Sunday, December 2, 2018



امی 
 کو اپنی سلائی مشین اس قدر عزیز تھی کہ ہم سب اس مشین سے خار کھانے لگے تھے
جب دیکھو  اس پر جھکی ہیں کھرُ کھرُ کی آواز سے گھر گونج رہا ہے ۔   یہ آوز کسی کسی وقت تو ذہن پر پتھر کی طرح لگتی تھی حالانکہ اسی مشین سے امی نے ہمارے یونیفارم سی کر ہمیں پنہائے تھے ،گھر کے ہر بستر ہر تکیہ پر اسی مشین  نے گلاب کھلائے تھے ۔۔پورے گھر  چادر یں پردےاسی مشین کا مرہون ِ مِنت تھے مگر اب ہم کو یہ کھٹکنے لگی تھی ۔ 
امی .  !  طرح طرح کی سلائی مشینیں آگئی ہیں بازار میں اب اسکو چھوڑ دیجئے دے دیجئے کسی کو  ۔  ۔
ھا ۔۔آ۔   مگر امی تو امی تھیں ایسی آنکھیں دِکھاتیں کہ ہم سہم جاتے پھر وہ اپنی نرم اور مدھم آواز میں اس مشین کی تاریخ اور خوبیاں گنوا نے لگتیں ۔۔
ہمارے ابا کو ئی بہت امیر آدمی نہیں تھے بیٹا! مگر ایماندار تھے ۔ میرے جہیزکے سامان میں اس مشین کا اضافہ انکے کندھوں کا بوجھ بن گیا تھا جب  میری اماں، تمہاری نانی نے کہا کہ بٹیا کو سینے پرونے کا شوق ہے ایک سلائی مشین بھی دے دیتے .
  توبس اّبا حیران اور پریشان آنکھوں سے اماں کو دیکھنے لگے ۔۔ اماں خاموشی  سے اٹھیں اور بکس سے اپنا سچے کام کا جامدانی کا دوّپٹہ نکال لائیں۔ بولیں .  . " بیٹا تو ہے نہیں . 
  سوچا تھااسِی کو اڑاھا دونگی مگر اِسکی سسرال سے جو چم چم کر تا روبٹہ آیا ہے اسپر یہ بے مول لگے گا ۔

ویسے ۔۔۔۔!
انھوں نے آہ بھری ۔
  سب سچا کام ہے سونے چاندی کے تار ہیں مگر رکّھے رکّھے بے وَقت ہوگیا اسکو لے جاو  دیکھو کچھ مل جائے تو ۔  
ابا بہت دیر سر جھائے بیٹھے رہے  یہ احساس ایسا تھا جو کمرے میں مانجھے بیٹھی میں کانپ رہی تھی ۔!مگر بڑوں کے سامنے بولنے کی جراءت نہیں تھی
پھر یہ سلائی مشین آئی اور تمہاری نانی  اماں کا بہت پیارا کاسنی جوڑا آیا  وہ دوپٹہ ۔۔۔۔امی  نے آنکھیں پونچھیں 
.  . میری آنکھوں میں اب بھی جگر جگر کر تا ہے ۔ جب اس مشین پر کچھ سیتی ہوں ۔ .  یہ میرے غریب اّبا اماں کی نشانی اب تک میرے پاس ہے .
  پچاس برس  کی امی  اپنے آپ کو ایکدم بوڑھا کئیے دے رہی تھی ہم انکے غم نہیں سمجھتے تھے مگر انکو خوشی دینے کی ہر لمحہ کوشش کرتے ۔

اس بار یہ پلان بنا کہ امی کو نئی سلائی مشین دی جائے مگر انکو راضی کون کرے . ؟  بہت بڑا مسئلہ تھا ہم انکے پاس بیٹھ کر آن لائین شاپنگ کی سائیٹ کھول لیتے انکو بھی دیکھاتے دیکھئے امی یہ لیٹسٹ سلائی  مشین آئی  ہے دھا گہ بھی آٹومیٹک پڑجاتا ہے آواز بھی نہیں آتی ا ور ۔ .  ہم آگے کچھ کہتے امّی نے گھور کر ہمیں دیکھتیں ۔  ۔ ۔
تم لوگوں کی مشین کی آواز سے مسئلہ ہے  ؟ میں یہاں سے ہٹا کر اسٹور میں رکھ لوں گی تم لوگ فکر نہ کرو ۔وہ خفا ہوجاتیں اور ہم اداس
ارے نہیں امی آپکے ہاتھ ُدکھ جاتے ہیں  
آنکھوں پر بھی زور پڑتا ہے ہم تو آپکی آسانی کے لئیے ۔۔  ۔ ہمارے کپڑے تو درزی کے پاس جاتے ہیں ۔آپ گھر کی چیزیں سیتی ہیں نئی مشین میں ڈیزائینگ ۔  ۔  ۔ ہمارا جملہ ادھورا رہ جاتا ۔

بیٹا میری زندگی کا بھی تو کوئی مصرف ہو ۔گھر کے کام کاج تم لوگ کر لیتی ہو ۔ پھر اگر میں اپناشوق۔  ۔ وہ آنکھیں پوچھنے لگتیں ہماری سٹی گم ہوجاتی ۔ان سے لپٹ جاتے بات آئی گئی ہوجاتی ۔
آپا نے ایک دن ان کو ایک خوب صورت مشین کی  تصویر دکھائی امی یہ دیکھئے اس میں کئی سہولتیں ہیں ۔
بس کرو بھئی میری مشین پرانے وقتوں کی سب سے عمدہ برانڈ کی سنگر کی ہے ۔اماں جھک کرسوئی میں  دھاگہ ڈالتے ہوئے مسکرائیں 
یہ لیجئے جناب ۔  ۔  ۔ سنگر کی سائٹ بھی ہے آپ دیکھئے تو ۔۔
آپ ایک بار دیکھئیے یہ آپ کی ہوئی  ۔  ۔  ۔ ہم شوخ ہوئے ۔
نہیں چاہئیے مجھے ۔ امی کی آنکھیں پھر  بھر آئیں ۔وہ اٹھ کر آنگن میں چلی گئیں اور اپنے شوق سے لگائے ہوئے پودوں میں پانی دینے لگیں ۔
ہم سناٹے میں گھرے بیٹھے رہے ۔
کچھ اور وقت نکل گیا ۔آپااپنی سسرال سے آئی ہوئی تھیں ۔ ایک ننھے مہمان کی آمد آمد تھی ۔اماں سر درد کی شکایت میں بھی طرح طرح کی چیزیں آپا کے لئیے بناتی رہتیں ۔اب سلائی کم کرتی تھیں کبھی چھوٹا سا موزہ کبھی ننھے گدے تکیے ہاتھ سے  سیتی رہتیں ۔۔ہم تینوں بہنوں نے یہ پلان بنایا کہ مشین منگا کر امی کو سر پرائیز دیں گے ۔جب اسکی آسانیاں دیکھیں گی تو خوش ہوجائیں گی ۔
جس دن مشین ڈیلور ہونے والی تھی ہم گھر سے نکل گئے آپا اپنی ساس سے ملنے چلی گئیں ۔ہم کو معموم تھا امی اکیلی ہی گھر میں ہوں گی ۔
دوپہر کو کیا ہوا ہم کو کچھ پتہ نہیں شام کو گھر آئے

تو امی چادر اوڑھے دالان میں پڑے کاوچ ہر بےسدھ لیٹی تھیں ۔چھو کر دیکھا ماتھا گرم تھا ۔
کیا ہوا امی کیسی طبیعت ہے ؟ فون کر دیتیں ہم جلدی آجاتے کالج سے ۔انکا چہرہ دیکھا آنسوؤں سے تر تھا  ۔  ۔
اللہ میری امی کیا ہوا سب خیریت تو ہے ؟ ہم بری طرح ڈر گئے شازی اور میں رونے لگے نہ جانے کیا ہوا  ۔  ۔پھر وہ اٹھ کر بیٹھ گئیں اور ہمکو جھٹکے سے اپنے پاس سے ہٹا دیا
تم لوگوں کو پتہ ہے مجھے کتنی شدید خواہش تھی اس آٹومیٹک مشین کی ۔  ۔ کئی بار پیسے جوڑے مگر کبھی بجلی کے بل کبھی تم سب کی کاپی کتابیں ۔کبھی  گھر کے اور تمام خرچے منھ پحاڑے کھڑے رہتے تھے ۔میری خواہش ان سب کے سامنے دم توڑ دیتی تھی ۔۔میری خواہش شدید سے شدید تر ہوگئی تھی شوق تھا ،عمر تھی ۔
 وہ اٹھیں اپنے کمرے کی الماری سے ایک کاپی نکال لائیں  اسمیں ہر پیج پر سوئینگ مشین کی تصویریں چپکی ہوئی تھیں ۔ اچھی کمپنی کی عمدہ مشینیں جن  کے اشتہار رسالوں اور اخبار سے کاٹ کر جمع کئے تھے امی نے ۔

اب تم لو گوں نے منگا کر زبردستی دی ہے جب نہ شوق ہے نہ آنکھوں میں روشنی ۔  ۔ تم سب بڑے ہوگئے ہو  ۔درزی کے سلے یا ریڈی میڈ سوٹ پہنتی ہو ۔بچوں کے برانڈیڈ کپڑے آتے ہیں   ۔ کس کی فراک سیوں کس کا بستہ ٹھیک کروں ۔ امی رونے لگیں ہم سب ان سے لپٹ کر رونے لگے
واپس کر دیں گے  مشین  امیّ! نہ روئیے ۔اللہ کے واسطے ہم کو معاف کر دیجئے ۔ اب بغیر آپکی اجازت کچھ نہیں منگائیں گے امی پلیز چپ ہوجائیے ۔  ۔ نہ روئیے پیاری امی ۔  ۔
شازی منھ دھلا کر لائی میں چائے بنا لائی ہم سب اپنے خیالوں میں گم اداس بیٹھے تھے ایک غمناک سی اداسی چھاگئی تھی  کسی نے اس سلائی مشین کے ڈبے کی طرف دیکھا تک نہیں جو شر مندہ سا  دالان کے کونے میں سر نیوڑھائے اداس بیٹھا تھا ۔
اچانک فون کی تیز گھنٹی کی آواز نے سننا ٹا توڑ دیا ۔شازی نے فون اٹھا یا اور اچانک زور سے بولی ۔ کس اسپتال میں ؟؟ہم سب گھبرا کر کھڑے ہوگئے 

یا اللہ خیر  ۔ امی کے منھ سے بے ساختہ نکلا شازی فون رکھ کر دوڑ کر امی سے لپٹ گئی ۔
امی مبارک ہو آپا کو بیٹا ہوا ہے  ۔  ۔
ہم سب کچھ بھول گئے خوشیاں دل میں رقص کر رہی تھیں ۔۔۔ہم ایک دوسرے سے لپٹ کر بیک وقت ہنس بھی رہے تھے  رو بھی رہے تھے ۔۔۔  ۔
دلوں میں سکون در آیا  ۔ اب اسپتال جانے کی تیاری تھی  ۔
دو دن بعد ہم آپا کو اپنے گھر لے آئے  ایک چہل پہل ایک خوشی کی لہر سی دوڑ گئی تھی سارے گھر میں ۔ آج منّے کی چھّٹی تھی سب پرُ جوش تھے کچن میں پکوان اور دالان میں تخت پر پھول سجے تھے آپا نہال سی منے کو لئیے بیٹھی تھیں ۔ہم دونوں بہنیں کچن میں مصروف تھے تب امی ہمارے پاس آئیں
جی امی کچھ چاہئیے ؟
ہاں ۔۔ یہ بتاو وہ ۔ نئی مشین تم کو چلانی آتی  ہے ؟ 
۔ زرا کھولو تو منے کا نیا کرتا بھی تو سینا ہے ۔  ۔ انکی آنکھوں میں دبا دبا جوش اور کچھ آنسو تھے مگر مسکرا رہی تھیں ۔  ۔
  


No comments:

Post a Comment