Sunday, May 14, 2017

یہ رابطے دل کے ۔۔۔۔
"صاحبزادی لوٹ کر گھر آگئی ہیں "چچا نے ہاتھ دھوکر کھانے کے لئے تخت پر بیٹھتے ہوئی اطلاعً زور سے کہا ۔
روٹی کی ڈلیا کھولتے ہوئے چچی جان کا ہاتھ دم بھر کو کانپ گیا ۔
"حد ہوتی ہے بے غیرتی کی ۔ہنہہ ۔۔" چچا نے سالن کا ڈونگا اپنی طرف کھسکایا ۔اور پلیٹ سیدھی کی ۔
'آپکو اسقدر غصّہ کیوں ہے ۔۔۔۔۔"چچی جان نے "آپکو "پر زور دیتے ہوئے انکی جانب نگاہ کی ۔
انھو ں نے قہر بر ساتی نظروں سے چچی جان کو دیکھا ،انکا چہرہ سر خ ہوگیا تھا اور آنکھوں میں بے انتہا نفرت کا احساس تھا ۔
"کیوں ہے ۔۔؟ آپکو نہیں معلوم رضیہ بیگم غصّہ کیوں ہے۔۔۔؟غیرت دار آدمی ہوں بے غیرت نہیں ہوں اور لوگوں کی طرح ۔۔۔"انھوں نے چمچہ دستر خوان پر پٹخا ۔
"باپ دادا کی پگڑی اچھال کر وہ بے غیرت ۔۔۔۔اور باقی لوگ صبر کئے بیٹھے ہیں ،میری بیٹی کرتی ایسا ۔۔یہیں اسی جگہ زمین میں دفن نہ کر دیتا تب کہتیں ۔۔۔"
"اللہ نہ کرے ۔۔" چچی جان نے دہل کر سینے پر ہاتھ رکھ لیا ۔
"اور تم پر تو انہی لوگوں کا رنگ چڑھا ہے غیرت اور عزّت جیسے الفاظ تم کیا سمجھو گی ۔۔۔"حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اپنی بات میں اضافہ کیا ۔
"اور خبردار جو یہاں سے کوئی ملنے گیا ۔۔یا وہ اس چوکھٹ پر چڑھی ۔۔۔۔"
٭٭٭٭٭٭٭
دکھ سا دکھ تھا انکو ۔۔؟ ننھی سی جان انکے ہاتھون میں پل کر تو جوان ہوئی تھی وہ ۔۔۔
پرانے زمینداروں کی طرح ظہیر علی خاں اور فیصل علی خان میں مقدمہ بازی تو چلتی رہتی تھی ۔زمین جائیداد کے قصّے کس جاگیر دار خاندان میں نہیں ہوتے ؟بڑی بڑی باتیں ہوجاتیں ،قتل تک ہوجایا کرتے تھے ۔
ان دونوں بھائیوں میں بھی بر سوں سے مقدمے چل رہے تھے ۔آگ میں تیل ڈالنے کا کام گاؤں والے بہت مہارت سے کرتے اور فایئدہ اٹھاتے ۔باتیں ادھر کی ادھر کرنے میں دیگر لوگوں کا بڑا ہاتھ تھا اور باتیں بھی اس طرح پیش کی جاتیں کہ دونوں بھائی کھول کر رہ جاتے مگر وضع داری کا یہ عالم تھا کہ جب مقدمے کی تاریخ پڑتی تو ایک دوسرے کو کہلوا بھیجتے کہ
"ہم نے گاڑی نکلوالی ہے ساتھ ہی چلئیے گا ۔۔"
اور دونوں بھائی ساتھ بیٹھ کر دنیا بھر کی سیاست پر باتیں کرتے کچہری پہونچتے ۔۔۔بحث ہوتی وہ بھی کرتے ۔۔۔پھر تاریخ پڑ جاتی تو دونوں ایک ساتھ واپس بھی اسی گاڑی میں آجاتے ۔
آم کی فصل میں ایک دوسرے کے گھر آمون کی دعوت ہوتی۔ اہتمام سے نذریں ہوتیں ،تو ایک دوسرے کو بلایا جاتا ۔عقیدت سے کھانا کھایا جاتا ۔کسی بچّے کی تقریب ہوتی تب بھی سب ملکر مناتے ۔عید کی نماز دونوں بھائی ساتھ ہی ادا کرتے اور سب بچّوں کو عیدی دیکر ہی فیصل علی خان اپنے گھر جاتے ،وہ اپنے بڑے بھائی کی بے حد عزّت کرتے تھے اور بچّوں سے بے پناہ محبّت بھی ۔۔۔جب سے بڑے بھائ کی بیوئی کا انتقال ہوا تب سے چچی جان کا ذیادہ تر وقت ان بچّون کی دیکھ بھال میں گزرنے لگا ۔
خاص کر ارم تو انکی لا ڈ لی تھی ۔
دکھ سا دکھ تھا انکو؟؟
٭٭٭٭٭٭٭
ننھی سی ارم بن ماں کی بچی،جب انکی اپنی بیٹیاں نہائی دھوئی صاف ستھری فرا کیں پہنے اڑتی پھرتیں تو وہ آجاتی ۔میلی کچیلی فراک پیروں میں دھول سر میں جوئیں ۔۔۔
وہ اسکا سر صاف کرتیں نہلاتیں نئی فراک پہنا کر بنا سنوار دیتیں ۔
اسکی حالت دیکھ کر انکا دل پھٹتا  تھا کیسے ٹوٹی چپل پہنے پھرا کرتی۔
کس چیز کی کمی تھی وہاں ؟سوا ایک عورت کے ۔
اسکی چپل اتروا کے اسے سینے بیٹھ جاتیں ۔
"ارے کیا کر رہی ہو ؟دوسری چپل پہنا دو اسکو ۔۔"وہ اخبار ہٹاکر محبّت سے اسے تکتے ۔۔۔
"رہنے دیجیے ۔۔بھائی جان کو اچھّا نہیں لگے گا ۔میں ابھی ٹھیک کیئے دیتی ہوں ۔"
ایسا نہیں تھا کہ وہاں کسی چیز کی کمی تھی ۔کپڑے صندوقوں میں بھرے تھے جوتے چپل بے شمار ۔۔۔کوئی معاشی مسئلہ نہیں تھا ۔مسئلہ تو بس اتنا تھا کہ ظہیر علی خان اور طرح کے آدمی تھے وہ بچّو ں کو دیکھ نہیں سکتے تھے سب نو کروں کے ہاتھ میں تھا ۔
جب ارم کے کان چھدے اور خیال نہ ہونے کی وجہ سے پک گئے تو وہ انہیں کے پاس دوڑی آئی
"بہت درد ہورہا ہے چچی جان ۔۔۔"
اور چچی جان نے بزرگوں کا بتایا ہوا نسخہ آزمایا ۔
اس وقت ارسل سب سے چھوٹا بیٹا پیدا ہوا تھا ۔انھوں نے جھٹ ارم کو گود میں لیکر لٹا لیا اور اسکے کانوں کی لوؤں پر دودھ کی دھاریں ڈا لیں ،وہ سکون سے انکی گود میں ہی سوگئی اور وہ کئی گھنٹوں تک گھٹنا ہلائے بغیر بیٹھی رہیں ۔
صبح کی اوس جمع کر کے کانون پر لگائی ۔۔ہومیو پیتھی کی دوائیں کھلائیں ،جب تک اسکے کان ٹھیک نہیں ہوئے بے قرار رہیں ۔
"وہاں کسی کو فکر نہیں تو تم کیوں دبلی ہوئی جاتی ہو  فکریں کر کر کے ؟"
"سبھی بچّے ہیں وہاں بھائیجان کے پاس وقت کہاں ۔۔۔جو یہ سب دیکھیں ۔۔۔کیا ہوا جو میں ۔۔۔۔بن ماں کی بچّی ہے "
بولتے بولتے انکی آنکھیں آنسوں سے بھر جاتیں سر جھک جاتا ۔۔۔۔
"ٹھیک ہے ۔۔کرو خدمتیں ۔۔کوئی ماننے والا نہین ہے وہاں تمہاری بے لوث محبّت کو "
"میں کسی کو منوانے کے لیئے نہیں کرتی یہ تو دل کے رابطے ہیں ۔۔۔"انکی آواز دھیمی ہوتی چلی جاتی ۔
کنگھی کر کے چوٹی گوندھ دیتیں وہ صاف ستھری ہوکر چمک اٹھتی۔۔۔۔
 آ نگن میں لگے بیلے اور موگرے کے پھولوں کو گوندھ کر گجرے بنا لاتی ۔۔۔کبھی انکے بالوں میں اور کبھی ہاتھوں میں پہنا دیتی اور وہ اس خوشبو سے مسحور بیٹھی رہتیں ۔
وقت گزر تا رہا ۔عامر کی تعلیم اب ختم ہوگئی تھی اسنے ایک فلیٹ شہر میں لے لیا تھا اور نوکری کی تگ و دو میں مشغول تھا ۔
چچی جان کی نظر کے زاویئہ بدل گئے تھے وہ ارم کو اپنی بہو بنانے کے خواب دیکھنے لگی  تھیں ۔وہ عامر کا ہر انداز پہچانتی تھیں کہ ارم کو دیکھ کر اسکی انکھون میں جو معصوم سی چمک د ر آتی اسکا کیا مطلب ہے وہ اسکے انداز خوب پہچانتی تھیں ۔اپنے بچّوں میں سب سے ذیادہ پیارا تھا انھیں ۔۔۔
وہ بس عامر کی ملازمت کے انتظار میں تھیں ۔وہ گاؤں میں نہیں رہنا چاہتا تھا ،حالانکہ اب گاؤں پہلے جیسا تاریک نہ رہا تھا ۔ہتھیلیوں سے چراغ ،انگلیوں سے لالٹینیں نکل کر دیواروں پر بلب اور سی ۔ایف ۔ایل بنکر اجالے بکھیر رہے تھے ۔ہاتھوں کے بنے رنگ برنگے پنکھّے اب سیلنگ فین بن گئے تھے ،گھڑونچی کی جگہ اب واٹر کولر اور ایکوا گارڈ نے لے لی تھی بڑی خوبصورت تبدیلی تھی مگر عامر جانتا تھا کہ حالات بدل گئے ہیں اب ملازمت کے بغیر کام نہیں چل سکتا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اور جب انھیں ارم کی شادی کی خبر ملی تو وہ دل پر ہاتھ رکھ کرزمین پر بیٹھتی چلی گئیں ۔ بڑی عجیب ناقابل ِاعتبار بات تھی ۔کہ اسنے خود کسی کو پسند کر لیا اور بھائیوں بہنوں کی مر ضی کے خلاف  نکاح ہو گیا ۔
۔ عامر آکر خاموشی سے انکی مامتا بھری گود میں لیٹ گیا ۔وہ اپنی کانپتی انگلیوں سے اسکی پلکوں سے دکھ چنتی رہیں ۔وہ اسکے غم سے خوب واقف تھیں ۔
اسکے لب خاموش تھے اور انکھیں نو حہ کناں ۔
دکھ اور اذیت کے یہ دوسال بڑی مشکل سے کٹے بیان کر نا بیحد مشکل تھا اور وہ موگرے ،بیلے کے پیڑوں کو پانی دیے جاتیں ۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭
"بھائیجان کو تو برا حال ہوگا ۔۔۔"
وہ پھر حال میں آگئیں ۔۔۔
"برا حال ؟؟؟ خود بلایا ہے انھوں نے ۔۔۔۔دعوت کی ہے داماد کی ۔۔۔جاکے دیکھو کسقدر آؤ بھگت ہو رہی ہے ۔بیٹی داماد کی ۔۔
غصہ میں پانی کا گلاس پٹخا اور چیخ کر بولے ۔
"خود گئے تھے بلانے اس بد ذات وبے حیا کو ۔۔۔۔۔"
"چلیئے ٹھیک ہے اب ۔۔۔شادی ہونی تھی ہوگئی " چچی جان   صلح جو تھیں ۔
"ایسے ہوتی ہیں شادیاں ؟؟؟ بیٹی صاحبہ نے پسند کیا اور آپ نے جاکر نکا ح کروادیا ؟؟ نہ کسی سے رائے نہ مشورہ ۔۔۔خود انکے بڑے صاحب ذادے خلاف ہیں ۔۔گھر نہیں آئے ۔۔۔اچھّا ہے پھوٹ پڑے باپ بیٹے میں " وہ طنزیہ مسکرائے
چچی جان خاموش بیٹھی رضائی کی گوٹ پر انگلیاں پھیرا کیں ۔
عامر کو لڑکیاں دکھا دکھا کر تھک ئیں مگر اسکی ایک نا ۔۔۔ہاں میں نہیں بدلی ۔۔۔وہ سب جانتی تھیں مجبور تھیں ۔۔۔افسردہ تھیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭
شام ہورہی تھی ڈیوڑ ھی میں اندھیرا سا تھا ۔۔تب انھوں نے دو برس کے بعد اسے دیکھا ۔۔۔
وہ سر جھکائے کھڑی تھی ہلکا نیلا سوٹ ہاتھوں میں کانچ کی چوڑیاں ہلکے ہلکے لرز رہی تھیں ۔چچی جان نے گھبرا کر اندر کی طرف نظر کی ۔وہ شاید مطا لعے میں مشغول تھے کمرے کا دروازہ بھڑا ہوا تھا لائٹ جل رہی تھی ۔
دالان میں عامر لیٹا ہوا تھا ۔وہ سلام کر کے خاموش کھڑی رہی ۔انھوں نے بغور اسے دیکھا بہت کمزور نظر آئی اپنے آنسو چھپا کر اسے گلے لگا لیا ۔
پھر اسے وہیں چھوڑ کر جلدی سے باورچی خانے میں گئیں ۔رواج کے مطابق کچھ چیزیں لیکر آئیں اسکا انچل تھام کر ارد کی دال ،چاول ۔ایک بھیلی گڑ اور ایک سو کا نوٹ اسکے پلّو میں ڈالا پھر اپنا کپکپا تا ہوا ہاتھ اسکے  سر پر رکھ کربہت تکلیف سے بولیں ۔۔
"جیتی رہو خوش رہو ۔۔مگر اب یہاں کبھی مت آنا ۔۔۔"
اور دروازہ بند کر دیا ۔
واپس آکر آنگن میں بیٹھ گئیں اور کھر پی لیکر بیلے اور موگرے کے پیڑوں کو بے دردی سے کاٹنے لگیں آنسو بہتے جاتے تھے اور وہ پیڑوں کو گہرائی سے کھودتی جارہی تھیں ۔برامدے میں لیٹے ہوئے عامر نے سارا منظر نم آنکھوں سے دیکھا پھر ننگے پیر چلتے ہوئے آکر ماں کے پاس زمین میں بیٹھ گئے اور انکو ۔۔اپنے بازوں میں لپٹا لیا ۔
دروازے کی کنڈی ایک بار پھر کھڑ کی دونوں نے ایک ساتھ ا ۔ دیکھا۔چچا باہر سے آرہے تھے انکی باہوں کے گھیرے میں  لپٹی سسکتی  ماہ گل کو دیکھ کر وہ گھبرا کر گھڑی ہوگئیں ۔وہ ہنستے ہوئے بولے ۔" لو دیکھو باہر سے ہی چلی جارہی تھی  میں نہ دیکھتا تو تم سے ملے بنا ہی چلی جاتی "
۔ انکی آنکھوں میں شفقت چھلک رہی تھی اور آنسو چمک رہے تھے ۔
لاؤ کچھ چائے ناشتہ کر وائو میری بیٹی اتنے دنوں بعد گھر آئی ہے " وہ اسے لیئے ہوئے تخت پر بیٹھ گئے ۔اور چچی جان کو  حواس میں واپس آنے میں کافی دیر لگی ۔
٭٭٭
 


بے نشان ۔
وہ لندن کی ایک کہر بھر شام تھی ۔ارم کی امّی کا شدید بیماری کے بعد کل شام انتقال ہوگیا ۔درو دیوار سے سوگواری ٹپک رہی تھی ۔زندگی کے تمام ہنگامے سرد پڑ چکے تھے ۔سب مریم کو سنبھال رہے تھے مگر وہ ہاتھوں سے نکلی جارہی تھی ۔ دو دن اسی طرح درد برداشت کر تے ہوئے گزر گئے ۔یہاں کام رکتا نہیں تو آج سب اپنے اپنے کام پر نکل رہے تھے اُداسی اور پریشانی اپنی جگہ مگر جینے کے لیئے کام تو کر نا ہی تھا ۔گھر میں بس میں اور ارم ہی رہ گئے تھے جب وہ سسکتی ہوئی میرے کمرے میں آگئی ۔
"چچی  پلیز  مجھے قبر ستان لے چلیے ۔"
اسکی آواز میں آنسو گھلُ رہے تھے ۔
"ہاں ضرور چلوں گی مگر تم پہلے اپنے آپ کو سنبھالو ۔۔یہ حال جو تم نے بنا یا ہے بھابی ہوتیں تو کتنی پریشان ہوتیں ۔" میں نے اسکا سر سینے سے لگا لیا ۔
"دیکھو بی بی  چلے جانے والے کا اتنا غم نہیں کرتے کتنی نیک عبادت گزار تھیں وہ ۔یاد ہے کہ انکا چہرہ کتنا پرُ نور تھا ؟ سب یہی کہہ رہے تھے کہ گو یا سو رہی ہوں ۔انکا سکون بر باد مت کرو ۔ اسطرح دل دکھاتی رہو گی تو انکی روح تڑپتی رہے گی میری بچّی ۔انکے لیئے دعا کرو ۔" میں اسکو دھیرے دھیرے سمجھا رہی تھی اور اسکی سسکیاں میرے اندر تک اتر تی رہیں ۔
بن ماں کی بچّی کس قدر بے بس اور اکیلی ہوتی ہے مجھے اسکا بخوبی اندازہ ہے ۔
دوسرے دن سہ پہر کو علی جب آفس سے آئے تو ہمیں قبرستان لے گئے ۔ارم گاڑی سے اتر تے ہی علی کا ہاتھ تھامے بھاگتی ہوئی اس جگہ تک پہونچ گئی جہاں بھابی آرام کر رہی تھیں ۔وہ وہاں دوزانوں ہوکربیٹھ گئی ۔ بے تہاشہ رو رہی تھی ۔مجھے بھی آنسوں پر قابو نہ رہا ۔کچھ دیر بعد علی کو واپس جا نا تھا مگر ارم ابھی جانے کے لیئے تیّار نہیں تھی ۔میں نے علی کو واپس بھیج دیا ۔انکو کچھ کام کرنے تھے ۔سو چا واپسی پر ہم ٹیکسی کر لیں گے ۔
لندن کا یہ قبرستان گو کہ بہت صاف ستھرا اور روشن اور منّور تھا مگر تھا تو قبرستان ۔ایک عجیب سا سننا ٹا اور وحشت  ہر طرف ڈیرا جمائے ہوئے تھی ۔۔کنارے کئی پیڑ لگا ئے گئے تھے ۔بیچ بیچ میں کیا ریوں میں پھول بھی تھے  مگر خود رو گھانس کی صفائی روز تو نہیں ہوسکتی تھی ۔
کافی دیر تک ہم دونوں قبر کے پاس بیتھے دعائیں پڑھتے رہے پھر ارم ایک طرف پیڑ سے سر ٹکا کر بیٹھ گئی ۔بہت رولینے سے کچھ دل ہلکا ہوا تھا مگر سر میں درد محسوس ہو رہا تھا ۔دل ہی دل میں شاید ماں کے لیئے دعائیں کر رہی تھی یا باتیں کر رہی ہو ۔۔بند آنکھوں سے بھی آنسوں کے قطرے چہرے پر پھیل رہے تھے ۔
ہر طرف سننّا ٹا چھایا ہوا تھا ایکّا دُکا گاڑیاں آواز کرتی قریب سے  نکل جاتی تھیں ۔
درختوں کے کچھ بڑے پتّے قبروں پر سایہ کیئے ہوئے تھے ۔ایک طرف پیڑ کے نارنجی پتّے ایک قبر پر جھکے ہوئے تھے وہیں وہ بیٹھی تھیں ۔
سفید پوشاک پر سیاہ اسکارف لگائے ۔سرخ وسفید چہرہ اور متّورم آنکھیں ۔یہی کوئ چالیس پینتا لیس کی ہونگی ۔سر جھکائے خاموش اور اکیلی  قبر کے پاس  بیٹھی تھیں ۔میں نے ارم پر نظر ڈالی وہ پیڑ کے تنے سے ٹکی ہوئی کچھ پرُ سکون سی آنکھیں بند کیئے بیٹھی تھی میں اٹھ کر انکی طرف آگئی ۔
پاس بیٹھ کر انکا ٹھنڈا یخ ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر سہلاتی رہی ۔پھر بہت ہمتّ کر کے پوچھا ۔
"کون ہیں یہ بی بی ۔۔۔۔۔۔۔؟"
"میرا اکلوتا بیٹا ۔راحیل ۔۔۔"انھوں نے سسکی لی ۔
وہ ایک پرانی سی بنی قبر تھی اسپر کوئی کتبہ بھی نہ تھا شاید ٹوٹ چکا تھا میں ان سے اب کوئی سوال نہیں کر نا چاہتی تھی کہ انکا دل اورنہ دکھے ۔پہلے فاتحہ پڑھا پھر انکو دیکھ کر آس پاس کی گھانس صاف کر نے لگی وہ قبرپر جمی ہوئی  سوکھی گھانس کافی حد تک اپنی کمزور انگلیوں سے صاف کر چکی تھیں اور ایک بیگ میں بھر رہی تھیں ۔
"کیا ہوا تھا بی بی ۔۔۔" میںے خاموشی توڑنے کی کوشش کی ۔
"کچھ نہیں ۔بس اللہ کی مرضی  اب تو برسوں بیت گئے ۔آج اس شہر آئی تو ۔۔۔۔۔"انھوں نے اپنے آنچل سے آنسو صاف کئے ۔
قبر کسی حد صاف ہوچکی تھی بس ایک کونہ رہ گیا تھا جسپر سخت گھانس ابھی بھی سر اٹھائے کھڑی تھی  انکی انگلیاں شاید زخمی بھی ہوگئی تھیں ۔مجھے واپس بھی جا نا تھا مگر وہ اکیلی تھیں اسلیئے تذذب میں تھی ۔انکے شوہر لینے آنے والے تھے ۔گہرے بادل گھر کر آگئے تھے مجھے پریشانی سی ہونے لگی تھی ۔ارم بھی اٹھ کر ادھر ہی آگئی  ۔ایسے موسم میں انکو اکیلا کیسے چھوڑ دیتی ۔تبھی ایک گاڑی گیٹ کے پاس آکر رکی اور انھوں نے اپنا سرخ چہرہ اٹھا کر اُدھر دیکھا ۔نیلے سوٹ میں وہ صاحب تیز تیز چلتے ہوئے  ادھر ہی آرہے تھے ۔وہ صاحبہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر آہستہ آہستہ کھڑی ہوگئیں ۔قبر پوری صاف ہوچکی تھی اور انھوں نے ساتھ لائے ہوئے پھول اس پر بچھا دیئے تھے ۔آنے والے صاحب نے پہلے قبر کی طرف دیکھا پھر انکی طرف نگاہ کی اور گویا ہوئے ۔
"زبیدہ یہ تم نے کسکی قبر پر پھول رکھ دیئے ؟ راحیل کی قبر تو یہاں ہے اس درخت کے نیچے ۔ تم سے بتا یا تو تھا " انھوں نے ایک طرف اشارہ کیا جہاں ایک  قبر سوکھی ہوئی سخت گھانس سے بھری ہوئی بہت اکیلی اکیلی سی تھی ۔
قبرستان کا دروازہ بند ہورہا تھا ۔اب رکنے کی اجازت بھی نہیں تھی ۔ان بی بی نے بڑی حسرت سے بیٹے کی قبر پر نظر کی ۔پھر ادھر جہاں وہ کئی گھنٹوں سے بیٹھی تھیں اور پھر سر جھکا کرباہر نکلتے ہوئے  بولیں ۔
وہ بھی کسی کے جگر کا ٹکڑا ہو گا سیّد صاحب ! چلیئے گھر چلیں" اور ہم چاروں آہستہ آہستہ قبرستان سے باہر  آ گئے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭