Sunday, May 10, 2020

مرگ انبوہ۔ذوقی

مرگ انبوہ۔
مشرف عالم ذوقی ۔
یہ ناول حال اور مستقبل کا آئینہ بھی ہے اور ایکیسویں صدی کی تاریخ بھی یہ ایک نوحہ ہے مشرف عالم ذوقی کاقلم کبھی چیخ کر روتا ہے اور کبھی ہلکی ہلکی سسکیاں بھرتا ہے ۔اور پوری ناول اس کے آنسوں میں تر ہے ۔اس
جنریشن کے اپنے مسائل ہیں جو کہ وہ کسی کے ساتھ شئیر بھی نہیں کرنا چاہتے بلکہ عقل کل بن بیٹھے ہیں ۔
وہ اپنے والدین کی غلطیاں تو پکڑ لیتے ہیں مگر ان کو یہ نہیں معلوم کہ وہ خود زندگی میں کیا کریں گے ۔
سیاست اپنی چال چل رہی ہے ماما شکونی نے نفرت کے پانسے پھینک دئے ہیں اور عیار مسکراہٹ سے بھارت ماتا کا چیر ہڑن کرنے کی تیاری میں ہے ۔نفرتوں نے چہرے منسخ کر دیئے ہیں ۔نفرت جو کہ بر سوں بوئی جاتی ہے اور اسے کاٹنے کے لئیے بھی نسلیں درکار ہوتی ہیں ۔گھروں کو جلتا دیکھ کر کوئی آگے نہیں بڑھتا مگر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس آگ بجھانے کی کوشش میں ہتھلیاں جھلس جانے پر بھی قلم نہیں روکتے سچ کہتے ہیں اور سچ ہی سننا چاہتے ہیں۔ان ہی لوگوں میں ایک واضع نام مشرف عالم ذوقی کا ہے جو اپنے قلم کو آہوں اور آںسوں کے درد میں ڈبو کر لکھتے ہیں ۔بے لاگ لکھتے ہیں بے خوف لکھتے ہیں ۔
شہروں کے ناموں کی تبدیلی کا ذکر بھی ہے ۔اور مسلمانوں کے قتل عام کا بھی ۔کشمیر کی وادیوں میں کراہتی مجبوریوں اور دردناک حالات کو بھی لکھتے ہیں اور زعفرانی رنگ کے پھیلتے دائرے بھی نظر میں ہیں ۔
شہروں کے نام اس طرح تبدیل کئیے جا رہے ہیں جیسے ان پرانے ناموں کو کچل کچل کر صفحہء ملک سے مٹایا جارہا ہو ۔
۔کشمیر میں ان سوکھے ہوئے آنسووءں کا بھی ذکر ہے جنکا بے رونق چہروں پر بس نشان باقی ہے ۔جہاں روز جنازے اٹھتے ہوں وہاں کوئی کہاں تک روے گا ۔۔مگر اس کتھا نے صاف الفاظ میں ہر ظلم کا ذکر کیا اور پہروں رُلایا ۔
وہ تلخیاں جو عرصے سے سینوں میں کہرام مچا رہی تھیں مشرف عالم ذوقی نے ان تلخیوں کو سپرد قلم کیا ہے۔
ان کا یہ جراءت مندانہ قدم قابل قدر اور اردو ادب میں ایک لازوال اضافہ ہے ۔
        لکیر دل پر دور تک کھنچتی چلی گئی ۔  ۔بس دھویں کی ایک سر مئی 

No comments:

Post a Comment