Sunday, July 28, 2019


خواب خواب منظر تھا ،دھیمے دھیمے بہتی تھی
راگنی ہواؤں کی ، را ت چاند بادل میں
عذرا قیصر نقو ی اردو ادب میں اپنے  عہد کی شناخت ہیں ۔اس بات کو کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ وہ  ایسے مضوعات و مسا ئل کو افسانوی  اور شعری قالب میں ڈھال دیتی ہیں جو کسی اور کے بس کی بات نہیں وہ جتنی عظیم شاعرہ ہیں ،ادیبہ بھی ہیں ۔انُ کی تمام تر تحریریں فکر انگیز اور حساس ہیں اور وہ وہ ہر قدم پر ہمیں حیران کر دیتی ہیں ۔
عذرا قیصر نقوی کی شاعری ۔ انُ کے مضامین اور بے مثال افسانے کسی ایک عہد کے لیئے نہیں وہ ہر عہد کے لیئے ایک مثال ہیں ۔
جناب محمد طارق غاذی  صاحب (آٹوا کینڈا ) لکھتے ہیں
 "عذرا نقوی سواد آعظم کی شاعرہ ہیں ۔ادب میں وہ ایک ایسی جدا گانہ آواز کے طور پر سامنے آئی ہیں جو فقط نسوانی نہیں جو نسائی بھی ہے اور عمرانی بھی ،عصری بھی ہے افاقی بھی ،فکر انگیز بھی ہے اور تعمیری بھی ۔۔۔۔۔"
شمیم  حنفی صاحب کہتے ہیں ۔
"ان کے بیشتر تجر بے کسی نہ کسی ایسی سچائی  سے پر دہ اٹھا تے ہیں جو سرّی یا ما بعد الطبیعا تی نہیں ہے ،محض مفروضہ  یا تخیل  کی وضع کر دہ  نہیں ہے اور جسے دیکھنے  اور سمجھنے کے لئے ہمیں اپنے آپ سے اور اپنی دنیا سے دور جانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی صاف لفظوں مین  کہا جائے  تو عذرا  کے تجربے ہمارے لیئے اپنے بھی تجر بے ہیں اور  ایک جانی پہچانی سطح پر ہم سے دو چار ہوتے ہیں "
عذا قیصر نقوی صاحبہ خود یہ اعتراف کرتی ہیں کہ ان کے اندر یہ فنکا رانہ صلاحیت ان کی امیّ سیّدہ فرحت اور والد  قیصر نقوی صاحب کی دین ہیں ۔وہ اپنی شاعری کے بارے میں کہتی ہیں َ
"میں نے شعر و ادب سے مہکے ہوئے ماحول  میں ہوش سنبھالا  وہ میری زندگی کا قیمتی سر مایہ ہے ۔بچپن کی یاد گلیوں میں جب گزر ہوتا ہے تو ایک گنگنا ہٹ سی  ساتھ ساتھ چلتی ہے ۔یہ میری شاعرہ ماں سیدہ فر حت کے گنگنا نے کی آواز ہے ۔یہ گنگنا ہٹ بھی کبھی لوری کی خواب آگیں نغمگی ہوتی ہے تو کبھی کسی سبق آموز منظوم کہانی کا تسلسل ۔۔۔۔۔۔"
اپنی ایک نظم میں کہتی ہیں ۔۔دو لائینیں ملاحظہ کیجئے ۔
"تم کہتے ہو گیت کو گیت ہی رہنے دو
لفظ تو اڑتے بادل جیسے ہوتے ہیں
کیوں بادل کو باندھ کے شکلیں دیتی ہو
بس کوتیا تو ایک دھنک ہے  بنتے مٹتے رنگوں کی ۔۔۔۔۔۔"
عذرا نقوی  نے کئی ملکوں کے مسائل سامنے رکھ کر  افسانے اور مضامین لکھے وہ انسان کو جاننے اور پرکھنے کا ہنر جانتی ہیں ۔وہ وقت کی نبض پہچانتی ہیں ۔ان کی نظمیں ۔غزلیں اور افسانے ملکوں ملکوں کا درد لیئے ہوئے سامنے آتے ہیں ۔
ان کا افسانہ " دو گز زمین " اسِ درد کی مثال ہے جو دیارِ غیر میں انھوں نے محسوس کیا ۔۔عذرا نقوی صاحبہ کی کتاب "آنگن جب پر دیس ہوا " کئی ہجرتوں کے دکھ سمیٹے ہوئے ہے ۔ان کی اس کتاب کے سلسلے میں جناب پروفیسر اقبال اعجاز بیگ صاحب کا کہنا ہے ۔
"افسانہ نگار عذرا نقوی ملکوں ملکوں گھومی ہیں اور دور دراز خطّوں کی سیا حت کی ہے ۔ہجرت کے تجربے اور اس کی تحّیر انگیزی سے گزری ہیں ۔ہجرت کر نے والے کر داروں کے در میان زندگی کی ہے ۔ان کر داروں کے حوالے سے  تہذیبی ،فکری ،معاشی اور ثقافتی ڈھانچے کی شکست وریخت اور تازہ صورت  پذ یری کا مطالعہ کیا ہے ،لہذٰ ا ان کے افسانوں کا موضوع ہجرت ہی قرار پا تا ہے ۔"
آنگن جب پر دیس ہوا ۔
الہ دین کا چراغ
گھر لوٹ جانے کا تصّور
اس ملبے میں ۔۔
یہ تمام افسانے وطن سے دوری اور وطن کی محبّت  کے غم سے شرا بور ہیں ۔اپنی زمین سے چھُٹ کر دکھُ اٹھانے والوں کے درد کو عذرا نقوی نے بخوبی محسوس کیا اور قلم کیا ہے ۔
ان کی ایک اور کتاب کا ذکر نہ ہو تو ناانصافی ہوگی ۔ان کی کتاب "جہاں بنا لیں اپنا نشیمن "مختلف ملکوں میں بسے ہوئے خاندانوں کی زندگی کی بے حد مہارت سے عکاّ سی کی ہے ۔اس کتاب کے بارے میں مجتبیٰ حسین صاحب کہتے ہیں ۔
"خاکہ نگاری ایک ایسا ہنر ہے جیسے سیکھا نہیں جاتا  بلکہ جب تک خاکہ نگار میں انسان دوستی ، مردم شناسی اور حالات و واقعات کو صحیع  پس منظر میں دیکھنے کا جوہر نہ ہو ، اسُ کے خا کوں میں حقیقت کی عکّا سی  نہین ہو سکتی ۔اس اعتبار سے عذرا نقوی کے خاکے ان کے منفرد  طرزِ بیان اور باریک بینی کی عکا سی کرتے ہیں ۔مجھے عذرا نقوی کی کتاب پڑھ کر فر حت کا احساس ہوا ۔ہمارے ہم وطن جو بیرونی ملکوں میں مقیم ہیں انھیں اس کتاب کو اس لیئے بھی پڑھنا چاہیئے تاکہ انھیں اندازہ ہو کہ وطن سے دور زندگی کیسے گزار نی چاہیئے ۔"
عذرا نقوی صاحبہ کی شاعری ہو یا نثر انکا انداز منفرد ہے اور ان کی تمام کتابیں اپنی مثال آپ ہیں ۔عذرا نقوی کی کتابیں اردو ادب میں ایک بیش بہا اضافہ ہیں ۔آخر میں ایک نظم سنا نا چاہتی ہوں جو عذرا نقوی صاحبہ نے







Wednesday, May 29, 2019

تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے


تو دیکھ  کہ کیا رنگ ہے ۔۔۔
نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ
اب اسُ پر ندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے
تالاب کے کنارے  پیپل کے پیڑ تلے  اس کی جڑوں پر  بیٹھ کر اس نے بانسری کی لمبی تان لی ۔۔۔شام کا  سر مئی اندھیرا بانسر ی کی  آواز کے ساتھ چمک  اٹھا ۔۔۔کچّے آنگن میں  پازیب  کی جھنجھناہٹ سی ہوئی اور پھر ایک سریلی  سی چھن چھن  میں گلابی کبوتر جیسے پاؤں تھرکنے لگے ۔۔۔بانسری کی  دھُن   گونجتی رہی اور گلابی پاؤں تھرکتے رہے ۔۔۔اور پھر مغرب کی اذان کی آواز  سناٹوں کو چیرتی ہوئی ہر طرف چھاگئی ۔۔۔بانسری کی آواز خاموش ہوگئی پیروں نے تھرکنا بند کر دیا ۔۔اور اسُ نے بڑی عقیدت سے  چنری کا روبٹہ  سر پہ پھیلا لیا ۔
"بھئی پلیز ۔۔۔۔ایسے ڈرامے مجھ سے نہیں ہونگے ۔۔۔بی پریکٹل۔۔میں  نہ اتنی خوبصورت ہوں نہ میرے پیر کبوتر جیسے ہیں ۔۔۔" سب کھلکھلا کر ہنس پڑے ۔
"یار اب اتنا بھی کیا پریکٹل ہونا ۔۔۔کہانی اچھی ہے ۔۔اس پر کام کر کے تو دیکھو ۔۔مزا آئیگا ۔۔
"کوئی اور ؟؟
"کوئی اچھّا اسکرپٹ نہیں بچا ہے ۔۔سب ہوچکے ہیں ۔۔۔کسی اور کو لینا نہیں چاہتا   پلیز  آرادھیا ۔۔۔۔
عادل  نے اسکی طرف جھک کر خوشامدی نظروں سے اسے دیکھا۔
نا بھئی ۔۔۔۔"اسنے سیڑھیوں سے اٹھ کر اپنا  جمپر پیچھے سے جھا ڑا ۔۔۔اور دور سوکھے پتوّں میں اوندھی پڑی  دو پتلے پٹوّں  کی چپل پیر سے سیدھی  کی۔پھر سر اٹھا کر بولی ۔  
بہت ذیادہ  آرٹسٹک ہے ایسی دُھن جو اس بانسری میں ہے مجھ سے نہ آسکے گی ۔مجھے معاف کردو  ۔اور سنو اب شاید کوئی ڈرامہ کر بھی نہ سکوں ۔گاؤں میں دادی  کے پاس جانا ہے   پتہ نہیں کتنے دن لگ جائیں ۔
ساتھ بیٹھی سبھی لڑکیاں کھڑی ہوگئیں ۔شمشاد نے آگے بڑھ کر اسکے گلے میں باہیں  ڈالیں تو  اسے اچانک بے  تہا شہ گھٹن کا  احساس ہوا ۔
وہ نہ جانے کیوں جھنجھلا گئی ۔۔۔
"ارے ایسا کیا ہے ۔۔مر تو نہیں گئی ہوں ،،ملیں گے  پھر ۔۔۔"سویرا نے اسکی جھنجھلاہٹ صاف محسوس کر لی تھی ۔۔وہ اس کے ساتھ آگے بڑھ گئی عادل  وہیں بیٹھا اسےُ دیکھتا رہا ۔۔۔دیکھتا رہا  ۔
۔آرادھیا  جب ہوسٹل کے روم میں آئی تو کمرے میں ،پنکھا  چلا نے سے بھی گھٹن کم نہیں ہوئی  ۔ بس آس پاس گھومنے لگی  اسُ نے آگے بڑھ کر چھوٹی سی کھڑ کی کا پٹ کھول دیا ۔کھڑکی کھُلتے ہی ایک نرم ہوا کا جھونکا  کچھ دیر  کھڑکی سے لگا اس کی  طرف دیکھتا  رہا پھر کود کر اندر آگیا ۔۔۔اور ایک  نرم سی خنکی اسُ کے وجود میں بھر گئی ۔۔
جب دلوں میں دراڑ  پڑتی ہے  تو فاصلے صدیوں پر محیط ہوجاتے ہیں ۔اور ان لمحوں کو بر سوں پر پھیلتے دیکھتی رہی ۔غلط سوچا تھا اسُ نے کہ آسمان پھٹ جائے گا ،وہ دب جائے گی ،ریزہ ریزہ ہوجائے گی ۔مگر یہ سب کچھ نہ ہوا ،نہ کوئی طوفان آیا ۔۔۔نہ آسمان گرا  مگر پھر بھی وہ کسی بوجھ تلے دبی رہی ۔سمجھ میں نہیں آتا تھا وہ ذمہ دار کسے ٹہرائے عادل کو ۔۔۔۔شمشاد کو ۔۔یا حالات کو اپنے آپ کو ۔اُس کے  گلے  میں درد  ہو نے  لگتا ۔ایک ٹیس سی اٹھتی دل چاہتا کہ زور سے  عادل  کو پکارے ۔
ڈرامے سے دلچسپی عادل کی وجہ سے ہوئی تھی ۔انار کلی ڈرامہ جو کہ ہر اسٹیج پر ہزاروں  مرتبہ دہرا یا جا چکا ہے ،اس ڈرامے میں آرادھیا نے کمال ہی کر دیا ۔کالج میں ایک بار اسٹیج ہونے والا ڈرامہ کئی بار فر مائشوں سے دوسرے   کالج اور یونیورسٹی میں کر وایا گیا ۔
اکثر طلباء راستے کہیں ملتے تو اس کو "انار کلی " کہہ کر مخاطب کرتے ۔
جب ان  سب   کی ٹیم  کودوسرے شہروں میں  بلایاجانے لگا     تو ڈرامہ کلب کو چار چاند لگ گئے ۔دوستوں کے ساتھ زندگی پَر  کی طرح  ہلکی تھی  ۔۔دوستی دریا کی روانی ہے جو آہستہ آہستہ  بہتی ہے اور لہریں  ایک دوسرے سے گلے ملتی رہتی ہیں۔۔وہ  اپنے دریا میں بے حد خوش اور مطمین تھی۔۔۔ 
وہ ویسے بھی جینیس تھی کلاس میں ہمیشہ پوزیشن رہی ،جب ڈرامے کی طرف رخ کیا تب بھی تعلیمی   میدان میں کچھ کمی نہیں آئی ،چار برس بعد جب   اس کالج میں آخری سال تھا  تبھی شمشاد ڈرامہ کلب میں شامل ہوئی   نکھری نکھری   گلابی سی شمشاد امیرکبیر طبقے سے تعلق رکھتی تھی اور اسی لئے ہر لڑکا اسُ کے آگے پیچھے پھر نے لگا ۔۔
قیامت تو اسُ وقت ٹوٹی جب  عادل  نے اسکو  ٹیم میں ہی نہیں  رکھّا  بلکہ اپنی ہیروین کا رول آفر کیا ۔۔اور اسی پر بس نہیں ہوا ۔۔وہ دیکھ  رہی تھی عادل کتنا دور  ہوگیا تھا ۔۔۔بات کرنے میں بیزاری آگئی تھی ۔اسُ  کا چڑ چڑا پن  سب کو نظر آرہا تھا۔وہ جیسے اپنا دامن کھینچ  کر چھڑا  رہا تھا ۔۔جیسے یہ گہری دوستی اس کے لئے گھٹن پیدا  کر نے لگی تھی ۔۔
 
وہ انسان ہی تو تھی ۔۔
غیر مذہب بھی ۔۔۔لوگوں کی باتیں  اسُ کے لئے ستم بن گئیں ۔۔آخری سال ختم کر کے وہ گاؤں دادی کے پاس رہنے چلی گئی ۔
پھر سناُ کہ عادل نے بیاہ کر لیا ۔۔۔کوئی اور نہیں  اسُ              کی  دلہن وہی  ۔۔شمشاد تھی ۔
سر پہ یتیمی  آئی تو خواب  ہاتھ چھڑا کر دور جا بیٹھے  اب تو بس یہ دھُن تھی  کہ تعلیم مکمل ہو جائے تو گھر سے غریبی کا سا یہ     دور کروں ۔
اسی تگ و دو میں  کچھ چھؤٹی موٹی ملازمت بھی کی  آنکھوں میں جلنے والے  محبت کے دئے تو کب کے بجھ چکے تھے ۔
خاندانی ترکہ تو کچھ ملا نہین ماں نے اپنے زیور  نکالے  اور دونوں بہن بھائیوں  کو محرومیوں سے بچا لیا ۔ماں پنجاب  کے اچھے خاندان سے آئی تھیں   تو  زیور بھی کلو کے حساب سے ملا تھا   گزر بسر اچھّی ہونے لگی ۔  تعلیم بھی مکمل ہوگئی  
 اس کی  آنکھوں کے   سارے جگنو  بجھ چکُے تھے   اب تو اپنا اور بھائی  اور  ماں  کے شکم کی آگ کا سوال تھا  ۔ماں نے پڑھائی کسی طور چھوڑنے نہیں دی تھی بس یہی کرم ہوا ۔اسی لیئے آج اسیُ کالج میں وائس پرنسپل بنی بیٹھی تھی  ۔
پراُ نے دوستوں کو دیکھ کر جہاں خوشی کو احساس ہوا  ایک سنسناتا  ہوا تیر بھی دل  پر آلگا ۔ بالوں میں سفیدی نے ڈیرا جما لیا تھا ۔ایسا لگتا تھا کسی دوڑ میں حصہ لیا  ہے اور ساری طاقت اور خواہشات  اسی دوڑ  میں جھونک دیں  آگے نکل کر  ماں اور بھائی کا سہارا جو بننا تھا ۔

اپنی بوڑھی بجھتی ہوئی آنکھیں ان سب پر جما کر دیکھا تو بہت تکلیف سی ہوئی ۔سب ہی بوڑھے ہوگئے تھے ۔۔بالوں کی سفیدی اپنے اپنے طریقے سےچھپا رہے تھے ، چہرے پر بشاّش مسکراہٹ دکھانے کی ناکام کوشش ۔۔۔
رضیہ ،شمشاد ِ عظمیٰ ۔سویرا ، گجو دھر (گلوّ) اور دور کھڑا  عا دل سب ہی جیسے ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے ۔ اور" کول" نظر آنے کی کوشش بھی کر رہے تھے
۔اُس نے اپنے کھچڑی ہوتے بالوں میں نادانستہ انگلیاں پھیریں ۔۔۔
کیا ہوا ہے کچھ بولو گے بھی ۔۔۔۔اُس نے رضیہ کی طرف گھور کے دیکھا ۔
کیا بتائیں  آرادھی ۔۔۔ساری عمر یوں ہی نکلتی چلی گئی ۔۔جیسے کچھ کیا ہی نہیں ۔رضیہ نے سسکی سی لی ۔
اس کی بس یہی شکایت ہے ۔۔پتہ ہے آپا ۔۔؟ شمشاد نے "آپا "کہا تو تھوڑی دیر لگی سمجھنے    میں ۔
جب یہ کالج میں نئی نئی  آئی تھی تو یہ انِ سب سے عمر میں   بڑی  تھی  ا س کو  شر مندگی  سے بچانے کے لئے ہی  ان سب نے  اپنے گروپ پ میں شامل کیا تھا اس کی خوشی کے لئے کوشاں رہتے تھے  ۔
۔شمشاد امیر گھر کی لڑکی تھی بیباک بھی تھی جلد ہی سب سے گھل مل گئی پھر اچانک جب عادل      اردھیا  سے دور ہوا  تواسُ    نے اس ٹیس کو  کیسے بر داشت کیا یہ وہی جانتی تھی ۔۔۔اور اب  "آپا " ؟  اسُ کا دل چا ہا کہ زور سے قہقہ لگا ئے ۔۔۔
شمشاد پھر بول پڑی
اس کو تو عمران کا غم کھا ئے جارہا ہے  وہ تو مزے کر رہا ہے لندن میں اور یہ آہیں بھر بھر کر سارا ہندوستان گرم کیئے جارہی ہے ۔۔سب کھل کھلا کر ہنس دئے ۔ارادھیا  نے غور سے رضیہ کو دیکھا ۔
تم کو معلوم ہے کہ عمران کی شادی کن حالات میں ہوئی ؟؟
ا س پر کتنا دباؤ تھا ۔چچا کی زمین جائیداد  فیکٹری کی اس کو کتنی شدید ضرورت تھی ؟
چار بہنیں سب اس سے بڑی ۔کون دیتا اتنی بڑی قر بانی جو عمران نے دی َ؟ تم کو تو اس کی عبادت کر نی چاہیئے ۔محبت میں  بہت  کچھ  کھو نا  پڑتا  ہے ۔۔۔بس درد کے دریا دکھائی  دیتے ہیں ۔۔کبھی غور کرو اور سوچو تم خوش نصیب ہو ۔۔ایک محبت ساری زندگی تمہارے پاس رہی ۔۔۔قریب نہ سہی ۔۔دور سہی ۔۔۔
چائے کی پیالی میں ایک شو گر فری کی گولی ڈال کر اس  نے اپنی طرف کھسکائی ۔رضیہ کے کاندھے پر پیار سے ہاتھ رکھتے ہوئے  کہا ۔۔۔کم از کم تم تو
اس کی قدر کرو نہ کہ یہ سستے ڈائیلاگ بول کر  اس کی عظمت کم کردو ۔۔
وہ بھی یاد کر تا ہے تم کو ؟؟
پچھلے ماہ فون پر بات ہوئی تھی ۔رضیہ نے سر جھکائے ہوئے کہا
تب تو اور بھی خوشی کی بات ہے ۔ دل سے تو تم کو فراموش نہیں کیا نا ؟
کیا یہ کم ہے ؟
پاس کھڑی عظمیٰ اور سویرا بھی کافی دیر سے چپُ تھیں اردھیا  کی  بات غور سے سنُ رہی تھیں ۔گلوّ بھائی حسب ِ عادت میز پر رکھے لوازمات پر ہاتھ صاف کر رہے تھے 
اور سویرا تم بتاؤ ۔۔۔۔کیسی گزر رہی ہے ۔۔۔خوش ہونا ۔۔؟
ہاں ۔خوش تو ہوں  بس ایک پتھر سے سر پھوڑ رہی ہوں ۔عجیب بے حس سا انسان ہے  وسیم  خان ۔
ایسا نہ کہو وسیم تو بہت اچھّا ہے ۔۔سجتا ہے تمہارے ساتھ ۔۔
گلوّ بھائی نے  ہاتھ روک کر سویرا پر نظر ڈالی اور کھنکھار کر بولے ۔۔
اچھّا ہے ورنہ کالے پتھر سے  سر پھوڑتیں تو اور زیادہ تکلیف ہوتی ۔نثار احمد جو سویرا کے آگے پیچھے پھرا کر تا تھا اس کا سراپا سوچ کر سب ہنس پڑے ۔۔ماحول بدل گیا ۔۔
وہ کچھ اورکہتے اس ُ سے پہلے  اُس نے شمشاد سے پوچھ لیا ۔

شمشاد بیٹا ۔۔۔تم تو خوش ہو نا اپنے گھر میں َ
جی آپا ۔۔۔بہت "۔وہ چہکی ۔
تب آردھیا  نے مڑ کر عادل  کی طرف دیکھا ۔اسُ کے اس طرح دیکھنے پر  عادل نے گردن خم  کی اور مسکرا  دیا ۔اسُ کے چہرے پر گردِ ملال صاف نظر آرہی تھی  گہرے دکھ اور مایوسی  کا سایہ  آنکھوں سے عیاں تھا
۔وہاں انُ آنکھوں میں  سمندر کے سوا کچھ نہ تھا اور اچانک اسُے  یہ احساس ہوا۔۔بس ایک احساس ۔ کہ ۔ اس  دردمیں  وہ تنہا  نہیں تھی ۔۔۔
 ۔ ۔
٭٭٭٭٭٭

Friday, April 12, 2019

موت سے ہم نے سیکھی حیات آرائی


موت سے ہم نے سیکھی  حیات آرا  ئی ۔
وہ میرے قریب بہت قریب اسٹول پر بیٹھی تھی اسُ نے اپنے نحیف ہاتھوں سے میرا ہاتھ تھا ما ہوا تھا  اور ان ہاتھوں پر اپنا سر ٹکا لیا تھا ،جہاں سوکھے بے رونق بال کہیں کہیں سے سفید ہورہے تھے وہ کچھ نہیں بول رہی تھی کچھ نہیں سن رہی تھی بس اسکی چپُ میں ہزاروں سسکیاں تھیں وہ ایک واحد ہستی تھی  جو میری حالت سے مایوس نہیں تھی اور اس  کا اعتماد میرے جسم میں زندگی بن کر رواں تھا ۔
اسُ دن
پتہ  نہیں کیسے اسٹیرنگ وہیل پر ہاتھ لرزے اور سامنے آتی ہوئی کار نگا ہوں سے اوجھل ہوگئی ایک زور دار دھماکے کی آواز پھر اندھیرا ۔۔۔گہرا اندھیرا چھاگیا ۔۔۔
پتہ نہیں کتنے دن یا کتنے گھنٹے بیت     گئے ۔۔ہاسپٹل کے بستر پر سیدھا لیٹا ہوا تھا نہ جانے کون کون سی نلکیاں بازوؤں اور چہرے پر لگی تھیں ۔۔کچھ غُنودگی کی سی کیفیت میں میری انگلیوں پر ایک نرم سا روّبٹہ سانس لینے لگا ۔۔اس روّبٹہ  کی ایک آواز ، ایک بے بس اور بے حد بے چین آوازمیری سماعت کو تڑپانے لگی ۔
 
۔۔بیٹا ۔۔۔لوٹ آؤ میں نہ جی سکوں گی ۔۔۔نہ رہ سکوں گی تیرے بغیر ۔۔۔کیا ہوگا میرا ۔۔۔جب تک تو گھر نہیں لوٹ آتا ہے میرے گلے سے کھا نا نہیں اتر تا ۔۔اب کیا کروں گی ۔۔یہاں تو رکنے کی بھی اجازت نہیں میرے بچّے ہائے ۔۔تجھے کیا ہوگیا ۔۔۔"روبّٹے کا لمس کانپ رہا تھا
  ۔ ۔دواؤں کی اتنی ساری بد بوں کے باوجود اس لمس کی خوشبو میرے ذہن کو معطر کر رہی تھی زندگی کی طرف بلاُ رہی تھی ۔۔۔امی کے نماز کے روبّٹے اتنے نرم ہوتے تھے کہ اکثر میں انکی نماز کی چوکی پر لیٹ کر انکی گود میں سر رکھ لیتا تھا ۔۔۔صرف اس  نرمی اور لمس محسوس کر نے کے لئے ۔۔۔ایک عجیب سی خوشبو جس کو کسی اور خوشبو سے مثال دینا ناممکن ہے وہ امی کی خوشبو ہے صرف میری امی کی ۔
میری کلائی کو چھوتا ہوا وہ روّبٹہ دور جانے لگا اور۔۔۔۔ اور میں نے کو شش کی کہ ہاتھ بڑھا کر انھیں تھا م لوں مگر میں ایک انگلی بھی نہ ہلا سکا ۔۔میری آنکھوں میں تکلیف و بے بسی کے آنسو اور دل پر گہرا ملال چھانے لگا میں پھر غنودگی کی کیفیت میں چلا گیا ۔۔۔بے خبر ہوگیا ۔۔
وہ شاید کوئی دوپہر تھی شاید بھیا آفس سے آئے ہونگے ۔۔ان کی مخصوص تیز خوشبو میں محسوس کر رہا تھا وہ بیڈ کے قریب تھے  ان
کی سخت  آواز مجھے سنائی دے رہی تھی مگر بات سمجھنے کے لئے بہت کوشش کرنی پڑ رہی تھی وہ شاید ڈاکٹر سے مخاطب تھے کچھ پریشان لگ رہے تھے بیڈ کے قریب آگئے تھے   کے کوٹ کا کونا میری انگلیوں میں لگا تو
تو میں ڈر گیا بھیا غصّہ میں تھے ان کو گاڑی کے ٹوٹ جانے کا غصہ تھا وہ شینا سے یہی بات کر رہے تھے ۔ان    کے لمس سے مجھے ان  کے دل کی گہرایوں میں چھپی بات سمجھ میں آنے لگی ۔۔
اتنی منہگی گاڑی لیکر نکلنے کی کیا ضروروت تھی ۔۔اور تمہاری کار کہاں تھی انھوں نے شینا  پر برستے ہوئے دوا کا نسخہ اسُ سے چھین  لیا ۔۔۔
اب کار کی مرمت کرواؤں گا یا پھر اتنی منہگی دوائیں ۔۔۔
وہ کچھ بول نہیں رہے تھے مگر  کوٹ کا لمس یہی کہہ رہا تھا ۔اور میں شرمندگی کی دلدل میں دھنستا جارہا تھا
۔کیوں چلائی بھیا کی گاڑی ۔۔کاش دن واپس آجاتا کاش ۔۔پھر وہی اندھیرا وہی سننا ٹا سائیں سائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بِّٹو کے ہاتھ میں  پھول تھے شاید ۔۔مگر اسے آئی سی میں رکھنے کی اجازت نہ تھی پھول کی ایک پنکھڑی میری کلائی پر چھوٹی سی بات چھوڑ گئی ۔۔۔بھیا خدا کے لئے اچھے ہوجاؤ
مجھے چھوڑ کے مت جا نا میرا کوئی نہیں ہے ۔اس کے آنسوؤں کی نمی میری کلائی سے ہوتی ہوئی میرے دل میں اتر رہی تھی ۔۔
وہ میری بہن ہی نہیں میری سکھی سہیلی تھی وہ میری پہلی محبت تھی جب وہ امی کی گو دمیں آئی تو میں آٹھ برس کا تھا ۔۔۔وہ میری سب سے پہلی دوست سب سے پہلا پیار اور سب سے پہلی تسکین تھی۔
 امی کے ایک طرف  میں  دوسری طرف وہ ہوتی تو میں امی کےنرم نرم  پیٹ پر سے ہوتا ہوا بس اسی کو دیکھا کر تاننھی سی  گلابی گلابی  گڑیا  میرے دل کے بے حد قریب تھی ۔
۔اپنی شادی کے بعد میں نے اسکو اکیلا کر دیا تھا مگر وہ اب بھی میرے ساتھ تھی ہر لمحہ
۔مجھے جینا ہے مجھے ان سب کی طرف لوٹنا ہے ۔۔میں اپنے حوصلوں کو مضبوط کر رہا تھا میں اپنی ہمّت کو ان سب آوازوں سے سہارا دے رہا تھا ۔۔
رات کا کوئی پہر تھا شاید جب شینا مجھے دیکھنے مجھ پر جھکی ہوگی اس کی ساری کا آنچل میرے بازو پر ہلکا سا لہرایا ۔۔
میں تو پہلے ہی کہتی تھی اگر ڈیڈی کے پاس کینڈا چلے جاتے تو یہ سب نہ ہوتا ۔یہاں کیا رکھا ہے ۔۔اور تمہارے گھر والے ؟ یہ بھیا تمہارے کتنا غرور ہے انکو اپنی پوزیشن کا ۔۔۔تم کینڈا جاکر ان سے دُ گنا زیادہ کما سکتے ہو ۔۔مگر سنو گے تھوڑی ۔۔۔میں تو ہار گئی کہہ کہہ کر ۔۔۔بٹو کی شادی کی فکر میں تم اکیلے ہی گھلُ رہے ہوتمہارے بھیا کو تو پرواہ بھی نہیں ۔۔۔چلو یار یہاں سے ۔۔۔سب ٹھیک ہوجائے گا آج کل پیسہ ہی ہر مشکل کا حل ہے ۔۔۔اب کیسے کہوں تم تو ایسی حالت میں سن بھی نہیں سکو گے ۔
اس کی جھنجھلاہٹ میں صاف محسوس کر رہا تھا ۔۔جھڑکنے کا سا انداز میرے اندر آگ سی لگا رہا تھا ۔کیا اب مجھے ایسے ہی جینا ہوگا ۔۔۔کیا یہی زندگی ہوگی ۔۔یا موت ؟ رفتہ رفتہ سب کا میرے پاس آنا کم ہوتا جارہا تھا بھیاّ بھی کئی دن نہ آتے شینا ایک دن خوب خوشبوؤں میں نہائی ہوئی آئی اور ڈاکٹر جو میرے اوپر جھکا تھا پوچھنے لگی ۔۔
۔کوئی امید ہے کیا ؟
ڈاکٹر کی انگلیاں میرے ماتھے پر تھیں وہ خاموش تھا مگر مجھے سنائی دے رہا تھا  ۔کوما میں ہے کیا پتہ بچ ہی جائے یا پھر چل پڑے اور بچ بھی گیا تو کیا ۔۔۔کمر کے نیچے کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے اٹھنا بیٹھنا تو ناممکن ہے ۔۔شاید بس سانسیں بغیر مشین کے لے لے اور پھر مڑ کر شینا سے بولا ۔
ہم امید پر قائم رہتے ہیں ۔
شینا اٹھلا کر میرے قریب سے نکلتی چلی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔دروازے کے باہر سے ا  س  کا  ہلکا سا قہقہ میں نے صاف پہچان لیا تھا ۔۔۔۔اف ۔۔۔
دھیرے دھیرے اس زندگی کا عادی ہوگیا تھا ۔۔پہلے بھیا روز آتے تھے مگر اب وہ بہت مصروف ہوگئے تھے۔امیّ روز آتی مگر اندر بیٹھنے کی اجازت نہ ملنے پر باہر بیٹھی رہتیں ۔جس وقت اندر آتیں ان کا لمس مجھ سے ہزاروں باتیں کر تا وہ استھما کی مریض تھیں مرض بڑھ رہا تھا ۔۔وہ اپنی فکر بالکل نہیں کر تی تھیں ۔۔۔شینا کی بے وفائی ،امی کے مجھے لپٹا کر پیار کرنے سے واضع سنائی دی تھی مجھے    ۔وہ اب کینڈا جارہی تھی اس نے کمرے میں آکر میری پیشانی پر اپنا کیوٹکس بھرا ہاتھ رکھ کر بڑے ناز سے کہا ۔۔۔یا مجھے سنائی دیا ۔۔۔
اب نہیں گزر سکے گی تمہارے ساتھ ۔۔۔یہ بھی کوئی زندگی ہے ۔اور اب تو ڈاکٹر بھی مایوس ہوچکے ہیں ۔۔میں کب تک انتظار کروں ۔۔۔
 ایک دن جب بٹو میرے بال سہلا رہی تھی تو اس  کے لمس میں تھرتھرا ہٹ تھی اور امی کے چلے جانے کی خبر بھی تھی ۔میری زبان اکڑ گئی تھی ہونٹ سوکھ رہے تھے ۔۔میں پانی مانگنا چاہتا تھا مگر میرا جسم ساکت تھا ۔مجھے معلوم تھا امیّ چلی گئیں ورنہ بٹو اس طرح تڑپ کر نہ رو رہی ہوتی ۔۔
چار برس یوں ہی گزر گئے بِٹو مجھے گھر لے آئی تھی اسپتال کا خرچ بہت آرہا تھا ۔۔کوئی نہیں تھا جو اس کا ساتھ دیتا ۔۔۔وہ مجھ کو کہانیاں سناتی مجھ سے باتیں کرتی ۔۔۔میری دواؤں کا خیال رکھتی ۔۔۔میں بے جان لاش کی طرح پڑا رہتا ۔میرے لئے جو میل نرس کا انتظام اس ُ نے کیا تھا اس کی بیزاری بھی مجھے محسوس ہوتی مگر میں لا چار تھا ۔اپنے لئے خود دعا کرتا تھا ۔
 وہ میرے قریب بہت قریب اسٹول پر بیٹھی تھی اسُ نے اپنے نحیف ہاتھوں سے میرا ہاتھ تھا ما ہوا تھا  اور ان ہاتھوں پر اپنا سر ٹکا لیا تھا ،جہاں سوکھے بے رونق بال کہیں کہیں سے سفید ہورہے تھے وہ کچھ نہیں بول رہی تھی کچھ نہیں سن رہی تھی بس اس کی چپُ میں ہزاروں سسکیاں تھیں وہ ایک واحد ہستی تھی  جو میری حالت سے مایوس نہیں تھی اور اس     کا  اعتماد میرے جسم میں زندگی بن کر رواں تھا ۔
اسُ دن۔اچانک میری آنکھ کے گوشے سے آنسو کا ایک قطرہ آہستہ آہستہ چلا اور بٹو کی ہتھیلی بھگو گیا  ۔۔۔وہ آنسو نہیں تھا میرے جینے کی نوید تھی ۔



خواب سراب
۔۔سو نے کا گھر ۔
بہت اچھّی نوکری ہے ۔پیسے بھی ذیادہ ہیں ۔کیا فرق پڑتا ہے کچھ دن یہ تجربہ بھی سہی ۔۔"
"نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بالکل نہیں میں یہاں سے نہیں جاسکوں گا میرا اچھا خاصہ کام ہے ۔
"میں کب کہہ رہی ہوں کہ تم اپنی ملازمت چھوڑ دو ۔میں اکیلی جاسکتی ہوں وہاں کسی ہوسٹل میں رہ سکتی ہوں ۔۔ملازمت دے رہے ہیں تو رہنے کا انتظام بھی وہی لوگ کریں گے ۔۔فکر کی کیا بات ہے ۔" نیل پا لش صاف کرتے ہوئے اسُ نے کاشف  کی طرف دیکھا ۔۔جو کسی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ۔پھر اچانک سر اٹھا کر گو یا ہوا ۔
"اور میں ؟؟ میں اکیلے کیسے یہاں رہوں گا ۔۔میرے لئے کچھ سوچا ؟
"ایک اچھّا گھر میرا خواب ہے کا شف !
  ۔۔اور میں یہاں کی ملازمت میں اپنا خواب پورا نہیں کر سکتی ۔۔۔مجھے جانے دو ۔۔۔اتنا اچھّا موقعہ بار بار نہیں ملتا ۔
خاموشی دونوں کے درمیان ٹہری رہی ۔۔۔کئی لمحے یوں ہی بیت گئے ۔
"جب تم نے طے کر ہی لیا ہے تو پھر مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو ۔۔"کاشف کی آواز اُداس تھی ۔وہ جلدی سے اٹھ کر اسکے پاس بیٹھ گئی ۔۔ہاتھ تھام کر اپنے گالوں پر رکھ لیا ۔۔۔
بالکل نہیں۔طے نہیں کیا ہے ۔۔۔اپنا خواب بتا رہی ہوں ۔۔تم کو کئی بار سنا چکی ہوں ۔۔۔اسکا لہجہ ٹو ٹنے لگا ۔۔۔
"یاد ہے مجھے ۔۔۔۔اباّ کے جانے کے بعد میں اور امیّ کیسے در در پھرے ہیں کسی عزیز نے ساتھ نہیں دیا سب نے منھ ُ پھیر لیا تھا ہم سے ۔ ۔۔میرا بچپن میرے سامنے درد کا سمندر بنا ہمیشہ کھڑا رہتا ہے ۔۔۔مجھے ایک گھر بنا نا ہے ۔۔میں امیّ کو بھی لا نا چاہتی ہوں ۔۔میں انکو تھوڑی سی خوشی دینا چاہتی ہوں ۔۔جو پلاٹ اباّ میرے نام چھوڑ گئے ہیں اسے فر وخت نہیں  کر نا چاہتی ۔۔۔ہم دونوں مل کر بھی ایک گھر نہیں بنا سکتے اتنی تنخواہ نہیں ہے ہماری بات کو سمجھو ۔۔یوں ناراض ہوجاؤ گے تو میں کچھ نہیں کر سکوں گی حوصلہ دو مجھے ۔۔۔ہمتّ بڑھاؤ میری ۔۔۔"
اسکی آواز آنسوؤں میں گھُلنے لگی ۔
کاشف نے اسے قریب کر لیا ۔

۔اسکے آنسوں کو اپنی انگلیوں سے صاف کرتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا ۔۔اچھا ۔ٹھیک ہے یہاں بیٹھو میری بات سنو ۔۔تم کو یہاں کی ملازمت پسند نہیں تو تم اپنا ذاتی کلینک کھول لو ۔۔مین کھلوا دونگا ۔۔کہیں سے کچھ بھی کر کے ۔
"یہ بات نہیں ہے  کاشف !۔۔وہاں اتنے بڑے ہاسپٹل میں بغیر کسی سفارش کے ملازمت مل رہی ہے وہاں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا ۔۔میرا مقصد صرف پیسے کما نا نہیں ۔۔میں ایکسپیرنس چاہتی ہو ں ۔۔بجائے اسِ کے کہ میرا حوصلہ بڑھا ؤ مجھے کمزور کر رہے وہ "اسُ کی آنکھیں بھر آئیں ۔
"رہ لو گی میرے بغیر ۔۔۔؟کاشف نے ہار مانتے ہوئے آخری پتہّ پھینکا ۔۔
"میرا جا نا مشکل نہ کرو ۔۔۔۔۔"

اور وہ آنسوؤں سے ہنستی روتی اسُ سے لپٹ۔گئی ۔
سارے معاملات طے ہونے میں ایک ماہ کہاں نکل گیا پتہ ہی نہیں چلا ۔اور اسکی روانگی کا دن آگیا ۔۔وہ ساری رات نہیں سوئی کاشف کے ساتھ جاگتی رہی اور دونوں پلانگ کرتے رہے
۔دو برس کا کانٹریکٹ اسُے دوبئی کے ہسپتال سے ملا تھا ۔۔ملازمت تو یہاں بھی تھی مگر دو سال کی چھٹی کی درخواست قبول ہوگئی اور اب وہ امّی کو سمجھا رہی تھی ۔۔
انکی آنکھیں مسلسل برس رہی تھیں بہت دکھُ اٹھا ئے تھے انھوں نے بہت درد برداشت کیا تھا ۔ساتھ ہی نور نے بھی وہ سب کچھ سہا تھا ۔شوہر کے انتقال کے بعد جب سسرال والوں نے بے عزّت کر کے گھر سے نکالا تو انکو بھائی کے گھر جا نا پڑا ۔۔جان سے پیارا بھائی جسکے لئے وہ اپنی ہر خوشی قربان کر تی آئی تھیں ۔۔اس کو انکا آنا بالکل پسند نہیں آیا
۔بھابی نے ایک پرانے اسٹور نما کمرے میں جگہ دی جسکی ایک طرف کی چھت بھی گر رہی تھی ۔۔۔اور وہاں سے آسمان نظر آتا تھا ۔
دونوں ماں بیٹی اسُ اسٹور نما کمرے میں ایک دیوار کے سہارے دری بچھا کر بیٹھ گئیں ۔۔بے انتہا سردی کی وجہ سے دونوں کانپ رہی تھیں اور چھت کے ٹوٹے کونے سے کہرا اندر بھر رہا تھا ۔۔۔
وہ امیّ کی گود میں سر چھپائے تھر تھر کانپ رہی تھی ۔تب بھابی نے پرا نا لحاف لاکر ان پر پھینکا  اور باورچی خانے میں جاکر کھانا کھانے کی دعوت بھی دی ۔
کونے سے آتا ہوا کہرا گہرا ہورہا تھا اسنے سر اٹھا کر دیکھا کمرے میں بادل سے بھرے تھے ۔۔اسکا دم گھٹ رہا تھا ۔۔۔پانچ سال کی بچّی کے لئے یہ بیحد اذیت ناک وقت تھا ۔۔
پھر امی گھر کے کام کاج کر نے لگیں اور وہ کمرے سے نکل کر کبھی کبھی برامدے میں بیٹھ جاتی ۔پرا نا اسکول بیگ ساتھ لیکر آئی تو ایک دن ما موں کی نظر پڑگئی ۔۔اور اسےُ اسکول میں داخلہ مل گیا ۔۔۔وہ اپنی ذہانت سے وظیفہ لیتی ہوئی اب اس مقام پر تھی مگر وہ وقت اسکے دل ودماغ سے کبھی نہ نکل سکا ۔
امّی کو دلاسہ دیکر وہ باہر آگئی کرائے کا ایک چھوٹا سا کمرہ جو اس نے اپنی محنتوں سے اور کچھ ما موں کی مہر بانیوں سے  حاصل کیا تھا ، امّی کا مسکن تھا ۔
آخر کار وہ وقت بھی آگیا جب وہ امیّ اور کاشف سے جدا ہوکر پردیس سدھاری ۔
شروع شروع میں اسُے دوبئی کے اسپتال میں کافی دقّت کا سامنا کر نا پڑا مگر کچھ مخلص ساتھیوں نے بہت سہارا دیا اور ہوسٹل میں ساتھ رہنے والی آمنہ
سے اسکی بہت دوستی ہوگئی ۔۔دونوں ساتھ ہی ہوسٹل سے نکلتے وہ اسپتال چلی جاتی اور رائمہ اپنے آفس کی راہ لیتی ۔
ایک برس بیت گیا تھا وہ گھر نہ جاکر بس پیسے بچانے کی مشین بنی ہوئی تھی ۔امی سے تو روز ہی فون پر بات کرتی انکو دلاسہ دیتی لیکن وہ اب ہر خوشی کی آس چھوڑ چکی تھی ۔
اپنے گھر کے لئے زمین تو پہلے سے ہی تھی ۔اب آہستہ آہستہ گھر بننا شروع ہوگیا تھا۔
جس دن اس کے گھر کی بنیاد پڑی ،کاشف نے تصویریں کھینچ کر اسےُ بھیجیں اسُ دن وہ اکیلے بیٹھ کر خوب روئی
اسکو اپنے پرانے سارے دن یاد آئے ،لامکانی کے سارے دکھُ اسکی آنکھوں میں گھوم گئے ۔اسُ دن وہ اپنی امّی کو فون کر کے بہت روئی ۔۔وہ اسےُ سنبھالتی رہیں تسّلیاں دیتی رہیں ۔۔۔انھوں نے ہمیشہ ہی حوصلہ دیا تھا آج بھی وہ اسُ کے ساتھ ہی کھڑی تھیں ۔
"آپ کیا کر رہی تھیں امیّ۔۔۔"اسُ نے آنسو پوچھ کر پوچھا ۔
"بیٹا یہ لاڈلی ہے نا ۔یاد ہے تمکو ؟ کموّبوا کی لڑکی ۔
ہاں بالکل یاد ہے کیا ہوا اسکو ؟ اب تو اسکول جاتی ہوگی
ہاں بیٹا اسکول تو جاتی ہے اب 12 برس کی ہوگئی ہے اس کا اباّ کہتا ہے کہ بیاہ کر دے گا ۔وہی معاملہ سُلجھا رہی تھی ۔چلو چھڑو تم اپنی صحت کا خاص خیال رکھو پتہ نہیں وہاں کیا کھاتی ہوگی ۔"امیّ نے بات بدل دی ۔مگر اس کی آنکھوں میں وہ ننھی سی لاڈلی آگئی ۔۔میلے میلے کپڑے پہنے پھٹی چپل اور کبھی بغیر چپل کے ۔امّی کے برامدے میں بیٹھی اسکول کا کام کرتی دکھائی دی ۔
"ارے نہیں امیّ منع کیجئے گا آپ ۔۔ابھی کیا شادی وادی ۔۔اس کے ابا کو سمجھا یئے
۔چلیئے کل پھر بات کروں گی اسُ نے فون بند کیا اور نماز کے لئے اٹھ گئی ۔
گھر کے کمرے وغیرہ تعمیر ہوگئے تھے یہاں اسُ کا کانٹریکٹ دو سال اور بڑھ گیا ۔گھر جانے کے بارے میں سو چتی تو پیسہ خرچ ہوتا نظر آتا ۔۔۔
وہ ہمّت کر کے ارادہ بدل دیتی ۔
چار برس کی مدّت ۔۔۔
وہ سیدھی امیّ کے گھر پہونچی وہ کمزور ہو گئی تھیں ۔کموّ بوا نے انکا بہت خیال رکھتی تھیں اس ِ وقت بھی وہ پاس کھڑی اسُ کے آجانے سے آنسوؤں سے ہنس رہی تھیں ۔
بس امّی بہت ہوگیا گھر تقریباً تیار ہے آپ پیکنگ کر لیجئے ہم کل آپکو لینے آئیں گے ۔۔دیکھئے کموّ بوا آپکی ذمہ داری ہے ۔
۔۔کافی دیر تک وہ وہیں بیٹھی رہی ۔کاشف کے آفس سے آنے کا وقت ہورہا تھا وہ سر پرائیز دینے کے لئے اچانک ہی جا نا چاہتی تھی ۔شام ہوتے ہوتے وہ ٹیکسی کر کے اپنے گھر کے لئیے روانہ ہوگئی ۔۔
اس کا گھر
اسُ کے ارمانوں کا گھر اسکے چار سال کی محنتوں کا پھل ۔۔۔وہ اب تک ہر قدم پر صرف تصویریں ہی دیکھتی آئی تھی آج اپنی آنکھوں سے اپنا گھر دیکھے گی ۔۔۔خوشی کا یہ احساس ایسا تھا کہ اسکو علاقہ شروع ہونے کا پتہ بھی نہ چلا اور وہ گیٹ پر پہونچ گئی ۔
ٹیکسی کو فارغ کر کے اسُ نے دروازے پر ہاتھ رکھّا ۔۔۔چوکی دار موجود تھا اسُ کو دیکھ کر الرٹ ہوگیا ،
"با با آپ نے کیسے پہچانا مجھے ۔؟
"بی بی صاحب آپ مجھے بھول گئیں میں تو صاحب کے ساتھ اکثر آپکے پرانے گھر آیا کر تا تھا ۔۔وہ جلدی سے سامان لیکر اندر کی طرف دوڑا کہ دراوزہ کھول سکے
اس کی پسند کا چھوٹا سالان ۔۔۔طرح طرح کے پھول ،،کاشف نے ان سب باتوں کا بے حد خیال رکھا تھا ۔۔۔برامدے میں پڑی کین کی کر سیاں
اور نقشین دروازے ۔۔وہ وہیں کرسی پر بیٹھ گئی اسُ کے پاس اند کی چابیاں نہین تھیں ۔
خوشی سے اسکو لرزہ سا طاری تھا ۔تب ہی کاشف کی گاڑی گیٹ میں داخل ہوئی اور رکتے ہی کاشف تیزی سے نکل کر اسکی طرف بڑھا ۔۔۔
پھر کچھ سوچ کر کمرے کا دروازہ کھول دیا اور وہ بے قرای سے کاشف سے لپٹ گئی ۔۔۔نہ جانے کتنا وقت بیت گیا ۔۔۔چار برس کا عرصہ کم نہیں ہوتا ۔۔۔
کاشف اسُ سے نہ جانے کیا کیا پوچھ رہا تھا وہ آنکھیں بند کیئے اسُ کے سینے پر سر ٹکائے کھڑی تھی ۔۔۔۔
بے حد خوب صورت احسا س اسُ کے اندر ہلکورے لے رہا تھا ۔
یہ ہے زندگی ۔۔۔یہ ہے جنّت جس سے وہ اتنے برس الگ رہی ۔۔۔اسُ نے سر اٹھا کر کاشف کا چہرہ دیکھا ۔۔۔وہ کچھ موٹا ہوگیا تھا چہرہ بھر گیا تھا آسود گی نظر آرہی تھی وہ اسُے لئے ہوئے بیڈ روم میں آگیا۔ اسُ کی پسند کا ہلکا نیلا آسمانی رنگ ہر دیوار پر مسکرا رہا تھا ۔۔۔وہ ایک بار پھر کاشف کے گلے لگ گئی ۔"کتنا خیال رکھا تم نے میری خوشی کا ہر چیز عین میری سوچ کے مطابق ہے کاشف ۔۔۔
کچن میں کھڑ پڑ ہو رہی تھی ۔۔۔کچھ دیر میں ایک لڑکی ٹرے میں سلیقے سے چائے لیئے ہوئے اندر آئی تو اسُ نے سوالیہ نظروں سے کاشف کو دیکھا ۔
"ارے پہچانہ نہیں ؟ یہ کموّ بوا کی لڑکی ہے ۔شام کی چائے کھانا اسی کی ذمہ داری ہے ۔اب تم آگئی ہو اسکو ٹھیک سے ٹرینڈ کر دینا "
اور ۔۔ارے واہ تم تو بڑی ہوگئی بھئی ۔
"باجی آپ کے آنے سے بہت اجالا سا ہوگیا ہے ۔
ہائیں ۔۔۔اتنی بڑی بڑی باتیں کر لیتی ہو ۔۔اس نے بڑھ کر لاڈلی کو گلے لگا یا ۔
لاڈلی کی کہانی بھی ان سب مؑعصوم بچیوں جیسی تھی ۔اسُ کے ابا نے اسے دگنی عمر کے آدمی کے ہاتھ بیچ دیا تھا ۔
مگر وہ وہاں نہیں گئی ۔۔نکاح نہیں ہونے دیا اپنے ماما کے گھر بھاگ آئی ۔اسُ کے ما ما نے اسُ کا بہت خیال رکھا ۔سب سے لڑجھگڑ کر  اسُ کو تعلیم دلوائی اب وہ دسویں کا پرائوٹ امتحان دے رہی تھی اور پہلی دوسری کے بچوں کو گھر پر پڑھاتی تھی پھر یہاں کھانا پکا نے پر رکھ لی گئی ۔بہت ہمتّ سے وہ اپنی زند گی گزار رہی تھی ۔۔
۔مہک نے۔اسُ کو بہت پیار کیا اور ٹیوشن چھوڑ کر پورا دن اپنے پاس رکھنے کی آفر بھی دی تاکہ وہ سکون سے امتحان دے سکے ۔کچھ دنوں کی بات تھی مہک کو یہاں واپس جاب مل ہی جاتی ۔
صبح صبح لان پر ٹہلتے ہوئے وہ پھولوں سے باتیں کرتی رہی وہ دل ہی دل میں کاشف کی شکر گزار تھی ۔۔۔گھر اسُ کی مرضی کے عین مطابق تھا ۔کچھ اُوس مین بھیگے پھول ہتھیلوں میں بھر کے وہ کمرے کی طرف آئی مگر باہر ہی ٹھٹھک جا نا پڑا  ۔کاشف کی دبی دبی آوازصبح کے  سنّا ٹے میں  صاف  سنائی دے رہی تھی ۔۔۔
"کچھ دن صبر تو کرو ۔۔ابھی دو دن ہی تو ہوئے ہیں اسُ کو آئے ہوئے ۔۔۔فوراً تو نہیں بتا سکتا کہ یہاں کیا کر بیٹھا ہوں ۔۔
ہاں میں تمہاری مجبوری سمجھتا ہوں ۔۔جلد ہی راضی کر لونگا ۔وہ بہت اچھّی ہے ۔۔مجھے پتہ ہے وہ کوئی اعتراض نہیں کرے گی ۔۔
تم جلد میرے پاس میرے گھر میں ہوگی ہنی !۔۔۔کیوں پریشان ہو ۔۔اچھا اب بند کر تا ہوں آفس میں ملا قات ہوگی اوکے ؟ بے شرم بوسے  کی تیز آواز اسکی سماعتیں جھلسا گئی
وہ لڑکھڑاتی ہوئی برا بر کے بیڈ روم میں آگئی ۔
سامنے ڈریسنگ ٹیبل کا آئینہ اسُ کے سامنے تھا ،اس نے   تھکن سے نڈھال ،اپنا چہرہ دیکھا ،روکھے بال  ہونٹوں پر جمی پپڑیاں ۔،آنکھوں کے گہرے حلقے  ۔۔۔
چند لمحوں تک وہ آنکھیں بند کئیے بیٹھی رہی ۔
پھر اسُ نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں ۔۔کمرے کی چھت ایک طرف سے ٹوٹی ہوئی تھی وہاں سے سرد کہرا اور بادل کمرے کے اندر آرہے تھے ۔۔اسکا دم گھٹنے لگا ۔۔۔وہ اٹھی پنکھا چلا دیا لیکن بادل بدستور اندر آتے رہے ہر چیز دھندلی تھی ہر رنگ پھیکا تھا ۔۔۔ایک سرد اور بے رحم سی ٹھنڈک اس کے وجود میں اتر نے لگی ۔۔اسُ کو محسوس ہوا وہ مر رہی ہے ۔۔
"امی۔ی۔۔۔ی ی۔۔۔۔"چیخ کی صورت اسُ کے منھ سے نکلا اور وہ لڑکھڑا کر گر گئی ۔
شاید شام  ہوگئی تھی ۔کاشف اس ُ کے سر ہانے پریشان سا بیٹھا تھا ۔سامنے اسٹول پر کچھ دوائیں اور چائے کی ٹرے رکھی تھی ۔
اسُ کو ہوش میں آتے دیکھ کر کا شف اسُ پر جھکُ گیا ۔۔۔کیا ہوا ۔۔تم کو ؟ کیسا محسوس کر رہی ہو ؟ کیا کچھ بیمار رہی تھیں وہاں ؟
وہ نہ جانے کیا کیا پوچھ رہا تھا وہ بہت ہمّت کر کے اٹھ گئی کچھ دیر بیڈ سے پیر لٹکائے خاموش بیٹھی رہی ۔۔پھر کاشف کو سامنے سے ہٹا تی ہوئی کھڑی ہوگئی ۔۔۔وہ ڈاکٹر کو کال کر نے باہر نکل گیا ۔
مہک نے بڑی ہمتّ سے بڑا سوٹ کیس اتارا اور اس میں کپڑے بھر نے لگی ۔۔پھر کچھ سا مان چھوٹے بیگ میں بھر دیا ۔۔کاشف اندر آیا تو ہکا بکا رہ گیا ۔۔یہ کیا کر رہی ہوتم ۔۔۔
پاگل ہوئی ہو ؟/ کہاں جاؤگی اسِ وقت ۔۔۔تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔آرام کر و کیا ہوگیا تم کو ۔۔
"میں کہیں نہیں جارہی کاشف ۔۔۔
لاڈلی یہ سوٹ کیس باہر رکھو ۔۔۔اور کاشف تم کو کچھ اور چاہیئے تو اٹھا لو اور ابھی فوراً نکلو یہاں سے ،میں  ۔۔۔چلو اٹھا ؤ اپنا سامان ۔۔۔
مہک ۔۔۔کاشف نے کچھ اور بولنے کی کوشش کی  تو وہ چیخ پڑی ۔۔۔
لاڈلی ۔۔۔۔۔۔ی ۔۔۔ی ۔۔۔دیکھو جب یہ شخص باہر چلا جائے تو دروازہ بند کر لینا ۔
٭٭٭٭٭


کربلا انسانیت  اور ہندوستان ۔
جنگ و جدل تاریخ ِ آدام کا اہم جُز ہے ۔ہابیل و قابیل کے ذاتی  جھگڑے سے آج تک دنیا میں مختلف اسباب کے تحت قتل و خونریزی کا بازار گرم رہا ہے ۔بنیاد کچھ بھی ہو انسانی فطرت کا تقاضہ ہے کہ اپنے مقصد کے حصول خواہ وہ نیک ہو  یا قبیح  اپنی شہرت کی خاطر یا دولت کے حصول کے لئے کشت و خوں بپا کر تا ہے ۔
واقعہ کر بلا  اسلامی تاریخ  کا ایک سیاہ باب ہے محض یہ نہیں کہ یہ واقعہ آل رسولؐ کی داستان بیان کرتا ہے  بلکہ یہ کہ قربانی کس طرح پیش کی جاتی ہے ۔صرف عقیدت مند ہی نہیں دیگر افراد بھی واقف ہیں کہ امام حسین عیلہ السلام  کبھی مجبور نہیں تھے  لیکن انھیں وعدہء  طفلی یاد رہا اور نا نا کے دین کی حفاظت کے لئے سب کچھ لٹا دیا ۔بحث طلب ہوسکتا ہے کہ دین کی حفاظت  کس حد تک ہوئی  لیکن  سب جانتے ہیں  کہ دین ِ اسلام کی روح آج بھی اس قر بانی کے سبب محفوظ ہے ۔
آج بھی پوری دنیا میں جہاں جہاں کر بلا ہے آواز دے رہا ہے کہ اسلام زندہ ہے ۔۔اسلام کے لئے قر بانیاں کس طرح پیش کی جاتی ہیں ۔۔کس طرح پورا کنبہ لٹا کر بھی سجدہء شکر ادا کیا جاتا ہے ۔
یہ بھی صحیع ہے کہ تاریخ ِ اسلام میں صرف کر بلا ہی اکیل جنگ نہیں  ہے رسول اللہ ؐ  کی آنکھیں بند ہوتے ہی یہ سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔آل رسول ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں ہدف بنے رہے ۔تفصیل سے گریز کرتے ہوئے یہ لکھا جاسکتا ہے کہ جناب فاطمہ زہرا ، امام حضرت علی علیہ السلام ،انکے بڑے فر زندا مام حسن علیہاسلام  کے بعد ہی کر بلا کا واقعہ سامنے آتا ہے مگر یہ کوئی عام جنگ نہیں تھی ۔امام حسین علیہ السلام جنگ کے لئے روانہ ہوتے تو کچھ فوج ساتھ رکھتے مگر آپ تو اپنے ساتھ پر دے میں بیبیوں کو اور معصوم بچوںّ کو لے کر چلے ۔
سب سے پہلے
انسانیت کا نمونہ مکہّ مکرمہ میں سامنے آیا جب آپ نے حالات ناساز گار دیکھ کر حج کو عمرہ میں تبدیل کیا ۔تاکہ تمام حاجیوں کو خونِ ناحق مکہ میں نہ بہے وہاں کشت و خون نہ ہو ۔دوسرا انسانیت کا نمونہ اسُ وقت پیش کیا جب دشمن کی پیاسی فوج کو دیکھ کر پانی کے خزانے کھول دیئے ۔انسان تو انسان جانور  کو بھی سیراب کیا ۔۔وہ امامِ وقت تھے کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ ابھی ان  کے بچوں کو ایک ایک بوند پانی کے لئے تر سایا جائے گا ۔۔ننھا مسافر علی اصغر اپنے گلے پر پانی کے عیوض تیر کھائے گا ۔۔ننھی سکینہ ہائے العتش ہائے العتش کہتی ہوئی اپنے چچا سے پانی کی فر مائش کرے گی اور چچا عباس جو کہ وفا داری کی مثال تھے  پانی لینے نہر پر جائیں گے اور کبھی واپس نہ آسکیں گے ۔نجم آفندی نے ایک نوحے میں انکے لئے ایک شعر کہا ہے
ہائے عبّاس کی وفا داری
نہر پر جاکے تشنہ کام آئے ۔
مولا سب جانتے تھے ۔پھر بھی پانی سے دشمنوں کو سیراب کیا ۔اور جب حضرت حرُ آپ کے پاس معافی کے لئے آئے تو آپ نے ان کی خطا معاف کر کے کس طرح اصحاب میں شامل کیا ۔انسا نیت کا نمو نہ تھے امام حسین علیہ السلام ۔ مگر وہ جنگ نہیں چاہتے تھے ۔
۔وہ تو یذید کو جنگ سے باز رکھنا چاہتے تھے ۔ابن ِ سعد  کے لشکر پہنچنے کے بعد  بھی انھوں نے ایک شب کی مہلت مانگی ،کسی دوسرے ملک جانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ۔مگر یذید کو تو جنگ کر نی تھی اور جنگ ہوئی ایک ایک کر کے تمام اصحاب و اقا رب نے جامِ شہادت نوش کیا ۔اور آخر تن و تنہا امام نے جنگ کی شہید ہوئے ۔۔بیبیاں بے پردہ ہوئیں خیمے جلائے گئے ۔کیا کیا ظلم نہ ہوئے ۔تاریخ گواہ ہے آج بھی پورے سال  حسین کا ذکر شہادت تمام مسلمانوں  میں منا یا جاتا ہے اور خاص کر محرم میں تو پوری دنیا میں حسین کا غم منا یا جاتا ہے زمین پر آسمان پر ہر جگہ ایک ہی غم پوری کائینات پر چھا جا تا ہے ،فر شتے بھی حسین کے غم میں روتے ہیں ۔اگر امام حسین قربانی پیش نہ کرتے تو اسلام کو یہ بلندی نصیب نہ ہوتی ۔آپ نے ایک دن میں  بہتر کی قر بانی دی  عزیز و اقارب  جگر کے ٹکڑے بیٹوں کی ،بھتیجے ،بھانجوں  کی قربانی دی  سب کا لاشہ اٹھا کر خیمے میں لائے خواہ لاش کے ٹکڑے ہی کیوں نہ ہوگئے ہوں ۔تاریخ گواہ ہے کہ جوان بیٹے کے کلیجے سے برچھی کا پھل اپنے ہاتھوں سے نکالا ۔۔۔زمین وآسمان تھّرا گئے ہوں گے کس طرح یہ سب بر داشت کیا ہوگا ۔
ہندوستان کے ہر شہر ہر گاؤں میں عزاداری بہت اہتمام و عقیدت کے ہوتی ہے ۔شعرا نے کلام میں پورے واقعات کو تمام جزّیات کے ساتھ پیش کیا ۔سب سے پہلے تو جو مسلما ن نہیں ہیں انھوں نے بھی امام کی عظمت کو مانا ۔
مہا تما گاندھی جی نے کہا کہ اگر ہندوستان ایک کامیاب ملک بننا چاہتا ہے تو اسُ کے لیئے ضروری ہے  کہ امام حسین کی راہ پر گامزن ہو ۔اور اگر میرے پاس مثلِ امام حسین  بہتّر افراد ہوتے  تو میں ہندوستان کے لئے آذادی چوبیس گھنٹے میں حاصل کر لیتا ۔
خواجہ معین الدین اجمیری  نے کہا ۔
شاہ ہست حسین بادشاہ ہست حسین
دین ہست حسین دیں پناہ ہست حسین
سر داد نہ داد دست در دستِ یذید
حقّا کہ بنائے لااللہ ہست حسین
میر انیس اور مرزا دبیر کے مراثی ،نجم آفندی کے نوحے
ڈوبی ہوئی دکھ کے ساگر میں سورج کی سنہری تھالی تھی
اسِ چاند کی دس کو سانجھ تلک شبّیر سے دنیا خالی تھی ۔
اور دیگر شاعروں ادیبوں نے اپنے انداز میں امام حسن علیہ السلام کو خراجِ عقیدت پیش کیا ۔نو حوں اور مر ثیوں میں واقعہ کر بلا کئی جگہ ہندوستانی انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔شادی بیاہ کی رسمیں ۔
حضرت قاسم کے حوالے سے ۔سنگھار کے طریقے مثلاً صندل سے مانگ بھر نا
رشتوں کا بیان حضرت زینب اور جناب بانو کے حوالے سے ۔
رزم کا اندا  زمہا بھارت کے اور رامائن کے طریق پر ۔لفظیات میں ہندوستانی جھلک  ہر جگہ موجود ہے جیسے ،گود ،کھیتی ،اوس ،وغیرہ یعنی ہندی الفاظ کا استعمال ۔
تعزیہ بھی ہندوستان میں ہی امام حسین علیہ اسلام کی یاد میں بنا یا گیا ۔تفصیل میں نہ جاتے ہوئے اس کی تاریخ امیر تیمورلنگ سے ملتی ہے پہلا تعزیہ اسُ نے بنوایا ۔
کہا جاتا ہے کہ ایک سیدّ عالم سے تیمور کو بڑی عقیدت تھی اور یہ سیّد صاحب ہر سال تبرک کے طور پر  کچھ نہ کچھ  بادشاہ کی خدمت میں پیش کرتے تھے اور وہ ان تبر کات کو بڑی عقیدت کے ساتھ محفوظ رکھتا تھا ۔
جس میں ایک ضریحِ اقدس  اور خاک ِ قبر اطہر  امام عالی مقام حضرت امام حسین سے ایک  تسبیح تھی ۔
وہ اسُ ضریح کو کھلیُ عماری پر رکھو کر گشت کر واتا تھا اور جلوس کی شکل میں لوگ ساتھ چلتے تھے  تاکہ لوگ روضہ نہ سہی نقل کی زیارت کر لیں ۔پھر اور لوگوں نے بھی اسُ شکل کو مٹی کاغذ اور لکڑی سے تیا ر کر نا شروع کیا ۔مختلف رنگ ابھارے گئے اور تازیہ کی شکل نمودار ہوئی ۔اور جب امام کی طرف سے حاجت روائی ہوئی تو صرف شعیہ ہی نہیں اہلِ سنت اور ہندو مذہب کے ماننے والے بھی تازیہ میں شریک ہوئے اور اس طر ح عزا خانوں میں تازیہ رکھے جانے لگے ۔
اجڑی ہوئی آنکھوں میں میری اس دشت کا منظر آج بھی ہے
جلتے ہوئے خیمے آج بھی ہیں نیزے پہ کوئی سر آج بھی ہے ۔