Monday, December 3, 2018


اللہ کے نام پر

بڑا سا کچّا صحن ،دونوں طرف بڑے بڑے دالان تیسری طرف ڈیو ڑھی  اور چو تھی طرف  با ورچی خانے کا    بر امدہ ۔وہ بڑی  دیر سے برامدے کی زمین پر بیٹھی لایئنیں کھینچ رہی تھی ، مڑ کر دیکھا پتہ نہیں کس   سو چ میں تھی ۔
کیا ہوا خلیقن"۔۔۔میں
نے آہستہ سے اسے آواز دی 
وہ ایکدم چونک کر اٹھی اور جھاڑو دینے لگی ۔
کچھ نہیں بٹیا ۔۔۔۔۔۔"اسکا چہرہ بتا رہا تھا  کہ کچھ ہے ضرور ۔
کچھ تو ہوا ہے  بتاؤ مجھے ۔۔۔۔۔۔"اسے اشارہ کر کے اپنے پاس بلایا ۔اور کتاب بند کر دی ۔وہ آکر میرے قریب زمین پر بیٹھ گئی ۔
"ٹھیک سے بیٹھو پٹری لے لو ۔۔"میں نے لکڑی کی پٹری کی طرف اشارہ کیا ۔
"کا ٹھیک سے بیٹھیں بٹیا ۔۔۔۔۔ابّا تو پگلائے گئے ہیں ۔"وہ جھنجھلائی ۔
کیا بک رہی ہو اتنے اچھّے تو ابّا ہیں تمہارے  کتنا خیال رکھتے ہیں  بیچارے تمہیں کھانا تک تو پکا کر کھلا تے ہیں ۔"
"ارے تو کا بھوا ۔۔۔۔ہم ہو کبھی کبھی پکائے لیت ہیں ۔۔کون بڑا کام کر ت ہیں "(ارے تو کیا ہوا ۔ہم بھی تو کبھی کبھی پکا لیتے ہیں  کون سا بڑا کام  کر تے ہیں )
"تم تو بہت بری ہو اتنے اچھّے ابّا کو ایسے بو لتے ہیں کہیں ؟؟"
"اچھّے وچھّے نا ہیں او۔۔۔۔۔۔۔۔تمکا تو کچھ پتہ نہیں  ہے ۔۔۔او ہمرا بیاہ ٹھکوائے  دیئں ہیں ۔"( انھو ں نے ہما ری شادی طے کر دی ہے )
"یہ تو خو شی کی خبر ہے بھئی ۔۔۔۔لاؤ مٹھائی وٹھائی کھلاؤ ۔۔۔" میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔
"کاہے کی مٹھائی ۔۔۔۔ہم نہ کر بئے بیاہ ۔۔۔۔۔۔۔سلیمن کا کروائے دیں "
"سلیمن تو چھو ٹی ہے ابھی ۔۔۔۔چلو اچھّا کام ختم کر و " اپنی کتاب پھر سے اٹھا لی  مگر بات یہا ں ختم نہیں ہوئی ۔
اسکی شا دی واقعی طے ہو گئی تھی ۔۔۔اسی جمعہ کو       با رات آرہی تھی ۔گا ؤں میں گھہما گہمی سی ہو گئی ،لاؤڈاسپیکر پر گانے شروع ہو گئے ۔گاؤ ں کی لڑ کیا ں اپنے رکھّے رکھا
ۓرنگ برنگے  اچھّے کپڑے پہن کر   پو رے گا ؤں میں گھو متی پھریں ۔۔۔
رات کو شادی کا کھانا بھی آیا سمیع با بو کے گھر سے ۔کافی دھوم دھام سے خلیقن کی شادی ہو گئی اور وہ خوب زور زور سے روتی ہو ئی رخصت ہو ئی وہ لو گ اسے ٹریکٹر کی ٹرالی میں رخصت کروا کے لے گئے ۔ہم نے  اسکے لیئے چند جو ڑے کپڑے اور ایک چاندی کا سیٹ بھجوا یا  دیا تھا ۔۔
وہ گاؤں میں  ہمارے  گھر پر بچپن سے ہی کام کر تی تھی ۔پہلے پہل اپنی امّاں کی انگلی  تھامے ہو ئے ڈری سہمی آتی  اور ایک کو نے میں بیٹھی انھیں کام کر تے دیکھتی رہتی ۔کچھ بر س ہو ئے اسکی امّاں کا انتقال ہو گیا  تو وہ اکیلی آنے لگی اسنے گھر کا سارا کام سنبھال لیا تھا ۔۔کبھی کبھی وہ اپنی چھو ٹی بہن  کو بھی لے آتی اور وہ بھی اسی طرح ایک کونے میں بیٹھی رہتی ۔خلیقن کچھ کھانے کی چیز اس کے سامنے رکھ دیتی  اور خود کام میں لگی رہتی  مجھے بھی اسکی عا دت سی ہو گئی تھی ۔
گھر پر با با ،بھیّا اور میں  تھی ۔کام زیادہ نہ تھا ۔۔مگر اتنے بڑے گھر کی صفائی اور کچّے آنگن کی جھا ڑو  میں ہی ایک گھنٹہ لگ جاتا اور دوسرے تب ہمارے گھر میں گیس کا چو لھا بھی نہیں تھا ،لکڑی جلا کر ہی کھانا بنتا ۔۔   ۔  کھا نے کی تعداد کا بھی کچھ پتہ نہیں کبھی بھی کئی لو گ کھانے پر آجاتے اور وہ جلدی جلدی سا را انتظام مہا رت سے کر لیتی ۔
میں چند ماہ پہلے ہی ہو سٹل سے گھر لوٹی تھی یہا ں کے کامو ں کی عا دت بھی نہیں تھی ۔۔ہر وقت خلیقن کی ضرورت رہتی تھی ۔۔۔۔اسنے گھر احسن طریقے سے سنبھالا ہو ا تھا ۔اسکے ہا تھ میں بہت ذائقہ تھا ،دال بہت مزے کی پکاتی ،ترئی گوشت تو لا جواب ہو تا تھا اسکے  ہا تھ کا ۔۔بیسن کی روٹی لہسن کی چٹنی جب اصلی گھی میں تل کر لاتی تو میں اور بھیّا کئی رو ٹیا ں صاف کر جاتے  اور پھر خوب ہنستے ۔۔۔۔کیو نکہ خلیقن  دوبارہ آٹا گوندھ رہی ہوتی ،دو بارہ چٹنی  بگھار رہی ہوتی  اور خود بھی ہمارے ساتھ ہنستی رہتی ۔۔۔۔۔۔اسکے ماتھے پر کبھی کوئی بل نہیں آتا  کہ وہ گر می میں دو بارہ سا را کام کر رہی ہے ۔۔۔۔۔

اسکے جاتے ہی سمیع با بو نے دو سری عو رت کا انتظام کر دیا تھا اور سروری نے کام سنبھال بھی لیا تھا ۔۔۔مگر خلیقن والی بات کہا ں سے آتی ؟؟ مجھے تو ہر وقت اسے آواز د ینے کی عا دت سی پڑ گئی تھی ۔۔۔۔۔
ہر کھانے میں ہم خلیقن کے ہا تھ کا مزا ڈھو نڈتے رہ جاتے ۔۔مگر ۔۔۔۔۔
جمعہ کو اسکی شا دی ہو ئی اور اتوار کو وہ  منھ پھلائے میرے سامنے بیٹھی تھی   ۔
"اب کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔" ؟میں  نے ہنستے ہنستے اسے گلے سے لگا لیا ۔
مگر وہ تو واقعی خفا تھی 
" بو ل ۔۔۔کیا ہو ا ۔۔؟ کیسا ہے تیرا میا ں ؟"
" ارے کیسا ہے ؟؟؟ بہت کھراب منئی ہے او ۔۔"
"اب کیا ہوا تجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ " اسکے انداز پر مجھے بہت ہنسی آئی 
"ٹرانسسٹر لائے ہیں گھر ماں ۔۔۔۔۔"
"ہا ں تو کیا ہو ا؟ ٹرا نسسٹر  کوئی بر ی چیز ہے کیا ؟ مزے سے گانے  سننا ۔۔۔تمکو تو گانے سننا پسند ہے نا ۔؟"
"ہا ں تو پسند ہے  تو ای کون بات ہے ۔۔کہ گھر تو ٹو ٹا  پھو ٹا ۔۔دروجّا تک  انکا جرا نہیں   پھر کا  لاگ ہے ۔   ۔ کو کورآوت جات ہے  اور گھر ما لے آیئں ٹرانسسٹر ۔۔" (ہاں پسند تو ہے مگر یہ کیا بات ہوئی کہ گھر تو ٹو ٹا ہوا ہے  دروازہ تک  نہیں ہے بانس لگے ہیں ،کتّا آتا جاتا ہے  اور گھر میں لے آئے ٹرانسسٹر )
"ارے تو تو بڑی سمجھدار ہو گئی ہے ۔۔۔مطلب یہ کہ پہلے گھر کا دروازہ بنوانا  چا ہیئے  پھر کو ئی تفر یح کی چیز  لانی چاہیئے ،ہا ن بھئی بات تو صحیع ہے چلو ہم بات کرینگے  تمہارے میا ں سے ۔۔۔۔۔"
" کاہے کے میا ں ۔۔۔؟  بٹیا ۔۔ہم کا ای   آدمی ٹھیک  نا ہی لگت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ بدک کر بو لی ۔۔۔
" کیو ں ؟؟ کیا ہوا ؟"
"اب بٹیا تمکا  کا بتایئں ۔۔۔" وہ شر ما گئی
" کیو ں ،،بتا ؤ ۔۔۔سب کچھ تو بتا تی ہو اپنے ابّا سے پٹ کر آتی تھیں  تب بھی اور اپنے معصوم ابّا کو پیٹ کر آتی تھیں تب بھی کہ "مر ہیئں ۔۔۔۔تو مارو کھیئنہیں   ۔۔۔کاہے مارن ہمکا "(مارینگے تو مار بھی کھائینگے ۔۔۔ہم کو کیو ں مارا )
اتنا سمجھایا کہ ابّا پر ہاتھ نہیں اٹھاتے  مگر تم تو کہتی تھین کہ "مرہیں تو جرور ئے مربئے "(وہ مارینگے تو ہم بھی مارینگے )
اب کیا ہوا  جو نہیں بتا سکتیں ؟"
میں خا موش ہو گئی تو اسنے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اسکی آنکھیں آنسوں سے بھری تھیں ۔
"بٹیا ۔۔۔۔۔۔او ہمکا پکڑت ہے "اسنے اٹک اٹک کر بتا یا ۔
"ارے تو وہ تیرا مرد ہے  پاگل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو ئی غیر تھو ڑی ہے " مجھے بھی شرم آگئی ۔
"مرد ہے تو کا بھوا ۔۔۔۔ہمکا پکڑ یہئے تو ایسن مار کھیہیئے"(مرد ہے تو کیا ہوا ۔ہم کو پکڑے گا تو ایسے ہی مار کھائے گا )
"ہا یئں ۔۔۔؟؟ تم اسے مار کے آئی ہو  کیا غضب کر تی ہو تم پاگل ہو با لکل ۔۔"
"ہا ں ہا ں  ہم تو پاگل ہیئ ہیں  بتائے دیہو ابّا کا ۔۔۔کہ ہم نا جابئے ،ہمکا پکڑت ہے ،ہمکا نیک نہیں لگت  دور سے بات کر ئے تو ٹھیک ہے نہیں تو مار مار کے دھن دیب"(ہم تو پاگل ہیں ہی ۔ابّا کو بتا دینا  کہ ہم جایئنگے نہیں ،بات کر نی ہے تو دور سے کرے ورنہ  بہت مارینگے ہم ) "وہ زور زور سے جھا ڑو دیکر دھول اڑانے لگی گو یا اپنا غصّہ نکال رہی ہو ۔
"یا اللہ کیا مصیبت ہے یہ لڑ کی " میں نے  سر پیٹ لیا ۔
سمیع با بوکا شمار  گاؤں کے شریف اور غریب کسا نوں میں سے تھا ۔ان دو بیٹیو ں کے سوا انکے پاس کچھ بھی نہ تھا ۔چند بر س پہلے وہ اور انکی بیوی نے ہمارے گھر ملاز مت اختیا ر کی ،انکی بیو ی نہائت شریف عو رت تھی دو بیٹیو ں کی وجہ سے لوگ انکا جینا حرام کیئے ہوئے تھے کہ ایک بیٹا ہو جاتا تو  تم لو گوں کا بڑھاپا سنور جاتا ۔حالانکہ کہنے والے شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ بہت سارے گھرو ں میں بیٹے والد ین کے بڑھا پے کو سنوارنے کے بجائے اجاڑدیا کر تے ہیں  مگر بہر حال یہ یہا ں اس قسم کی با تیں عام ہیں ۔بیٹے کی پیدایش ہوئی اور جو تکلیفیں سلمہ نے اٹھایئں وہ کوئی محسوس نہیں کر سکتا مگر اسکے بعد جب ما ں اور بیٹا دو نوں اس جہا ں سے گزر گئے تب سمیع با بو اور بچیوں نے جو مصیبتیں اٹھا ئیں وہ سب کے سامنے تھیں ،کئی دن تک وہ باہر با با جان کے سامنے آکر روتے رہے انھیں بہت سمجھا کر گھر بھیجا جاتا کہ اپنی بچّیوں کو دیکھو اب تم ہی ان کا سہا را ہو ۔۔۔دھیرے دھیرے انکے دل کو قرار آہی گیا تو اپنی بیٹیو ں کو جا کر گلے سے لگا یا اور جینے کی کو شش کر نے لگے ۔
خلیقن نے حقیقتاً انکو بیحد سہا را دیا وہ اپنے ننھے ننھے  ہا تھو ں سے انکے آنسو پو چھتی  اپنے ہا تھ سے کھا نا کھلا تی اور سر دبا کر سلا دیتی ۔پھر رفتہ رفتہ زندگی معمول پر آگئی اور سمیع با بو خود چو لھے چکّی میں جٹے ۔ساتھ ہی خلیقن سے بھی کام کرواتے وہ خوشی خوشی سب کر دیتی مگر جب اسکا دل نہ چاہتا تو بس منھ پھلا ئے بیٹھی رہتی اور تب سمیع با بو اسکا منھ دھلا کر سر میں تیل لگاتے اور الٹی سیدھی چٹیا بنا کر ہمارے گھر چھو ڑ جاتے ۔
میں جب ہو سٹل سے آتی تو گھر میں گا ؤں کی عورتوں کا آنا جانا ہو تا ورنہ سنناٹے راج کر تے ۔۔با با جان صبح اٹھ کر کھیتوں میں کام کروانے چلے جاتے اور بھیّا اگریکلچر میں ایم ایس سی کر کے با با جان کے ساتھ نئے نئے    تجر بات کر تے رہتے ۔پڑھائی ختم ہو تے ہی عا صم کی امّی میرے لیئے رشتہ لیکر آگئیں ۔میں تو گھر والوں سے شر مندہ سی ہو گئی جبکہ ہمارے بیچ کو ئی ایسی بات ہو ئی بھی نہ تھی ۔تب میری سمجھ میں آیا کہ عا صم نے میرا پتہ کیو ں لیا تھا ۔
چچی جان نے مجھ سے مر ضی لی تو میں نے  منع بھی نہیں کیا ۔شا دی تو کہیں نہ کہیں ہو نا ہی ہے ۔۔عا صم ہی سہی ۔۔۔۔
امّی کے زیورات نکلوائے گئے ۔۔کپڑوں کی خریداری شروع ہو ئی اور بھی نا جانے کیا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی وقت یہ قصّہ بھی جاگ اٹھا ۔ اپنی طرف سے اسے سمجھا بجھا کر بھیج دیا تھا ۔۔۔۔کئی دن واپس نہیں آئی سلیمن  نے آنسو پو چھتے ہو ئے بتا یا کہ" دولھا بھائی آپا کا تھپّڑ مارن ۔۔۔۔۔۔اور جبر دستی لئے گئے ۔۔۔ابّا بہت روت رہے ۔"
 اسے بہت سمجھایا مگر سچ تو یہ ہے کہ میرا بہت دل دکھا ۔
ایک ماہ کیسے گزر گیا کچھ پتہ ہی نہیں چلا  اتنے سارے کام تھے پھر عزیزوں کی آمد، مستقل کوئی نہ کوئی مہمان رہا چچی جان بھی رہنے کے لیئے آگئی تھیں ۔سلیمن برا بر آرہی تھی مگر وہ ابھی سب کام نہیں سنبھال پائی تھی اس لیئےبس سروری کی کچھ مدد ہو جاتی ۔
اس دن میں سر دھو کر نہائی کچھ سر دی محسوس ہونے لگی تو چھت پر کر سی ڈلوا کر بیٹھ گئی ۔تھو ڑی دیر بعد محسوس ہو ا کہ پیچھے کو ئی آکر بیٹھ گیا ہے مڑ کر دیکھا تو   میلے کچیلے  کپڑے پہنے گٹھری سی بنی    خلیقن بیٹھی تھی  ۔میں ایکدم اٹھ کڑی ہوئی ۔
"خلیقن ۔۔۔"؟ اسے چھوا تو وہ ایکدم زمین پر آرہی ۔۔دبلی پتلی ،مدعوق چہرہ ،پیلی سی آنکھیں  بال الجھے دھول بھرے ۔۔۔۔وہ بیحد بر ے حالو ں میں تھی ۔ میں بر ی طر ح گھبرا گئی تھی ۔سروری کی مد د سے اسکو پلنگ پر لٹایا  دودھ گر م کر کے پلو ایا ۔وہ ہوش میں آکر بستر سے اترنے لگی ۔
"لیٹی رہو ۔۔۔۔لیٹی رہو ۔۔۔"اسے دوبارہ لٹا کر اسکے قریب بیٹھ گئی  ۔
" کیا ہوا بیٹا ۔۔۔کیسی طبیعت ہے ؟" اسے اس حال میں دیکھ کر مجھے بیحد رنج ہو رہا تھا ۔
" کچھ نہیں بٹیا ۔۔۔۔"اسنے اپنے آنسو میلے روبٹّے میں چھپا لیئے ۔
"بتا ؤ تو ۔۔۔کیا ہوا ہے کچھ کہا ہے کسی نے ؟؟؟" اسنے شانے سے روبٹّہ ہٹایا تو قمیص پھٹی ہوئی اور کاندھے پر گہرا زخم تھا ۔
"او میر ے خدا ۔۔۔۔۔یہ کیا ہوا ہے ؟"
"ہمکا لا ٹھی سے مارت ہیں 'وہ سسکنے لگی ۔۔۔
"مگر کیو ں کس لیئے ؟؟میں بیقرار تھی ۔
"کہت ہیں تمہرے ابّا نہ تو سائیکل  دیہن ہیں نہ اسکو ٹر ۔۔۔۔یا تو پیسہ لیکر آؤ نہیں تو اور مر بئے "
اسنے روتے روتے بتایا ۔۔۔
"اففففف غضب خدا کا ۔۔۔پہلے نہیں دیکھا اسنے ؟؟ کہا ں سے دینگے یہ سب ؟؟ وحشی ہے یہ شخص ۔۔با لکل پاگل ہے ۔"
گرم پانی سے اسکا زخم صاف کیا دوا لگائی  اپنا ایک جو ڑا پہن وایا منھ دھلوایا ۔۔۔۔وہ پو رے وقت بس رو تی ہی رہی ۔
" بس بہت ہو گیا ۔۔۔اب مت جانا اسکے پاس ۔۔۔" اسنے زخمی ہر نی کی طر ح مجھے دیکھا ۔۔۔۔میرا دل تڑپ گیا میں نے اسے بڑھ کر لپٹا لیا ۔۔۔۔۔
کچھ دیر کے بعد جب با با جان اندر آئے تو بہت تھکے    ہو ئے لگ رہے تھے انکو یہ ساری بات بتائی تو   خاموش رہ گئے ۔
پھر بو لے " بٹیا ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ان لو گو ں کے ذاتی معملات ہیں ،لڑکی کا معاملہ بہت نازک ہو تا ہے ۔۔۔زیادہ سفارش کر یں تو لڑکی بد نام ہو جاتی ہے ۔تم یہ ساری باتیں نہیں سمجھ سکو گی ۔۔بہر حال میں سمیع با بو سے بات کر ونگا ۔۔۔دیکھتے ہیں کیا ہو سکتا ہے ۔۔آج کچھ دے بھی دیں تو کل دو سری فر مایئش نہیں آئے گی یہ کیا گا رنٹی ہے ؟ "انھوں نے تھکے تھکے انداز میں بات ختم کی اور  شیروانی اتار کر ٹانگ دی اور بستر پر لیٹ گئے ۔
" کیا ہوا با با جان ؟ کوئی مسئلہ ہے کیا ؟"
مجھے انکے بے وقت لیٹنے پر حیرت ہوئی ۔
"نہیں بٹیا ۔۔۔بس تھک گیا ہو ں ۔۔۔۔"
" مجھے نہیں بتا یئں گے ؟؟ " میں انکے بال سہلانے لگی انھوں نے امّی کے بعد اپنے دل کی بات کسی سے بھی کہنا چھو ڑ دی تھی ۔مجھے اس با ت کا بیحد احساس تھا کہ وہ اپنی کو ئی بھی تکلیف کبھی ہم میں سے کسی سے شیئر نہیں کرتے بس ۔۔۔خا مو ش ہو جاتے ہیں ۔
میں انکا سر دباتی رہی وہ بے خبر سو گئے ۔مجھے تجسس تھا شیروانی کی جیب سے ایک لفا فے کی جھلک دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا ۔۔۔
وہ خط تھا کہ ایک شعلہ تھا جو پو رے وجود میں پھیل کر مجھے خاکستر کر رہا تھا ۔ہو ش اڑ گئے تھے میرے ۔۔۔۔یہ ایک لمبی چو ڑی فہرست تھی سامان کی ۔۔جو کہ عاصم کی طر ف سے بھیجی گئی تھی ۔وہ تقریباً پچاس لاکھ کا سامان تھا جو کہ میرے جہیز میں مانگا گیا تھا ۔۔انکا کہنا تھا کہ   با با جان زمیندار رہ چکے ہیں زمینیں اور باغات کے مالک ہیں پھر اتنی سی رقم انکے لیئے کیا حیثیت رکھتی ہے ۔
میر ے دل کے آنگن میں کھلتا ہوا عا صم کے پیار کا نرم پو دا ایکدم ہی مر جھا گیا ۔۔۔۔وہ رات مجھ پر بہت بھاری گزری ۔
ہم لوگ صبح نا شتہ کر رہے تھے کہ سلیمن زور زور سے روتی ہوئی اندر آئی ۔۔۔
"یا اللہ خیر ۔۔۔۔۔" میرا  ہاتھ دل پر تھا۔
"خلیقن مر گئی بٹیا ۔۔۔۔۔وہ لوگ خلیقن کا مار ڈالن ۔۔۔۔۔" وہ تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی  باہر سے بہت سارے لو گوں کے بو لنے کی آوازیں آرہی تھیں ۔با با جان نا شتہ یو نہی چھو ڑ کر با ہر چلے گئے ۔ کئی عورتیں اندر آگئی تھیں سب سلیمن کو تسلّی دے رہی تھیں مگر وہ ہا تھو ں سے نکلی جا رہی تھی  اسکی حالت دیکھ کر میرا بھی برا حال تھا ،،ایک کہرام سا بر پا   تھا ۔۔۔۔
سنا کہ کل جب وہ اپنے گھر پہونچی تو وہ وہیں بیٹھا تھا ۔وہ اسے مارتا ہو ا گھر لے گیا جب گا ؤں والوں نے اسے روکا تو  بد تمیزی سے بو لا " میری بیوی ہے ۔۔۔جو       چا ہوں کروں ۔۔۔کہو تو ابھی طلاق دیکر یہں بیٹھا دوں۔؟  " اور گاؤں والے خا موش


 ہو گئے کہ وہ اس لفظ سے بہت ڈرتے ہیں ۔
صبح یہ خبر آئی کہ کھانا پکا تے ہو ئے اسٹو و پھٹ گیا ۔۔اور وہ جل کر مر گئی ۔۔۔یہ وہی اسٹوو ہے جو          وقتناً فوقتناً۔کم جہیز لانے والی بیٹیو ں کو جلا نے کے لیئے  پھٹتا ہے ۔
سارا دن ان لو گو ن کی دلجوئی میں گزرا  شام ڈھلے وہ سب اپنے گھر گئے ۔
 اسکی میّت آگئی تھی دفن کی تیّاری ہو رہی تھی  پو رے گا ؤں پر ہو کا عا لم تھا  ۔
رات ہو گئی تھی با با جان گھر کے اندر نہیں آئے تھے پتہ نہیں کیا معا ملات سلجھائے جا رہے تھے ۔
عا صم کا فو ن آگیا ۔
"کیسی ہو ۔۔۔۔۔؟؟"
"ہا ں ٹھیک ہو ں "
"طبیعت ٹھیک ہے ۔۔۔تمہا ری آواز کیسی ہو رہی ہے ؟"
" ہا ں با لکل ٹھیک ہو ں ۔۔۔تم سنا ؤ "
"دیکھو ۔۔۔۔وہ ۔۔ابّا نے کو ئی رجسٹری وغیرہ بھیجی ہے      با با جان کو ۔۔۔اب تم یہ سب دل پر مت لینا ۔۔کوئی ضروری نہیں ہے کہ ساری چیزیں ہو ں تم لوگ اپنے طور پر دیکھ لینا ۔۔۔جو بھی کمی بیشی ۔ہو گی وہ بعد میں ۔۔۔۔۔۔"
"ایک بات سنو عاصم " میں نے اسکی بات کاٹ دی
"ہا ں بو لو ۔۔۔۔"
" میں بس ایک بات کہنا چا ہتی ہوں "
  "ہا ں کہو  کہو "
" تمہیں پتہ ہے جب فقیر بار بار دروازے پر آئے تو کیا کہتے ہیں ؟ "
"وہا ٹ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟"وہ زور سے چیخا
"کہتے ہیں ۔۔۔۔با با معاف کرو ۔۔۔کو ئی اور دروازہ دیکھو "
میں نے  فون پٹخ دیا ۔
اور خلیقن کی موت پر پھو ٹ پھو ٹ کررونے لگی ۔
٭٭٭٭٭٭ 



Sunday, December 2, 2018


بے سائبان


 آآج پہلی بار یہ نہیں ہو ا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابکی تو جب سے سیتا گھر آئی ،اسکا یہی حال ہے ۔رات رات چیخ مار کر اٹھ جاتی ہے آنگن میں بھاگتی ہے کبھی چو کے میں جاکے چھپتی ہے اور کبھی زینہ کے نیچے دبکتی ہے ۔اسکی آواز میں ایسا درد ہوتا ہے کی سن لو تو رونا آئے ۔بڑی اّماں دو بار جا کر بھوسیلے سے اسے نکال کر لائی ہیں ۔بھو سے کے ڈھیر میں چھپی سیتا سبک سبک کر روتی جا ئے ۔۔۔۔۔بڑی امّا ں نے کِس کِس جتن سے بیا ہ کیا ۔۔اور اب دیکھو لیلا بھگوان کی۔۔۔۔۔
کرشنا نے ٹھنڈی سانس  بھر کے چو ڑیو ں کا ٹو کرا اٹھا لیا اور گلی میں نکل آئی "چو ڑیا ں لے لو چو ڑیا ں،رنگ بر نگی چو ڑیا ں ہر ی نیلی لال گلا بی  پیلی پیلی چو ڑیا ں "بولتے بولتے ایک بار پھر اسکا دل بے چین ہو گیا ۔پو رے محّلے میں ایک سیتا تھی جو سب سے زیا دہ شو ق سے چو ڑیا ن لیتی تھی ،چو ڑیو ں سے بھر ے بھرے ہاتھ سارے گاؤں میں چھنکا تی پھرتی اور ایک مہینہ پو را نہ ہو تا پھر ننگے ہا تھ لیئے ٹو کرے کے پا س بیٹھی ہو تی
" لا کر شنا ۔۔۔۔۔کو ئی اچھی سی چو ڑی نکال  کے دے " وہ جلدی جلدی سا رے ڈبّے کھو ل ڈالتی ۔مگر ابتو  کر شنا آواز بھی دے تو مڑ کر نہیں دیکھتی ۔اپنے ہی دھیا ن میں کھو ئی رہتی ہے ۔
وہ یہی سب سو چتی ہوئی گلی سے باہر نکل آئی کئی ننگ دھڑنگ بچّے کھلیا ن کے قریب  تالاب کے کے کنا رے کھیل رہے تھے ،کچھ تالاب میں کود کر ایک دوسرے پر پا نی اچھال رہے تھے ،کچھ عو رتیں  سر پر دھان کے گٹّھر لیئے چلی جا رہی تھین ۔کئی مر د عورتیں مو گری سنبھال چکے تھے ۔

"آج دھان پیٹا جیہئے ۔۔چلہیو کر سنا ؟؟"گلابو نے تالاب کے کو نے میں کو ڑا پھینکتے ہو ئے مڑ کر کر شنا کو دیکھا ۔
"ناہی آج نہ جابئے  گھر ما کو نو نہیں ہے روٹی کؤ بنائے "گلابو اپنا ٹو کرا لیکر دو سری طر ف مڑ گئی اسنے پھر چو ڑی کے لیئے آواز لگائی  مگر اسکی آواز با لکل خالی تھی ۔جیسے ٹین کے خالی ڈبّے لڑھک رہے ہو ں ۔وہ کھلے زینے سے ہو تی ہوئی سیتا کے گھر اتر گئی وہ روز ہی آجاتی تھی مگر سیتا کو تو جیسے کوئی فر ق ہی نہین پڑتا تھا ۔وہ تو بس پہلے دن کی طر ح خلاؤں میں دیکھے جاتی ۔
"کئے امّا ں ۔!سیتا رانی کو وید با بو کے  لئے چلیں ۔
؟'کر شنا نے سیتا کا سر ہلکے ہلکے دبا تے ہو ئے بڑی امّا ں سے پو چھا ۔
بڑی امّاں کو فکرو ں نے با لکل لا غر کر دیا تھا ،سر کے سفید جھّو اجیسے بال  چھو ٹی چھو ٹی بے چین آنکھیں ۔۔۔اور چہرے پر پڑی وقت کی دھول اور گہری لکیر وں نے اسے انسان سے جانور بنا دیا تھا ۔ وہ آگے کو جھک کر چلتی اور لیٹتے وقت  ایک گٹھری کی طر ح جھلنگا چا رپا ئی پر گر جاتی ۔
سیتا کو بیا ہ کر اسکی ساری فکریں ختم ہو گئی تھیں ایک اکیلی جا ن کے  پیٹ کو تو گا ؤ ں میں کو ئی نہ کوئی روٹی پا نی  دے ہی دیتا تھا  مگر ۔یہ جوا ن جہا ن پھر سے سر پر نا زل ہو گئی تھی  کیا جانے دکھیا پر کیا بپتا پڑی منھ سے تو کچھ پھو ٹتی ہی نہیں تھی ۔
 
کر شنا کے سر سہلانے پر اسنے آنکھین کھو ل کر دیکھا  آنکھو ں میں تیرتی بے یقینی بے  خوا بی اور چہرے پر پھیلے خوف نے اپنی پکّی سہیلی کو بہت کچھ بتا نے کی کو شش کی ۔
پر شا د کی بے وفائی بے رہمی  اور ظلم کی کہا نی اسکا رؤاں رؤا ں بیا ن کر رہا تھا سمجھنے کے لیئے بس ایک ہمدرد دل کی ضرو رت تھی ۔مگر ایک مجبو ری اور بے بسی تھی جس کی وجہ سے سب کی آنکھیں بند تھیں ،زبا ن بند تھی اور کھو ل کر کر تے بھی کیا ؟
جب سیتا بیاہ کر گئی تو پر شاد نے اسے بہت پیا ر دیا  وہ گڑیا جیسی سارے آنگن میں کدّکڑے لگاتی پھر تی  ساس نند بھی واری صد قے ہو تیں اور اسکے خو ش با ش چہرے کو دیکھ کر  پر شا د نہا ل ہو تا ۔
پھر ہو ا یہ کہ کچّا مکا ن پکّا بن گیا ۔چھو ٹا سا زینہ بنا کر اوپر  بڑا سا کمرہ ، صرف سیتا اور پر شاد کے لیئے بنا یا گیا ۔تب بھی سب ٹھیک رہا سب اسے بھا گوان ما نتے رہے  پر شا د کی چھو ٹی سی کرا نے کی دو کان بھی بڑی اچھی چل پڑی تھی ،اس نے دوکان بڑی  کر کے   پر شاد سپر اسٹور  کر لیا تھا ،  ایک لڑکا  بھی کام کے لیئے رکھ لیا تھا ۔دن بہ دن خو شیا ں آتی رہیں اور سیتا چہکتی رہی ۔
مصیبت تو تب آئی جب اسکا پکّا مکا ن دوسر ے  گا ؤں والوں کی نظر مین کھٹکنے لگا اور پھر دوکان پر گو ری چٹّی رمیا پر شاد سے ہنسی دل لگی کر نے آنے لگی اور اسی روز سے سا نو لی سی سیتا پر شا د کے جی سے اترنے لگی ۔
   
دوسرا بر س لگ گیا بچّہ نہ ہو نے کے کا رن امّا ں بھی اکھڑ ی اکھڑی  رہنے لگی ،نند بھی طعنے مارنے لگی۔اور پھر ایک اور غضب ہو ا ،جس دن وہ سوتے سوتے اٹھ کر کھڑکی  پر آئی اور آنگن میں پر شاد اور رمّیا کی کھسر پھسر سننے کے بعد بھاگتی ہو ئی زینے سے  اتری اور لڑ کھڑا تی ہوئی کئی سیڑھیا ں نیچے آگئی ۔گر تے ہی پا ؤں کی ہّڈی ٹو ٹ گئی  تبھی وہ اچا نک سب کے دل سے گر گئی ۔سیتا کو پکّا یقین تھا کہ سیڑھی پر تیل رمیا نے ہی ڈالا تھا مگر سنتا کو ن ؟ اب تو وہ اپا ہج اور رمّیا مالکن ۔
پھر جو کچھ ہو ا وہ سو چکر ہی اسکا جی گھبرا تا  ۔اُوپر کے کمرے  میں جا نا اسکے بس مین ہی کہا ں تھا ،بکر یو ں کے با ڑے میں چھپّر کے نیچے  بیٹھے بیٹھے سیتا  بو ڑھی ہو تی گئی  پکّے کمرے  کے بند دروا زوں کے پیچھے رمّیا کی چو ڑیا ں کھنکتی رہیں  پر شا د کی ہنسی مذاق کی آوازیں  سیتا کے کا نو ں میں پگھلا ہو ا سیسہ اتا رتی رہیں ۔
پیر کا زخم اب بر داشت سے باہر تھا ، کبھی کبھی زور زور سے  چلاّتی چیختی پر کوئی نہ سنتا ۔۔۔۔پھر ایک دن وہ ایسے ہی رو رہی تھی  کہ پر شا دکا دو ست  آکر اسکے برا بر بیٹھ گیا ۔" کا ہے سو ر مچا ئے ہو بھو جی ! کو ئو نہ سنہئے ۔اب ہم آئے گیئن ہے نا ۔اب چُپی سا دھو ۔" اسکے منھ سے آتی ہو ئی  گندی سی بد بو  نے سیتا کو ہلا کر رکھ دیا ۔
"بھوٗجی کا ہے پریسا ن ہو ت ہو ۔بتا ؤ کہا ں پیرا ہو ت ہے ؟؟؟؟"(کیو ں پر یشا ن ہو تی ہو بتا ؤ کہا ں درد ہے )اسنے اپنا مضبو ط  با لو ں سے بھرا ہا تھ  سیتا کی نا زک سی پنڈلی پر  رکھا اور وہا ں سیتا کی پکار سننے والا کوئی  نہیں تھا ۔پھر وہ گھڑی آئی  جب فیصلہ اسکو خود ہی لینا پڑا ۔
تبھی سے وہ امّا ں کی کٹیا میں آن پڑی ۔

   کرشنا نے اسکے بال سنوارے  چہرہ دُھلا یا دھول پسینے سے اٹی سا ڑی بدلوائی ۔پیر کا زخم ابھی پو ری طر ح ٹھیک نہیں ہوا تھا ہڈّی جڑ جانے کے بعد بھی چلتے چلتے لڑکھڑا جا تی تھی وہ ۔زخم پر جڑی بو ٹی کا لیپ بھی لگاتی تھی کر شنا ۔
گاؤں کے سبھی لو گو ں کا جام نگر والے آشرم اور وہا ں کے با با پر شو رام پر پو را بھرو سہ تھا وہ چھو ٹی مو ٹی بیما ری کا علاج تو مفت ہی  کر دیتے تھے کئی عو رتیں بچے وہا ں جا کر ٹھیک ہو چکے تھے ۔انکی دوا علاج آس پا س کے کئی گا ؤں میں مشہو ر تھا ۔صبح اندھیرے سے جا کر حا ضری لگا نا پڑ تی تب کہیں شا م تک نمبر آتا تھا ۔کئی مر یض تو جا کر وہیں آشرم میں پڑ جاتے یا تو ٹھیک ہو کر یا پھر مر کر ہی نکلتے پھر بھگوان نے جسکی جتنی لکھ دی اس سے زیا دہ با با جی کیسے بنا دیتے ؟؟؟
امّا ں سب کے کہنے پر تیا ر تو ہو گئی  مگر را ستہ لمبا تھا  راہ میں کئی جھا ڑ جھنکا ڑ ،ایسے میں کر شنا  کا جی نہ مانا وہ اپنی چو ڑیو ں کا ٹو کرا  گھر میں ڈال کر انکے ساتھ ہو لی ۔
" ہم ہو چلبئے بڑی امّا ں "اس نے آدھے را ستے سے انھیں جا لیا ۔
"ہا ں ری کر سنا تو چل ایکا لیئ کے ہم سے تو اب چلا نا ہی جات "(کرشنا تو اسکو لیکر جا ہم سے اب چلا نہیں جا تا )امّاں اسکے آنے سے بےفکر ہو کر وہیں پڑے پتّھر پر بیٹھ گئی ۔
کرشنا سیتا کا ہاتھ تھام کر آہستہ آہستہ چلنے لگی ۔
آشرم کا ادھا کائی لگا کلس دور سے چمک رہا تھا آس پا س نیم اور گو لر کے پیڑ کھڑے تھے  آشرم کے پیچھے ایک کو ٹھری میں با با جی کچھ بچوّ ں کو شکشا دے رہے تھے ۔
پہلے دونوں نے آشرم پر ما تھا ٹیکا ،کر شنا نے ہا تھ جو ڑ کر بھگوا ن سے سیتا کا بھلا ما نگا ۔ آشرم کے ایک چیلے نے آکر بپتا پو چھی اور اندر چلا گیا ۔وہ دونو ں پسینہ پو چھتی ہو ئی نیم کے نیچے بیٹھ گئیں ۔کچھ دور ہینڈ پمپ لگا دیکھ کر کر شنا اٹھی اور جا کر پا نی پیا ،پا س پڑی ایک مٹّی کی ہنڈیا میں سیتا کے لئے پا نی بھر لائی ۔اپنی دھو تی کے کو نے میں بندھے مر مرے اور چنے تھو ڑے خود لیکر با قی سیتا کو دے دیئے ۔
دھو پ کی تپش اب کم ہو نے لگی تھی ،ٹھنڈی ہو ا چلنا شرو ع ہو گئی دوسری طرف لگے جا من کے پتّے تا لیا ں بجا رہے تھے وہین تا لاب میں کچھ بھو ری اور سفید بطخیں  تیر رہی تھیں آس پا س گا ؤ ں کے بچےّ کھیل رہے تھے عو رتیں میلی میلی ساریا ں با ندھے آ جا رہی تھیں ۔
شام اور بڑھ آئی تو وہ چیلا پھر نمو دار ہوا ۔
"چلو با با جی بلا تے ہیں "
سیتا کر شنا کا ہا تھ تھام کر بڑی مشکل سے کھڑی ہو ئی  مگر چیلے نے اسے روک دیا ۔
" روگی کون ہے ؟؟"
" یہ ہے بھیا ۔سیتا بہن ۔۔"
" تو پھر تم یہیں بیٹھو ہم دکھلا کر لاتے ہیں۔۔"وہ سیتا کو لیکر آگے بڑھ گیا ۔
لمبا سا چندن کا ٹیکہ لگائے سفید وستر ،لکڑی کی کھڑا ویں پہنے  با با جی نے اپنی سر خ سر خ آنکھیں اٹھا کر  سیتا کو دیکھا ۔وہ بھد سے زمین پر بٹھ گئی اور ہا تھ جو ڑ کر آنکھین بند کر لیں ۔
" بو لو کیا کشٹ ہے ۔؟؟"ان کی بھا ری آواز گو نجی سیتا نے ڈرتے ڈرتے سر اٹھا یا مگر ہو نٹو ں سے آواز نہ پھو ٹی ۔
"ہوں۔۔ں۔" با با جی نے ہنکا را بھرا ۔
"سو رگ بھگوا ن کا ہے نر ک بھگوا ن کا    ۔پیرا بھگوا ن کی ہے سکھ بھگوا ن کا " انھو ں نے چلتے چلتے کو ٹھری کا دروا زہ بھیڑ دیا ۔
"سب ما یا بھگوا ن کی ہے  سب لیلا بھگوا ن کی " انھو ں نے کنڈی چڑھا کر اسمیں لو ہے کی سلاخ  گا ڑ دی ۔
"بھگوان مہا ن ہے ،دکھ درد اسی کی دین ہے ۔پچھلے جنم کا  بھو گ ہے ۔"
بھبھو تی سے بھرا ہاتھ سیتا کے ما تھے پر مل دیا
" بھگوان ہے تو  جگ ہے جگ والے ہیں ۔اسکے آگے سب لا چا ر ۔" انھوں نے دو نو ں  ہتھیلیا ں سیتا کے کا ند ھو ں پر جما دیں ۔اور باہر نیم کے نیچے کر شنا رات گئے تک راہ تکتی رہی ۔



شانتی
جب سے اسِ باڈر پر ڈیو ٹی لگی تھی  وہ بہت اُداس تھا ۔اڑتی ہوئی گرم ریت ،جا بجا سخت ٹیلے ،اور گرم ہواؤں کی تپش ۔
اسےُ اپنا ٹھنڈا گھر ،گرم چولھا ، ہنستی مسکراتی بیوی اور  کھلکھلاتے بچےٗ بہت یاد آتے تھے ۔وہ بس جیسے دن کاٹ رہا تھا ۔کبھی کبھی وہ منھ چھپا کر رویا بھی ،مگر ڈیوٹی تو ڈیوٹی ہے ۔
دن بھر رائیفل لیکر  باڈر پر کھڑا رہنا آسان نہیں تھا جب چلچلاتی دھوپ میں ریت کے بگولے اٹھتے تو اسُ کے پیر ریت کی تپش سے جھلس نے لگتے ۔مگر پھر بھی وہ یوں ہی کھڑا رہتا ۔اس کے جیسے اور بھی کئی فوجی اسِ باڈر پر موجود تھے ۔ان کے چہرے سیاہ اور جذبات سے عاری ہوگئے تھے ۔
پہلی بار اسکی ڈیوٹی  ریتیلے میدان میں لگی تھی ۔۔وہ بہت اُداس اور پریشان تھا یہاں کی آب وہوا اسے موافق نہیں آرہی تھی ۔۔دن بھر شدید گر می میں رائفل لئے باڈر کے کانٹوں لگے جال کے پاس کھڑا رہنا پڑتا تھا ۔۔جہاں تیز دھوپ میں ریت چنگاریوں کی طرح اُڑتی ۔
۔اسکے ہاتھ پیر سخت دھوپ میں سیاہ ہوتے جارہے تھے ۔اسکے قدم ریتیلی تپش سے  جھلس جاتے مگر باقی  فوجیوں کی طرح اسے بھی یونہی الرٹ رہنا پڑتا تھا ۔
کئی بار وہ منھ چھپا کر رو یا بھی ،مگر اسکے ساتھی اسے اس طرح روتے ہوئے  دیکھتے تو انکے چہروں کی ُدرشتی بڑھ جاتی ۔
دھیرے دھیرے وہ اس ماحول کا عادی ہونے لگا ۔اس کا چہرہ بھی سیاہ ہونے لگا ۔اس  کے انداز میں سختی سی در آئی تھی ۔
سائیں واری ،پیر کمال کے گاؤں کی دھول اڑاتی زمیں ،ریت پھانکتے دن اور سرد راتیں ،اس کی آنکھوں کے خواب کہیں جاسوئے تھے ۔وہ تو فوجی تھا اس کو خواب دیکھنے کا حق بھی کہاں تھا ۔
وہ شام کا وقت تھا جب وہ باڈر کے قریب کانٹوں دار جال کے پاس ۔۔خار دار جھاڑیوں میں چھپا اپنی ڈیوٹی پر تھا ،اسنے دیکھا ۔باڈر کے دوسری طرف گاؤں سے کچھ عورتیں رنگ برنگے کپڑے پہنے ہوئے اسی طرف چلی آرہی تھیں وہ الرٹ ہوگیا ۔
وہ سب  کچھ ڈری ڈری سی آنکھوں میں وحشت لئے ادھر ہی دہکھتی چلی آرہی تھیں ۔شاید گرمی کی وجہ سے ادھر گاؤں میں بھی کوئیں کا پانی خشک ہوچکا تھا  اور  وہ سب گاؤں سے کچھ دور باڈر کے قریب کے کنوئیں  پر مجبوراً آئی تھیں ۔۔۔وہ سب جلدی جلدی کنوئیں کی جگت پر اپنے گھڑے رکھ کر ڈول سے پانی کھینچ کھینچ کر گھڑے بھرتی رہیں اور پھر سب ایک ساتھ تقریباً بھاگتی ہوئی وہاں سے چلی گئیں ۔
اب وہاں سّنا ٹا تھا مگر اسکی زندگی میں ایک رنگ سا بکھر گیا تھا ،،،شاید یہ پھر کل یہاں پانی لینے آئیں ۔۔اس نے اس یکسا نیت سے اکتاُ کر سوچا ۔اور کھُر دُھرے بستر پر کروٹ بدلی ۔آج رات اسے نیند بھی سکون کی آگئی تھی۔
صبح سویرے جب وہ اٹھ کر جنگل کی طرف چلا تو اس نے کنوئیں پر انُ ہی عورتوں کو دیکھا جو بے خوف سی ہوکر پانی لے رہی تھیں آپس میں ہنستی باتیں کرتی ہو ئی  ،ایک نے رسیّ سے بالٹی باند ھ کر کنوئین میں پھینکی ۔چھپاک کی آواز یہاں تک سنائی دی ۔۔وہ وہیں رکُ کر ان عورتوں کی کاروائی دیکھنے لگا ۔۔۔کسی نے گھڑا ہاتھ میں کمر پر اور کسی نے سر پر رکھا اور پانی بھر کے ہنستی باتیں کرتی واپس گاؤں کی جانب چلی گئیں ۔
اب اس  کو یہ نیا مشغلہ مل گیا تھا ۔۔وہ عورتیں جب پانی لینے آتیں اور ہنستی کھلکھلا تی باتیں کرتی گھڑوں کو سروں پر سجاتیں  تو بے اختیار اسُ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آجاتی ۔جینے کے لیئے کچھ تو نیا ہو ۔۔۔۔
اب اکثر عورتیں قافلے کی صورت  آتیں اور ایک نئی رسّی سے چمچماتی  بالٹی چھپاک سے کنوئیں میں ڈالتیں وہ بات بات پر کھلکھلا کر ہنستی تھیں ۔انکے کپڑے گہرے رنگوں کے لنہگے اور بڑے بڑے روبٹے ہوتے وہ جمپر بھی پہنتیں مگر اپنے آپ کو بڑے سے چادر نما روبٹے میں چھپائے رہتیں ،جس پر بڑے بڑے رنگ برنگے پھول کڑھے ہوتے اور درمیان میں شیشے چمکتے رہتے ۔وہ اکثر باڈر کے تار وں کے پاس آجاتا اور مہویت سے ان کو دیکھتا رہتا ۔ان کے روبٹّوں پر لگے شیشے دھوپ میں کئی رنگ سجا دیتے تھے ۔
اب کبھی کبھی ان میں دو یا تین عورتیں بھی آنے لگیں تھیں شاید انکو باڈر کا ڈر کم ہونے لگا تھا ۔اسی طرح ایک دن صرف دو عورتیں پانی لینے  آئیں ۔۔۔ایک پانی بھر رہی تھی دوسری اس سے مسلسل بات کرتی جارہی تھی ۔پہلی والی پانی بھر چکی تو اپنا گھڑا سر پر رکھ کر آگے بڑھی دوسری نے آواز دی ۔۔۔
"شانتی" اور اسکی چادر سر سے سرک گئی ۔۔گہرے سرخ رنگ کی چادر پر جا بجا آئینہ چمک رہے تھے اسکے گہرے سیاہ بالوں کی چوٹی سامنے آگئی اس نے گھبرا کر تاروں کے جال کی طرف نگاہ کی ۔۔۔۔اسُ کی آنکھیں صارم کی آنکھوں سے ملیں ۔۔گہرا کاجل لگائے ہوئے سیاہ آنکھیں شرا رت سے بھر پور تھیں ۔صارم ایک لمحے کے لئے کھو سا گیا ۔دوسری عورت بھی پانی بھر چکی تھی دونوں تیز قدموں سے تقریباً بھاگتی ہوئی دور چلی گئیں اور وہ سحر ذدہ ساوہیں کھڑا رہ گیا ۔
اسُ دن اسکو شدّت سے اپنے بیوی بچّے یاد آئے ،اپنا گھر اپنے لوگ  ۔پتہ نہیں کب چھّٹی ملے گی اور کب ان سب سے ملے گا ۔۔ان سب کو یاد کرتے ہوئے اسیُ سخت زمین پر سو گیا ۔۔
دوسرے دن صبح چار بجتے ہی سب فوجی مارچ کے لئے اٹھ گئے ۔پہلے جماعت سے نماز ادا ہوئی اسکے بعد سب ایکسر سائیز کرنے لگے ۔کچھ باد ل سے چھا گئے تھے فضا میں پھیلی  خنُکی بہت بھلی لگ رہی تھی ۔اسکا دل بے وجہ ہی خوش تھا ۔
اسُ نے ایک بار کنوئیں پر نظر ڈالی ،جگت خالی تھی ۔مگر کچھ ہی میں میں عورتیں آتی ہوئی دکھائی دیں ۔
درمیان میں چلنے والی عورت کا سرخ لباس اسےُ کل کی خوبصورت آنکھیں یاد دلا گیا ۔۔
"شانتی " اسُ نے زیر ِ لب دہرا یا
شام ہوتے ہوتے کچھ آفیسرز کی گاڑیاں آکر رکئیں کافی دیر اندر کمرے میں میٹنگ ہوتی رہی کئی بار چائے بن کر اندر گئی ۔رات ہونے سے پہلے وہ سب لوگ لمبی گاڑیو ں میں بیٹھ کر واپس چلے گئے ۔
اسُ نے دیکھا سینیرز کے پتھریلے چہرے کھنچے سے تھے ان پر تناؤ صاف نظر آرہا تھا ۔
رات اور آگے بڑھ آئی تھی جب اس کو یہ حکم دیا گیا جس کو سنتے ہی وہ کانپ گیا ۔
"مگر جناب ۔۔۔! انکی کیا غلطی ؟"
"یہ اوپر والوں کا حکم ہے ہم کو ماننا پڑے گا ،تم اکیلے نہیں ہو ہم سب تمہارے ساتھ ہیں ۔
"مگر جناب ۔۔۔انکی خطا کیا ہے ؟
"دشمن ملک کے لوگ ہیں بس یہی خطا کافی ہے ۔صفا یا تو کر نا پڑے گا "
اور اسُ رات دیر تک لونگے والا گاؤں میں بم باری ہوتی رہی ،عورتوں بچوّں کی چیخنے چلانے کی آوازیں اس ُ کے کلیجے پر تیر کی طرح لگ رہی تھیں ۔سارا گاؤں جل رہا تھا ،گوشت جلنے کی  بو،بلکنے کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھی اور یہ سب بےحس بنے خاموش بیٹھے تھے ۔صبح ہوتے ہوتے اُدھر سناّ ٹا چھا گیا ۔۔۔بس کبھی کبھی ایک تیز چیخ سنائی دیتی ،۔۔جیپ کی گڑ گڑا ہٹ ۔۔وہاں فوجیں اپنے لوگوں کو میڈیکل ایڈ کے لئے لے جارہی تھیں ۔۔
اب گاؤں سے کوئی آواز نہیں تھی ۔کوئی بچا ہی نہیں تھا شاید ۔۔۔
ہر طرف ایک ہولناک سناّ ٹا چھا یا ہوا تھا ۔ریت کے بگولوں میں راکھ اور خون کی بو شامل تھی ۔خشک جھا ڑیا ں جل کر خاک ہوچکی تھیں کنوئیں کی جگت وپران پڑی تھی ۔کبھی کبھی کوئی جلا ہوا کپڑا  کنوئیں کی جانب آنکلتا  ۔۔پھر دور چلا جاتا ،صارم کی نگاہیں وہیں  لگی رہتیں ۔۔
ایک ہو کا عالم تھا ۔
صارم کے وجود میں گہری اُداسی اور بے چینی اسےُ تڑپا رہی تھی ۔اسُ نے چھّٹئ کی درخواست اپنے آفیسرکوبھیج دی تھی ۔وہ سر نیو ڑھائے بیٹھا رہتا کبھی ریت پر لکیریں کھینچتا کبھی سب کچھ مٹا دیتا  کھا نا پینا سب کم ہوگیا تھا  ۔ایک سوگواری سی اسےُ اپنی لپیٹ میں لیئے رہتی ۔وہ اندر سے بیمار ہوگیا تھا ۔اس کو بھنے ہوئے گوشت سے بد بو آتی وہ الٹیاں کر تا رہتا ۔باقی فوجی اسُ پر پھپتیاں کس تے
"ابے تجھے فوج میں کس نے بھیج دیا ۔۔۔؟ لڑکیوں کی طرح روتا رہتا ہے ہمیشہ ۔۔"
کئی دن گزر گئے وہ باڈر کے پاس لگے تاروں سے دور تک ویرانی دیکھتا رہتا ۔۔گاؤں کے جلے ہوئے ملبے پر اب ریت پڑ چکی تھی ۔
ایک دن اچانک دور سے ایک ہیولا سا آتا نظر آیا ۔
اسُ کی آنکھیں تاروں سے چپک سی گئیں ۔وہ سایہ  کنوئیں کے قریب آرہا تھا ۔وہ کوئی عورت تھی جس کی کمر پر اُپر سے ٹو ٹا ہوا ایک گھڑا تھا ۔وہ لڑکھڑا تی ہوئی  قریب آگئی تھی ۔سفید ملگجی سی ساری ا س     کے سر پر منڈھی ہوئی تھی ۔وہ لپک کر اسیُ جانب بھاگا جہاں سے کنواں ذیادہ قریب نظر آتا تھا ۔
اسُ عورت نے کچھ ٹوٹی کچھ جلی سی رسی کا سرا وہاں پڑی پچکی سی بالٹی میں باندھا اور اسےُ کنویں میں ڈالا ۔۔۔پانی بھر کے وہ وہیں بیٹھ گئی اور گھونٹ گھونٹ پانی پیتی رہی ۔
بڑی مشکل سے کئی بار میں وہ گھڑا بھر کے وہاں سے جانے کے لئے اٹھی ۔اسُ کے پیر لڑ کھڑا رہے تھے ۔اچانک تیز ہوا نے اسُ کا پلوّ سر سے اڑا دیا
"شانتی ی ۔۔۔۔ی ۔۔ی " اسُ کے منھ سے چیخ کی صورت نکلا اور عورت نے مڑ کر اس کی جانب نگاہ کی
اسُ عورت کی آنکھوں میں نہ کاجل تھا ،نہ شرارت ،نہ ہنسی ،نہ شکایت ۔
اسُ کی آنکھیں بالکل خالی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
 



ایل ۔او ۔سی
پہلی بار اسکی ڈیوٹی  ریتیلے میدان میں لگی تھی ۔۔وہ بہت اُداس اور پریشان تھا یہاں کی آب وہوا اسے موفق نہیں آرہی تھی ۔۔دن بھر شدید گر می میں رائفل لئے باڈر کے کانٹوں لگے جال کے پاس کھڑا رہنا پڑتا تھا ۔۔جہاں تیز دھوپ مین ریت چنگاریوں کی طرح اڑتی ۔۔اسکے ہاتھ پیر سخت دھوپ میں سیاہ ہوتے جارہے تھے ۔اسکے قدم ریتیلی تپش سے  جھلس جاتے مگر باقی  فوجیوں کی طرح اسے بھی یونہی الرٹ رہنا پڑتا تھا ۔
کئی بار وہ منھ چھپا کر رو یا بھی ،مگر اسکے ساتھی اسے اس طرح روتے ہوئے  دیکھتے تو انکے چہروں کی درشتی بڑھ جاتی ۔
دھیرے دھیرے وہ اس ماحول کا عادی ہونے لگا ۔اس کا چہرہ بھی سیاہ ہونے لگا ۔اس  کے انداز میں سختی سی در آئی تھی ۔
وہ شام کا وقت تھا جب وہ باڈر کے قریب کانٹوں دار جال کے پاس ۔۔خار دار جھاڑیوں میں چھپا اپنی ڈیوٹی پر تھا ،اسنے دیکھا ۔باڈر کے دوسری طرف گاؤں سے کچھ عورتیں رنگ برنگے کپڑے پہنے ہوئے اسی طرف چلی آرہی تھیں وہ الرٹ ہوگیا ۔۔۔وہ سب آپس میں ہنستی باتیں کرتی جال سے کچھ دور کوئیں کے جانب چلی گئیں ۔ایک نے رسیّ سے بالٹی باند ھ کر کوئین میں پھینکا ۔چھپاک کی آواز یہاں تک سنائی دی ۔۔وہ وہیں رکُ کر ان عورتوں کی کاروائی دیکھنے لگا ۔۔شاید گا ؤں کے اندر والے کوئیں میں پانی  نہ رہا ہوگا جو وہ سب اتنی دور پانی بھرنے آئی تھیں ۔۔کسی نے گھڑا ہاتھ میں کمر پر اور کسی نے سر پر رکھا اور پانی بھر کے ہنستی باتیں کرتی واپس گاؤں کی جانب چلی گئیں ۔
اب اجمل کو یہ نیا مشغلہ مل گیا تھا ۔۔وہ عورتیں جب پانی لینے آتیں اور ہنستی کھلکھلا تی باتیں کرتی گھڑوں کو سروں پر سجاتیں تو تو بے اختیار اسُ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آجاتی



امی 
 کو اپنی سلائی مشین اس قدر عزیز تھی کہ ہم سب اس مشین سے خار کھانے لگے تھے
جب دیکھو  اس پر جھکی ہیں کھرُ کھرُ کی آواز سے گھر گونج رہا ہے ۔   یہ آوز کسی کسی وقت تو ذہن پر پتھر کی طرح لگتی تھی حالانکہ اسی مشین سے امی نے ہمارے یونیفارم سی کر ہمیں پنہائے تھے ،گھر کے ہر بستر ہر تکیہ پر اسی مشین  نے گلاب کھلائے تھے ۔۔پورے گھر  چادر یں پردےاسی مشین کا مرہون ِ مِنت تھے مگر اب ہم کو یہ کھٹکنے لگی تھی ۔ 
امی .  !  طرح طرح کی سلائی مشینیں آگئی ہیں بازار میں اب اسکو چھوڑ دیجئے دے دیجئے کسی کو  ۔  ۔
ھا ۔۔آ۔   مگر امی تو امی تھیں ایسی آنکھیں دِکھاتیں کہ ہم سہم جاتے پھر وہ اپنی نرم اور مدھم آواز میں اس مشین کی تاریخ اور خوبیاں گنوا نے لگتیں ۔۔
ہمارے ابا کو ئی بہت امیر آدمی نہیں تھے بیٹا! مگر ایماندار تھے ۔ میرے جہیزکے سامان میں اس مشین کا اضافہ انکے کندھوں کا بوجھ بن گیا تھا جب  میری اماں، تمہاری نانی نے کہا کہ بٹیا کو سینے پرونے کا شوق ہے ایک سلائی مشین بھی دے دیتے .
  توبس اّبا حیران اور پریشان آنکھوں سے اماں کو دیکھنے لگے ۔۔ اماں خاموشی  سے اٹھیں اور بکس سے اپنا سچے کام کا جامدانی کا دوّپٹہ نکال لائیں۔ بولیں .  . " بیٹا تو ہے نہیں . 
  سوچا تھااسِی کو اڑاھا دونگی مگر اِسکی سسرال سے جو چم چم کر تا روبٹہ آیا ہے اسپر یہ بے مول لگے گا ۔

ویسے ۔۔۔۔!
انھوں نے آہ بھری ۔
  سب سچا کام ہے سونے چاندی کے تار ہیں مگر رکّھے رکّھے بے وَقت ہوگیا اسکو لے جاو  دیکھو کچھ مل جائے تو ۔  
ابا بہت دیر سر جھائے بیٹھے رہے  یہ احساس ایسا تھا جو کمرے میں مانجھے بیٹھی میں کانپ رہی تھی ۔!مگر بڑوں کے سامنے بولنے کی جراءت نہیں تھی
پھر یہ سلائی مشین آئی اور تمہاری نانی  اماں کا بہت پیارا کاسنی جوڑا آیا  وہ دوپٹہ ۔۔۔۔امی  نے آنکھیں پونچھیں 
.  . میری آنکھوں میں اب بھی جگر جگر کر تا ہے ۔ جب اس مشین پر کچھ سیتی ہوں ۔ .  یہ میرے غریب اّبا اماں کی نشانی اب تک میرے پاس ہے .
  پچاس برس  کی امی  اپنے آپ کو ایکدم بوڑھا کئیے دے رہی تھی ہم انکے غم نہیں سمجھتے تھے مگر انکو خوشی دینے کی ہر لمحہ کوشش کرتے ۔

اس بار یہ پلان بنا کہ امی کو نئی سلائی مشین دی جائے مگر انکو راضی کون کرے . ؟  بہت بڑا مسئلہ تھا ہم انکے پاس بیٹھ کر آن لائین شاپنگ کی سائیٹ کھول لیتے انکو بھی دیکھاتے دیکھئے امی یہ لیٹسٹ سلائی  مشین آئی  ہے دھا گہ بھی آٹومیٹک پڑجاتا ہے آواز بھی نہیں آتی ا ور ۔ .  ہم آگے کچھ کہتے امّی نے گھور کر ہمیں دیکھتیں ۔  ۔ ۔
تم لوگوں کی مشین کی آواز سے مسئلہ ہے  ؟ میں یہاں سے ہٹا کر اسٹور میں رکھ لوں گی تم لوگ فکر نہ کرو ۔وہ خفا ہوجاتیں اور ہم اداس
ارے نہیں امی آپکے ہاتھ ُدکھ جاتے ہیں  
آنکھوں پر بھی زور پڑتا ہے ہم تو آپکی آسانی کے لئیے ۔۔  ۔ ہمارے کپڑے تو درزی کے پاس جاتے ہیں ۔آپ گھر کی چیزیں سیتی ہیں نئی مشین میں ڈیزائینگ ۔  ۔  ۔ ہمارا جملہ ادھورا رہ جاتا ۔

بیٹا میری زندگی کا بھی تو کوئی مصرف ہو ۔گھر کے کام کاج تم لوگ کر لیتی ہو ۔ پھر اگر میں اپناشوق۔  ۔ وہ آنکھیں پوچھنے لگتیں ہماری سٹی گم ہوجاتی ۔ان سے لپٹ جاتے بات آئی گئی ہوجاتی ۔
آپا نے ایک دن ان کو ایک خوب صورت مشین کی  تصویر دکھائی امی یہ دیکھئے اس میں کئی سہولتیں ہیں ۔
بس کرو بھئی میری مشین پرانے وقتوں کی سب سے عمدہ برانڈ کی سنگر کی ہے ۔اماں جھک کرسوئی میں  دھاگہ ڈالتے ہوئے مسکرائیں 
یہ لیجئے جناب ۔  ۔  ۔ سنگر کی سائٹ بھی ہے آپ دیکھئے تو ۔۔
آپ ایک بار دیکھئیے یہ آپ کی ہوئی  ۔  ۔  ۔ ہم شوخ ہوئے ۔
نہیں چاہئیے مجھے ۔ امی کی آنکھیں پھر  بھر آئیں ۔وہ اٹھ کر آنگن میں چلی گئیں اور اپنے شوق سے لگائے ہوئے پودوں میں پانی دینے لگیں ۔
ہم سناٹے میں گھرے بیٹھے رہے ۔
کچھ اور وقت نکل گیا ۔آپااپنی سسرال سے آئی ہوئی تھیں ۔ ایک ننھے مہمان کی آمد آمد تھی ۔اماں سر درد کی شکایت میں بھی طرح طرح کی چیزیں آپا کے لئیے بناتی رہتیں ۔اب سلائی کم کرتی تھیں کبھی چھوٹا سا موزہ کبھی ننھے گدے تکیے ہاتھ سے  سیتی رہتیں ۔۔ہم تینوں بہنوں نے یہ پلان بنایا کہ مشین منگا کر امی کو سر پرائیز دیں گے ۔جب اسکی آسانیاں دیکھیں گی تو خوش ہوجائیں گی ۔
جس دن مشین ڈیلور ہونے والی تھی ہم گھر سے نکل گئے آپا اپنی ساس سے ملنے چلی گئیں ۔ہم کو معموم تھا امی اکیلی ہی گھر میں ہوں گی ۔
دوپہر کو کیا ہوا ہم کو کچھ پتہ نہیں شام کو گھر آئے

تو امی چادر اوڑھے دالان میں پڑے کاوچ ہر بےسدھ لیٹی تھیں ۔چھو کر دیکھا ماتھا گرم تھا ۔
کیا ہوا امی کیسی طبیعت ہے ؟ فون کر دیتیں ہم جلدی آجاتے کالج سے ۔انکا چہرہ دیکھا آنسوؤں سے تر تھا  ۔  ۔
اللہ میری امی کیا ہوا سب خیریت تو ہے ؟ ہم بری طرح ڈر گئے شازی اور میں رونے لگے نہ جانے کیا ہوا  ۔  ۔پھر وہ اٹھ کر بیٹھ گئیں اور ہمکو جھٹکے سے اپنے پاس سے ہٹا دیا
تم لوگوں کو پتہ ہے مجھے کتنی شدید خواہش تھی اس آٹومیٹک مشین کی ۔  ۔ کئی بار پیسے جوڑے مگر کبھی بجلی کے بل کبھی تم سب کی کاپی کتابیں ۔کبھی  گھر کے اور تمام خرچے منھ پحاڑے کھڑے رہتے تھے ۔میری خواہش ان سب کے سامنے دم توڑ دیتی تھی ۔۔میری خواہش شدید سے شدید تر ہوگئی تھی شوق تھا ،عمر تھی ۔
 وہ اٹھیں اپنے کمرے کی الماری سے ایک کاپی نکال لائیں  اسمیں ہر پیج پر سوئینگ مشین کی تصویریں چپکی ہوئی تھیں ۔ اچھی کمپنی کی عمدہ مشینیں جن  کے اشتہار رسالوں اور اخبار سے کاٹ کر جمع کئے تھے امی نے ۔

اب تم لو گوں نے منگا کر زبردستی دی ہے جب نہ شوق ہے نہ آنکھوں میں روشنی ۔  ۔ تم سب بڑے ہوگئے ہو  ۔درزی کے سلے یا ریڈی میڈ سوٹ پہنتی ہو ۔بچوں کے برانڈیڈ کپڑے آتے ہیں   ۔ کس کی فراک سیوں کس کا بستہ ٹھیک کروں ۔ امی رونے لگیں ہم سب ان سے لپٹ کر رونے لگے
واپس کر دیں گے  مشین  امیّ! نہ روئیے ۔اللہ کے واسطے ہم کو معاف کر دیجئے ۔ اب بغیر آپکی اجازت کچھ نہیں منگائیں گے امی پلیز چپ ہوجائیے ۔  ۔ نہ روئیے پیاری امی ۔  ۔
شازی منھ دھلا کر لائی میں چائے بنا لائی ہم سب اپنے خیالوں میں گم اداس بیٹھے تھے ایک غمناک سی اداسی چھاگئی تھی  کسی نے اس سلائی مشین کے ڈبے کی طرف دیکھا تک نہیں جو شر مندہ سا  دالان کے کونے میں سر نیوڑھائے اداس بیٹھا تھا ۔
اچانک فون کی تیز گھنٹی کی آواز نے سننا ٹا توڑ دیا ۔شازی نے فون اٹھا یا اور اچانک زور سے بولی ۔ کس اسپتال میں ؟؟ہم سب گھبرا کر کھڑے ہوگئے 

یا اللہ خیر  ۔ امی کے منھ سے بے ساختہ نکلا شازی فون رکھ کر دوڑ کر امی سے لپٹ گئی ۔
امی مبارک ہو آپا کو بیٹا ہوا ہے  ۔  ۔
ہم سب کچھ بھول گئے خوشیاں دل میں رقص کر رہی تھیں ۔۔۔ہم ایک دوسرے سے لپٹ کر بیک وقت ہنس بھی رہے تھے  رو بھی رہے تھے ۔۔۔  ۔
دلوں میں سکون در آیا  ۔ اب اسپتال جانے کی تیاری تھی  ۔
دو دن بعد ہم آپا کو اپنے گھر لے آئے  ایک چہل پہل ایک خوشی کی لہر سی دوڑ گئی تھی سارے گھر میں ۔ آج منّے کی چھّٹی تھی سب پرُ جوش تھے کچن میں پکوان اور دالان میں تخت پر پھول سجے تھے آپا نہال سی منے کو لئیے بیٹھی تھیں ۔ہم دونوں بہنیں کچن میں مصروف تھے تب امی ہمارے پاس آئیں
جی امی کچھ چاہئیے ؟
ہاں ۔۔ یہ بتاو وہ ۔ نئی مشین تم کو چلانی آتی  ہے ؟ 
۔ زرا کھولو تو منے کا نیا کرتا بھی تو سینا ہے ۔  ۔ انکی آنکھوں میں دبا دبا جوش اور کچھ آنسو تھے مگر مسکرا رہی تھیں ۔  ۔
  



وہ میرے قریب بہت قریب اسٹول پر بیٹھی تھی اسُ نے اپنے نحیف ہاتھوں سے میرا ہاتھ تھا ما ہوا تھا  اور ان ہاتھوں پر اپنا سر ٹکا لیا تھا ،جہاں سوکھے بے رونق بال کہیں کہیں سے سفید ہورہے تھے وہ کچھ نہیں بول رہی تھی کچھ نہیں سن رہی تھی بس اسکی چپُ میں ہزاروں سسکیاں تھیں وہ ایک واحد ہستی تھی  جو میری حالت سے مایوس نہیں تھی اور اسکا اعتماد میرے جسم میں زندگی بنکر رواں تھا ۔
اسُ دن
پتہ  نہیں کیسے اسٹیرنگ وہیل پر ہاتھ لرزے اور سامنے آتی ہوئی کار نگا ہوں سے اوجھل ہوگئی ایک زور دار دھماکے کی آواز پھر اندھیرا ۔۔۔گہرا اندھیرا چھاگیا ۔۔۔
پتہ نہیں کتنے دن یا کتنے گھنٹے بیتے ۔۔ہاسپٹل کے بستر پر سیدھا لیٹا ہوا تھا نہ جانے کون کون سی نلکیاں بازوؤں اور چہرے پر لگی تھیں ۔۔کچھ غُنودگی کی سی کیفیت میں میری انگلیوں پر ایک نرم سا روبٹہ سانس لینے لگا ۔۔اس روبٹہ  کی ایک آواز ، ایک بے بس اور بے حد بے چین آوازمیری سماعت کو تڑپانے لگی ۔
 
۔۔بیٹا ۔۔۔لوٹ آؤ میں نہ جی سکوں گی ۔۔۔نہ رہ سکوں گی تیرے بغیر ۔۔۔کیا ہوگا میرا ۔۔۔جب تک تو گھر نہیں لوٹ آتا ہے میرے گلے سے کھا نا نہیں اتر تا ۔۔اب کیا کروں گی ۔۔یہاں تو رکنے کی بھی اجازت نہیں میرے بچّے ہائے ۔۔تجھے کیا ہوگیا ۔۔۔"روبٹے کا لمس کانپ رہا تھا
  ۔ ۔دواؤں کی اتنی ساری بد بوں کے باوجود اس لمس کی خوشبو میرے ذہن کو معطر کر رہی تھی زندگی کی طرف بلاُ رہی تھی ۔۔۔امی کے نماز کے روبٹے اتنے نرم ہوتے تھے کہ اکثر میں انکی نماز کی چوکی پر لیٹ کر انکی گود میں سر رکھ لیتا تھا ۔۔۔صرف اس روبٹہ کی نرمی اور لمس محسوس کر نے کے لئے ۔۔۔ایک عجیب سی خوشبو جسکو کسی اور خوشبو سے مثال دینا ناممکن ہے وہ امی کی خوشبو ہے صرف میری امی کی ۔
میری کلائی کو چھوتا ہوا وہ روبٹہ دور جانے لگا اور۔۔۔۔ اور میں نے کو شش کی کہ ہاتھ بڑھا کر انھیں تھا م لوں مگر میں ایک انگلی بھی نہ ہلا سکا ۔۔میری آنکھوں میں تکلیف و بے بسی کے آنسو اور دل پر گہرا ملال چھانے لگا میں پھر غنودگی کی کیفیت میں چلا گیا ۔۔۔بے خبر ہوگیا ۔۔
وہ شاید کوئی دوپہر تھی شاید بھیا آفس سے آئے ہونگے ۔۔ان کی مخصوس تیز خوشبو میں محسوس کر رہا تھا وہ بیڈ کے قریب تھے  انکی سخت  آواز مجھے سنائی دے رہی تھی مگر بات سمجھنے کے لئے بہت کوشش کرنی پڑ رہی تھی وہ شاید ڈاکٹر سے مخاطب تھے کچھ پریشان لگ رہے تھے بیڈ کے قریب آگئے تھے انکے کوٹ کا کونا میری انگلیوں میں لگا تو تو میں ڈر گیا بھیا غصّہ میں تھے انکو گاڑی کے ٹوٹ جانے کا غصہ تھا وہ شینا سے یہی بات کر رہے تھے ۔انکے لمس سے مجھے انکے دل کی گہرایوں میں چھپی بات سمجھ میں آنے لگی ۔۔
اتنی منہگی گاڑی لیکر نکلنے کی کیا ضروروت تھی ۔۔اور تمہاری کار کہاں تھی انھوں نے شیبا پر برستے ہوئے دوا کا نسخہ اسُ سے جھپٹ کر لیا ۔۔۔
اب کار کی مرمت کرواؤں گا یا پھر اتنی منہگی دوائیں ۔۔۔
وہ کچھ بول نہیں رہے تھے مگر انکے کوٹ کا لمس یہی کہہ رہا تھا ۔اور میں شرمندگی کی دلدل میں دھنستا جارہا تھا
۔کیوں چلائی بھیا کی گاڑی ۔۔کاش دن واپس آجاتا کاش ۔۔پھر وہی اندھیرا وہی سننا ٹا سائیں سائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بِّٹو کے ہاتھ میں  پھول تھے شاید ۔۔مگر اسے آئی سی میں رکھنے کی اجازت نہ تھی پھول کی ایک پنکھڑی میری کلائی پر چھوٹی سی بات چھوڑ گئی ۔۔۔بھیا خدا کے لئے اچھے ہوجاؤ
مجھے چھوڑ کے مت جا نا میرا کوئی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے آنسوؤں کی نمی میری کلائی سے ہوتی ہوئی میرے دل میں اتر رہی تھی ۔۔
وہ میری بہن ہی نہیں میری سکھی سہیلی تھی وہ میری پہلی محبت تھی جب وہ امی کی گو دمیں آئی تو میں آٹھ برس کا تھا ۔۔۔وہ میری سب سے پہلی دوست سب سے پہلا پیار اور سب سے پہلی تسکین تھی۔
 امی کے ایک طرف  میں  دوسری طرف وہ ہوتی تو میں امی کےنرم نرم  پیٹ پر سے ہوتا ہوا بس اسی کو دیکھا کر تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی شادی کے بعد میں نے اسکو اکیلا کر دیا تھا مگر وہ اب بھی میرے ساتھ تھی ہر لمحہ ۔مجھے جینا ہے مجھے ان سب کی طرف لوٹنا ہے ۔۔میں اپنے حوصلوں کو مضبوط کر رہا تھا میں اپنی ہمّت کو ان سب آوازوں سے سہارا دے رہا تھا ۔۔
رات کا کوئی پہر تھا شاید جب شینا مجھے دیکھنے مجھ پر جھکی ہوگی اسکی ساری کا آنچل میرے بازو پر ہلکا سا لہرایا ۔۔
میں تو پہلے ہی کہتی تھی اگر ڈیڈی کے پاس کینڈا چلے جاتے تو یہ سب نہ ہوتا ۔یہاں کیا رکھا ہے ۔۔اور تمہارے گھر والے ؟ یہ بھیا تمہارے کتنا غرور ہے انکو اپنی پوزیشن کا ۔۔۔تم کینڈا جاکر ان سے دُ گنا زیادہ کما سکتے ہو ۔۔مگر سنو گے تھوڑی ۔۔۔میں تو ہار گئی کہہ کہہ کر ۔۔۔بٹو کی شادی کی فکر میں تم اکیلے ہی گھلُ رہے ہوتمہارے بھیا کو تو پرواہ بھی نہیں ۔۔۔چلو یار یہاں سے ۔۔۔سب ٹھیک ہوجائے گا آجکل پیسہ ہی ہر مشکل کا حل ہے ۔۔۔اب کیسے کہوں تم تو ایسی حالت میں سن بھی نہیں سکو گے ۔اسکی جھنجھلاہٹ میں صاف محسوس کر رہا تھا ۔۔اسکا جھڑکنے کا سا انداز میرے اندر آگ سی لگا رہا تھا ۔کیا اب مجھے ایسے ہی جینا ہوگا ۔۔۔کیا یہی زندگی ہوگی ۔۔یا موت ؟ رفتہ رفتہ سب کا میرے پاس آنا کم ہوتا جارہا تھا بھیاّ بھی کئی دن نہ آتے شینا ایک دن خوب خوشبوؤں میں نہائی ہوئی آئی اور ڈاکٹر جو میرے اوپر جھکا تھا پوچھنے لگی ۔۔
۔کوئی امید ہے کیا ؟
ڈاکٹر کی انگلیاں میرے ماتھے پر تھیں وہ خاموش تھا مگر مجھے سنائی دے رہا تھا  ۔کوما میں ہے کیا پتہ بچ ہی جائے یا پھر چل پڑے اور بچ بھی گیا تو کیا ۔۔۔کمر کے نیچے کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے اٹھنا بیٹھنا تو ناممکن ہے ۔۔شاید بس سانسیں بغیر مشین کے لے لے اور پھر مڑ کر شینا سے بولا ۔
ہم امید پر قائم رہتے ہیں ۔
شینا اٹھلا کر میرے قریب سے نکلتی چلی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔دروازے کے باہر سے اسکا ہلکا سا قہقہ میں نے صاف پہچان لیا تھا ۔۔۔۔اف ۔۔۔
دھیرے دھیرے اس زندگی کا عادی ہوگیا تھا ۔۔پہلے بھیا روز آتے تھے مگر اب وہ بہت مصروف ہوگئے تھے۔امیّ روز آتی مگر اندر بیٹھنے کی اجازت نہ ملنے پر باہر بیٹھی رہتیں ۔جس وقت اندر آتیں انکا لمس مجھ سے ہزاروں باتیں کر تا وہ استھما کی مریض تھیں انکا مرض بڑھ رہا تھا ۔۔وہ اپنی فکر بالکل نہیں کر تی تھیں ۔۔۔شینا کی بے وفائی ،امی کے مجھے لپٹا کر پیار کرنے سے واضع سنائی دی تھی مجھے وہ اب کینڈا جارہی تھی اسنے کمرے میں آکر میری پیشانی پر اپنا کیوٹکس بھرا ہاتھ رکھ کر بڑے ناز سے کہا ۔۔۔یا مجھے سنائی دیا ۔۔۔اب نہیں گزر سکے گی تمہارے ساتھ ۔۔۔یہ بھی کوئی زندگی ہے ۔اور اب تو ڈاکٹر بھی مایوس ہوچکے ہیں ۔۔میں کبتک انتظار کروں ۔۔۔
 ایک دن جب بٹو میرے بال سہلا رہی تھی تو اسکے لمس میں تھرتھرا ہٹ تھی اور امی کے چلے جانے کی خبر بھی تھی ۔میری زبان اکڑ گئی تھی ہونٹ سوکھ رہے تھے ۔۔میں پانی مانگنا چاہتا تھا مگر میرا جسم ساکت تھا ۔مجھے معلوم تھا امیّ چلی گئیں ورنہ بٹو اس طرح تڑپ کر نہ رو رہی ہوتی ۔۔
چار برس یوں ہی گزر گئے بِٹو مجھے گھر لے آئی تھی اسپتال کا خرچ بہت آرہا تھا ۔۔کوئی نہیں تھا جو اسکا ساتھ دیا ۔۔۔وہ مجھکو کہانیاں سناتی مجھ سے باتیں کرتی ۔۔۔میری دواؤں کا خیال رکھتی ۔۔۔میں بے جان لاش کی طرح پڑا رہتا ۔میرے لئے جو میل نرس کا انتظام اس ُ نے کیا تھا اسکی بیزاری بھی مجھے محسوس ہوتی مگر میں لا چار تھا ۔اپنے لئے خود دعا کرتا تھا ۔
 وہ میرے قریب بہت قریب اسٹول پر بیٹھی تھی اسُ نے اپنے نحیف ہاتھوں سے میرا ہاتھ تھا ما ہوا تھا  اور ان ہاتھوں پر اپنا سر ٹکا لیا تھا ،جہاں سوکھے بے رونق بال کہیں کہیں سے سفید ہورہے تھے وہ کچھ نہیں بول رہی تھی کچھ نہیں سن رہی تھی بس اسکی چپُ میں ہزاروں سسکیاں تھیں وہ ایک واحد ہستی تھی  جو میری حالت سے مایوس نہیں تھی اور اسکا اعتماد میرے جسم میں زندگی بنکر رواں تھا ۔
اسُ دن۔اچانک میری آنکھ کے گوشے سے آنسو کا ایک قطرہ آہستہ آہستہ چلا اور بٹو کی ہتھیلی بھگو گیا  ۔۔۔وہ آنسو نہیں تھے میرے جینے کی نوید تھی ۔




۔۔سو نے کا گھر ۔
بہت اچھّی نوکری ہے ۔پیسے بھی ذیادہ ہیں ۔کیا فرق پڑتا ہے کچھ دن یہ تجربہ بھی سہی ۔۔"
"نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بالکل نہیں میں یہاں سے نہیں جاسکوں گا میرا اچھا خاصہ کام ہے ۔
"میں کب کہہ رہی ہوں کہ تم اپنی ملازمت چھوڑ دو ۔میں اکیلی جاسکتی ہوں وہاں کسی ہوسٹل میں رہ سکتی ہوں ۔۔ملازمت دے رہے ہیں تو رہنے کا انتظام بھی وہی لوگ کریں گے ۔۔فکر کی کیا بات ہے ۔" نیل پا لش صاف کرتے ہوئے اسُ نے کاشف  کی طرف دیکھا ۔۔جو کسی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ۔پھر اچانک سر اٹھا کر گو یا ہوا ۔
"اور میں ؟؟ میں اکیلے کیسے یہاں رہوں گا ۔۔میرے لئے کچھ سوچا ؟
"ایک اچھّا گھر میرا خواب ہے کا شف !
  ۔۔اور میں یہاں کی ملازمت میں اپنا خواب پورا نہیں کر سکتی ۔۔۔مجھے جانے دو ۔۔۔اتنا اچھّا موقعہ بار بار نہیں ملتا ۔
خاموشی دونوں کے درمیان ٹہری رہی ۔۔۔کئی لمحے یوں ہی بیت گئے ۔
"جب تم نے طے کر ہی لیا ہے تو پھر مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو ۔۔"کاشف کی آواز اُداس تھی ۔وہ جلدی سے اٹھ کر اسکے پاس بیٹھ گئی ۔۔ہاتھ تھام کر اپنے گالوں پر رکھ لیا ۔۔۔
بالکل نہیں۔طے نہیں کیا ہے ۔۔۔اپنا خواب بتا رہی ہوں ۔۔تم کو کئی بار سنا چکی ہوں ۔۔۔اسکا لہجہ ٹو ٹنے لگا ۔۔۔
"یاد ہے مجھے ۔۔۔۔اباّ کے جانے کے بعد میں اور امیّ کیسے در در پھرے ہیں کسی عزیز نے ساتھ نہیں دیا سب نے منھ ُ پھیر لیا تھا ہم سے ۔ ۔۔میرا بچپن میرے سامنے درد کا سمندر بنا ہمیشہ کھڑا رہتا ہے ۔۔۔مجھے ایک گھر بنا نا ہے ۔۔میں امیّ کو بھی لا نا چاہتی ہوں ۔۔میں انکو تھوڑی سی خوشی دینا چاہتی ہوں ۔۔جو پلاٹ اباّ میرے نام چھوڑ گئے ہیں اسے فر وخت نہیں  کر نا چاہتی ۔۔۔ہم دونوں مل کر بھی ایک گھر نہیں بنا سکتے اتنی تنخواہ نہیں ہے ہماری بات کو سمجھو ۔۔یوں ناراض ہوجاؤ گے تو میں کچھ نہیں کر سکوں گی حوصلہ دو مجھے ۔۔۔ہمتّ بڑھاؤ میری ۔۔۔"
اسکی آواز آنسوؤں میں گھُلنے لگی ۔
کاشف نے اسے قریب کر لیا ۔۔اسکے آنسوں کو اپنی انگلیوں سے صاف کرتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
"رہ لو گی میرے بغیر ۔۔۔؟
اور وہ آنسوؤں سے ہنستی روتی اسُ سے لپٹ۔گئی ۔
سارے معاملات طے ہونے میں ایک ماہ کہاں نکل گیا پتہ ہی نہیں چلا ۔اور اسکی روانگی کا دن آگیا ۔۔وہ ساری رات نہیں سوئی کاشف کے ساتھ جاگتی رہی اور دونوں پلانگ کرتے رہے ۔دو برس کا کانٹریکٹ اسُے دوبئی کے ہسپتال سے ملا تھا ۔۔ملازمت تو یہاں بھی تھی مگر دو سال کی چھٹی کی درخواست قبول ہوگئی اور اب وہ امّی کو سمجھا رہی تھی ۔۔
انکی آنکھیں مسلسل برس رہی تھیں بہت دکھُ اٹھا ئے تھے انھوں نے بہت درد برداشت کیا تھا ۔ساتھ ہی نور نے بھی وہ سب کچھ سہا تھا ۔شوہر کے انتقال کے بعد جب سسرال والوں نے بے عزّت کر کے گھر سے نکالا تو انکو بھائی کے گھر جا نا پڑا ۔۔جان سے پیارا بھائی جسکے لئے وہ اپنی ہر خوشی قربان کر تی آئی تھیں ۔۔اس کو انکا آنا بالکل پسند نہیں آیا
۔بھابی نے ایک پرانے اسٹور نما کمرے میں جگہ دی جسکی ایک طرف کی چھت بھی گر رہی تھی ۔۔۔اور وہاں سے آسمان نظر آتا تھا ۔
دونوں ماں بیٹی اسُ اسٹور نما کمرے میں ایک دیوار کے سہارے دری بچھا کر بیٹھ گئیں ۔۔بے انتہا سردی کی وجہ سے دونوں کانپ رہی تھیں اور چھت کے ٹوٹے کونے سے کہرا اندر بھر رہا تھا ۔۔۔
وہ امیّ کی گود میں سر چھپائے تھر تھر کانپ رہی تھی ۔تب بھابی نے پرا نا لحاف لاکر ان پر پھینکا  اور باورچی خانے میں جاکر کھانا کھانے کی دعوت بھی دی ۔
کونے سے آتا ہوا کہرا گہرا ہورہا تھا اسنے سر اٹھا کر دیکھا کمرے میں بادل سے بھرے تھے ۔۔اسکا دم گھٹ رہا تھا ۔۔۔پانچ سال کی بچّی کے لئے یہ بیحد اذیت ناک وقت تھا ۔۔
پھر امی گھر کے کام کاج کر نے لگیں اور وہ کمرے سے نکل کر کبھی کبھی برامدے میں بیٹھ جاتی ۔پرا نا اسکول بیگ ساتھ لیکر آئی تو ایک دن ما موں کی نظر پڑگئی ۔۔اور اسےُ اسکول میں داخلہ مل گیا ۔۔۔وہ اپنی ذہانت سے وظیفہ لیتی ہوئی اب اس مقام پر تھی مگر وہ وقت اسکے دل ودماغ سے کبھی نہ نکل سکا ۔
امّی کو دلاسہ دیکر وہ باہر آگئی کرائے کا ایک چھوٹا سا کمرہ جو اس نے اپنی محنتوں سے اور کچھ ما موں کی مہر بانیوں سے  حاصل کیا تھا ، امّی کا مسکن تھا ۔
آخر کار وہ وقت بھی آگیا جب وہ امیّ اور کاشف سے جدا ہوکر پردیس سدھاری ۔
شروع شروع میں اسُے دوبئی کے اسپتال میں کافی دقّت کا سامنا کر نا پڑا مگر کچھ مخلص ساتھیوں نے بہت سہارا دیا اور ہوسٹل میں ساتھ رہنے والی آمنہ
سے اسکی بہت دوستی ہوگئی ۔۔دونوں ساتھ ہی ہوسٹل سے نکلتے وہ اسپتال چلی جاتی اور رائمہ اپنے آفس کی راہ لیتی ۔
ایک برس بیت گیا تھا وہ گھر نہ جاکر بس پیسے بچانے کی مشین بنی ہوئی تھی ۔امی سے تو روز ہی فون پر بات کرتی انکو دلاسہ دیتی لیکن وہ اب ہر خوشی کی آس چھوڑ چکی تھی ۔
اپنے گھر کے لئے زمین تو پہلے سے ہی تھی ۔اب آہستہ آہستہ گھر بننا شروع ہوگیا تھا۔
جس دن اس کے گھر کی بنیاد پڑی ،کاشف نے تصویریں کھینچ کر اسےُ بھیجیں اسُ دن وہ اکیلے بیٹھ کر خوب روئی
اسکو اپنے پرانے سارے دن یاد آئے ،لامکانی کے سارے دکھُ اسکی آنکھوں میں گھوم گئے ۔اسُ دن وہ اپنی امّی کو فون کر کے بہت روئی ۔۔وہ اسےُ سنبھالتی رہیں تسّلیاں دیتی رہیں ۔۔۔انھوں نے ہمیشہ ہی حوصلہ دیا تھا آج بھی وہ اسُ کے ساتھ ہی کھڑی تھیں ۔
"آپ کیا کر رہی تھیں امیّ۔۔۔"اسُ نے آنسو پوچھ کر پوچھا ۔
"بیٹا یہ لاڈلی ہے نا ۔یاد ہے تمکو ؟ کموّبوا کی لڑکی ۔
ہاں بالکل یاد ہے کیا ہوا اسکو ؟ اب تو اسکول جاتی ہوگی
ہاں بیٹا اسکول تو جاتی ہے اب 12 برس کی ہوگئی ہے اس کا اباّ کہتا ہے کہ بیاہ کر دے گا ۔وہی معاملہ سُلجھا رہی تھی ۔چلو چھڑو تم اپنی صحت کا خاص خیال رکھو پتہ نہیں وہاں کیا کھاتی ہوگی ۔"امیّ نے بات بدل دی ۔مگر اس کی آنکھوں میں وہ ننھی سی لاڈلی آگئی ۔۔میلے میلے کپڑے پہنے پھٹی چپل اور کبھی بغیر چپل کے ۔امّی کے برامدے میں بیٹھی اسکول کا کام کرتی دکھائی دی ۔
"ارے نہیں امیّ منع کیجئے گا آپ ۔۔ابھی کیا شادی وادی ۔۔اس کے ابا کو سمجھا یئے
۔چلیئے کل پھر بات کروں گی اسُ نے فون بند کیا اور نماز کے لئے اٹھ گئی ۔
گھر کے کمرے وغیرہ تعمیر ہوگئے تھے یہاں اسُ کا کانٹریکٹ دو سال اور بڑھ گیا ۔گھر جانے کے بارے میں سو چتی تو پیسہ خرچ ہوتا نظر آتا ۔۔۔
وہ ہمّت کر کے ارادہ بدل دیتی ۔
چار برس کی مدّت ۔۔۔
وہ سیدھی امیّ کے گھر پہونچی وہ کمزور ہو گئی تھیں ۔کموّ بوا نے انکا بہت خیال رکھتی تھیں اس ِ وقت بھی وہ پاس کھڑی اسُ کے آجانے سے آنسوؤں سے ہنس رہی تھیں ۔
بس امّی بہت ہوگیا گھر تقریباً تیار ہے آپ پیکنگ کر لیجئے ہم کل آپکو لینے آئیں گے ۔۔دیکھئے کموّ بوا آپکی ذمہ داری ہے ۔
۔۔کافی دیر تک وہ وہیں بیٹھی رہی ۔کاشف کے آفس سے آنے کا وقت ہورہا تھا وہ سر پرائیز دینے کے لئے اچانک ہی جا نا چاہتی تھی ۔شام ہوتے ہوتے وہ ٹیکسی کر کے اپنے گھر کے لئیے روانہ ہوگئی ۔۔
اس کا گھر
اسُ کے ارمانوں کا گھر اسکے چار سال کی محنتوں کا پھل ۔۔۔وہ اب تک ہر قدم پر صرف تصویریں ہی دیکھتی آئی تھی آج اپنی آنکھوں سے اپنا گھر دیکھے گی ۔۔۔خوشی کا یہ احساس ایسا تھا کہ اسکو علاقہ شروع ہونے کا پتہ بھی نہ چلا اور وہ گیٹ پر پہونچ گئی ۔
ٹیکسی کو فارغ کر کے اسُ نے دروازے پر ہاتھ رکھّا ۔۔۔چوکی دار موجود تھا اسُ کو دیکھ کر الرٹ ہوگیا ،
"با با آپ نے کیسے پہچانا مجھے ۔؟
"بی بی صاحب آپ مجھے بھول گئیں میں تو صاحب کے ساتھ اکثر آپکے پرانے گھر آیا کر تا تھا ۔۔وہ جلدی سے سامان لیکر اندر کی طرف دوڑا کہ دراوزہ کھول سکے
اس کی پسند کا چھوٹا سالان ۔۔۔طرح طرح کے پھول ،،کاشف نے ان سب باتوں کا بے حد خیال رکھا تھا ۔۔برامدے میں پڑی کین کی کر سیاں
اور نقشین دروازے ۔۔وہ وہیں کرسی پر بیٹھ گئی اسُ کے پاس اند کی چابیاں نہین تھیں ۔
خوشی سے اسکو لرزہ سا طاری تھا ۔تب ہی کاشف کی گاڑی گیٹ میں داخل ہوئی اور رکتے ہی کاشف تیزی سے نکل کر اسکی طرف بڑھا ۔۔۔
پھر کچھ سوچ کر کمرے کا دروازہ کھول دیا اور وہ بے قرای سے کاشف سے لپٹ گئی ۔۔۔نہ جانے کتنا وقت بیت گیا ۔۔۔چار برس کا عرصہ کم نہیں ہوتا ۔۔۔
کاشف اسُ سے نہ جانے کیا کیا پوچھ رہا تھا وہ آنکھیں بند کیئے اسُ کے سینے پر سر ٹکائے کھڑی تھی ۔۔۔۔
بے حد خوب صورت احسا س اسُ کے اندر ہلکورے لے رہا تھا ۔
یہ ہے زندگی ۔۔۔یہ ہے جنّت جس سے وہ اتنے برس الگ رہی ۔۔۔اسُ نے سر اٹھا کر کاشف کا چہرہ دیکھا ۔۔۔وہ کچھ موٹا ہوگیا تھا چہرہ بھر گیا تھا آسود گی نظر آرہی تھی وہ اسُے لئے ہوئے بیڈ روم میں آگیا۔ اسُ کی پسند کا ہلکا نیلا آسمانی رنگ ہر دیوار پر مسکرا رہا تھا ۔۔۔وہ ایک بار پھر کاشف کے گلے لگ گئی ۔"کتنا خیال رکھا تم نے میری خوشی کا ہر چیز عین میری سوچ کے مطابق ہے کاشف ۔۔۔
کچن میں کھڑ پڑ ہو رہی تھی ۔۔۔کچھ دیر میں ایک لڑکی ٹرے میں سلیقے سے چائے لیئے ہوئے اندر آئی تو اسُ نے سوالیہ نظروں سے کاشف کو دیکھا ۔
"ارے پہچانہ نہیں ؟ یہ کموّ بوا کی لڑکی ہے ۔شام کی چائے کھانا اسی کی ذمہ داری ہے ۔اب تم آگئی ہو اسکو ٹھیک سے ٹرینڈ کر دینا "
اور ۔۔ارے واہ تم تو بڑی ہوگئی بھئی ۔
"باجی آپ کے آنے سے بہت اجالا سا ہوگیا ہے ۔
ہائیں ۔۔۔اتنی بڑی بڑی باتیں کر لیتی ہو ۔۔اس نے بڑھ کر لاڈلی کو گلے لگا یا ۔
لاڈلی کی کہانی بھی ان سب مؑعصوم بچیوں جیسی تھی ۔اسُ کے ابا نے اسے دگنی عمر کے آدمی کے ہاتھ بیچ دیا تھا ۔
مگر وہ وہاں نہیں گئی ۔۔نکاح نہیں ہونے دیا اپنے ماما کے گھر بھاگ آئی ۔اسُ کے ما ما نے اسُ کا بہت خیال رکھا ۔سب سے لڑائی کی اور اسُ کو تعلیم دلوائی اب وہ دسویں کا پرائوٹ امتحان دے رہی تھی اور پہلی دوسری کے بچوں کو گھر پر پڑھاتی تھی پھر یہاں کھانا پکا نے پر رکھ لی گئی ۔بہت ہمتّ سے وہ اپنی زند گی گزار رہی تھی ۔۔۔۔اسُ کو بہت پیار کیا اور تیوشن چھوڑ کر پورا دن اپنے پاس رکھنے کی آفر بھی دی تاکہ وہ سکون سے امتحان دے سکے ۔کچھ دنوں کی بات تھی مہک کو یہاں واپس جاب مل ہی جاتی ۔
صبح صبح لان پر ٹہلتے ہوئے وہ پھولوں سے باتیں کرتی رہی وہ دل ہی دل میں کاشف کی شکر گزار تھی ۔۔۔گھر اسُ کی مرضی کے عین مطابق تھا ۔کچھ اُوس مین بھیگے پھول ہتھیلوں میں بھر کے وہ کمرے کی طرف آئی مگر باہر ہی ٹھٹھک جا نا پڑا  ۔کاشف کی دبی دبی آوازصبح کے  سنّا ٹے میں  صاف  سنائی دے رہی تھی ۔۔۔
"کچھ دن صبر تو کرو ۔۔ابھی دو دن ہی تو ہوئے ہیں اسُ کو آئے ہوئے ۔۔۔فوراً تو نہیں بتا سکتا کہ یہاں کیا کر بیٹھا ہوں ۔۔
ہاں میں تمہاری مجبوری سمجھتا ہوں ۔۔جلد ہی راضی کر لونگا ۔وہ بہت اچھّی ہے ۔۔مجھے پتہ ہے وہ کوئی اعتراض نہیں کرے گی ۔۔
تم جلد میرے پاس میرے گھر میں ہوگی ہنی ۔۔۔کیوں پریشان ہو ۔۔اچھا اب بند کر تا ہوں آفس میں ملا قات ہوگی اوکے ؟ بے شرم بوسے  کی تیز آواز اسکی سماعتیں جھلسا گئی
وہ لڑکھڑاتی ہوئی برا بر کے بیڈ روم میں آگئی ۔۔۔۔
چند لمحوں تک وہ آنکھیں بند کئیے بیٹھی رہی ۔
پھر اسُ نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں ۔۔کمرے کی چھت ایک طرف سے ٹوٹی ہوئی تھی وہاں سے سرد کہرا اور بادل کمرے کے اندر آرہے تھے ۔۔اسکا دم گھٹنے لگا ۔۔۔وہ اٹھی پنکھا چلا دیا لیکن بادل بدستور اندر آتے رہے ہر چیز دھندلی تھی ہر رنگ پھیکا تھا ۔۔۔ایک سرد اور بے رحم سی ٹھنڈک اس کے وجود میں اتر نے لگی ۔۔اسُ کو محسوس ہوا وہ مر رہی ہے ۔۔
"امی۔ی۔۔۔ی ی۔۔۔۔"چیخ کی صورت اسُ کے منھ سے نکلا اور وہ لڑکھڑا کر گر گئی ۔
شاید شام  ہوگئی تھی ۔کاشف اس ُ کے سر ہانے پریشان سا بیٹھا تھا ۔سامنے اسٹول پر کچھ دوائیں اور چائے کی ٹرے رکھی تھی ۔
اسُ کو ہوش میں آتے دیکھ کر کا شف اسُ پر جھکُ گیا ۔۔۔کیا ہوا ۔۔تم کو ؟ کیسا محسوس کر رہی ہو ؟ کیا کچھ بیمار رہی تھیں وہاں ؟
وہ نہ جانے کیا کیا پوچھ رہا تھا وہ بہت ہمّت کر کے اٹھ گئی کچھ دیر بیڈ سے پیر لٹکائے خاموش بیٹھی رہی ۔۔پھر کاشف کو سامنے سے ہٹا تی ہوئی کھڑی ہوگئی ۔۔۔وہ ڈاکٹر کو کال کر نے باہر نکل گیا ۔
نے بڑی ہمتّ سے بڑا سوٹ کیس اتارا اور اس میں کپڑے بھر نے لگی ۔۔پھر کچھ سا مان چھوٹے بیگ میں بھر دیا ۔۔کاشف اندر آیا تو ہکا بکا رہ گیا ۔۔یہ کیا کر رہی ہوتم ۔۔۔
پاگل ہوئی ہو ؟/ کہاں جاؤگی اسِ وقت ۔۔۔تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔آرام کر و کیا ہوگیا تم کو ۔۔
"میں کہیں نہیں جارہی کاشف ۔۔۔
لاڈلی یہ سوٹ کیس باہر رکھو ۔۔۔اور کاشف تم ابھی فوراً نکلو یہاں سے ۔۔میں آج ہی خلع دائر کروں گی ۔۔۔چلو اٹھا ؤ اپنا سامان ۔۔۔
٭٭٭٭٭