Thursday, March 8, 2018




بستہ۔
از زارا قدوائی
جوائینس برگ ۔افریقہ
کوئی ڈھونڈ کے دیتا مجھکو تو
ایک عمر کی زحمت کم ہوتی ۔
کہیں بھول کے بیٹھی ہوں اسکو
بستہ جو کتا بوں والا تھا ۔

کچھ بات لکھی تھی پر چوں پر
کچھ ٹوٹی پینسل رکھّی تھیں
اسُ بستے میں میری سارے
بچپن کی یادیں رکھّی  تھیں

کچھ ٹوفی کے کاغذ سے بھی
گڑ یوں کی فرا کیں بنُ لی تھیں
ایک پینسل کے ڈبّے میں وہ
چاکیں کھریاں سب رکھیّ تھیں

بدماشی کے قصّوں کا بھی
اک بکسہ تھا اسمیں شاید
کچھ دوست پرانے تھے جو تب
نمبر انکا بھی تھا شاید

ہر چیز کہیں تو جیسے اب
کچھ ہاتھ سے چھُٹتی جاتی ہے
اس بستے کی اب مجھکو تو
بس یاد بہت ہی آتی ہے

کوئی ڈھونڈ کے لا دیتا مجھکو
ایک عمر کی زحمت کم ہوتی
کہیں بھول کے بیٹھی ہو ں اسکو
بستہ جو کتا بوں والا تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


پر چھائیاں ۔
آسمان ہلکا نیلا  تھا اور ایکا دکا ستارے چمک رہے تھے ۔ پارک میں سیڑیوں پر بیٹھے بیٹھے اوپر دیکھا اور پھر دھیرے سے بولی ۔
"جیسے نیلی ساری پر ستارے ٹنکے ہوں "
"میں لا یا تو تھا تمہارے لئے ،نیلی ساری ۔تم نے پہنی ہی نہیں ۔
"کیونکہ میں آسمان نہیں ہوں ۔"کچھ دور کھیلتے بچوں پر نظر جماتے ہوئے خود کلامی کی ۔۔۔میں تو زمین ہوں۔

پورے چھے سال کے بعد یہ اسے چھوڑ کر پھر سے میرے پاس آگئے دوبارہ ۔۔کہیں نہ جانے کے لیئے ۔مگر رات جب میں بستر پر گئی تو وہ مجھے برا بر لیٹی ہوئی صاف دکھائی دی ۔۔۔اسنے سرخ نائیٹی پہنی ہوئی تھی اسکے سنہرے بال کھلے ہوئے تھے ۔اسنے مجھے شرارت سے مسکرا کر دیکھا اور ایک جھٹکے سے انکے سینے میں منھ چھپا لیا ۔۔میں ہونق دیکھتی رہ گئی ۔دل زور سے دھڑک رہا تھا بدن پسینے میں تر ہوگیا ۔میں شرمندہ سی برا بر والے کمرے میں چلی آئی  ایک بار انھوں نے پلٹ کر میری جانب دیکھا ۔ہاتھ بھی بڑھا یا تھا مگر ۔بس یہ تو حد ہوگئی ۔
دوسرے کمرے میں آکر میں بستر کے ایک سائیڈ پر اوندھی گری ۔پھر سر اٹھا کر دیکھا ۔وہ سویا ہوا تھا ۔
آہستہ سے سیدھی ہوکر سونے لیٹ گئی کہ کہیں اسکی نیند نہ ٹوٹ جائے ۔سارے دن نہ جانے کہاں کہاں مارا پھر تا ہے اب آکر سکون سے سویا ہے تو نیند تو نہ خراب کروں ۔مگر اسکے پاس ہونے سے دل میں سکون اتر آیا ۔آنسو بھی رکُ گئے اور نیند بھی آگئی ۔
۔صبح دیکھا تو وہ چائے پی رہے تھے ۔
مجھے اٹھنے میں دیر جو ہوگئی اسی نے بنا کر دی ہوگی ۔۔اپنے کمرے میں جھا نکا آئینے کے سامنے بال بنا تی نظر آئی ۔۔سنہرے بالوں کی کچھ بھیگی سی لٹیں آہستہ آہستہ انگلیوں سے سلجھا رہی تھی ۔ کچھ گنگنا بھی رہی تھی
۔مجھے دیکھ کر مسکرائی کنگھا ہاتھ سے رکھ دیا اور میں دروازے سے ہٹ کر کچن میں آگئی ۔اپنے لیئے چائے بنائی ۔گھونٹ گھونٹ پیتی رہی ۔یہ اپنی ضروریات سے فارغ ہوکر باہر نکل گئے ۔ناشتہ کے لئے نہ  انھوں نے کہا نہ میں  نے بنا یا ۔ گھر کی چھت پر آکرنیچے سڑک پر  آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھتی رہی ۔دھوپ تیز ہورہی تھی اور نیچے اترنے کا اسکا سامنا کرنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا ۔ایک عجیب سی الجھن اور بے چینی تھی ۔مگر نیچے آنا پڑا کئی کام ادھورے پڑے تھے ۔کہیں نظر نہیں آئی ۔۔تو سکون کا سانس لیکر کاموں میں لگ گئی ۔
اب دن اسی طرح کٹنے لگے تھے رات کے کھانے کے بعد جب یہ کمرے میں جاتے تو مجھے آواز دیتے میں اندر جھانکتی تو وہ بستر کی ہر سلوٹ میں دکھائی دیتی ۔
پھر دھیرے دھیرے میرا ملال کم ہونے لگا تھا یا یہ کہ میں نے خود حالات سے سمجھوتہ کر لیا تھا ۔
ایک دن میرے سر میں شدید درد تھا وہ دھیرے سے آکر پاس بیٹھ گئی اسنے میرے سر پر ہاتھ رکھنا چاہا تو میں نے جھٹک دیا ۔وہ ایکدم باہر نکل گئی ۔۔مگر اس دن کے بعد میں اپنے رویئے پر شرمندہ ہوئی اور جب چائے بناتے ہوئے گرم پانی ہاتھ پر چھلک گیا اور اس نے گھبرا کر ایک دم  اپنے ٹھنڈے یخ ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھے تو میں نہ جھٹک سکی ۔
اسکے ہاتھوں کی ٹھنڈک میں پہلے بھی محسوس کر چکی تھی۔
جب پہلی بار میں اسکے شہر گئی تھی سوچا تھا انکو سمجھا کر گھر لے آؤں گی ۔نوکر ی رہے یا نہ رہے ۔میں آفس میں ان سے ملنے گئی تو کچھ دیر بعد یہ کسی کام سے آئی ۔سکریٹری تھی نا ۔کام تو رہتے ہی تھے ۔آگے بڑھ کرآگئی  اور  ہاتھ بڑھا کر بولی
میں نتاشا  سیٹھ ۔
میں نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا
مسز خان ۔
تب اسکے ہاتھ اتنےہی  برف سے ٹھنڈے تھے  ،یا شاید میری بات سنکر ہوگئے تھے ۔شاید اسنے سوچا ہو کہ میں جان کر اسے اپنی حیثیت کا احساس دلا رہی ہوں ۔
وہ جوان تھی ،خوب صورت تھی ،کم عمر تھی ۔مجھ  سے تو بہت چھوٹی تھی ،مگر ہمارے بیچ ایک ڈر تھا ۔مجھے ان   کو کھونے  دینے کا ،اسکو میری حیثیت کا ۔۔
مگر اب میرے ڈر ختم ہورہے تھے  ۔وہ دھیرے دھیرے سہیلی بن گئی تھی ۔دن بھر اکیلے گھر میں وہ میرے ساتھ ہوتی اور شام آتے آتے ان   کے ساتھ ہوجاتی ۔

آخر کار انھوں نے مجھے بلا نا بھی چھوڑ دیا ۔۔شاید ایک احساس جرم تھا ۔یا  اب  میری ضرورت نہ تھی ۔
شام ایک ملال لے کر آتی اور میں دوسرے کمرے میں جاکر لیٹتی جہاں وہ پہلے سے ہی سویا ہوا ہوتا ،بے خبر  اس  کےگورے خوبصورت ماتھے پر بال بکھرے ہوتے  سوتے ہوئے بچوں جیسے مسکان بکھری رہتی اس کے چہرے پر ۔۔۔اور اس  کی نیند کے خیال سے مین آہستگی سے ایک سائیڈ لیٹی جاگتی رہتی پھر کب آنکھ لگ جاتی پتہ ہی نہ چلتا ۔ ایک سکون کا احساس بھی رہا کہ کوئی تو ہے جو میرا ہے ۔بالکل میرا ۔میرا اپنا ،میری جوان ہوتی ہوئی اولاد ،میرا لاڈلا بیٹا ۔
تیس برس پہلے جب
جب گھر چھوڑا تھا تب کہاں سوچا تھا کہ کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے ۔مگر چیزیں بدلتی رہتی ہیں دن رات ،موسم ، شکلیں ۔۔اور کچھ لوگوں کی محبتّیں بھی ۔۔کیا کر سکتے ہیں ۔کبھی کبھی اپنوں کو چھوڑ آنے کا دکھ ستا تا ۔تو اپنے اپ کو سمجھا لیتی تھی ۔
مگر ان چھ سالوں میں نہیں سمجھا پاتی تھی ۔دل کو ہر لمحہ ملال رہتا کہ غلطی ہے ،اور غلطیوں کا خمیازہ تو بھگتنا پڑتا ہے ۔پھر سوچتی اور لوگ بھی تو ہوتے ہیں جو محبتوں کے اسیر ہوتے ہیں اور ساری عمر رہتے ہیں ۔۔تو پھر میں ہی کیوں ۔۔؟
کوئی جواب نہ ملتا ۔
مگر اس دن عجیب بات ہوئی ۔یہ دوسرے کمرے میں آئے اور ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے  ساتھ  ہمارے مشتر کہ کمرے میں لے گئے ۔بستر پر بیٹھے اور مجھ سے پوچھنے لگے ۔
" اب کیا چا ہتی ہو ؟ آگیا ہوں نا میں پھر کیوں چھپتی پھر رہی ہو ۔کیوں گم سم رہتی ہو ۔کیسی حالت بنا لی ہے اپنی شکل دیکھی ہے ؟ کس بات کا سوگ ہے ؟ اگر مین اتنا ہی برا ہوں تو چلا جاتا ہوں کہیں "
تب میں نے دیکھا بستر پر کوئی شکن نہیں تھی جیسی شکنوں سے پاک چادر میں نے بچھائی تھی ویسے ہی تھی تکیہ بھی قرینے سے رکھے تھے ۔وہ مجھے ادھر ادھر دیکھتا پاکر پھر بولے
"کیا ڈھونڈتی رہتی ہو ۔کیا چاہیئے بولو مجھ سے ۔مجھے آئے ہوئے آج ایک برس ہونے کو آیا اور تم ہو کہ ۔"
:وہ ۔۔۔وہ ۔۔۔۔"میرے منھ سے ٹوٹ ٹوٹ کر نکلا
"کون ۔۔؟ کس کی بات کر رہی ہو ؟  کون ؟
نتا شا ۔۔۔میرے منھ سے ٹوٹ ٹوٹ کر نکلا ۔۔
وہ یہاں کہاں ؟کیسی باتیں کر تی ہو ۔کیا الٹی سیدھی سوچتی ہو ۔
اسکی شادی ہوگئی وہ اپنے گھر میں خوش ہے  آئیندہ کبھی اس کی بات مت کرنا ۔سمجھیں کبھی نہیں ۔" وہ میرا ہاتھ چھوڑ کر الگ کھڑے ہوگئے ۔
اب بولنے کی میری باری تھی ۔
وہاں   بمبئی میں تم دونوں ساتھ تھے خوش تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تکلیف میں تھی  مرنے جینے کی قسمیں  کھائی تھیں تمہارے ساتھ  مگر اب میں اکیلی رہ گئی ۔واپس تو آگئی تھی مگر درد ایسا تھا کہ ایک پل چین نہیں تھا ۔
"تم دونوں کو وہاں ساتھ  خوش وخرم  دیکھ کر ایک دعا کی تھی میں نے ، دل ٹوٹ گیا تھا ،ریزہ ریزہ ہوگیا تھا روتے روتے تھک چکی تھی ۔تب کہا تھا اللہ سے  کہ یاتو  وہ تمہیں   میرے پاس واپس بھیج دے  یا میرے دل سے تمہاری محبّت نکال دے ۔اور اللہ نے میری سن لی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جانتے ہو کیا ہوا ؟
اللہ نے دونوں پوری کردیں ۔
"سنو !آج ہمارا بیٹا زندہ ہوتا تو 24 برس کا ہوگیا ہوتا  ۔۔۔نا ؟"
اب ہم دونوں سسک رہے تھے اور گھر مین ہم دونوں کے سوا کوئی نہ تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




نالئہ شب گیر ۔
ذوقی صاحب !ناول تو کئی دن پہلے ختم ہوگیا تھا مگر گونج باقی رہ گئی ہے ۔میں تو یہی کہوں گی کہ غضب کا مشاہدہ ہے عورت کی نفسیات ،کم  سن لڑکیوں کی ذہنی حالت ۔آسان نہیں ہے لکھنا مگر آپ نے لکھا ۔کوئی تو منصور آئے کوئی تویہ  زہر ہونٹوں تو سے لگائے ۔بے حد متاثر ہوئی ہوئی ہوں
    آپ لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"
اور یہ وارداتیں ہر سطح پر ہورہی ہیں ۔یہاں تک کہ تہذیب کی اتنی  صد یاں  گزارنے کے بعد بھی ایک تعلیم یافتہ لڑکی رات کے اندھیرے میں سڑکوں پر سفر نہیں کر سکتی ۔دفتروں میں کام کر تے ہوئے اسے چوکنا رہنا ہوتا ہے ۔وہ گھر میں بھی محفوظ نہیں ۔"

افف کیسا جگر تک کاٹتا ہوا جملہ ہے ۔اور یہ نظام برسوں سے اسی طرح چلا ارہا ہے جس نے بھی بدلنے کی یا آواز اٹھانے کی  کوشش کی اسے نکہت کی طرح خاموش کر دیا گیا ۔
ایک جگہ لکھتے ہیں ۔
دکش پر جا پتی کی بیٹی اوما کی شادی شیو سے ہوئی تھی لیکن دکش شیو کو پسند نہیں کرتے تھے ۔۔
اور یہ وہ مقدس جگہ ہے جہاں اوما کے نین گرے نین کے گرتے ہی یہاں تال بن گیا ۔آج بھی یہاں کے باشندے  نینا دیوی کی آرادھنا کرتے ہیں ۔"
نینی تال کی اس تاریخی پس ِ منظر سے پہلی بار واقفیت ہوئی ۔
ایک جگہ  اس حویلی کی لڑکی غصّہ اور بے بسی سے جب یہ جملہ کہتی ہے تو دل دہل جاتا ہے ۔
"خدا ہے ہی نہیں ۔۔۔یہاں کے مردوں نے مذہب کو اپنی اپنی لنگیوں ،داڑھیوں اور ٹوپیوں میں سی لیا ہے ۔

"تیز آگ برس رہی ہے ۔۔۔
لو کے جھکڑ بھی ہیں
مگر گھبرا نا نہیں ہے ۔"
ایسے وقت میں ناہید کی ماں کا رویہ جادوئی انداز میں بدل جانا بھی عورت کی فتح کے رمزے میں آتا ہے ۔
"اماں اچانک ابو بن گئی تھیں ۔
"آپ کے اٹھائی گیرے رشتہ دار اب یہاں نہیں رہیں گے ۔
یہ جملے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ آگ نہ جانے کب سے دبی ہوئی تھی اور بیٹی کا ساتھ دینے سے شعلہ بنکر بھڑک اٹھی ۔یہ ایک مثبت تبدیلی تھی ۔
"یہاں واشنگٹن  ارونگ کی وہ کہانی یاد آرہی تھی ،جہا ں ایک کر دار  بیس سال تک سوتا رہا اور جب وہ جاگا تو پوری دنیا تبدیل ہوچکی تھی ۔"
گو کہ یہ بات مصنّف نے کئی صفحات کے بعد کسی دوسری جگہ استعمال کی ہے مگر اس حویلی میں بھی لوگ اسی طرح سوئے ہوئے تھے اور اچانک ہی جاگ اٹھے ۔ابو،  اماں کی بات کے جواب میں "جی " کہنے لگے جو انھیں جوتیوں کی نوک پر رکھتے تھے ۔یہ تبدیلی بھی اچانک نہیں آئی بلکہ کئی معصوم لڑکیوں کا لہو چاٹ کر آئی ،مگر آئی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہی کیا کم ہے ۔
اس وقت مسلمان خواتین اور لڑکیوں کی تعلیمی حالت افسوس ناک تھی ،اور اب بھی کئی مقامات ایسے ہیں جہاں اچھّے خاصے با اثر لوگ بھی لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں ۔
اور یہی وجہ ہے کہ وہ ان پستیوں کا شکار ہوئی ۔خود اعتمادی کی کمی اور ایک "لڑکی " ہونے کی شرمندگی ،ان کو ایسی میلی کچیلی زندگی گزارنے پر مجبور کرتی رہی ۔عورتوں پر صدیوں ظلم و ستم ہوئے انکا استحصال کیا گیا ۔مگر وہ خاموش رہیں ۔مگر ناہید ناز خاموش نہیں رہی تو کچھ کہہ بھی نہ سکی ۔ذہنی حالت بگڑنے کی ذمہ داری بھی ان سماج کے ٹھیکے داروں کی ہے جھنوں نے اسکی انا کو کچل کر ،انکو بے بس کیا گیا

انکو ناقص العقل کہا گیا ،انکے اندر احساس کمتری ٹھونس ٹھونس کر ڈالی گئی کہ تم عورت ہو یہی تمہاری سزا ہے ۔
وہ شعور اور اپنے وجود سے بھی بے نیاز ہوگئیں ۔
آپکی ناول پڑھ کر میں ابتک اپنے آپ کو سنبھال نہیں سکی ۔جب آپ نے پوچھا تھا تو کوئی جواب بھی واضع طور پر نہ دے سکی ۔آپ نے آواز اٹھائی ہے کاش کچھ لوگ جاگ اٹھیں ۔