ایل ۔او ۔سی
پہلی بار اسکی ڈیوٹی ریتیلے میدان میں لگی تھی ۔۔وہ بہت اُداس اور پریشان تھا یہاں کی آب وہوا اسے موفق نہیں آرہی تھی ۔۔دن بھر شدید گر می میں رائفل لئے باڈر کے کانٹوں لگے جال کے پاس کھڑا رہنا پڑتا تھا ۔۔جہاں تیز دھوپ مین ریت چنگاریوں کی طرح اڑتی ۔۔اسکے ہاتھ پیر سخت دھوپ میں سیاہ ہوتے جارہے تھے ۔اسکے قدم ریتیلی تپش سے جھلس جاتے مگر باقی فوجیوں کی طرح اسے بھی یونہی الرٹ رہنا پڑتا تھا ۔
کئی بار وہ منھ چھپا کر رو یا بھی ،مگر اسکے ساتھی اسے اس طرح روتے ہوئے دیکھتے تو انکے چہروں کی درشتی بڑھ جاتی ۔
دھیرے دھیرے وہ اس ماحول کا عادی ہونے لگا ۔اس کا چہرہ بھی سیاہ ہونے لگا ۔اس کے انداز میں سختی سی در آئی تھی ۔
وہ شام کا وقت تھا جب وہ باڈر کے قریب کانٹوں دار جال کے پاس ۔۔خار دار جھاڑیوں میں چھپا اپنی ڈیوٹی پر تھا ،اسنے دیکھا ۔باڈر کے دوسری طرف گاؤں سے کچھ عورتیں رنگ برنگے کپڑے پہنے ہوئے اسی طرف چلی آرہی تھیں وہ الرٹ ہوگیا ۔۔۔وہ سب آپس میں ہنستی باتیں کرتی جال سے کچھ دور کوئیں کے جانب چلی گئیں ۔ایک نے رسیّ سے بالٹی باند ھ کر کوئین میں پھینکا ۔چھپاک کی آواز یہاں تک سنائی دی ۔۔وہ وہیں رکُ کر ان عورتوں کی کاروائی دیکھنے لگا ۔۔شاید گا ؤں کے اندر والے کوئیں میں پانی نہ رہا ہوگا جو وہ سب اتنی دور پانی بھرنے آئی تھیں ۔۔کسی نے گھڑا ہاتھ میں کمر پر اور کسی نے سر پر رکھا اور پانی بھر کے ہنستی باتیں کرتی واپس گاؤں کی جانب چلی گئیں ۔
اب اجمل کو یہ نیا مشغلہ مل گیا تھا ۔۔وہ عورتیں جب پانی لینے آتیں اور ہنستی کھلکھلا تی باتیں کرتی گھڑوں کو سروں پر سجاتیں تو تو بے اختیار اسُ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آجاتی
پہلی بار اسکی ڈیوٹی ریتیلے میدان میں لگی تھی ۔۔وہ بہت اُداس اور پریشان تھا یہاں کی آب وہوا اسے موفق نہیں آرہی تھی ۔۔دن بھر شدید گر می میں رائفل لئے باڈر کے کانٹوں لگے جال کے پاس کھڑا رہنا پڑتا تھا ۔۔جہاں تیز دھوپ مین ریت چنگاریوں کی طرح اڑتی ۔۔اسکے ہاتھ پیر سخت دھوپ میں سیاہ ہوتے جارہے تھے ۔اسکے قدم ریتیلی تپش سے جھلس جاتے مگر باقی فوجیوں کی طرح اسے بھی یونہی الرٹ رہنا پڑتا تھا ۔
کئی بار وہ منھ چھپا کر رو یا بھی ،مگر اسکے ساتھی اسے اس طرح روتے ہوئے دیکھتے تو انکے چہروں کی درشتی بڑھ جاتی ۔
دھیرے دھیرے وہ اس ماحول کا عادی ہونے لگا ۔اس کا چہرہ بھی سیاہ ہونے لگا ۔اس کے انداز میں سختی سی در آئی تھی ۔
وہ شام کا وقت تھا جب وہ باڈر کے قریب کانٹوں دار جال کے پاس ۔۔خار دار جھاڑیوں میں چھپا اپنی ڈیوٹی پر تھا ،اسنے دیکھا ۔باڈر کے دوسری طرف گاؤں سے کچھ عورتیں رنگ برنگے کپڑے پہنے ہوئے اسی طرف چلی آرہی تھیں وہ الرٹ ہوگیا ۔۔۔وہ سب آپس میں ہنستی باتیں کرتی جال سے کچھ دور کوئیں کے جانب چلی گئیں ۔ایک نے رسیّ سے بالٹی باند ھ کر کوئین میں پھینکا ۔چھپاک کی آواز یہاں تک سنائی دی ۔۔وہ وہیں رکُ کر ان عورتوں کی کاروائی دیکھنے لگا ۔۔شاید گا ؤں کے اندر والے کوئیں میں پانی نہ رہا ہوگا جو وہ سب اتنی دور پانی بھرنے آئی تھیں ۔۔کسی نے گھڑا ہاتھ میں کمر پر اور کسی نے سر پر رکھا اور پانی بھر کے ہنستی باتیں کرتی واپس گاؤں کی جانب چلی گئیں ۔
اب اجمل کو یہ نیا مشغلہ مل گیا تھا ۔۔وہ عورتیں جب پانی لینے آتیں اور ہنستی کھلکھلا تی باتیں کرتی گھڑوں کو سروں پر سجاتیں تو تو بے اختیار اسُ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آجاتی
No comments:
Post a Comment