Monday, March 24, 2014

یہ رابطے دل کے ۔۔۔۔
"صاحبزادی لوٹ کر گھر آگئی ہیں "چچا نے ہاتھ دھوکر کھانے کے لئے تخت پر بیٹھتے ہوئی اطلاعً زور سے کہا ۔
روٹی کی ڈلیا کھولتے ہوئے چچی جان کا ہاتھ دم بھر کو کانپ گیا ۔
"حد ہوتی ہے بے غیرتی کی ۔ہنہہ ۔۔" چچا نے سالن کا ڈونگا اپنی طرف کھسکایا ۔اور پلیٹ سیدھی کی ۔
'آپکو اسقدر غصّہ کیوں ہے ۔۔۔۔۔"چچی جان نے "آپکو "پر زور دیتے ہوئے انکی جانب نگاہ کی ۔
انھو ں نے قہر بر ساتی نظروں سے چچی جان کو دیکھا ،انکا چہرہ سر خ ہوگیا تھا اور آنکھوں میں بے انتہا نفرت کا احساس تھا ۔
"کیوں ہے ۔۔؟ آپکو نہیں معلوم رضیہ بیگم غصّہ کیوں ہے۔۔۔؟غیرت دار آدمی ہوں بے غیرت نہیں ہوں اور لوگوں کی طرح ۔۔۔"انھوں نے چمچہ دستر خوان پر پٹخا ۔
"باپ دادا کی پگڑی اچھال کر وہ بے غیرت ۔۔۔۔اور باقی لوگ صبر کئے بیٹھے ہیں ،میری بیٹی کرتی ایسا ۔۔یہیں اسی جگہ زمین میں دفن نہ کر دیتا تب کہتیں ۔۔۔"
"اللہ نہ کرے ۔۔" چچی جان نے دہل کر سینے پر ہاتھ رکھ لیا ۔
"اور تم پر تو انہی لوگوں کا رنگ چڑھا ہے غیرت اور عزّت جیسے الفاظ تم کیا سمجھو گی ۔۔۔"حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اپنی بات میں اضافہ کیا ۔
"اور خبردار جو یہاں سے کوئی ملنے گیا ۔۔یا وہ اس چوکھٹ پر چڑھی ۔۔۔۔"
٭٭٭٭٭٭٭
دکھ سا دکھ تھا انکو ۔۔؟ ننھی سی جان انکے ہاتھون میں پل کر تو جوان ہوئی تھی وہ ۔۔۔
پرانے زمینداروں کی طرح ظہیر علی خاں اور فیصل علی خان میں مقدمہ بازی تو چلتی رہتی تھی ۔زمین جائیداد کے قصّے کس جاگیر دار خاندان میں نہیں ہوتے ؟بڑی بڑی باتیں ہوجاتیں ،قتل تک ہوجایا کرتے تھے ۔
ان دونوں بھائیوں میں بھی بر سوں سے مقدمے چل رہے تھے ۔آگ میں تیل ڈالنے کا کام گاؤں والے بہت مہارت سے کرتے اور فایئدہ اٹھاتے ۔باتیں ادھر کی ادھر کرنے میں دیگر لوگوں کا بڑا ہاتھ تھا اور باتیں بھی اس طرح پیش کی جاتیں کہ دونوں بھائی کھول کر رہ جاتے مگر وضع داری کا یہ عالم تھا کہ جب مقدمے کی تاریخ پڑتی تو ایک دوسرے کو کہلوا بھیجتے کہ
"ہم نے گاڑی نکلوالی ہے ساتھ ہی چلئیے گا ۔۔"
اور دونوں بھائی ساتھ بیٹھ کر دنیا بھر کی سیاست پر باتیں کرتے کچہری پہونچتے ۔۔۔بحث ہوتی وہ بھی کرتے ۔۔۔پھر تاریخ پڑ جاتی تو دونوں ایک ساتھ واپس بھی اسی گاڑی میں آجاتے ۔
آم کی فصل میں ایک دوسرے کے گھر آمون کی دعوت ہوتی۔ اہتمام سے نذریں ہوتیں ،تو ایک دوسرے کو بلایا جاتا ۔عقیدت سے کھانا کھایا جاتا ۔کسی بچّے کی تقریب ہوتی تب بھی سب ملکر مناتے ۔عید کی نماز دونوں بھائی ساتھ ہی ادا کرتے اور سب بچّوں کو عیدی دیکر ہی فیصل علی خان اپنے گھر جاتے ،وہ اپنے بڑے بھائی کی بے حد عزّت کرتے تھے اور بچّوں سے بے پناہ محبّت بھی ۔۔۔جب سے بڑے بھائ کی بیوئی کا انتقال ہوا تب سے چچی جان کا ذیادہ تر وقت ان بچّون کی دیکھ بھال میں گزرنے لگا ۔
خاص کر ارم تو انکی لا ڈ لی تھی ۔
دکھ سا دکھ تھا انکو؟؟
٭٭٭٭٭٭٭
ننھی سی ارم بن ماں کی بچی،جب انکی اپنی بیٹیاں نہائی دھوئی صاف ستھری فرا کیں پہنے اڑتی پھرتیں تو وہ آجاتی ۔میلی کچیلی فراک پیروں میں دھول سر میں جوئیں ۔۔۔
وہ اسکا سر صاف کرتیں نہلاتیں نئی فراک پہنا کر بنا سنوار دیتیں ۔
اسکی حالت دیکھ کر انکا دل پھٹتا  تھا کیسے ٹوٹی چپل پہنے پھرا کرتی۔
کس چیز کی کمی تھی وہاں ؟سوا ایک عورت کے ۔
اسکی چپل اتروا کے اسے سینے بیٹھ جاتیں ۔
"ارے کیا کر رہی ہو ؟دوسری چپل پہنا دو اسکو ۔۔"وہ اخبار ہٹاکر محبّت سے اسے تکتے ۔۔۔
"رہنے دیجیے ۔۔بھائی جان کو اچھّا نہیں لگے گا ۔میں ابھی ٹھیک کیئے دیتی ہوں ۔"
ایسا نہیں تھا کہ وہاں کسی چیز کی کمی تھی ۔کپڑے صندوقوں میں بھرے تھے جوتے چپل بے شمار ۔۔۔کوئی معاشی مسئلہ نہیں تھا ۔مسئلہ تو بس اتنا تھا کہ ظہیر علی خان اور طرح کے آدمی تھے وہ بچّو ں کو دیکھ نہیں سکتے تھے سب نو کروں کے ہاتھ میں تھا ۔
جب ارم کے کان چھدے اور خیال نہ ہونے کی وجہ سے پک گئے تو وہ انہیں کے پاس دوڑی آئی
"بہت درد ہورہا ہے چچی جان ۔۔۔"
اور چچی جان نے بزرگوں کا بتایا ہوا نسخہ آزمایا ۔
اس وقت ارسل سب سے چھوٹا بیٹا ہوا تھا ۔انھوں نے جھٹ ارم کو گود میں لیکر لٹا لیا اور اسکے کانوں کی لوؤں پر دودھ کی دھاریں ڈا لیں ،وہ سکون سے انکی گود میں ہی سوگئی اور وہ کئی گھنٹوں تک گھٹنا ہلائے بغیر بیٹھی رہیں ۔
صبح کی اوس جمع کر کے کانون پر لگائی ۔۔ہومیو پیتھی کی دوائیں کھلائیں ،جب تک اسکے کان ٹھیک نہیں ہوئے بے قرار رہیں ۔
"وہاں کسی کو فکر نہیں تو تم کیوں دبلی ہوئی جاتی ہو  فکریں کر کر کے ؟"
"سبھی بچّے ہیں وہاں بھائیجان کے پاس وقت کہاں ۔۔۔جو یہ سب دیکھیں ۔۔۔کیا ہوا جو میں ۔۔۔۔بن ماں کی بچّی ہے "
بولتے بولتے انکی آنکھیں آنسوں سے بھر جاتیں سر جھک جاتا ۔۔۔۔
"ٹھیک ہے ۔۔کرو خدمتیں ۔۔کوئی ماننے والا نہین ہے وہاں تمہاری بے لوث محبّت کو "
"میں کسی کو منوانے کے لیئے نہیں کرتی یہ تو دل کے رابطے ہیں ۔۔۔"انکی آواز دھیمی ہوتی چلی جاتی ۔
کنگھی کر کے چوٹی گوند دیتیں وہ صاف ستھری ہوکر چمک اٹھتی۔۔۔۔ آ نگن میں لگے بیلے اور موگرے کے پھولوں کو گوندھ کر گجرے بنا لاتی ۔۔۔کبھی انکے بالوں میں اور کبھی ہاتھوں میں پہنا دیتی اور وہ اس خوشبو سے مسحور بیٹھی رہتیں ۔
وقت گزر تا رہا ۔عامر کی تعلیم اب ختم ہوگئی تھی اسنے ایک فلیٹ شہر میں لے لیا تھا اور نوکری کی تگ و دو میں مشغول تھا ۔
چچی جان کی نظر کے زاویئہ بدل گئے تھے وہ ارم کو اپنی بہو بنانے کے خواب دیکھنے لگی  تھیں ۔وہ عامر کا ہر انداز پہچانتی تھیں کہ ارم کو دیکھ کر اسکی انکھون میں جو معصوم سی چمک د ر آتی اسکا کیا مطلب ہے وہ اسکے انداز خوب پہچانتی تھیں ۔اپنے بچّوں میں سب سے ذیادہ پیارا تھا انھیں ۔۔۔
وہ بس عامر کی ملازمت کے انتظار میں تھیں ۔وہ گاؤں میں نہیں رہنا چاہتا تھا ،حالانکہ اب گاؤں پہلے جیسا تاریک نہ رہا تھا ۔ہتھیلیوں سے چراغ ،انگلیوں سے لالٹینیں نکل کر دیواروں پر بلب اور سی ۔ایف ۔ایل بنکر اجالے بکھیر رہے تھے ۔ہاتھوں کے بنے رنگ برنگے پنکھّے اب سیلنگ فین بن گئے تھے ،گھڑونچی کی جگہ اب واٹر کولر اور ایکوا گارڈ نے لے لی تھی بڑی خوبصورت تبدیلی تھی مگر عامر جانتا تھا کہ حالات بدل گئے ہیں اب ملازمت کے بغیر کام نہیں چل سکتا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اور جب انھیں ارم کی شادی کی خبر ملی تو وہ دل پر ہاتھ رکھ کرزمین پر بیٹھتی چلی گئیں ۔ بڑی عجیب ناقابل ِاعتبار بات تھی ۔کہ اسنے خود کسی کو پسند کر لیا اور بھائیوں بہنوں کی مر ضی کے خلاف  نکاح ہو گیا ۔
۔ عامر آکر خاموشی سے انکی مامتا بھری گود میں لیٹ گیا ۔وہ اپنی کانپتی انگلیوں سے اسکی پلکوں سے دکھ چنتی رہیں ۔وہ اسکے غم سے خوب واقف تھیں ۔
اسکے لب خاموش تھے اور انکھیں نو حہ کناں ۔
دکھ اور اذیت کے یہ دوسال بڑی مشکل سے کٹے بیان کر نا بیحد مشکل تھا اور وہ موگرے ،بیلے کے پیڑوں کو پانی دیے جاتیں ۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭
"بھائیجان کو تو برا حال ہوگا ۔۔۔"
وہ پھر حال میں آگئیں ۔۔۔
"برا حال ؟؟؟ خود بلایا ہے انھوں نے ۔۔۔۔دعوت کی ہے داماد کی ۔۔۔جاکے دیکھو کسقدر آؤ بھگت ہو رہی ہے ۔بیٹی داماد کی ۔۔
غصہ میں پانی کا گلاس پٹخا اور چیخ کر بولے ۔
"خود گئے تھے بلانے اس بد ذات وبے حیا کو ۔۔۔۔۔"
"چلیئے ٹھیک ہے اب ۔۔۔شادی ہونی تھی ہوگئی " چچی جان   صلح جو تھیں ۔
"ایسے ہوتی ہیں شادیاں ؟؟؟ بیٹی صاحبہ نے پسند کیا اور آپ نے جاکر نکا ح کروادیا ؟؟ نہ کسی سے رائے نہ مشورہ ۔۔۔خود انکے بڑے صاحب ذادے خلاف ہیں ۔۔گھر نہیں آئے ۔۔۔اچھّا ہے پھوٹ پڑے باپ بیٹے میں " وہ طنزیہ مسکرائے
چچی جان خاموش بیٹھی رضائی کی گوٹ پر انگلیاں پھیرا کیں ۔
عامر کو لڑکیاں دکھا دکھا کر تھک ئیں مگر اسکی ایک نا ۔۔۔ہاں میں نہیں بدلی ۔۔۔وہ سب جانتی تھیں مجبور تھیں ۔۔۔افسردہ تھیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭
شام ہورہی تھی ڈیوڑ ھی میں اندھیرا سا تھا ۔۔تب انھوں نے دو برس کے بعد اسے دیکھا ۔۔۔
وہ سر جھکائے کھڑی تھی ہلکا نیلا سوٹ ہاتھوں میں کانچ کی چوڑیاں ہلکے ہلکے لرز رہی تھیں ۔چچی جان نے گھبرا کر اندر کی طرف نظر کی ۔وہ شاید مطا لعے میں مشغول تھے کمرے کا دروازہ بھڑا ہوا تھا لائٹ جل رہی تھی ۔
دالان میں عامر لیٹا ہوا تھا ۔وہ سلام کر کے خاموش کھڑی رہی ۔انھوں نے بغور اسے دیکھا بہت کمزور نظر آئی اپنے آنسو چھپا کر اسے گلے لگا لیا ۔
پھر اسے وہیں چھوڑ کر جلدی سے باورچی خانے میں گئیں ۔رواج کے مطابق کچھ چیزیں لیکر آئیں اسکا انچل تھام کر ارد کی دال ،چاول ۔ایک بھیلی گڑ اور ایک سو کا نوٹ اسکے پلّو میں ڈالا پھر اپنا کپکپا تا ہوا ہاتھ اسکے  سر پر رکھ کربہت تکلیف سے بولیں ۔۔
"جیتی رہو خوش رہو ۔۔مگر اب یہاں کبھی مت آنا ۔۔۔"
اور دروازہ بند کر دیا ۔
واپس آکر آنگن میں بیٹھ گئیں اور کھر پی لیکر بیلے اور موگرے کے پیڑوں کو بے دردی سے کاٹنے لگیں آنسو بہتے جاتے تھے اور وہ پیڑوں کو گہرائی سے کھودتی جارہی تھیں ۔برامدے میں لیٹے ہوئے عامر نے سارا منظر نم آنکھوں سے دیکھا پھر ننگے پیر چلتے ہوئے آکر ماں کے پاس زمین میں بیٹھ گئے اور انکو ۔۔اپنے بازوں میں لپٹا لیا
۔دروازے کی کنڈی ایک بار پھر کھڑ کی دونوں نے ایک ساتھ ر
اٹھا کر دیکھا ۔ ا ۔چچا باہر سے آرہے تھے انکی باہوں کے گھیرے میں  لپٹی سسکتی  ماہ گل کو دیکھ کر وہ گھبرا کر گھڑی ہوگئیں ۔وہ ہنستے ہوئے بولے ۔" لو دیکھو باہر سے ہی چلی جارہی تھی  میں نہ دیکھتا تو تم سے ملے بنا ہی چلی جاتی ۔لاؤ کچھ چائے ناشتہ کر وائو میری بیٹی اتنے دنوں بعد گھر آئی ہے " وہ اسے لیئے ہوئے تخت پر بیٹھ گئے ۔اور چچی جان کو  ہواس میں واپس آنے میں کافی دیر لگی ۔ 
۔
ختم شد


Friday, March 21, 2014

 "جن سے ملکر زندگی سے عشق ہوجائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں ،مگر ایسے بھی تھے ۔

 مصنٖف مدّبر مفکر مذہبی رہنما ۔مولانا مجتبیٰ علی خاں ایک ایسی باکمال ہستی تھے جو بر سوں میں پیدا ہوتی ہے ۔ مزاح کی حس ان میں بدرجہ اتم مو جود تھی ۔ہر چیز کا مزاق اڑا نا گو یا انکا شیوہ تھا ۔زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی
ہائے کیا لوگ تھے جو دام ِ اجل میں آئے ۔                        نام
 لیتے ہی آواز بھرّا نے لگتی ہے ،قلم تھر تھرانے لگتا ہے ۔یہ ایک ایسا نام ہے جو ہر لمحہ دل سے لپٹا ہوا ہے ۔اب تو برس نکل گئے پر لگتا ہے ابھی کی بات ہے ۔"سچ بتایئے کیا ہوا ہے "؟؟
"کیا بتاؤں "؟ ایسے ہی گھومتے گھومتے دل بھر گیا تو پل بھر کو اسپتال میں ٹھہر گیا ۔۔لکھنؤ سنجے گاندھی انسٹی ٹیوٹ والے بھیج رہے ہیں دہلی " وہ ادھر فون پر ہنس رہے تھے ۔۔۔       ۔کھو کھلی ہنسی ۔۔۔۔پھر ایک دن اچانک آگئے ۔
"صحیع صحیع بتایئے ۔۔۔دہلی کیو ں آئے  ہیں ؟؟؟"
"بس یونہی گھومنے۔۔۔۔تجھ سے لڑ نے کا دل چاہ رہا تھا ۔وہ صوفے پر لیٹے گھونٹ گھونٹ پانی پی رہے تھے ۔ ۔۔۔قطب مینار نہیں دیکھا ہے ابھی تک "  وہ میری باتوں کو ایسے ہی اڑا دیا کرتے تھے  میں انکی صورت دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ایکدم کمزور ہوگئے تھے ۔۔۔۔چہرے کی ازلی چمک غائب تھی انکھوں میں ایک انجانی تھکن اتر آئی تھی ۔۔۔۔"ملنے تو آپ خاک آئینگے ۔۔۔بلاتے بلاتے تھک گئی میں ۔۔مگر آپکو فر صت کہاں ۔۔۔"میں چائے کا پانی چڑھا کر واپس کمرے میں آئی ۔۔۔وہ سارے کمرے میں گھوم کر بچّوں کی تصویریں دیکھ رہے تھے ۔
"سارے کے سارے غایب ہیں ۔۔۔۔"؟
"ہاں بھئی دو کو تو انکی گھر داری فر صت نہیں دیتی اور تیسری اپنی ملازمت پر ۔۔۔گاجر کا حلوہ کھائینگے ؟؟"
"ہاں ۔۔۔۔جیو ۔۔"انھوں نے کود کر نعرہ لگایا ۔۔۔مینے باول لاکر رکھّا اور تشتری لینے پھر باورچی خانے چلی گئی ۔ واپس آئی تو وہ صوفے پر آرام سے پالتھی مار کر بیٹھے تھے اور باول سے ہی کھانا شروع کر چکے تھے ۔مجھے دیکھ کر مسکرائے ۔انکی مسکراہٹ جھوٹی تھی ۔۔۔
کیا ہوا ہے ؟؟ بتا تے کیوں نہیں ؟؟"میرے اندر اچا نک خوف امنڈ آیا ۔مینے انکا سر سینے سے لگا لیا ۔۔۔
اور وہ ساکت ہوگئے ۔۔۔وہ روئے نہیں آواز بھاری ہوگئی
"یار ۔۔۔لوگ کہتے ہیں گردہ خراب ہو رہا ہے " انھوں نے سر چھپائے چھپائے جواب دیا ۔
گھبرانے کی بات نہیں ۔۔"  میرا ہاتھ پکڑ کر پاس بٹھا لیا ۔
جلدی سے اٹھکر بیگ کھولا ایک کتاب مجھے دی اور ایک کیسٹ نکالا ۔میری طرف دیکھا میں پھٹی پھٹی نظروں سے انھیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
"ارے ٹھیک ہوجاؤنگا ۔۔۔مت گھبراؤ ۔۔۔ٹرانسپلانٹ ہو جائے گا نا ؟؟ بالکل صحیع ہو جاؤنگا ۔۔۔"
"میرا گردہ لے لو بھیّا ۔۔ٹھیک ہوجاؤ ۔۔"میری چیخیں نکلنے لگیں تھیں ۔۔
"ضرورت پڑی تو وہ بھی کرونگا ۔۔اب پلز میری بات تو سنو ۔۔۔دیکھو اس کیسٹ میں کیا ہے ۔۔۔" کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑائی اور ایک کونے میں رکھّا ٹیپ ریکارٹر اٹھا لائے ۔کیسٹ لگا دیا کمرے میں ایک غزل کے بول سر سرا نے لگے ۔۔۔آواز میری تھی ۔۔
"یہ کب ٹیپ کی آپ نے ۔۔۔۔"مینے آنسو انھیں کی آستیں سے پونچھے ۔۔
"دیکھا ۔۔۔دیکھا ۔۔۔"وہ خوب خوش ہوئے ۔۔
"یاد نہیں جب دوسال پہلے میرے پاس تھیں تو بچّونکو غزل سنا رہی تھیں مینے ٹیپ کر لی ۔۔۔"وہ اپنے کارنامے پر خوش تھے ۔
غزل ختم ہوئی تو اٹھکر کیسٹ نکالا اور اپنے بیگ میں ڈال لیا ۔۔۔میں پھر رونے لگی ۔۔
"آج مت جاؤ پلیز ۔۔۔۔" مینے لاڈ سے گلے لگ کر کہا ۔۔۔
"جانے دو ۔۔ایک دوست بھی ہے ساتھ ۔۔۔اب تو آتا رہونگا دہلی ۔۔۔چکّر لگتے رہینگے ۔۔۔میرا جانا مشکل مت کرو "
 اپنی ہتھیلیوں سے میرے آنسو صاف کیئے اور بولے
"کھانا وانا نہیں کھلاؤ گی ؟؟'مینے باول پر نظر ڈالی  سارا حلوا ۔ویسا کا ویسا رکّھا تھا ۔۔"کھایا کیو ں نہیں ؟؟'
"بس بھوک نہیں لگتی ۔۔'وہ تھک کر لیٹ گئے ۔کھانے کا اتنا شوقین میرا بھائی ۔۔۔۔ایسی بات کہہ رہا تھا ۔۔میرا دل چاہا اسپر قربان ہو جاؤں ۔
 ۔پھر کچھ دنو ں بعد سنا کہ آپالو میں اڈمیٹ ہیں ۔
فون پر بات بھی ہوئی ۔
"کیا ہو گیا ہے ؟؟؟ کیو ں اسپتال میں ہیں آپ ؟؟"
"یہا ں کے ڈاکٹر بڑے مہر بان ہیں ۔۔اچھا لگتا ہے انکے درمیان رہنا ۔۔۔تم کب آؤگی ملنے ؟؟"
وہ بات کرتے کرتے ہنس رہے تھے یہا ں میری آنکھو ں سے جھڑی لگی تھی ۔
کس قدر ہر دل عزیز تھے ۔۔۔کیرم کھیلتے تو خوب بے ایمانی کرتے اپنی گو ٹیں پار کر دیتے ۔۔۔اور ہم سب چلّا تے رہ جاتے ۔کیرم کے بورڈ پر سجی ہوئی نو گو ٹیں تھے ہم لوگ ۔۔۔وہ تو بہار تھے  گھر کی ۔۔۔۔
چاہے سر دیا ں ہوں یا گر میاں بر سات ہو یا کڑکتی  دھوپ ۔۔۔انکے ساتھ زندگی ہمیشہ سترنگّی رہی ۔۔۔۔
آدھی رات کو اٹھ کر حلوہ کھانے کو دل چاہنے لگتا انکا ۔۔۔۔
چلو اٹھو سب ۔۔حلوہ بناؤ بھکوک لگی ہے ۔
آج میٹھی ٹکیا ں کھا نی ہیں ۔۔۔بھینس کے دودھ کے پتیلے سے ساری بالائی اتار کر پیالہ بھر لیتے ۔۔۔۔اور کسی کو ایک چمچہ نہ کھانے دیتے ۔۔۔بچپن میں تو سب بتاتے ہیں کہ شکّر کے بو رے میں گھس جایا کرتے تھے ۔۔اور بیٹھے شکّر کھا یا کرتے ۔۔۔۔
صبح صبح سبکو اٹھا کر آنگن میں ہی کر کٹ شروع ہو جاتا ۔۔۔
کڑا کے کی سر دی میں لحاف کھینچ کر اٹھا دیتے
"چلو چلو ۔۔۔کھیل شروع ہو گیا ہے ۔۔۔۔"
مجھے لگتا تھا کہ انھیں دیکھے بنا تو سو رج بھی نھیں نکلے گا یکا یک سر سبز و شاداب ہنستا کھیلتا  جسم یو ں اندر سے ایک پرزہ ٹوٹ جانے سے تباہی کی طرف مائل ہوگا   کسی نے سو چا بھی نہ تھا ۔
مگر سو رج تو آج بھی نکلا ہے  دھوپ کڑی ہے ۔
پتہ چلا گر دے خراب ہو گئے ہیں ۔۔سارے بہن بھائی گردہ دینے کے لیئے ٹسٹ کروا رہے ہیں ۔۔۔میچ نہیں مل رہا ۔۔۔
18 برس کا بیٹا سامنے آگیا ۔۔۔
"ڈاکٹر صا حب ۔۔میرا  ٹسٹ کر لیجئے ۔۔۔میرے ابّو کو بچا لیجئے ۔
نرم چہرے پر بیقراری رقم تھی ۔۔۔وہ تو اولاد ہے ۔۔۔یہا ں تو غیر اسپتال کے باہر کھڑے ہیں قطار میں ۔۔۔۔
میں انکے پاس بیٹھی تھی ۔۔آنسو روکنا مشکل تھا ۔۔بے حد کمزور ہوگئے تھے ۔انکی ساری نسیں دکھائی دے رہی تھیں ۔گول طباق سا چہرہ ایکدم پتلا اور کمزور ہوگیا تھا ۔"۔بچّو ں کو بھی لے آتیں ۔۔دیکھ لیتا ۔۔ ہونٹوں پر نرم سی مسکراہٹ تھی  ۔۔۔"ایئنگے نا بچّے ۔۔گر میوں کی چھٹیوں میں آٌپکے پاس ۔۔۔بہت دن رہیئنگے ۔۔"اچھاَ۔۔۔۔"۔
سبکو پو چھ رہے تھے ۔۔۔اپنی کمزور ذرد انگلیوں سے میرے آنسو پو چھ دیے ۔۔
"ابھی۔۔ تو مت روؤ ۔۔۔۔۔۔"میری آنکھیں سو ج رہی ہیں کچھ ٹھیک سے دکھائی بھی نہیں دے رہا ہے ۔انکا ۔کھا نا پینا کم ہو گیا ۔   ۔پو چھا تو بولے ۔۔
"اپنے حصّے کا کھا چکا ہو ں " ہونٹو ں پر پھر بھی مسکرا ہٹ قائم ۔۔۔مینے پلیٹ میں سر جھکا لیا ۔۔لقمہ حلق میں اٹک رہا ہے ۔۔وہ کیسے تھے کیا تھے لکھونگی تو ورق کے ورق سیاہ کر دونگی ۔۔۔اور پھر بھی بات پوری نہ ہوگی ۔۔ایک عالم تھے ۔۔ ۔۔۔سیکڑوں کتابوں کے مصنّف تھے ۔۔کئی اسکول انکی وجہ سے چلتے تھے ۔۔۔
کیا کیا لکھ سکتی ہوں ؟ ۔۔میں صرف جدائی کا لمحہ رقم کرتی ہوں ۔
وہ وقت بھی بیت گیا اور ابھی ایک فون آیا ہے ۔۔۔۔
سب ختم ہو گیا ۔۔۔۔کچھ نہیں بچا ۔
کیرم کا اسٹایئکر گم ہو گیا ۔۔۔سارے کھیل رک گئے ۔۔یہ کسنے میرے پیروں میں انگارے باند دیئے ہیں ۔۔میرے دل کے قریب آگ سلگ رہی ہے ۔۔۔
میرا پیارا میرا لاڈلا بھائی ۔۔۔میرا ماں جایا ۔۔سب کو ہرا تا ہوا سب سے آگے نکل گیا ہے ۔۔۔۔

مگر مجھے لگتا ہے وہ ہر وقت آس  پاس ہیں ۔۔یہیں کہیں ہیں ۔میرے قریب ہیں ۔
ختم شد۔

Wednesday, March 19, 2014

عید ِ سعید 
عید کی ساری شاپنگ بستر پر بکھری پڑی تھی ،عالیہ نے ایک نظر سامنے رکھّے ہوئے بیگس پر ڈالی ابھی تو بہت سارا سامان بیگ میں ہی پڑا تھا ،ڈیکو ریشن پیسز ،کشن کور ،کٹ گلاس کا سامان ۔۔۔اسکے کھلنے کی تو ابھی باری ہی نہیں آئی تھی ۔
وحید کے آنے میں بس اب دو دن ہی باقی تھے وہ چاہتی تھی کہ اسکے آنے سے پہلے سارا گھر سج جائے ،اک نئی تازگی اک نیا احساس  جو وحید کو اسکے  پاس ذیادہ سے ذیادہ  دن گزارنے پر مجبو ر کر دے ۔
اسکے لیئے تو عالیہ سارا عالم خرید لینا چا ہتی تھی ۔کپڑوں کی الماری نیئے ڈیزاین والے منہگے بوتیک سے خریدے ہوئے کپڑے بھر ے پڑے تھے مگر پھر بھی وہ ڈھیر سارے نیئے کپڑے خرید لائی تھی ۔اسٹایئلش جوتے ،برانڈیڈ کمپنیوں سے میک آپ کا سامان اور نہ جانے کیا کیا الم غلّم  ۔۔۔۔۔ اور ابھی بھی دل نہیں بھرا تھا ۔۔۔
دروازے کی گھنٹی بجی تو وہ چونک گئی ۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
"وہ مدرسے والے آئے ہیں چندہ لینے " شبّو نے روبٹّے سے ہاتھ صاف کر تے ہوئے بتا یا ۔
"ارے بھئی کہہ دو گھر پر کوئی نہیں ہے بعد میں آئیں "اسنے جھنجھلا کر کشن دوسری طرف پھینکا ،
اور ڈریسنگ ٹیبل کا سامان سیٹ کر نے لگی ۔۔
بر سات کی شامیں ویسے ہی اداس ہوتی ہیں ۔تیز بارش سے   جل تھل ہورہاتھا ۔ایک سیلی سی ٹھنڈک ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔اسنے باہر آکر گاڑی نکالی ہی تھی کہ سامنے گیٹ کے پاس بیٹھے ہوئے علیم الدین پر نظر گئی ۔وہ بری طرح کھانس رہے تھے ۔عالیہ نے ایک نظر ان پر ڈالی اور گاڑی تیزی سے باہر نکال لے گئی ،علیم الدین اسے دیکھ کر الر ٹ ہوگئے تھے ۔
کافی سامان لیکر جب وہ واپس آئی تو رات کی سیا ہی پھیلنے لگی تھی ۔شبّو لیونگ روم میں کارپٹ پر بیٹھی اونگ رہی تھی ۔اسے دیکھتے ہی ایک دم سے اٹھ کھڑی ہوئی ،
"بی بی جی ! ابّا کی طبیعت بہت خراب ہے "اسکی آواز میں آنسوبول رہے تھے ۔
"ہاں ۔۔تو کسی ڈاکٹر کو دیکھا لینا کل جاکر ۔۔۔۔یہاں کیا ہوسکتا ہے "مگر بی بی جی ۔۔۔پیسے ۔۔۔"اس معصوم کو تو مانگنے کا بھی سلیقہ نہ تھا ۔۔بس بھکاریوں کی طر ح ہاتھ پھیلا دیے ۔
عالیہ نے چند نوٹ اسکے ہاتھوں پر رّکھے اور اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھ گئی ۔
اف ۔۔۔۔کیا مصیبت ہے ہر وقت مانگنے کی عادت پڑ گئی ہے ان لوگوں کو "اسنے کوفت سے سر جھٹکا اور اندر جاکر اپنا لایا ہوا سامان سیٹ کر نے بیٹھ گئی ۔
صبح صبح وحید کے آجانے سے گھر میں رونق سی ہوگئی ۔بچّوں نے پورے گھر میں ادھم مچایا ہوا تھا ۔وہ خود بھی      بچو ن کے ساتھ بچّہ بن بیٹھا تھا ۔۔۔ایک خوشگوار سی چہل پہل ہر طرف نظر آرہی تھی ۔
شبو بار بار چائے بنا رہی تھی حالانکہ خود اسکا روزہ تھا مگر مالک لوگوں کو جو بھی چاہیئے وہ اسکی ڈیوٹی میں شامل تھا ۔
ساتھ ہی ساتھ وہ صبح کے لیئے شیر خرمہ اور بر یانی کا مصالحہ بھی بناتی جارہی تھی ۔اسکی آنکھیں متوّرم اور رنگ پیلا پڑ رہا تھا ۔لیکن کسی کے پاس اسکی ادا سی کا سبب جاننے کے لیئے وقت نہیں تھا ۔شام ہوتے ہوتے وحید کے دوستوں سے لیونگ روم بھر چکا تھا ۔علیم الدین گیٹ پر نظر نہیں آرہا تھا ۔اندر چاند رات کی خوشی میں عبادتوں کے بجائے جام چھلک رہے تھے ۔
ہر ایک اپنے آپ میں مگن تھا ۔بلند وبانگ قہقہوں سے سارا گھر گونج رہا تھا ۔
شبّونے کئی بار آکر بات  کرنے کی کوشش کی مگر مایوس ہوکر اپنے کواٹر میں چلی گئی ۔
ایک بار عا لیہ نے وحید سے ہلکی آواز میں بتایا کہ علیم کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ایکبا ر اسے دیکھ لیں مگر وہ اپنے ایک پرانے دوست سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولے "ارے ہزار دوہزار دے دو جاکر کسی کو دکھالے ۔۔۔وقت کس کے پاس ہے جانم " اور بے ہنگم ہنسی ہنستے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئے ۔
٭٭٭٭٭٭
وحید چودھری  اپنے گاؤں سے شہر پڑھنے کے لیئے آئے تھے اسی وقت سے علیم الدین انکی خدمت پر معمور تھے جب وحید نے شادی کی تو گھر میں ایک عورت کام کے لیئے چاہیئے تھی اس لیئے ۔ اسنے اپنی بیوی اور بچی کو بھی یہیں بلا لیا تھا ۔بیوی کے انتقال کے بعد وہ اور بھی اکیلا ہوگیا ۔شبّو اسکی زندگی کا سہارا تھی اور اسکا بھی دنیا میں کوئی نہین تھا ۔بس باپ بیٹی ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی بن گئے ۔
وحید چودھری  اپنی تعلیم ختم کر کے ملک سے باہر چلے گئے تو عا لیہ کے لیئے وقت گزارنا مشکل ہوگیا ایسے میں شبّو نے ان کا بہت ساتھ دیا ۔
٭٭٭٭٭
مگر اسکا ساتھ دینے والا اس وقت کوئی نہ تھا ۔۔وہ اپنے باپ کو قطرہ قطرہ مر تے دیکھ رہی تھی ۔اور ادھر عید کا جشن چل رہا تھا ۔
عید کی صبح آسمان بادلوں سے بھرا تھا ۔پھر زور شور سے بارش شروع ہوگئی ۔اسکے باوجود ہر طرف عید کی نماز کی تیاریاں ہو رہی تھیں ۔لوگ مجمع کی صورت میں مسجد کا رخ کررہے تھے ۔خطبہ شروع ہوچکا تھا ۔
"رمضان کے اس مبارک مہینے میں ہر رات آسمان سے ندا آتی ہے کہ خیر چاہنے والے خوش ہوجا اور برائی کے طالب رک جا اور اپنے نفس کو گناہوں سے باز رکھ ،اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حضور ِ پاک کے طریقے پر چلنے کی توفیق عطافرما ،عید کی خو شیاں منانے سے پہلے ہم اپنے آس پاس دیکھ لیں کوئی غریب بے سہارا تو نہیں ۔۔۔۔پڑوسی بھوکا تو نہیں ۔۔۔صدقہ فطرہ اور ذکواۃ اسی لیئے عائد کی گئی کہ کوئی مسلمان بھا ئی        کم از کم عید کے دن رنج کی حالت میں نہ رہے ۔"بارش نے زور پکڑ لیا تھا ۔علیم الدین کی سفید جالی دار ٹوپی جو شبّو نے کل دھوکر ڈالی تھی الگنی سے اڑکر کیچڑ میں جا پڑی تھی ۔
علیم الدین نے جب آخری ہچکی لی تو نماز شروع ہوچکی تھی ۔شبّو سرونٹ کواٹر کے دروازے کو تھامے سسکیاں لے رہی تھی ۔مالکوں کو نیند سے جگانے کی ہمّت نہیں تھی اسمیں ۔
وحید چودھری کے گھر والے سکون کی نیند سورہے تھے ۔دوپہر کو اٹھ کر تیّار ہی تو ہونا تھا ۔۔۔۔۔عید کے لیئے ۔
ختم شد