کربلا انسانیت
اور ہندوستان ۔
جنگ و جدل تاریخ ِ آدام کا اہم جُز ہے ۔ہابیل و قابیل کے ذاتی جھگڑے سے آج تک دنیا میں مختلف اسباب کے تحت قتل و خونریزی کا بازار گرم رہا ہے ۔بنیاد کچھ بھی ہو انسانی فطرت کا تقاضہ ہے کہ اپنے مقصد کے حصول خواہ وہ نیک ہو یا قبیح اپنی شہرت کی خاطر یا دولت کے حصول کے لئے کشت و خوں بپا کر تا ہے ۔
واقعہ کر بلا اسلامی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے محض یہ نہیں کہ یہ واقعہ آل رسولؐ کی داستان بیان کرتا ہے بلکہ یہ کہ قربانی کس طرح پیش کی جاتی ہے ۔صرف عقیدت مند ہی نہیں دیگر افراد بھی واقف ہیں کہ امام حسین عیلہ السلام کبھی مجبور نہیں تھے لیکن انھیں وعدہء طفلی یاد رہا اور نا نا کے دین کی حفاظت کے لئے سب کچھ لٹا دیا ۔بحث طلب ہوسکتا ہے کہ دین کی حفاظت کس حد تک ہوئی لیکن سب جانتے ہیں کہ دین ِ اسلام کی روح آج بھی اس قر بانی کے سبب محفوظ ہے ۔
آج بھی پوری دنیا میں جہاں جہاں کر بلا ہے آواز دے رہا ہے کہ اسلام زندہ ہے ۔۔اسلام کے لئے قر بانیاں کس طرح پیش کی جاتی ہیں ۔۔کس طرح پورا کنبہ لٹا کر بھی سجدہء شکر ادا کیا جاتا ہے ۔
یہ بھی صحیع ہے کہ تاریخ ِ اسلام میں صرف کر بلا ہی اکیل جنگ نہیں ہے رسول اللہ ؐ کی آنکھیں بند ہوتے ہی یہ سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔آل رسول ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں ہدف بنے رہے ۔تفصیل سے گریز کرتے ہوئے یہ لکھا جاسکتا ہے کہ جناب فاطمہ زہرا ، امام حضرت علی علیہ السلام ،انکے بڑے فر زندا مام حسن علیہاسلام کے بعد ہی کر بلا کا واقعہ سامنے آتا ہے مگر یہ کوئی عام جنگ نہیں تھی ۔امام حسین علیہ السلام جنگ کے لئے روانہ ہوتے تو کچھ فوج ساتھ رکھتے مگر آپ تو اپنے ساتھ پر دے میں بیبیوں کو اور معصوم بچوںّ کو لے کر چلے ۔
سب سے پہلے
جنگ و جدل تاریخ ِ آدام کا اہم جُز ہے ۔ہابیل و قابیل کے ذاتی جھگڑے سے آج تک دنیا میں مختلف اسباب کے تحت قتل و خونریزی کا بازار گرم رہا ہے ۔بنیاد کچھ بھی ہو انسانی فطرت کا تقاضہ ہے کہ اپنے مقصد کے حصول خواہ وہ نیک ہو یا قبیح اپنی شہرت کی خاطر یا دولت کے حصول کے لئے کشت و خوں بپا کر تا ہے ۔
واقعہ کر بلا اسلامی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے محض یہ نہیں کہ یہ واقعہ آل رسولؐ کی داستان بیان کرتا ہے بلکہ یہ کہ قربانی کس طرح پیش کی جاتی ہے ۔صرف عقیدت مند ہی نہیں دیگر افراد بھی واقف ہیں کہ امام حسین عیلہ السلام کبھی مجبور نہیں تھے لیکن انھیں وعدہء طفلی یاد رہا اور نا نا کے دین کی حفاظت کے لئے سب کچھ لٹا دیا ۔بحث طلب ہوسکتا ہے کہ دین کی حفاظت کس حد تک ہوئی لیکن سب جانتے ہیں کہ دین ِ اسلام کی روح آج بھی اس قر بانی کے سبب محفوظ ہے ۔
آج بھی پوری دنیا میں جہاں جہاں کر بلا ہے آواز دے رہا ہے کہ اسلام زندہ ہے ۔۔اسلام کے لئے قر بانیاں کس طرح پیش کی جاتی ہیں ۔۔کس طرح پورا کنبہ لٹا کر بھی سجدہء شکر ادا کیا جاتا ہے ۔
یہ بھی صحیع ہے کہ تاریخ ِ اسلام میں صرف کر بلا ہی اکیل جنگ نہیں ہے رسول اللہ ؐ کی آنکھیں بند ہوتے ہی یہ سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔آل رسول ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں ہدف بنے رہے ۔تفصیل سے گریز کرتے ہوئے یہ لکھا جاسکتا ہے کہ جناب فاطمہ زہرا ، امام حضرت علی علیہ السلام ،انکے بڑے فر زندا مام حسن علیہاسلام کے بعد ہی کر بلا کا واقعہ سامنے آتا ہے مگر یہ کوئی عام جنگ نہیں تھی ۔امام حسین علیہ السلام جنگ کے لئے روانہ ہوتے تو کچھ فوج ساتھ رکھتے مگر آپ تو اپنے ساتھ پر دے میں بیبیوں کو اور معصوم بچوںّ کو لے کر چلے ۔
سب سے پہلے
انسانیت کا نمونہ مکہّ مکرمہ میں سامنے آیا جب
آپ نے حالات ناساز گار دیکھ کر حج کو عمرہ میں تبدیل کیا ۔تاکہ تمام حاجیوں کو
خونِ ناحق مکہ میں نہ بہے وہاں کشت و خون نہ ہو ۔دوسرا انسانیت کا نمونہ اسُ وقت
پیش کیا جب دشمن کی پیاسی فوج کو دیکھ کر پانی کے خزانے کھول دیئے ۔انسان تو انسان
جانور کو بھی سیراب کیا ۔۔وہ امامِ وقت
تھے کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ ابھی ان کے
بچوں کو ایک ایک بوند پانی کے لئے تر سایا جائے گا ۔۔ننھا مسافر علی اصغر اپنے گلے
پر پانی کے عیوض تیر کھائے گا ۔۔ننھی سکینہ ہائے العتش ہائے العتش کہتی ہوئی اپنے
چچا سے پانی کی فر مائش کرے گی اور چچا عباس جو کہ وفا داری کی مثال تھے پانی لینے نہر پر جائیں گے اور کبھی واپس نہ
آسکیں گے ۔نجم آفندی نے ایک نوحے میں انکے لئے ایک شعر کہا ہے
ہائے عبّاس کی وفا داری
نہر پر جاکے تشنہ کام آئے ۔
مولا سب جانتے تھے ۔پھر بھی پانی سے دشمنوں کو سیراب کیا ۔اور جب حضرت حرُ آپ کے پاس معافی کے لئے آئے تو آپ نے ان کی خطا معاف کر کے کس طرح اصحاب میں شامل کیا ۔انسا نیت کا نمو نہ تھے امام حسین علیہ السلام ۔ مگر وہ جنگ نہیں چاہتے تھے ۔
۔وہ تو یذید کو جنگ سے باز رکھنا چاہتے تھے ۔ابن ِ سعد کے لشکر پہنچنے کے بعد بھی انھوں نے ایک شب کی مہلت مانگی ،کسی دوسرے ملک جانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ۔مگر یذید کو تو جنگ کر نی تھی اور جنگ ہوئی ایک ایک کر کے تمام اصحاب و اقا رب نے جامِ شہادت نوش کیا ۔اور آخر تن و تنہا امام نے جنگ کی شہید ہوئے ۔۔بیبیاں بے پردہ ہوئیں خیمے جلائے گئے ۔کیا کیا ظلم نہ ہوئے ۔تاریخ گواہ ہے آج بھی پورے سال حسین کا ذکر شہادت تمام مسلمانوں میں منا یا جاتا ہے اور خاص کر محرم میں تو پوری دنیا میں حسین کا غم منا یا جاتا ہے زمین پر آسمان پر ہر جگہ ایک ہی غم پوری کائینات پر چھا جا تا ہے ،فر شتے بھی حسین کے غم میں روتے ہیں ۔اگر امام حسین قربانی پیش نہ کرتے تو اسلام کو یہ بلندی نصیب نہ ہوتی ۔آپ نے ایک دن میں بہتر کی قر بانی دی عزیز و اقارب جگر کے ٹکڑے بیٹوں کی ،بھتیجے ،بھانجوں کی قربانی دی سب کا لاشہ اٹھا کر خیمے میں لائے خواہ لاش کے ٹکڑے ہی کیوں نہ ہوگئے ہوں ۔تاریخ گواہ ہے کہ جوان بیٹے کے کلیجے سے برچھی کا پھل اپنے ہاتھوں سے نکالا ۔۔۔زمین وآسمان تھّرا گئے ہوں گے کس طرح یہ سب بر داشت کیا ہوگا ۔
ہندوستان کے ہر شہر ہر گاؤں میں عزاداری بہت اہتمام و عقیدت کے ہوتی ہے ۔شعرا نے کلام میں پورے واقعات کو تمام جزّیات کے ساتھ پیش کیا ۔سب سے پہلے تو جو مسلما ن نہیں ہیں انھوں نے بھی امام کی عظمت کو مانا ۔
مہا تما گاندھی جی نے کہا کہ اگر ہندوستان ایک کامیاب ملک بننا چاہتا ہے تو اسُ کے لیئے ضروری ہے کہ امام حسین کی راہ پر گامزن ہو ۔اور اگر میرے پاس مثلِ امام حسین بہتّر افراد ہوتے تو میں ہندوستان کے لئے آذادی چوبیس گھنٹے میں حاصل کر لیتا ۔
خواجہ معین الدین اجمیری نے کہا ۔
شاہ ہست حسین بادشاہ ہست حسین
دین ہست حسین دیں پناہ ہست حسین
سر داد نہ داد دست در دستِ یذید
حقّا کہ بنائے لااللہ ہست حسین
میر انیس اور مرزا دبیر کے مراثی ،نجم آفندی کے نوحے
ڈوبی ہوئی دکھ کے ساگر میں سورج کی سنہری تھالی تھی
اسِ چاند کی دس کو سانجھ تلک شبّیر سے دنیا خالی تھی ۔
اور دیگر شاعروں ادیبوں نے اپنے انداز میں امام حسن علیہ السلام کو خراجِ عقیدت پیش کیا ۔نو حوں اور مر ثیوں میں واقعہ کر بلا کئی جگہ ہندوستانی انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔شادی بیاہ کی رسمیں ۔
حضرت قاسم کے حوالے سے ۔سنگھار کے طریقے مثلاً صندل سے مانگ بھر نا
رشتوں کا بیان حضرت زینب اور جناب بانو کے حوالے سے ۔
ہائے عبّاس کی وفا داری
نہر پر جاکے تشنہ کام آئے ۔
مولا سب جانتے تھے ۔پھر بھی پانی سے دشمنوں کو سیراب کیا ۔اور جب حضرت حرُ آپ کے پاس معافی کے لئے آئے تو آپ نے ان کی خطا معاف کر کے کس طرح اصحاب میں شامل کیا ۔انسا نیت کا نمو نہ تھے امام حسین علیہ السلام ۔ مگر وہ جنگ نہیں چاہتے تھے ۔
۔وہ تو یذید کو جنگ سے باز رکھنا چاہتے تھے ۔ابن ِ سعد کے لشکر پہنچنے کے بعد بھی انھوں نے ایک شب کی مہلت مانگی ،کسی دوسرے ملک جانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ۔مگر یذید کو تو جنگ کر نی تھی اور جنگ ہوئی ایک ایک کر کے تمام اصحاب و اقا رب نے جامِ شہادت نوش کیا ۔اور آخر تن و تنہا امام نے جنگ کی شہید ہوئے ۔۔بیبیاں بے پردہ ہوئیں خیمے جلائے گئے ۔کیا کیا ظلم نہ ہوئے ۔تاریخ گواہ ہے آج بھی پورے سال حسین کا ذکر شہادت تمام مسلمانوں میں منا یا جاتا ہے اور خاص کر محرم میں تو پوری دنیا میں حسین کا غم منا یا جاتا ہے زمین پر آسمان پر ہر جگہ ایک ہی غم پوری کائینات پر چھا جا تا ہے ،فر شتے بھی حسین کے غم میں روتے ہیں ۔اگر امام حسین قربانی پیش نہ کرتے تو اسلام کو یہ بلندی نصیب نہ ہوتی ۔آپ نے ایک دن میں بہتر کی قر بانی دی عزیز و اقارب جگر کے ٹکڑے بیٹوں کی ،بھتیجے ،بھانجوں کی قربانی دی سب کا لاشہ اٹھا کر خیمے میں لائے خواہ لاش کے ٹکڑے ہی کیوں نہ ہوگئے ہوں ۔تاریخ گواہ ہے کہ جوان بیٹے کے کلیجے سے برچھی کا پھل اپنے ہاتھوں سے نکالا ۔۔۔زمین وآسمان تھّرا گئے ہوں گے کس طرح یہ سب بر داشت کیا ہوگا ۔
ہندوستان کے ہر شہر ہر گاؤں میں عزاداری بہت اہتمام و عقیدت کے ہوتی ہے ۔شعرا نے کلام میں پورے واقعات کو تمام جزّیات کے ساتھ پیش کیا ۔سب سے پہلے تو جو مسلما ن نہیں ہیں انھوں نے بھی امام کی عظمت کو مانا ۔
مہا تما گاندھی جی نے کہا کہ اگر ہندوستان ایک کامیاب ملک بننا چاہتا ہے تو اسُ کے لیئے ضروری ہے کہ امام حسین کی راہ پر گامزن ہو ۔اور اگر میرے پاس مثلِ امام حسین بہتّر افراد ہوتے تو میں ہندوستان کے لئے آذادی چوبیس گھنٹے میں حاصل کر لیتا ۔
خواجہ معین الدین اجمیری نے کہا ۔
شاہ ہست حسین بادشاہ ہست حسین
دین ہست حسین دیں پناہ ہست حسین
سر داد نہ داد دست در دستِ یذید
حقّا کہ بنائے لااللہ ہست حسین
میر انیس اور مرزا دبیر کے مراثی ،نجم آفندی کے نوحے
ڈوبی ہوئی دکھ کے ساگر میں سورج کی سنہری تھالی تھی
اسِ چاند کی دس کو سانجھ تلک شبّیر سے دنیا خالی تھی ۔
اور دیگر شاعروں ادیبوں نے اپنے انداز میں امام حسن علیہ السلام کو خراجِ عقیدت پیش کیا ۔نو حوں اور مر ثیوں میں واقعہ کر بلا کئی جگہ ہندوستانی انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔شادی بیاہ کی رسمیں ۔
حضرت قاسم کے حوالے سے ۔سنگھار کے طریقے مثلاً صندل سے مانگ بھر نا
رشتوں کا بیان حضرت زینب اور جناب بانو کے حوالے سے ۔
رزم کا اندا زمہا بھارت کے اور رامائن کے طریق پر ۔لفظیات
میں ہندوستانی جھلک ہر جگہ موجود ہے جیسے
،گود ،کھیتی ،اوس ،وغیرہ یعنی ہندی الفاظ کا استعمال ۔
تعزیہ بھی ہندوستان میں ہی امام حسین علیہ اسلام کی یاد میں بنا یا گیا ۔تفصیل میں نہ جاتے ہوئے اس کی تاریخ امیر تیمورلنگ سے ملتی ہے پہلا تعزیہ اسُ نے بنوایا ۔
کہا جاتا ہے کہ ایک سیدّ عالم سے تیمور کو بڑی عقیدت تھی اور یہ سیّد صاحب ہر سال تبرک کے طور پر کچھ نہ کچھ بادشاہ کی خدمت میں پیش کرتے تھے اور وہ ان تبر کات کو بڑی عقیدت کے ساتھ محفوظ رکھتا تھا ۔
جس میں ایک ضریحِ اقدس اور خاک ِ قبر اطہر امام عالی مقام حضرت امام حسین سے ایک تسبیح تھی ۔
وہ اسُ ضریح کو کھلیُ عماری پر رکھو کر گشت کر واتا تھا اور جلوس کی شکل میں لوگ ساتھ چلتے تھے تاکہ لوگ روضہ نہ سہی نقل کی زیارت کر لیں ۔پھر اور لوگوں نے بھی اسُ شکل کو مٹی کاغذ اور لکڑی سے تیا ر کر نا شروع کیا ۔مختلف رنگ ابھارے گئے اور تازیہ کی شکل نمودار ہوئی ۔اور جب امام کی طرف سے حاجت روائی ہوئی تو صرف شعیہ ہی نہیں اہلِ سنت اور ہندو مذہب کے ماننے والے بھی تازیہ میں شریک ہوئے اور اس طر ح عزا خانوں میں تازیہ رکھے جانے لگے ۔
اجڑی ہوئی آنکھوں میں میری اس دشت کا منظر آج بھی ہے
جلتے ہوئے خیمے آج بھی ہیں نیزے پہ کوئی سر آج بھی ہے ۔
تعزیہ بھی ہندوستان میں ہی امام حسین علیہ اسلام کی یاد میں بنا یا گیا ۔تفصیل میں نہ جاتے ہوئے اس کی تاریخ امیر تیمورلنگ سے ملتی ہے پہلا تعزیہ اسُ نے بنوایا ۔
کہا جاتا ہے کہ ایک سیدّ عالم سے تیمور کو بڑی عقیدت تھی اور یہ سیّد صاحب ہر سال تبرک کے طور پر کچھ نہ کچھ بادشاہ کی خدمت میں پیش کرتے تھے اور وہ ان تبر کات کو بڑی عقیدت کے ساتھ محفوظ رکھتا تھا ۔
جس میں ایک ضریحِ اقدس اور خاک ِ قبر اطہر امام عالی مقام حضرت امام حسین سے ایک تسبیح تھی ۔
وہ اسُ ضریح کو کھلیُ عماری پر رکھو کر گشت کر واتا تھا اور جلوس کی شکل میں لوگ ساتھ چلتے تھے تاکہ لوگ روضہ نہ سہی نقل کی زیارت کر لیں ۔پھر اور لوگوں نے بھی اسُ شکل کو مٹی کاغذ اور لکڑی سے تیا ر کر نا شروع کیا ۔مختلف رنگ ابھارے گئے اور تازیہ کی شکل نمودار ہوئی ۔اور جب امام کی طرف سے حاجت روائی ہوئی تو صرف شعیہ ہی نہیں اہلِ سنت اور ہندو مذہب کے ماننے والے بھی تازیہ میں شریک ہوئے اور اس طر ح عزا خانوں میں تازیہ رکھے جانے لگے ۔
اجڑی ہوئی آنکھوں میں میری اس دشت کا منظر آج بھی ہے
جلتے ہوئے خیمے آج بھی ہیں نیزے پہ کوئی سر آج بھی ہے ۔
No comments:
Post a Comment