی محنتوں کا پھل ۔۔۔وہ اب تک ہر قدم پر صرف تصویریں ہی دیکھتی آئی تھی آج اپنی آنکھوں سے اپنا گھر دیکھے گی ۔۔۔خوشی کا یہ احساس ایسا تھا کہ اسکو علاقہ شروع ہونے کا پتہ بھی نہ چلا اور وہ گیٹ پر پہونچ گئی ۔
ٹیکسی کو فارغ کر کے اسُ نے دروازے پر ہاتھ رکھّا ۔۔۔چوکی دار موجود تھا اسُ کو دیکھ کر الرٹ ہوگیا ،
"با با آپ نے کیسے پہچانا مجھے ۔؟
"بی بی صاحب آپ مجھے بھول گئیں میں تو صاحب کے ساتھ اکثر آپکے پرانے گھر آیا کر تا تھا ۔۔وہ جلدی سے سامان لیکر اندر کی طرف دوڑا کہ دراوزہ کھول سکے
اس کی پسند کا چھوٹا سالان ۔۔۔طرح طرح کے پھول ،،کاشف نے ان سب باتوں کا بے حد خیال رکھا تھا ۔۔۔برامدے میں پڑی کین کی کر سیاں
اور نقشین دروازے ۔۔وہ وہیں کرسی پر بیٹھ گئی اسُ کے پاس اند کی چابیاں نہین تھیں ۔
خوشی سے اسکو لرزہ سا طاری تھا ۔تب ہی کاشف کی گاڑی گیٹ میں داخل ہوئی اور رکتے ہی کاشف تیزی سے نکل کر اسکی طرف بڑھا ۔۔۔
پھر کچھ سوچ کر کمرے کا دروازہ کھول دیا اور وہ بے قرای سے کاشف سے لپٹ گئی ۔۔۔نہ جانے کتنا وقت بیت گیا ۔۔۔چار برس کا عرصہ کم نہیں ہوتا ۔۔۔
کاشف اسُ سے نہ جانے کیا کیا پوچھ رہا تھا وہ آنکھیں بند کیئے اسُ کے سینے پر سر ٹکائے کھڑی تھی ۔۔۔۔
بے حد خوب صورت احسا س اسُ کے اندر ہلکورے لے رہا تھا ۔
یہ ہے زندگی ۔۔۔یہ ہے جنّت جس سے وہ اتنے برس الگ رہی ۔۔۔اسُ نے سر اٹھا کر کاشف کا چہرہ دیکھا ۔۔۔وہ کچھ موٹا ہوگیا تھا چہرہ بھر گیا تھا آسود گی نظر آرہی تھی وہ اسُے لئے ہوئے بیڈ روم میں آگیا۔ اسُ کی پسند کا ہلکا نیلا آسمانی رنگ ہر دیوار پر مسکرا رہا تھا ۔۔۔وہ ایک بار پھر کاشف کے گلے لگ گئی ۔"کتنا خیال رکھا تم نے میری خوشی کا ہر چیز عین میری سوچ کے مطابق ہے کاشف ۔۔۔
کچن میں کھڑ پڑ ہو رہی تھی ۔۔۔کچھ دیر میں ایک لڑکی ٹرے میں سلیقے سے چائے لیئے ہوئے اندر آئی تو اسُ نے سوالیہ نظروں سے کاشف کو دیکھا ۔
"ارے پہچانہ نہیں ؟ یہ کموّ بوا کی لڑکی ہے ۔شام کی چائے کھانا اسی کی ذمہ داری ہے ۔اب تم آگئی ہو اسکو ٹھیک سے ٹرینڈ کر دینا "
اور ۔۔ارے واہ تم تو بڑی ہوگئی بھئی ۔
"باجی آپ کے آنے سے بہت اجالا سا ہوگیا ہے ۔
ہائیں ۔۔۔اتنی بڑی بڑی باتیں کر لیتی ہو ۔۔اس نے بڑھ کر لاڈلی کو گلے لگا یا ۔
لاڈلی کی کہانی بھی ان سب مؑعصوم بچیوں جیسی تھی ۔اسُ کے ابا نے اسے دگنی عمر کے آدمی کے ہاتھ بیچ دیا تھا ۔
مگر وہ وہاں نہیں گئی ۔۔نکاح نہیں ہونے دیا اپنے ماما کے گھر بھاگ آئی ۔اسُ کے ما ما نے اسُ کا بہت خیال رکھا ۔سب سے لڑجھگڑ کر اسُ کو تعلیم دلوائی اب وہ دسویں کا پرائوٹ امتحان دے رہی تھی اور پہلی دوسری کے بچوں کو گھر پر پڑھاتی تھی پھر یہاں کھانا پکا نے پر رکھ لی گئی ۔بہت ہمتّ سے وہ اپنی زند گی گزار رہی تھی ۔۔
۔مہک نے۔اسُ کو بہت پیار کیا اور ٹیوشن چھوڑ کر پورا دن اپنے پاس رکھنے کی آفر بھی دی تاکہ وہ سکون سے امتحان دے سکے ۔کچھ دنوں کی بات تھی مہک کو یہاں واپس جاب مل ہی جاتی ۔
صبح صبح لان پر ٹہلتے ہوئے وہ پھولوں سے باتیں کرتی رہی وہ دل ہی دل میں کاشف کی شکر گزار تھی ۔۔۔گھر اسُ کی مرضی کے عین مطابق تھا ۔کچھ اُوس مین بھیگے پھول ہتھیلوں میں بھر کے وہ کمرے کی طرف آئی مگر باہر ہی ٹھٹھک جا نا پڑا ۔کاشف کی دبی دبی آوازصبح کے سنّا ٹے میں صاف سنائی دے رہی تھی ۔۔۔
"کچھ دن صبر تو کرو ۔۔ابھی دو دن ہی تو ہوئے ہیں اسُ کو آئے ہوئے ۔۔۔فوراً تو نہیں بتا سکتا کہ یہاں کیا کر بیٹھا ہوں ۔۔
ہاں میں تمہاری مجبوری سمجھتا ہوں ۔۔جلد ہی راضی کر لونگا ۔وہ بہت اچھّی ہے ۔۔مجھے پتہ ہے وہ کوئی اعتراض نہیں کرے گی ۔۔
تم جلد میرے پاس میرے گھر میں ہوگی ہنی !۔۔۔کیوں پریشان ہو ۔۔اچھا اب بند کر تا ہوں آفس میں ملا قات ہوگی اوکے ؟ بے شرم بوسے کی تیز آواز اسکی سماعتیں جھلسا گئی
وہ لڑکھڑاتی ہوئی برا بر کے بیڈ روم میں آگئی ۔
سامنے ڈریسنگ
ٹیبل کا آئینہ اسُ کے سامنے تھا ،اس نے تھکن سے نڈھال ،اپنا چہرہ دیکھا ،روکھے
بال ہونٹوں پر جمی پپڑیاں ۔،آنکھوں کے
گہرے حلقے ۔۔۔
چند لمحوں تک وہ آنکھیں بند کئیے بیٹھی رہی ۔
پھر اسُ نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں ۔۔کمرے کی چھت ایک طرف سے ٹوٹی ہوئی تھی وہاں سے سرد کہرا اور بادل کمرے کے اندر آرہے تھے ۔۔اسکا دم گھٹنے لگا ۔۔۔وہ اٹھی پنکھا چلا دیا لیکن بادل بدستور اندر آتے رہے ہر چیز دھندلی تھی ہر رنگ پھیکا تھا ۔۔۔ایک سرد اور بے رحم سی ٹھنڈک اس کے وجود میں اتر نے لگی ۔۔اسُ کو محسوس ہوا وہ مر رہی ہے ۔۔
"امی۔ی۔۔۔ی ی۔۔۔۔"چیخ کی صورت اسُ کے منھ سے نکلا اور وہ لڑکھڑا کر گر گئی ۔
شاید شام ہوگئی تھی ۔کاشف اس ُ کے سر ہانے پریشان سا بیٹھا تھا ۔سامنے اسٹول پر کچھ دوائیں اور چائے کی ٹرے رکھی تھی ۔
اسُ کو ہوش میں آتے دیکھ کر کا شف اسُ پر جھکُ گیا ۔۔۔کیا ہوا ۔۔تم کو ؟ کیسا محسوس کر رہی ہو ؟ کیا کچھ بیمار رہی تھیں وہاں ؟
وہ نہ جانے کیا کیا پوچھ رہا تھا وہ بہت ہمّت کر کے اٹھ گئی کچھ دیر بیڈ سے پیر لٹکائے خاموش بیٹھی رہی ۔۔پھر کاشف کو سامنے سے ہٹا تی ہوئی کھڑی ہوگئی ۔۔۔وہ ڈاکٹر کو کال کر نے باہر نکل گیا ۔
مہک نے بڑی ہمتّ سے بڑا سوٹ کیس اتارا اور اس میں کپڑے بھر نے لگی ۔۔پھر کچھ سا مان چھوٹے بیگ میں بھر دیا ۔۔کاشف اندر آیا تو ہکا بکا رہ گیا ۔۔یہ کیا کر رہی ہوتم ۔۔۔
پاگل ہوئی ہو ؟/ کہاں جاؤگی اسِ وقت ۔۔۔تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔آرام کر و کیا ہوگیا تم کو ۔۔
"میں کہیں نہیں جارہی کاشف ۔۔۔
لاڈلی یہ سوٹ کیس باہر رکھو ۔۔۔اور کاشف تم کو کچھ اور چاہیئے تو اٹھا لو اور ابھی فوراً نکلو یہاں سے ،میں ۔۔۔چلو اٹھا ؤ اپنا سامان ۔۔۔
مہک ۔۔۔کاشف نے کچھ اور بولنے کی کوشش کی تو وہ چیخ پڑی ۔۔۔
لاڈلی ۔۔۔۔۔۔ی ۔۔۔ی ۔۔۔دیکھو جب یہ شخص باہر چلا جائے تو دروازہ بند کر لینا ۔
٭٭٭٭٭
پھر اسُ نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں ۔۔کمرے کی چھت ایک طرف سے ٹوٹی ہوئی تھی وہاں سے سرد کہرا اور بادل کمرے کے اندر آرہے تھے ۔۔اسکا دم گھٹنے لگا ۔۔۔وہ اٹھی پنکھا چلا دیا لیکن بادل بدستور اندر آتے رہے ہر چیز دھندلی تھی ہر رنگ پھیکا تھا ۔۔۔ایک سرد اور بے رحم سی ٹھنڈک اس کے وجود میں اتر نے لگی ۔۔اسُ کو محسوس ہوا وہ مر رہی ہے ۔۔
"امی۔ی۔۔۔ی ی۔۔۔۔"چیخ کی صورت اسُ کے منھ سے نکلا اور وہ لڑکھڑا کر گر گئی ۔
شاید شام ہوگئی تھی ۔کاشف اس ُ کے سر ہانے پریشان سا بیٹھا تھا ۔سامنے اسٹول پر کچھ دوائیں اور چائے کی ٹرے رکھی تھی ۔
اسُ کو ہوش میں آتے دیکھ کر کا شف اسُ پر جھکُ گیا ۔۔۔کیا ہوا ۔۔تم کو ؟ کیسا محسوس کر رہی ہو ؟ کیا کچھ بیمار رہی تھیں وہاں ؟
وہ نہ جانے کیا کیا پوچھ رہا تھا وہ بہت ہمّت کر کے اٹھ گئی کچھ دیر بیڈ سے پیر لٹکائے خاموش بیٹھی رہی ۔۔پھر کاشف کو سامنے سے ہٹا تی ہوئی کھڑی ہوگئی ۔۔۔وہ ڈاکٹر کو کال کر نے باہر نکل گیا ۔
مہک نے بڑی ہمتّ سے بڑا سوٹ کیس اتارا اور اس میں کپڑے بھر نے لگی ۔۔پھر کچھ سا مان چھوٹے بیگ میں بھر دیا ۔۔کاشف اندر آیا تو ہکا بکا رہ گیا ۔۔یہ کیا کر رہی ہوتم ۔۔۔
پاگل ہوئی ہو ؟/ کہاں جاؤگی اسِ وقت ۔۔۔تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔آرام کر و کیا ہوگیا تم کو ۔۔
"میں کہیں نہیں جارہی کاشف ۔۔۔
لاڈلی یہ سوٹ کیس باہر رکھو ۔۔۔اور کاشف تم کو کچھ اور چاہیئے تو اٹھا لو اور ابھی فوراً نکلو یہاں سے ،میں ۔۔۔چلو اٹھا ؤ اپنا سامان ۔۔۔
مہک ۔۔۔کاشف نے کچھ اور بولنے کی کوشش کی تو وہ چیخ پڑی ۔۔۔
لاڈلی ۔۔۔۔۔۔ی ۔۔۔ی ۔۔۔دیکھو جب یہ شخص باہر چلا جائے تو دروازہ بند کر لینا ۔
٭٭٭٭٭
No comments:
Post a Comment