Tuesday, April 25, 2017

تاج محل ۔
رنگ و نور کا ایک سیلاب تھا ہر طرف رنگین آنچل سر سرا رہے تھے قہقہے آبشار کی صورت بہہ رہے تھے ۔ہوسٹل کے ہرے بھرے لان میں فنکشن کا انتظام کیا گیا تھا ۔ہر طرف زندگی تھی ہر جانب ایک جوش ایک ولولہ تھا اور ایسے میں جب وہ ملے تو تاج محل خود بخود  بننے لگا  ۔وہ نازک جزبوں کا کنوارے سپنوں کا ایک نرم احساس کا  تاج محل ہی تو تھا جو دعا اور شاہ جہاں بنا رہے تھے
 گویا دنیا انکے کہے پر چلنے لگی تھی ہر بات میں کتنی زندگی تھی اور زندگی کتنی بھر پور تھی ۔سب کچھ تو تھا اسکے پاس  ہاں ! جب کسی کے پاس ایک صرف ایک چاہنے والا ہو جو ہر لمحہ ہر سانس میں محبّتوں کا نذرانہ پیش کرے تو پھر کسی چیز کی کمی کہاں رہتی ہے ۔
جذبے انمول ہوجاتے ہیں لمحے سر سراتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور وقت کا تو احساس ہی نہیں رہتا کچھ یاد نہیں رہتا کچھ بھی نہیں ۔
اور رہے بھی کیسے جب کوئی ایسا کہے ۔۔
"تم جس طرف دیکھ لو راہیں جی اٹھیں ۔۔۔تم ہو تو سب کچھ ہے ۔۔تم میری تکمیل ہو ۔۔میں ابتک کیسے جی رہا تھا مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ دنیا اسقدر حسین ہے ۔
تمہارے ساتھ بتائے ہوئے پل تو میری زندگی کا حاصل ہیں ۔
تم ہو تو زندگی ہے خواب ہیں اور خواب کی تعبیریں ہیں اور میں اپنے اس خواب کی تعبیر ضرور حاصل کرونگا خواہ مجھے اسکے لئے کچھ بھی کر نا پڑے ۔ ہاں کچھ بھی ۔میں جان سے گزر جاؤنگا تمہیں پانے کے لئے ۔میرا کوئی نہیں بس تم ہو صرف تم ۔۔مجھے کبھی اکیلا نہ کر دینا ۔۔۔بکھر جاؤنگا میں ۔"
کون ایسا بے حس ہوگا جو یہ سب سنکر پگھل نہ جائے ۔شاید بے جان سنگِ مر مر کے سامنے دو زانوں ہوکر کوئی روز اسطرح کے جملے دہرائے تو وہ بھی پگھل کر آنسو بن جائے ۔وہ ضد وہ محبّت  یا جو کچھ بھی تھی جیت گئی کہ اسے جیتنا ہی تھا جب دو دل ایک ساتھ دحڑکنے لگیں تو اور کوئی آواز سنائی کہاں دیتی ہے ؟
اور جب یہ بات دعا کے گھر تک پہونچی تو ایک طوفان سا آگیا ۔
"مجھے یقین ہے کہ یہ بات غلط ہوگی " بہن کا اعتماد بول رہا تھا ۔
"میں اسے جان سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"بھائی کا جلال دہاڑ رہا تھا ۔
"مگر مجھے وہ پسند ہے  میں اسکے بنا نہیں جی سکوں گی ۔۔"وہ باپ کے زانوں پر سر رکھّے سسک رہی تھی ۔
وہ خاموش افسردہ اسکے آنسوؤں بھرے چہرے کو تک رہے تھے گویا سارے آنسو اپنے دل پر لے رہے ہوں ۔
"آخر تم وہاں پڑھنے گئی تھیں یا یہ سب کرنے  ہم زندہ ہیں نا تمہارے لئے سوچنے کو " بڑی بہن نے ایک تھپّڑ رسید کیا ۔
مگر باپ نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا ۔
"نہ مارو ۔۔بن ماں کی بچّی ہے "انھوں نے اپنے آنسوں کرتے کی آستین سے صاف کئے ۔
"فکر مت کرو انھوں نے دعا کا سر سینے سے لگا یا ۔۔۔بس مجھے کچھ وقت دے دو ۔۔"
مگر اسے صبر کہاں تھا ۔
ان ساری مشکلوں کو طے کرتی ہوئی ،اپنوں کے دلوں کو روندتی ہوئی آگے بڑھ گئی دعا ۔
نئی زندگی تھی ۔۔۔نئے نئے رنگ تھے وہاں پرانے آنسو یاد بھی کہاں آتے کسی کے ،خواہ وہ بہن کے ہوں بھائی کے یا اپنے شفیق باپ کے ۔شادی ہوگئی تاج محل کی بنیاد رکھ دی گئی ۔
مگر ایک درار تھی  ایک گرہ تھی  یا شاید احساسِ جرم ۔۔خوشیان کترا نے لگی تھیں ۔
بیفکری کی زندگی ختم ہوچکی تھی ۔بہت کچھ بر داشت  کر نا پڑ رہا تھا ۔
اور پھر قدرت کا ایک تماچہ ایسا تھا جس نے اسے بے حال کردیا ۔
"میں نے تو اسے گود میں بھی نہیں لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔"وہ چیخ چیخ کر رورہی تھی ۔
مگر وہاں کوئی نہیں تھا جو انکے آنسو ؤں کو اپنی پوروں میں سمیٹ لیتا وہ آنسو جو دعا اپنی پہلی اولاد کے لئے بہا رہی تھی وہ اسکا اپنا دامن ،اپنا گریبان بھگو رہے تھے ما متا کے درد نے اسے بے حال کردیا تھا ۔
یہ اسکی  پہلی دعا تھی جو ٹوٹ کر بکھر رہی تھی ۔ننھا ساوجود جھولے میں ہنستا کھیلتا خاموش ہوگیا ۔اور وہ کچھ نہ کر سکی ۔۔
ایک طوفان تھا جسنے تاج محل کو دھندلا کر دیا تھا  وہ تکلیف جس سے دعا گزری کوئی تصورّ نہیں کر سکتا تھا ۔۔اسکا ساتھی  بھی نہیں ۔
اور تب پتہ چلا کہ اولاد کا  درد کیسا ہوتا ہے
۔اور تب پتہ چلا کہ باپ بھائیوں کا سایہ کیا ہوتا ہے
۔۔اور تب سمجھ میں آیا کہ اکیلا پن کیا ہوتا ہے آنسو کیا ہوتے ہیں چیخیں کیا ہوتی ہیں ۔
دو برس کے بعد خالی گود کے ساتھ اپنے گھر کے در ودیوار دیکھے ۔
"آگیئں منھ کالا کر کے ۔۔" منھ پھیر لیا گیا ۔
"وہ شادی کر کے گئی تھی " کوئی ہمدرد بھی موجود تھا ۔
"ہنھ ۔۔   شادی ۔۔۔۔۔گھر والوں کی مرضی کے خلاف ۔۔"
"باپ تو راضی تھے ۔۔"ہمدرد کا دل دکھا شاید ۔
"راضی نہیں مجبور تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

 طنز کے سلسلے قائم رہے وہ دیواروں سے لپٹ کر روئی ۔
دوستوں نے منھ پھیر لیا عزیزوں نے اپنی محفلوں میں بلا نا چھوڑ دیا ۔اسکے دل میں کانٹے چبھتے ۔۔۔مگر ایک چپ تھی بس ایک چپ ۔
دبلا بدن کانٹے جیسا ہو گیا تھا ۔پیلا چہرہ ، خالی آنکھیں ۔ ۔لوگ اس پر ترس کھانے لگے تھے
۔کبھی کبھی تو اسکا شاہ جہاں بھی پوچھ بیٹھتا ۔۔
"تمہاری آنکھوں کی چمک کہاں کھو گئی ہے دعا ؟"
وقت کے بہت سارے ورق الٹ گئے ۔اللہ نے اپنی رحمت سے نواز دیا تھا ۔دعا کی گود بھر گئی تھی ۔۔
مگر تبھی دوسرا تماچہ اسکی زندگی کو روندتا چلا گیا ۔چاہنے والے ابّا کی میّت پر بھی نہ جاسکی ۔۔ہزاروں میل کی دوری ۔۔پر دیس میں اسنے دکھ اکیلے ہی منا یا جہاں نہ آسمان اپنا تھا نہ زمین ۔سمندر کا نمکین پانی اسکے آنسوں میں ملکر بہتا رہا ۔
تاج محل پر دھول تو بہت پہلے پڑنے لگی تھی مگر اب بھی کبھی دھندلا  دھندلا نظر آجاتا تھا ۔
اچھّی بیوی بننے کی کوشش میں اپنے آپ کو مٹا دیا اسنے ۔ہر حال میں خوش رہ کر دکھا یا اسنے ،گھر کو سجا یا سنوارا ۔اسکے دوستوں کی دعوتیں کرتی گرمی میں بے حال ہوکر بھی اپنے آپ کو سجا سنوار کر پیش کرتی ۔فر مائیشوں کے کھانے پکاتی کبھی تھکن کی شکایت بھی لبوں پر نہ آنے دیتی ۔
اب اور کیا چاہیئے تھا زندگی سے ۔مگر ابھی قدرت کے پاس کچھ تیر باقی تھے ۔
پر دیس تو سبھی جاتے ہیں مگر یوں جاکر وہاں کے باسی ہوجانا ؟ جبکہ بچّے یہاں منتظر ۔۔۔بیوی یہاں آس میں اور یہ میلوں کی دوری دلون کی دوری بن رہی تھی ۔اس زندگی کو جسے بڑے شوق سے جینے کے لیئے گھر والوں سے چھین کر لائے تھے ۔۔وہ یہاں مہینوں خط اور فون کے انتظار میں بے چین رہتی  ۔
سکوت ِ فکر میں ایک اور سال بیت گیا ۔دو سال ۔۔۔تین سال ۔۔چار ۔۔مگر دعا کا اعتبار اب بھی قائم
ادھر ادھُر کی گفتگو سنائی دیتی مگر دعا کی سما عت میں تو اسکی شہد جیسی باتیں گھلی تھیں ۔عرصہ ریت کی طرح اسکے اوپر سے گزر گیا
وہ ایک قیامت کی شام تھی ۔جب اسنے بے قرار ہوکر فون کیا ۔
"بہت یاد آرہی ہے تمہاری ۔۔بڑا عجیب خواب دیکھا ہے ۔۔" وہ بے چینی سے بیان کر رہی تھی اور ادھر ہان ہوں سے پتہ چل رہا تھا کہ فون ناگوار ہو رہا ہے ۔
"کچھ بولو۔۔۔"
کیا بولوں ؟ تمہارے خوابوں سے میرا کیا تعلق ۔۔۔۔؟"وہ ششدر رہ گئی ۔
'ارے کیا ہے یار جلدی بولو ۔۔یہاں میٹنگ چل رہی ہے ۔۔" پیچھے سے دبی دبی ہنسی سنائی دی ۔
"گیارہ بجے رات      کو    میٹنگ ؟؟ "تجسس تو فطری جذبہ ہے دل کی بات ٹوٹ کر ہونٹوں پہ آئی ۔
"ایک خوبصرت لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہو ں مصروف ہوں ۔۔اب بولو ۔"
وہ دکھ اور بے یقینی سے کانپنے لگی ۔۔تبھی ادھر کسی نے اٹھلا کر کہا ۔
"بس بہت ہوگیا اب بند کرو فون ۔"
وہاں نئی ممتاز محل ہنس رہی تھی ۔۔ایک نئی تعمیر جاری تھی ۔
اڑا ڑا ڑا دھڑام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پرا نا مکان گر تا ہے نیا مکان اٹھتا ہے ۔۔بڑھیا اپنے ارتن برتن اٹھاؤ ۔۔۔۔۔تاج ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہا تھا وہ ملبے میں دبی جارہی تھی جیسے کوئی   تاج محل کے پتھّروں سے  سنگسار کر رہا ہو اسے ۔
:٭ :٭ :٭









Monday, April 24, 2017

دل کے رشتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔انجم قدوائی
روز یہی ہوتا تھا روز یہی کرتی تھی وہ ۔سر خ ،سفید یا نیلی کوئی بھی فراک پہن کر آئے ،کتنی بھی فرِش نظر آئے مگر یہی حال ہوتا تھا ۔مالی ڈرایئور گھر کی کام والی کے بچّوں کے ساتھ  کھیلنا پسند تھا اسے ۔وہ ہیشہ صبح ایک پھول کی طرح نمودار ہوتی اور شام تک گہنائے ہوئے چاند کی طرح گھر کے اندر غروب ہوجاتی ۔
وہ اس چھوٹے سے اسکول کی کچّی دیوار پر چڑھی بیٹھی مستقل پیر ہلا رہی تھی ۔فراک کی جھالر پھٹ کر اسکے گھٹنے سے الجھی ہوئی  اور چپل دھول میں اٹی ہوئی تھی ۔
"حلیہ دیکھا تم نے اپنا ؟؟  اسنے کڑھ کر اسے ڈانٹا
"کیا ہوا ہے ۔۔۔؟  ماہی نے جھک کر اپنے پیروں پر نظر ڈالی ۔۔اور پھر بیفکری سے پیر ہلانے لگی ۔
"کچھ نہیں ہوا ؟؟ کتنی گندی لگ رہی ہو تم گاؤں کے گندے سندے بچوں کے ساتھ  کھیلا کر تی ہو "
"وہ بالکل گندے نہیں ہیں ،دن میں دوبار نہاتے ہیں نہر سے ۔۔"
"اچھّا ۔۔۔جہاں بھینسیں نہاتی ہیں وہیں نا ۔۔۔؟
ہاں تو ؟؟
"کچھ نہیں ۔۔۔جاؤ مرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
میں کیوں مروں   تم مرو ۔۔" وہ کود کر ادھا کھایا ہوا امرود پھینکتی ہوئی اپنے گھر کی طرف مڑ گئی ۔
وہ وہیں بیٹھا سوچتا رہا  کڑھتا رہا ۔
وہ ایسی ہی تھی صبح صبح  گلابی فراک پہنے دو چھوٹیاں گوندھے ہوئے  صاف ستھری ،گاؤں  کے اس پرائیمری اسکول میں آتی اور سب بچوں کے جانے کے بعد بھی جانے کا نام نہ لیتی ۔۔۔۔
وہ اس سے کچھ پوچھ نہیں سکتا تھا تھا نہ جانے کیا جھجھک تھی ان کے درمیان ۔
وہ خاموش اپنے آپ میں کھویا ۔
عمر گزرتی رہی       
حالات بدلتے رہے  ۔اب وہ بہت بدل گئی تھی اپنے آپ کو سجا نا سنوارنا آگیا تھا  شہر کے ہوسٹل میں رھ کر اسے اپنے چاروں طرف اجا لا پھیلائے رکھنے کا ہنر بھی ۔
وہ اب بھی کچھ نہ کہہ سکا اور وہ دور ہوتی چلی گئی ۔۔۔اور دور ۔۔اور دور ۔
خبریں ملتی رہتیں ۔اسکا میاں بڑا بزنس مین ہے  وہ بہت خوش ہے ۔بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر میکے آتی ۔لش لش کرتے لباس پہنتی اسکے جانے کے بعد بھی گاؤں میں کئی دن اسکا چر چا رہتا اور وہ کتاب میں منھ چھپائے بظاہر لاپر واہ اسکی دائیمی خوشیوں کی دعائیں کرتا  رہتا ۔
ایک نازک سی ہمسفر کے آجانے سے زندگی بہت بدل گئی ۔وہ بے حد مخلص اور بر داشت والی لڑکی تھی ۔اسمیں زرا بھی بچپنا نہیں تھا ۔وہ سنجیدگی سے مسکراتے ہوئے اسکی ساری ضروریات پوری کرتی  مگر ایک خلا تھا ۔۔۔۔۔۔۔جو پرُ ہی نہ ہوتا تھا
ہلکی ہلکی بوندیں پڑ رہی تھیں وہ کاہلی سے لیٹا رہا  ۔اینٹوں کے بنے ہوئے آنگن  میں دونوں  بچّے  شور مچاتے ہوئے بھیگ رہے تھے ۔وہ برامدے میں بیٹھا اُداسی سے انھیں کھیلتے دیکھتا رہا ۔
اذان کی آواز سے چونک کر کرتے کی آستین الٹتے ہوئے اسنے بیٹے کو پکارا ۔

چلو علی وضو کرو ۔۔۔
بس بابا تھوڑا سا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسنے دور پڑی ہوئی بال اٹھائی ۔
کل کھیلنا بیٹے مغرب کی اذان نہیں سنی آپ نے ۔۔۔؟"
وہ خود اُداس اُداس سا وضو کرتا رہا ۔
نہ جانے آج کیوں یاد آرہی ہے   رنج سے میرا  اتنا گہرا  رشتہ کیوں ہے ۔۔۔
ابتک تو وہ ٹھیک بھی ہوگئی ہو گی  اسکی طبیعت کی خرابی تو کافی پہلے کی بات ہے ۔اس گرمی میں تو وہ نینی تال یا کشمیر میں گھوم رہی ہوگی ۔۔بوٹنگ کر تی پھر رہی ہوگی ۔شاید آج اسنے گہری ہری ساری پہنی ہو ۔
وہ اپنی ذمہ داریاں دل وجان سے پوری کرتا رہا تھا پھر بھی دل کی یہ خلش کبھی کبھی بہت بے چین سا کر دیتی ۔اور جب چھوٹی بہن عاصمہ نے اسکی بیماری کا بتا یا تو اور بھی بے چین ہوگیا ۔کہتے ہیں وقت ایک سا نہیں رہتا ۔اب اسکی ہنسی میں آنسو ؤں کی نمی بھی در آئی ہے  آج عا صمہ کی باتیں اسکو دہلا رہی تھیں ۔ماہ رخ دو بچوں کی ماں ہے ۔ابتو کئی کئی دن اسکے گھر کی دہلیز سونی رہتی ہے  وہ بچوّں کے ساتھ راہ دیکھتی رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔پھر سنا وہ شہر چھوڑ گیا ۔تنہائیاں اسے نچوڑ رہی تھیں وہ دروازے پر آس لیئے بیٹھی رہتی ہے مایوسی نے اسکے جسم میں اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں ۔یہ بتا تے بتا تے عاصمہ کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں ۔اور پھر جب بیماری کی خبر آئی تو وہ ساری مصلحتیں بھول کر پہلی ٹرین سے دہلی میں تھا ۔
ہاسٹل کا سر چکرا تا ہوا ماحول عجیب سی وحشت وہ سارے مراحل سے گزرتا ہوا اسکے کمرے میں پہونچا تو اسکا دل پھٹنے لگا
کہاں تھی وہ ؟؟ یہ تو سایہ تھا اسکا  گہری ویران آنکھیں  مایوس نظر  ۔
ہونٹوں پر مسکراہٹ نام کو نہیں تھی  سر سراتی ہوئی تنہائی اسکے آس پاس ڈول رہی تھی ۔
اچانک کمرے میں خوشبو کا ایک بھپکا آیا ۔گرے سوٹ  ہاتھ میں قیمتی موبائیل تھامے ہوئے وہ اندر داخل ہوئے تو وہ گھبرا کر کھڑا ہوگیا ۔ہاتھ ملانے کے لیئے آگے بڑھا اور برُی طرح نظر انداز کیا گیا ۔رعونت بھری نظروں میں اسے باہر نکل جانے کا حکم تھا اور وہ باہر نکل گیا ۔
"اب تو ٹھیک بھی ہوگئی ہوگی ۔"۔۔اسنے خود کلامی کی ۔
اسنے برامدے کے ساتھ بنے چھوٹے سے باورچی خانے میں کام کرتی اپنی بیوی پر نظر ڈالی ۔اسکے سوتی  کپڑے گنجلے ہوئے  سے  تھے چہرے پر پسینے کے ساتھ ساتھ ایک آسودگی اور اطمینان بھی تھا ۔
دور کہیں ہاسپٹل کے اسپیشل وارڈ میں لیٹی ماہ رخ نے کروٹ بدلی تو ہاتھ میں لگی ہوئی ڈرپ کی سوئی نے بے چین کر دیا ۔
"آہ ۔۔۔۔۔"اسنے کراہ کر اپنا ہاتھ تھام لیا ۔
کمرے کے باہر کھڑا ہوا اسکا باوقار شوہر ڈاکٹر پر برس رہا تھا ۔
"آخر آپ بتا تے کیوں نہیں آپکو پرا بلم کیا ہے ۔۔۔؟"
"سر ۔۔پرابلم مجھے نہیں آپکی مسز کو ہے ۔"ڈاکٹر شاید اسکے انداز سے متا ثر تھا ۔
ہم لوگ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں باقی اللہ کی مرضی ۔"
"عجیب باتیں کر رہے ہیں آپ ۔میں پروگرس کی بات کر رہا ہوں اور آپ مجھے واعظ دے رہے ہیں ۔آپکو اندازہ بھی ہے کہ کتنی اہم میٹنگس چھوڑ کر یہاں بیٹھا ہوں ۔۔؟ "
"سر ۔۔ہم یقینی طور پر کیسے کچھ کہہ سکتے ہیں ہمارے ہاتھ میں جو ہے وہ کر رہے ہیں ۔اگر انکی زندگی ہے تو ضرور بچ جائینگی ورنہ حالت بہت خراب ہو چکی ہے ۔بہت دیر کر دی گئی علاج میں ۔"
"ہنھ ۔۔۔۔۔زندگی ہے تو بچ ہی جائینگی اسمیں آپکا کیا کمال ہے ۔۔" وہ بڑ بڑا تا ہوا کمرے کے اندر آگیا اور بیڈ کے قریب پڑے ہوئے صوفے پر ڈھیر ہو گیا ۔۔
سامنے پڑے اخبار کو اٹھاتے ہوئے اسنے پلنگ پر لیٹی ماہ رخ پر نظر ڈالی اور بڑ بڑانے لگا
"ایک ایک منٹ قیمتی ہے میرا ۔۔۔اور یہ ڈاکٹر ۔ہنھ ۔۔۔" اسنے جھٹکے سے اخبار کا صفحہ پلٹا ۔۔۔کاغذ کی کھڑ کھڑا ہٹ اور اسکے لہجہ کی ٹھنڈک ماہ رخ کے اندر تک گئی ۔اسنے بڑی دقّت سے آنکھیں کھول کر اپنے خوبرو شوہر پر نظر ڈالی ۔وہ آج بھی ویسا ہی خوبصورت تھا  لمبا قد  کھُلتا ہوا رنگ اور پھر اسکا اپنا رکھ رکھاؤ جسکی وجہ سے وہ لاکھوں میں الگ پہچا نہ جاتا تھا ۔اسکے بات کرنے کا ڈھنگ  اسکی مسکراہٹ اور ۔۔۔اور ۔۔۔اسکی بے وفائیاں ۔
شاید یہ آخری ہچکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دور کہیں دوسری رکعت پڑھتے پڑھتے اسے جھر جھری سی آئی آنکھوں کے آگئے اندھیرا سا چھا گیا ۔وہ مصّلے پر بیٹھ گیا ۔"یا اللہ اسکی حفاظت کر نا ۔" اسنے کانپ کر دعا کی اور چہرہ ہاتھوں سے چھپا کر نہ جانے کیوں آنسو بہا نے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔