Monday, April 24, 2023

 

بکری کے چر ویا بھیا ۔"
ایک کسان تھا ۔وہ کھیت بھی دیکھتا اور بکریان بھی چرایا کر تا تھا ۔اس کے اپنے گھر کی بکریاں تھیں ۔کبھی کبھی بہت تھک جاتا تھا بکریوں کے پیچھے بہت بھاگنا پڑتا تھا اور کھیت کا خیال بھی رکھنا پڑتا تھا ۔ایک مر تبہ جب وہ بکریوں کو جنگل کی طرف چھوڑ کر کھیت آیا اور
 اپنے کھیت میں بیٹھا رکھوالی کر رہا تھا تب اسُ نے دیکھا کہ ایک چڑیا اسُ کے کھیت میں بہت سارے کاکن (ایک طرح کے چاول ) کھارہی ہے اسُ نے جلدی سے ڈنڈا اٹھا یا اور اسکو بھگا دیا ۔دوسرے دن پھر وہ چڑیا کھیت میں آگئی اور دیر تک کا کُن کھاتی رہی ۔
جب کسان نے دیکھا تو اسے بہت غصّہ آیا اسُ نے سو چاکہ اس چڑیا کو مزا چکھا نا چاہیئے ۔
تیسرے دن کسان ایک چھوٹی سی ٹوکری لے کر آیا اس نے ٹوکری کے نیچے بہت سارا کا کنُ پھیلا دیا اور ٹوکری کو ایک لکڑی کی مدد سے تر چھا کھڑا کر دیا اسُ لکڑی میں ایک پتلی ڈوری باند کر کسان نے کچھ دور بیٹھ کر  اپنے پاس رکھ لی ۔
جب چڑیا آئی تو اسُ نے دیکھا کہ اور سب طرف تو کم کا کُن ہے مگر ٹوکری کے نیچے بہت سارا پڑا ہے وہ پہلے ادِھر ادُھر دیکھتی رہی اور تھوڑا تھوڑا کھاتی رہی ۔پھر اسُ نے دیکھا کہ ٹوکری کے پاس کوئی نہیں تو وہ چپکے سے آگے بڑی اور ٹوکری کے نیچے والے کا کنُ کھانے لگی کھاتے کھاتے وہ اندر چلی گئی جب وہ ٹوکری کے درمیان پہونچ گئی تو کسان نے ڈوری کھینچ لی اور چڑیا اندر پھنس گئی ۔۔
کسان خوب خوش ہوا ۔اسنے ہاتھ ڈال کر چڑیا کو نکال لیا اور ایک پرانے پنجرے میں بند کر دیا ۔
بے چاری ننھی چڑیا ادِھر ادھُر پھڑ پھڑا تی رہی ۔مگر کسان نے نہیں کھولا ۔
جب شام ہوئی تو چڑیا کو اپنے بچّوں کی فکر ستانے لگی اسُ نے روتے ہوئے کسان سے یوں فر یاد کی ۔

بکری کے
 
 چروییہا بھیا  
مورے لا گدیرا
سیر بھی کاکن کھائی
مورا رین بسیرا
مورے لال گدیرا
لال چون چوں  چوں   
لال چو ں چوں چوں ۔۔۔لال چوں چوں چوں ۔۔
مگر کسان کا دل نہیں پسیجا وہ غصہ میں تھا رات آگئی تب چڑیا اور رونے لگی اور یہی کہنے لگی ۔۔
بکری کے چر ویا بھیا
مورے لال گدیرا
مورا رین بسیرا
سیر بھر کا کُن کھا ئیوں
مورے لال گدےرا
لال چوں چوں چوں ۔۔
مگر رات ہوگئی تھی کسان سو گیا
صبح صبح  دوھ والا آیا تو چڑ یا نے پھر وہی رونا  رویا
گائے کے چر ویا بھیا
مورے لال گدیرا
سیر بھر کاکن کھائی
مورا رین بسیرا
لال چوں چوں چھوں
مگر دودھ والا دودھ  دے کر واپس چلا گیا ۔
کچھ دیر بعد جھاڑو دینے والا آیا تو چڑیا  اس کے آگے بھی رونے لگی
جھاڑو کے دلوایا بھیا

مورے لال گدیرا
سیر بھر کاکن کھائی
مورا رین بسیرا
لال چوں چوں چوں

کسان سب سن رھا تھا
۔تب کسان کو رحم آگیا اور اسُ نے چڑیا کا پنجرہ کھول دیا اور وہ پھُر پُھرا کر دور فضاؤں میں اڑتی چلی گئی ۔۔۔
مگر پھر وہ اسُ کھیت میں کبھی نہیں آئی ۔اسُ کو سبق مل گیا تھا ۔
(یہ کہانی چچی جان سناتی تھیں اور وہ لائینیں جو چڑیا نے گائیں وہ بے حد مترنم آواز میں گا کر سناتی تھیں )

 


ایک بندر یا جو بنی دلھنیا
کسی دور دراز کے ملک میں ایک بادشاہ رہا کر تا تھا جس کے تین بیٹے تھے تینوں بہت ذہیں اور تمام عمل و فن میں یکتا تھے ۔تیر اندازی ہو یا تلوار چلانے کے جوہر ،جنگ کے تمام رموز سے واقف تھے ۔
شہزادے جوان ہوچکے تھے بادشاہ کی خواہش تھی کہ انکی شادی کر دی جائے  ۔بادشاہ نے جیوتشی کو طلب کیا اور اس سے اپنے دل کی بات بتائی ۔جیو تشی نے دو دن کا وقت مانگا اور تیسرے دن دربار میں آکر باد شاہ کو  اپنی رائے سے آگاہ کیا ۔اس نے بتا یا کہ تینوں کی کنڈلی دیکھ کر ایک بات ثا بت ہے کہ ان لوگوں کی شادی کر نا آسان نہیں ایک  لڑکے کی شادی میں مشکل آسکتی ہے اب وہ لڑکا کون ہے یہ میں نہیں بتا سکتا ۔ ان کو میرے ساتھ جنگل بھیج دیجئے میں کوئی تر کیب کر تا ہوں لہذٰا  یہ تینو ں جوتشی کے ساتھ جنگل گئے ۔وہاں ایک درخت کے پاس جاکر جوتشی نے کہا کہ تم تینوں اپنی اپنی کمان سے تیر چلاؤ جہاں بھی جس ملک کی طرف تیر جائے گا وہاں کی  شہزادی کو پیغام بھیج دیا جائے ۔
تینوں بیٹوں نے کمان میں تیر لگا کر چھوڑا  بڑے بیٹے کا تیر ایک بہت بڑی ریاست کی طرف  پایا گیا  دوسرے بیٹے کا تیر دکن کی ریاست کی طرف پایا گیا  تیسرے بیٹے  نے جو تیر چلا یا وہ ایک پیڑ پر بیٹھی بند ر یا کی دم میں اٹک گیا ۔
وہ پیڑ سے اتاری گئی اور طے ہوا کہ چھوٹے بیٹے کی شادی اسی بندریا کے ساتھ کی جائے گی وہ بہت دکھی اور شرمندہ تھا  مگر مجبوری تھی پہلے بچے والدین کی بات نہین ٹالتے تھے اس لیئے وہ خاموش ہوگیا ۔
سب شہزادوں کی شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی  ۔دو ملکوں کی شہزادیاں محل میں اتریں  مگر تیسری کے لیئے چھوٹے شہزادے کی خواہش پر الگ محل کا انتظام کیا گیا ۔
دونوں بڑے شہزادے اپنی رانیوں کے ساتھ  خوش وخرم زندگی بسر کر نے لگے مگر  چھوٹے  شہزادے کے پاس تو دلھن  کے نام پر ایک بندریا تھی وہ بہت مضطرب اور شر مند ہ رہتا تھا ۔
ایک بار بادشاہ  اور ان  کی ملکہ نے کہا کہ وہ اپنی بہووں کا سلیقہ دیکھنا چاہتے ہیں لہذٰ ا ان کو ایک ایک رومال کاڑھنے کے لیئے دیا گیا ۔دونوں  بہویں  اپنے ہنر دکھانے کے لیئے محنت سے رومال پر  پھول بوٹے بنا نے لگیں ۔چھوٹے شہزادے کو بہت شر مندگی ہوئی مگر جب بندریا نے ان سے پوچھا تو اس نے یہ بات بتا دی  بندر یا نے کہا کہ وہ رومال لے آئے ۔
جب سب کے رومال بن کر تیّار ہوے تو  بادشاہ اور ملکہ کی حیرت کی انتہا نہیں رہی کہ سب سے خوبصورت کڑھائی  چھوٹے شہزادے کی بیوی  نے کی تھی ،جبکہ وہ بندریا تھی ۔
دونوں بڑی بہووں کو بہت برا بھی لگا 
۔چند دن بعد بادشاہ اور ملکہ نے کہا کہ وہ  بہووں کے ہاتھ کا بنا کھا نا  کھانا چاہتے ہیں ۔دونوں بہوئیں مستعد ہوئیں  مگر چھوٹا شہزادہ افسردہ ہوگیا ۔بندر یا نے جب پوچھا تو  کہا کوئی بات نہیں میں کھا نا پکا کر دوں گی  آپ بھجوا دیجئے گا ۔سب کے پکائے کھانے تخت  پر چن دئے گئے ۔
دونوں  نئی دلہنوں کے کھانے کی خوب تعریف ہوئی جب تیسرا خوان کھلُا تو خوشبو سے  سارا  دالان مہک گیا ۔۔کھانے اس قدر خوبصورت اور  رنگین تھے کہ سب کی نظریں ان پر جم گئیں ۔اور جب وہ کھا نا بادشاہ اور ملکہ نے کھا یا تو واہ  واہ  کر نے لگے  ۔۔سب سے مزے دار اور نفاست سے  بنا یا ہوا کھا نا چھوٹی رانی کا تھا ۔
ملکہ اور باد شاہ کو ایک بار پھر سب دلھنوں کو ایک ساتھ دیکھنے کا تجسس ہوا ۔
اس بار چھوٹا شہزادہ رو پڑا ۔۔۔کھانے اور رومال تک تو بات ٹھیک تھی مگر ان حسین ترین شہزادیوں کے درمیان یہ بندریا کیسے جائے گی ۔بندر یا کے پوچھنے پر شہزادے نے سارا ماجرہ کہہ  دیا ۔
چھوٹی  بہو نے تسلیّ دی اور کہا شرط یہی ہے کہ آپ وہان نہ جایئے  گا ۔میں ڈولی میں بیٹھ کر اکیلی ہی جاوں گی ۔ شہزادہ پہلے ہی شر مندہ تھا فوراً مان گیا ۔
پہلے بڑی دلھن  سامنے آئیں ۔بہت حسین لڑکی تھی  گلابی لباس میں سج رہی تھی ۔
منجھلی دلھن نے ہرا لباس پہنا تھا اور بہت سارے زیوارت سے آراستہ تھی ۔
پھر ڈولی سے چھوٹی دلھن کو اتارا گیا  اس کے گورے سفید پیروں میں  پازیب  جگمگائی اور جب اس نے چادر الٹی تو ملکہ اور بادشاہ  اس کو دیکھتے ہی رہ گئے گہرے سرخ رنگ میں ایک نگینہ کی صورت  اسُ نے جھکُ کر سلام کیا ۔۔اسُ کے بالوں میں افشاں چمک رہی تھی  گلابی  چہرہ خوبصورت ہونٹ اور  چھریرہ بدن وہ ایک پھولوں کی ڈالی سی محسوس ہو رہی تھی۔تینوں بہویں  ساتھ بیٹھی تھیں اور اس کے چہرے کی روشنی سے سارا محل روشن تھا ۔سارے لوگ حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے ۔
کسی نے چھوٹے شہزادے تک یہ خبر پہونچا دی کہ اس کی دلھن تو ایک پری جیسی ہے ۔شہزادے نے شرط تو ڑ دی اور چھپ کر اسے دیکھا ۔۔اور گھوڑے پر بیٹھ کر واپس اپنے محل پہونچا  ۔اپنی دلھن کے کمرے میں جاکر اس نے دیکھا کہ بندریا کی کھال  ایک  طرف رکھی ہے اس نے فوراً وہ کھال اٹھا ئی اور مشعل سے اس کو آگ دی ۔۔۔ادھُر چھوٹی دلھن کو اچانک بہت بے چینی ہوئی اور وہ اجازت طلب کر کے ڈولی میں بیٹھ گئی  اسکی پازیب سے پیر جھلسنے لگے تھے  دھیرے دھیرے سارے جسم میں آگ بھر نے لگی وہ جلنے لگی ۔ڈولی جب تک محل میں  پہونچی وہ  کافی جل چکی تھی بھاگتی ہوئی کمرے میں آئی اور شہزادے سے اپنی کھال کھینچ لی ۔مگر کھال کا بہت حصہ جل چکا تھا ۔۔اور  وہ بھی بری طرح جل چکی تھی وہ  زمین پر گر کر تڑپنے لگی ۔شہزادہ گھبرا گیا ۔۔حکیم بلائے گئے  سب نے علاج کی کوشش کی مگر جلن کسی طور کم نہ ہوئی ۔
دوسرے ملکوں سے بھی طبیب آئے مگر اس کی جلن کم نہ کر سکے ۔
شہزادہ بہت شر مندہ  تھا اور پریشان بھی ۔
پوری سلطنت کے طبیب آچکے تھے اور طرح طرح کے علاج تجویز کئیے جارہے  تھے مگر جلن کسی صورت کم نہیں ہورہی تھی ۔
شہزادہ بیقرار ہو کر ٹہل رہا تھا اور کھال جلانے پر بیحد شر مندہ تھا ۔وہ ٹہلتا ہوا  محل سے متصّل باغ  میں آگیا  اسُ کی بے چینی کسی طور کم نہیں ہورہی تھی ایک بڑے درخت سے  ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا ۔۔
اسُ درخت پر  دو چڑیاں آپس میں باتیں کر رہی  تھیں شہزادے نے دھیان سے سنا وہ کہہ رہی تھیں ۔
"وہ بند ریا نہیں پر ستان کی شہزادی ہے  ۔اس کی ایک چھوٹی سی غلطی پر اتنی بڑی  سزا ملی ہے "
"مگر اس ُ نے کیا غلطی کی تھی کہ  اسُ کو بندریا بنا دیا ؟دوسری چڑیا نے  پوچھا
"پرستان کے لوگ دنیا میں آنا پسند نہیں کر تے یہاں کے لوگ لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اس لئے  پر ستان میں  کسی کو اس دنیا میں آنے کی اجازت نہیں ۔۔مگر یہ شہزادی کم عمری اور ناسمجھی میں اس بات کو  اہمیت نہ دے سکی اور دنیا میں آگئی ۔اس لیئے ا س  کو بند ریا بنا دیا گیا تاکہ یہ کبھی پرستان واپس نہ جاسکے "
"مگر اب کیا ہوگا ۔۔اس جلن کا کوئی علاج نہیں ہے کیا ؟
"علاج تو ہے ۔اسی پیڑ کے پھل کو پیس کر اگر زخموں پر لگا یا جائے تو ٹھیک ہو سکتی ہے مگر دنیا والے  منہگی دوائیں تو خرید لیتے ہیں پیڑ پودوں کی قدر نہیں کر تے جن میں ہر مرض کی دو ا ہے 'شہزادے نے چہرہ ا وپر اٹھا یا اور چڑیوں کا شکر یہ ادا کیا   پیڑ کے پھل چن کر محل میں واپس آگیا اور نوکروں کی فوج ہوتے ہوئے بھی اپنے ہاتھوں سے وہ پیس کر مرہم تیار کیا اور جاکر اپنی دلھن کے زخموں پر لگا یا ۔حیرت انگیز طریقے سے زخم ٹھیک ہونے لگے  ۔دو ہی دن میں وہ اچھی ہوگئی مگر بہت خاموش تھی تیسری شام جب  شہزادہ  اس کی مسہری کے قریب کر سی پر بیٹھا تھا  ، دروازہ کھلا اور  پر ستان کے راجہ اور رانی اندر آگئے کمرہ ان کے نور سے دمکنے لگا ۔
شہزادی  جلدی سے اٹھی اور ان کے قدموں میں بیٹھ کر رونے لگی اور معافی مانگنے لگی ۔راجہ نے اس کو اٹھا کر گلے سے لگا لیا ۔اور بولے ۔
تم نے بہت تکلیفیں اٹھا لیں   اب تمہاری خطا معاف ہوگئی ہے ۔رانی نے بھی بیٹی کو گلے لگا یا اور شہزادے کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔
پرستان کے راجہ نے شہزادے کو دعائیں دیں اور کہا کہ اگر وہ چاہے تو پرستان  چلے اور وہیں  زندگی گزارے   اسےُ کوئی تکلیف نہیں ہوگی ۔مگر شہزادے نے سہو لت سے انکار کر دیا اور کہا وہ یہیں اسی ملک میں رھ کر اپنے والدین کی خدمت کر نا چاہتا ہے ۔
پرستان کے راجہ اسُ کی اس بات سے بہت خوش ہوئے ۔اور پرستان کے ڈھیروں  سامان  سے گھر بھر دیا ۔۔
اور راجہ رانی پر ستان واپس چلے گئے۔ شہزادہ اور اسُ کی دلھن ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے ۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ کہانی میں نے گاؤں میں رہنے والوں سے سنی ہے )

 
 

Friday, August 13, 2021

 


لبّیک


غریب معصوم و مسکین مجید بابو نے دوبارہ اپنی کانپتی ہوئی انگلیاں  اپنی پرانی گھسی ہوئی واسکٹ کی جیب میں  ڈال کر موجودہ رقم کو محسوس کیا ۔

چہرے پر پھیلی ہوئی غربت کی جُھرّیاں  کچھ کم نظر آنے لگیں  بیروں  میں  گِھسا ہوا جوتا جو کبھی حاجی ولایت شاہ نے اپنے بچوں  کو اُردو پڑھانے کی عیوض بنواکر دیا تھا اور کئی بار مرّمت ہوجانے کے باوجود ایڑی میں  کیل چُبھتی ہی رہتی جس کی وجہ سے ایڑی میں  مستقل زخم ہوکر رہ گیا تھا اور جس کی پرواہ کرنا بھی انھوں  نے چھوڑ دی تھی کیونکہ انھیں  تو بس ایک ہی فکر کھائے جارہی تھی ۔

’’عارفہ کا بیاہ کیسے ہوگا؟ کہاں  سے میں  اتنی رقم لاؤں  گا؟ ‘‘ اب تو وہ بس ڈاک خانے کے باہر ٹوٹی کرسی پر بیٹھے ان پڑھ لوگوں  کے پوسٹ کارڈ لکھتے یا پھر منی آرڈر پر دو لائن کی تحریر جس سے دن بھر میں  دس بیس روپیہ بن جاتے مگر اب اس میں  بھی کمی آنے لگی تھی لوگ خط ہندی میں  لکھوانے لگے تھے یا ٹیلی فون پر ہی بات کر لیتے بس چند غریب لوگوں  کی وجہ سے ان کا کام چل رہا تھا اب تو آنکھوں  سے بھی ان کو کم نظر آتا تھا ورنہ اسکول کی اچھی بھلی نوکری سے کیوں  جواب ملتا ۔ اسکول کی پنشن اور ڈاک خانے کے باہر سے کمائے ہوئے  روپے ملاکر پانچ سو کے قریب ہوجاتے تھے لیکن بیوی کے کُھردُرے ہاتھوں  پر جب صرف تین سو روپے رکھتے تو خود ان کا دل خون کے آنسو روتا کہ کاش دوسروںکی بیویوں  کی طرح عالیہ بیگم بھی جھگڑا کریں، لڑیں، پیسے  پھینک دیں  ،میکے چلے جانے کی دھمکی دے ڈالیں  مگر ایسا کچھ نہ ہوتا۔ مسکین سے مجید بابو کی مسکین سی بیوی عالیہ بیگم ہاتھوں  میں  نوٹ لے کر آسمان کی طرف دیکھتیں  اور خدا کا شکر ادا کرتیں  ۔ گھر کے کام کاج کے ساتھ ساتھ پڑوسیوں  کے کپڑے بھی سیتیں  اور عارفہ کے لیے کبھی ایک جوڑا کپڑا اور کبھی کوئی چھوٹا موٹا برتن لے کر اُسی بکس میں  ڈال دیتیں  جو ان کی امیدوں  کا واحد مرکز تھا ۔

عارفہ اب اٹھارہ سال کی ہوگئی تھی۔سرخ و سپید کتابی چہرے پر سجی سیاہ بھونرا جیسی آنکھوں  میں  جب طرح طرح کے خواب کروٹیں  لیتے تو وہ نظریں  جُھکالیتی اور اس کی نظریں  ہمیشہ ہی جُھکی رہتیں  سر پر پلو لمبے بالوں  کا جوڑا یا چوٹی ہمیشہ تیل میں  چپڑی رہتی کہ کہیں  کوئی ان لمبے حسین بالوں  میں  نظر نہ لگادے یا کسی کی نظر نہ پڑجائے۔ نیک ماں  باپ کی نیک اولاد جس کا حُسن اس کی ہر جُنبش میں  تھا ۔

جب دروازے کی کُنڈی کھٹکی تو عارفہ بچوں  کی طرح قلانچ بھر کر دروازے پر پہنچ گئی ۔

’’بابا آپ آگئے ‘‘ اس نے ہاتھ سے جھولا لے لیا ۔

’’ہاں  بٹیا‘‘ ! مجید بابو کی تھکن کو زندگی مل جاتی۔ جلدی سے وہ برآمدے کا پلنگ بچھاکر پانی لینے دوڑ گئی پانی کے ساتھ چند پکوڑیاں  جو اس نے صرف اپنے بابا کے لیے کھانا پکانے کے دوران بنالی تھیں  لے کر آگئی اور جب تک مجید بابو پانی پیتے رہے اس نے ان کے پاؤں  دھو ڈالے۔ اپنے دوپٹے سے ان کے پاؤں  خشک کرکے تسلہ اٹھالیا۔

’’بابا چائے بناؤں۔؟‘‘

’’نہیں  بٹیا آج گرمی بہت ہے ابھی دل نہیں  چاہتا ابھی حاجی ولایت شاہ کی طرف بھی جانا ہے‘‘ وہ پھر اپنی انگلیوں  سے جیب میں  حرارت محسوس کرنے لگے ۔

عارفہ ان کے سرہانے تکیہ رکھ کر اپنے کاموں  میں  لگ گئی ۔

بیوی کے آجانے پر مجید بابو اٹھ کر بیٹھ گئے ۔

’’لو بھاگوان تمہارے کہنے پر اس بار پیسے جمع کروانے نہیں  گیا ابھی جاکر وہ پیسے بھی لے آؤں  گا جو کئی برسوں  سے عارفہ کے لیے جمع کر رہا ہوں  پھر تو سب کام ٹھیک ٹھاک ہوجائے گا نا۔؟‘‘

’’ہاں  عارفہ کے ابّا ۔ ہم غریبوں  کی بیٹیاں  عزت سے اپنے گھر کی ہوجائیں  اس سے بڑی ہماری کوئی تمنّا کہاں  ہے ۔ خدا کا دیا جو ہے سو بہت ہے ،شکر ہے اس پروردگار کا کہ اتنا اچھا گھر مل گیا نہ جہیز کی مانگ کی ہے نہ اور کوئی فرمائش ۔ سب ہوجائے گا اب فکر مت کرو ۔ بس اللہ کا نام لے کر جاؤ اور وہ دس ہزار لے آؤ جو جمع کیے ہیں‘‘۔ وہ جُھک کر چادر برابرکرنے لگیں ۔

’’ہاں  عالیہ بیگم حاجی صاحب بھی ہمارے لیے مددگار ثابت ہوں  گے تھوڑا بہت بیٹی عارفہ کے لیے اپنے پاس سے بھی ضرور دیں  گے ۔‘‘

’’نہیں  عارفہ کے ابّا ۔ اللہ کے سوا کسی اور سے کبھی اُمیدیں  نہ لگایا کرو ، پوری نہ ہوں  تو بڑا دُکھ ہوتا ہے بس اللہ حلال رزق میں  بیڑہ پار لگائے ،جو پیسہ پیٹ کاٹ کاٹ کر اتنے برس جمع کیا ہے لے آؤ تو کچھ کپڑا لتّا خرید لیں  ۔ ایک چاندی کا سیٹ خرید لیں  تو ہماری بٹیا سج جائے گی ۔ آگے اُس کی قسمت؟۔‘‘

عارفہ باورچی خانے کے دروازے سے  طلوع ہوئی ، چائے لاکر دونوں  کو تھمائی اور سرجُھکائے واپس باورچی خانے میں  غروب ہوگئی ۔

شام ہوچکی تھی یہ سوچ کر کہ حاجی ولایت شاہ گھر پر ہی مل جائیں  گے مجید بابو اپنی کھٹارا سائیکل لے کر چل پڑے ۔ ہزاروں  خواب ان کے کمزور سینے میں  سج رہے تھے اکلوتی بیٹی کا بیاہ ان کی زندگی کا بہت بڑا خواب تھا اس خواب کو پورا کرنے میں  انھوں  نے کوئی کسر نہیں  چھوڑی تھی۔ برسوں کی گاڑھی کمائی امانتاً ولایت شاہ کے پاس رکھواتے تھے کیونکہ محلے میں  سب سے محترم اور بزرگ وہی تھے ان کے دونوں  بیٹے بھی حج کی سعادت حاصل کرچکے تھے ۔ تیسرا بیٹا جو سب سے چھوٹا تھا شہر میں  پڑھتا تھا چھٹیوں  میں آیا کرتا تھا ۔ حاجی ولایت شاہ کو اس کی عادات سخت ناپسند تھی ۔ 

جب مجید بابو کی سائیکل ولایت شاہ کے گیٹ میں  داخل ہوئی تو وہ بیٹھک  میں  آچکے تھے ۔ محلے  کے کچھ اور لوگ بھی وہاں  بیٹھے تھے مجید بابو نے جب اندر آنے کے لیے قدم بڑھائے تو ولایت شاہ کی آواز گھن گرج کے ساتھ سنائی دی ’’آؤ آؤ میاں  مجید کہاں  تھے بھئی اتنے روز بعد نظر  آئے ۔‘‘

’’سلام علیکم سرکار۔ سرکار پچھلے مہینے ہی تو……‘‘ 

پھر وہ خاموش ہوگئے ۔ 

’’اچھا اچھا تو بھئی آج ہماری یاد کیسے آگئی ۔‘‘  انہوں  نے پاس رکھے حقے کی خوشبودار منال منھ سے لگالی اور دو تین کش لے کر انھیں  مونڈھے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ مجید بابو موّدب بیٹھ گئے ۔ ایک ایک کرکے لوگ رخصت ہونے لگے مجید بابو کی ہمت نہیں  ہورہی تھی کہ مُدعاکیسے کہیں  ۔ پھر انھوں  نے جی کڑا کرکے کہہ دیا ۔

’’وہ جی سرکار کچھ روپیہ جو ہم نے جمع کروایا تھا وہ لینا تھا‘‘

’’کون سا روپیہ مجید میاں  ؟ کہاں  جمع کروایا ہے؟‘‘ ولایت شاہ نے حقے کی منال منھ سے نکالی اور مجید بابو نے چونک کر ان کی طرف دیکھا ،جانے والے لوگ جوتا پہنتے پہنتے رُک گئے ۔ مجید بابو نے سوچا کون سا اتنا زیادہ روپیہ ہے حاجی صاحب کے لیے ،بھول گئے ہوں  گے ۔

’’وہ جی دس ہزار روپے یہیں  آپ کے رجسٹر میں  جمع کروایا تھا ۔ گھر میں  تو سو خرچ ہوتے ہیں  سرکار اس واسطے……‘‘

’’مجید میاں  گھانس کھا گئے ہو ۔ ایک نہ دو پورے دس ہزار ! بھائی کہیں  رکھ کر بھول تو نہیں  گئے۔‘‘

’’جی نہیں سرکار …… وہ کاپی میں  شہروز میاں  نے خود‘‘ مجید بابو حواس باختہ تھے۔

’’شہروز ……‘‘   ولایت شاہ نے کڑک کربڑے صاحبزادے کوآواز دی ۔

سر پر ٹوپی لیے شرعی کرتے پائجامے میں  ملبوس شہروز باہر آگئے 

’’جی ابّا ‘‘  وہ بڑے سکون سے ابّا سے جُھک کر بولے۔

’’بھئی کسی رجسٹر میں مجیدمیاں کاروپیہ درج ہے؟  دس ہزار بتاتے ہیں ‘‘۔

’’نہیں ابّا  رجسٹرتو ہم ہی تیارکرتے ہیں  ان کا نام تو کہیں  نہیں  ہے۔‘‘

’’مگرسرکار……‘‘  مجید بابو بری طرح کپکپارہے تھے

’’مہروز سے کہو رجسٹر لے کر آئے‘‘ 

ولایت شاہ پھر دھاڑے ۔سعادت مند مہروز میاں  سفید بُرّاق کرتا پائجامہ زیب تن کیے ہوئے شرعی داڑھی ،ہاتھ میں  موٹا سا رجسٹر لیے ہوئے نمودار ہوئے ۔

’’ہاں  بھئی کس تاریخ میں  پیسہ جمع ہوا ہے‘‘ 

 ولایت شاہ کی آواز پھرگونجی ۔

’’جی پانچ سال سے ہر سات تاریخ کو …… جی…… پیسے جمع کرواتا رہا ہوں  ۔ پچھلے ماہ پوچھا تو آپ نے کہا کہ تم تو رئیس ہوگئے اب دس ہزار ہوگئے ہیں  اور……‘‘

’’اچھا اچھا خاموش رہو……‘‘  مہروز نے زور سے ڈانٹا اور رجسٹر کے ورق پلٹنے لگے ۔

’’تاریخ سات مئی  سن……یہ……یہ……یہ……یہاں  تو مجید میاں  آپ کا کہیں  نام نہیں‘‘

’’اچھا چھ تاریخ اورآٹھ میں  بھئی دیکھو‘‘

  ولایت شاہ نے فرمایا۔ 

مگر نام کہیں  ہو تو ملے۔

مجید بابو کے بدن میں  خون کا آخری قطرہ بھی نچڑ چکا تھا ۔ حیرت اور غم سے اُن کی آواز بھی بند ہوگئی تھی ۔ انھیں  لگا کہ وہ ابھی دم توڑ دیں  گے تبھی شرٹ پینٹ میں  لاپرواہی سے چلتے ہوئے پرویزشاہ اندر  سے برآمد ہوئے ۔ہاتھ میں کرم خوردہ سا رجسٹر تھامے ہوئے تھے ۔ باپ کے قریب جاکر کافی تلخ لہجے میں  گویا ہوئے ۔

’’ابّا یہ ہے وہ رجسٹر جس میں  مجید چاچا کے روپے لکھے ہیں  اور ان کے دستخط بھی ہیں۔ آپ کے بھی ہیں۔ رقم دس ہزار سے کچھ زیادہ ہی بنتی ہے۔ آپ ان کو غلط رجسٹر دکھارہے تھے‘‘۔

ولایت شاہ نے سرخ سرخ آنکھیں  اٹھائیں  اور چھوٹے بیٹے کے ہاتھ سے رجسٹر لے لیا اور دیر تک اُسے دیکھتے رہے پھر گویا ہوئے

’’معاف کرنا مجید میاں…… یہ لوگ دوسرا رجسٹر اٹھا لائے تھے دراصل میں  تو عمر کی ایسی منزل میں  ہوں  کہ کچھ بھی یاد نہیں  رہتا اب تو سارا کام یہی بچے دیکھتے ہیں  ۔ شہروز میاں  ! ‘‘ انھوں  نے کڑک کر پکارا ۔

’’جی…… جی ابّا‘‘ وہ اپنی چال پوری نہ ہونے پر بدحواس تھے ۔

’’مجید میاں  کے بارہ ہزار روپے بنتے  ہیں  انھیں  لاکر دے دو۔‘‘

مجید بابو اپنی زندگی کے اثاثے کو سینے سے لگائے آنسو بھری آنکھوں  سے پرویز شاہ کی طرف دیکھ رہے تھے شکریہ کا ایک بھی لفظ انھیں  یاد نہیں  آرہا تھا ۔ وہ کپکپاتے قدموں  سے اٹھے اور سائیکل تھام کر بڑے پھاٹک سے نکل گئے ۔

تبھی ولایت شاہ نے غُّراکر پکارا

’’شہروز میاں‘‘

’’جی ابّا‘‘ وہ سعادت مندی سے جُھکے۔

’’اس بار…… پرویز میاں  کو بھی حج کراؤ‘‘

Tuesday, June 30, 2020


اجڑے دیارمیں ۔۔۔۔
نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ
اب اسُ پر ندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے
تالاب کے کنارے  پیپل کے پیڑ تلے  اسکی نکلی ہوئی جڑوں پر  بیٹھ کر اسنے بانسری کی لمبی تان لی ۔۔۔شام کا  سر مئی اندھیرا بانسر ی کی  آواز کے ساتھ چمک  اٹھا ۔۔۔کچّے آنگن میں  پازیب  کی جھنجھناہٹ سی ہوئی اور پھر ایک سریلی  سی چھن چھن  میں گلابی کبوتر جیسے پاؤں تھرکنے لگے ۔۔۔بانسری کی  دھُن   گونجتی رہی اور گلابی پاؤں تھرکتے رہے ۔۔۔اور پھر مغرب کی اذان کی آواز  سناٹوں کو چیرتی ہوئی ہر طرف چھاگئی ۔۔۔بانسری کی آواز خاموش ہوگئی پیروں نے تھرکنا بند کر دیا ۔۔اور بڑی عقیدت سے  چنری کا روبٹہ  سر پہ پھیلا لیا ۔
"بھئی پلیز ۔۔۔۔ایسے ڈرامے مجھ سے نہیں ہونگے ۔۔۔بی پریکٹل۔۔میں  نہ اتنی خوبصورت ہوں نہ میرے پیر کبوتر جیسے ہیں ۔۔۔" سب کھلکھلا کر ہنس پڑے ۔
"یار اب اتنا بھی کیا پریکٹل ہونا ۔۔۔کہانی اچھی ہے ۔۔اس پر کام کر کے تو دیکھو ۔۔مزا آئیگا ۔۔
"کوئی اور ؟؟
"کوئی اچھّا اسکرپٹ نہیں بچا ہے ۔۔سب ہوچکے ہیں ۔۔۔کسی اور کو لینا نہیں چاہتا   پلیز  آرادھیا ۔۔۔۔
ثاقب نے اسکی طرف جھک کر خوشامدی نظروں سے اسے دیکھا۔
نا بھئی ۔۔۔۔"اسنے سیڑھیوں سے اٹھ کر اپنا  جمپر پیچھے سے جھا ڑا ۔۔۔اور دور سوکھے پتوّں میں اوندھی پڑی  دو پتلے پٹوّں  کی چپل پیر سے سیدھی  کی۔پھر سر اٹھا کر بولی ۔  
بہت ذیادہ  آرٹسٹک ہے ایسی دُھن جو اس بانسری میں ہے مجھ سے نہ آسکے گی ۔مجھے معاف کردو  ۔اور سنو اب شاید کوئی ڈرامہ کر بھی نہ سکوں ۔گاؤں میں دادی  کے پاس جانا ہے   پتہ نہیں کتنے دن لگ جائیں ۔
ساتھ بیٹھی سبھی لڑکیاں کھڑی ہوگئیں ۔شمشاد نے آگے بڑھ کر اسکے گلے میں باہیں  ڈالیں تو وہ نہ جانے کیوں جھنجھلا گئی ۔۔۔
"ارے ایسا کیا ہے ۔۔مر تو نہیں گئی ہوں ،،ملیں گے  پھر ۔۔۔"سویرا نے اسکی جھنجھلاہٹ صاف محسوس کر لی تھی ۔۔وہ اسکے ساتھ آگے بڑھ گئی عادل  وہیں بیٹھا اسےُ دیکھتا رہا ۔۔۔دیکھتا رہا  ۔
۔آرادھیا  جب ہوسٹل کے روم میں آئی تو کمرے میں شدید گھٹن کا احساس ہوا  ،پنکھا  چلا نے سے بھی گھٹن کم نہیں ہوئی  ۔ بس آس پاس گھومنے لگی  اسُ نے آگے بڑھ کر چھوٹی سی کھڑ کی کا پٹ کھول دیا ۔کھڑکی کھُلتے ہی ایک نرم ہوا کا جھونکا  کچھ دیر  کھڑکی سے لگا اسکی  طرف دیکھتا  رہا پھر کود کر اندر آگیا ۔۔۔اور ایک  نرم سی خنکی اسُ کے وجود میں بھر گئی ۔۔
جب دلوں میں درار  پڑتی ہے  تو فاصلے صدیوں پر محیط ہوجاتے ہیں ۔اور ان لمحوں کو بر سوں پر پھیلتے دیکھتی رہی ۔غلط سوچا تھا اسُ نے کہ آسمان پھٹ جائے گا ،وہ دب جائے گی ،ریزہ ریزہ ہوجائے گی ۔مگر یہ سب کچھ نہ ہوا ،نہ کوئی طوفان آیا ۔۔۔نہ آسمان گرا  مگر پھر بھی وہ کسی بوجھ تلے دبی رہی ۔سمجھ میں نہیں آتا تھا وہ ذمہ دار کسے ٹہرائے ۔۔۔۔کو ۔۔۔۔شمشاد کو ۔۔یا حالات کو اپنے آپ کو ۔اُسکا گلہ درد کرنے لگتا ۔ایک ٹیس سی اٹھتی دل چاہتا کہ زور سے  عادل  کو پکارے ۔
٭٭٭٭٭

اپنی بوڑھی بجھتی ہوئی آنکھیں ان سب پر جما کر دیکھا تو بہت تکلیف سی ہوئی ۔سب ہی بوڑھے ہوگئے تھے ۔۔بالوں کی سفیدی اپنے اپنے طریقے سےچھپا رہے تھے ، چہرے پر بشاّش مسکراہٹ دکھانے کی ناکام کوشش ۔۔۔
رضیہ ،شمشاد ِ عظمیٰ ۔سویرا ، گجو دھر (گلوّ) اور دور کھڑا  عا دل سب ہی جیسے ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے ۔ اور" کول" نظر آنے کی کوشش بھی کر رہے تھے
۔اُس نے اپنے کھچڑی ہوتے بالوں میں نادانستہ انگلیاں پھیریں ۔۔۔
کیا ہوا ہے کچھ بولو گے بھی ۔۔۔۔اُس نے رضیہ کی طرف گھور کے دیکھا ۔
کیا بتائیں  آرادھی ۔۔۔ساری عمر یوں ہی نکلتی چلی گئی ۔۔جیسے کچھ کیا ہی نہیں ۔رضیہ نے سسکی سی لی ۔
اسکی بس یہی شکایت ہے ۔۔پتہ ہے آپا ۔۔؟ شمشاد نے آپا کہا تو تھوڑی دیر لگی سمجھنے    میں ۔جب یہ کالج میں نئی نئی  آئی تھی تو یہ انِ سب سے عمر میں   بڑی  تھی  اسکو  شر مندگی  سے بچانے کے لئے ہی  ان سب نے اسکو اپنے گروپ پ میں شامل کیا تھا اس کی خوشی کے لئے کوشاں رہتے تھے ۔ماسٹرز کے بعد سارا گروپ ٹوٹ سا گیا ۔
۔شمشاد امیر گھر کی لڑکی تھی بیباک بھی تھی جلد ہی سب سے گھل مل گئی پھر اچانک جب عادل      اُس  سے دور ہوا تواسُ ٹیس کو بھی بر داشت کر گئی ۔اسی کالج میں لکچرر شپ اور پھر اب وایئس پرنسپل بنی بیٹھی تھی ۔
وہ پھر بول پڑی
اسکو تو عمران کا غم کھا ئے جارہا ہے  وہ تو مزے کر رہا ہے لندن میں اور یہ آہیں بھر بھر کر سارا ہندوستان گرم کیئے جارہی ہے ۔۔سب کھل کھلا کر ہنس دئے ۔ارادھیا  نے غور سے رضیہ کو دیکھا ۔
تم کو معلوم ہے کہ عمران کی شادی کن حالات میں ہوئی ؟؟
ا س پر کتنا دباؤ تھا ۔چچا کی زمین جائیدات  فیکٹری کی اسکو کتنی شدید ضرورت تھی ؟
چار بہنیں سب اس سے بڑی ۔کون دیتا اتنی بڑی قر بانی جو اسنے دی َ؟ تم کو تو اسکی عبادت کر نی چاہیئے ۔محبت میں آنکھیں کہاں دکھائی دیتی ہیں ۔۔۔بس درد کے دریا دکھتے ہیں ۔۔کبھی غور کرو اور سوچو تم خوش نصیب ہو ۔۔ایک محبت ساری زندگی تمہارے پاس رہی ۔۔۔قریب نہ سہی ۔۔دور سہی ۔۔۔
چائے کی پیالی میں ایک شو گر فری کی گولی ڈال کر اس  نے اپنی طرف کھسکائی ۔رضیہ ۔۔۔کم از کم تم تو
اسکی قدر کرو نہ کہ یہ سستے ڈائیلاگ بول کر  اسکی عظمت کم کردو ۔۔
وہ بھی یاد کر تا ہے تم کو ؟؟
پچھلے ماہ فون پر بات ہوئی تھی ۔رضیہ نے سر جھکائے ہوئے کہا
تب تو اور بھی خوشی کی بات ہے ۔ دل سے تو تم کو فراموش نہیں کیا نا ؟
کیا یہ کم ہے ؟
پاس کھڑی عظمیٰ اور سویرا بھی کافی دیر سے چپُ تھیں اردھیا  کی  بات غور سے سنُ رہی تھیں ۔گلوّ بھائی حسب ِ عادت میز پر رکھے لوازمات پر ہاتھ صاف کر رہے تھے  وہ کچھ کہتے اس ُ سے پہلے  اُس نے شمشاد سے پوچھ لیا ۔

شمشاد بیٹا ۔۔۔تم تو خوش ہو نا اپنے گھر میں َ
جی آپا ۔۔۔بہت "۔وہ چہکی ۔
تب آردھیا  نے مڑ کر عادل  کی طرف دیکھا ۔۔وہاں انُ آنکھوں میں  سمندر کے سوا کچھ نہ تھا اور اچانک اسُے  یہ احساس ہوا ۔۔۔بس ایک احساس ۔ کہ رنج  کے اس سفر میں   وہ  تنہا نہیں ہے ۔
٭٭٭٭٭٭

Sunday, May 10, 2020

مرگ انبوہ۔ذوقی

مرگ انبوہ۔
مشرف عالم ذوقی ۔
یہ ناول حال اور مستقبل کا آئینہ بھی ہے اور ایکیسویں صدی کی تاریخ بھی یہ ایک نوحہ ہے مشرف عالم ذوقی کاقلم کبھی چیخ کر روتا ہے اور کبھی ہلکی ہلکی سسکیاں بھرتا ہے ۔اور پوری ناول اس کے آنسوں میں تر ہے ۔اس
جنریشن کے اپنے مسائل ہیں جو کہ وہ کسی کے ساتھ شئیر بھی نہیں کرنا چاہتے بلکہ عقل کل بن بیٹھے ہیں ۔
وہ اپنے والدین کی غلطیاں تو پکڑ لیتے ہیں مگر ان کو یہ نہیں معلوم کہ وہ خود زندگی میں کیا کریں گے ۔
سیاست اپنی چال چل رہی ہے ماما شکونی نے نفرت کے پانسے پھینک دئے ہیں اور عیار مسکراہٹ سے بھارت ماتا کا چیر ہڑن کرنے کی تیاری میں ہے ۔نفرتوں نے چہرے منسخ کر دیئے ہیں ۔نفرت جو کہ بر سوں بوئی جاتی ہے اور اسے کاٹنے کے لئیے بھی نسلیں درکار ہوتی ہیں ۔گھروں کو جلتا دیکھ کر کوئی آگے نہیں بڑھتا مگر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس آگ بجھانے کی کوشش میں ہتھلیاں جھلس جانے پر بھی قلم نہیں روکتے سچ کہتے ہیں اور سچ ہی سننا چاہتے ہیں۔ان ہی لوگوں میں ایک واضع نام مشرف عالم ذوقی کا ہے جو اپنے قلم کو آہوں اور آںسوں کے درد میں ڈبو کر لکھتے ہیں ۔بے لاگ لکھتے ہیں بے خوف لکھتے ہیں ۔
شہروں کے ناموں کی تبدیلی کا ذکر بھی ہے ۔اور مسلمانوں کے قتل عام کا بھی ۔کشمیر کی وادیوں میں کراہتی مجبوریوں اور دردناک حالات کو بھی لکھتے ہیں اور زعفرانی رنگ کے پھیلتے دائرے بھی نظر میں ہیں ۔
شہروں کے نام اس طرح تبدیل کئیے جا رہے ہیں جیسے ان پرانے ناموں کو کچل کچل کر صفحہء ملک سے مٹایا جارہا ہو ۔
۔کشمیر میں ان سوکھے ہوئے آنسووءں کا بھی ذکر ہے جنکا بے رونق چہروں پر بس نشان باقی ہے ۔جہاں روز جنازے اٹھتے ہوں وہاں کوئی کہاں تک روے گا ۔۔مگر اس کتھا نے صاف الفاظ میں ہر ظلم کا ذکر کیا اور پہروں رُلایا ۔
وہ تلخیاں جو عرصے سے سینوں میں کہرام مچا رہی تھیں مشرف عالم ذوقی نے ان تلخیوں کو سپرد قلم کیا ہے۔
ان کا یہ جراءت مندانہ قدم قابل قدر اور اردو ادب میں ایک لازوال اضافہ ہے ۔
        لکیر دل پر دور تک کھنچتی چلی گئی ۔  ۔بس دھویں کی ایک سر مئی 

Sunday, July 28, 2019


خواب خواب منظر تھا ،دھیمے دھیمے بہتی تھی
راگنی ہواؤں کی ، را ت چاند بادل میں
عذرا قیصر نقو ی اردو ادب میں اپنے  عہد کی شناخت ہیں ۔اس بات کو کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ وہ  ایسے مضوعات و مسا ئل کو افسانوی  اور شعری قالب میں ڈھال دیتی ہیں جو کسی اور کے بس کی بات نہیں وہ جتنی عظیم شاعرہ ہیں ،ادیبہ بھی ہیں ۔انُ کی تمام تر تحریریں فکر انگیز اور حساس ہیں اور وہ وہ ہر قدم پر ہمیں حیران کر دیتی ہیں ۔
عذرا قیصر نقوی کی شاعری ۔ انُ کے مضامین اور بے مثال افسانے کسی ایک عہد کے لیئے نہیں وہ ہر عہد کے لیئے ایک مثال ہیں ۔
جناب محمد طارق غاذی  صاحب (آٹوا کینڈا ) لکھتے ہیں
 "عذرا نقوی سواد آعظم کی شاعرہ ہیں ۔ادب میں وہ ایک ایسی جدا گانہ آواز کے طور پر سامنے آئی ہیں جو فقط نسوانی نہیں جو نسائی بھی ہے اور عمرانی بھی ،عصری بھی ہے افاقی بھی ،فکر انگیز بھی ہے اور تعمیری بھی ۔۔۔۔۔"
شمیم  حنفی صاحب کہتے ہیں ۔
"ان کے بیشتر تجر بے کسی نہ کسی ایسی سچائی  سے پر دہ اٹھا تے ہیں جو سرّی یا ما بعد الطبیعا تی نہیں ہے ،محض مفروضہ  یا تخیل  کی وضع کر دہ  نہیں ہے اور جسے دیکھنے  اور سمجھنے کے لئے ہمیں اپنے آپ سے اور اپنی دنیا سے دور جانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی صاف لفظوں مین  کہا جائے  تو عذرا  کے تجربے ہمارے لیئے اپنے بھی تجر بے ہیں اور  ایک جانی پہچانی سطح پر ہم سے دو چار ہوتے ہیں "
عذا قیصر نقوی صاحبہ خود یہ اعتراف کرتی ہیں کہ ان کے اندر یہ فنکا رانہ صلاحیت ان کی امیّ سیّدہ فرحت اور والد  قیصر نقوی صاحب کی دین ہیں ۔وہ اپنی شاعری کے بارے میں کہتی ہیں َ
"میں نے شعر و ادب سے مہکے ہوئے ماحول  میں ہوش سنبھالا  وہ میری زندگی کا قیمتی سر مایہ ہے ۔بچپن کی یاد گلیوں میں جب گزر ہوتا ہے تو ایک گنگنا ہٹ سی  ساتھ ساتھ چلتی ہے ۔یہ میری شاعرہ ماں سیدہ فر حت کے گنگنا نے کی آواز ہے ۔یہ گنگنا ہٹ بھی کبھی لوری کی خواب آگیں نغمگی ہوتی ہے تو کبھی کسی سبق آموز منظوم کہانی کا تسلسل ۔۔۔۔۔۔"
اپنی ایک نظم میں کہتی ہیں ۔۔دو لائینیں ملاحظہ کیجئے ۔
"تم کہتے ہو گیت کو گیت ہی رہنے دو
لفظ تو اڑتے بادل جیسے ہوتے ہیں
کیوں بادل کو باندھ کے شکلیں دیتی ہو
بس کوتیا تو ایک دھنک ہے  بنتے مٹتے رنگوں کی ۔۔۔۔۔۔"
عذرا نقوی  نے کئی ملکوں کے مسائل سامنے رکھ کر  افسانے اور مضامین لکھے وہ انسان کو جاننے اور پرکھنے کا ہنر جانتی ہیں ۔وہ وقت کی نبض پہچانتی ہیں ۔ان کی نظمیں ۔غزلیں اور افسانے ملکوں ملکوں کا درد لیئے ہوئے سامنے آتے ہیں ۔
ان کا افسانہ " دو گز زمین " اسِ درد کی مثال ہے جو دیارِ غیر میں انھوں نے محسوس کیا ۔۔عذرا نقوی صاحبہ کی کتاب "آنگن جب پر دیس ہوا " کئی ہجرتوں کے دکھ سمیٹے ہوئے ہے ۔ان کی اس کتاب کے سلسلے میں جناب پروفیسر اقبال اعجاز بیگ صاحب کا کہنا ہے ۔
"افسانہ نگار عذرا نقوی ملکوں ملکوں گھومی ہیں اور دور دراز خطّوں کی سیا حت کی ہے ۔ہجرت کے تجربے اور اس کی تحّیر انگیزی سے گزری ہیں ۔ہجرت کر نے والے کر داروں کے در میان زندگی کی ہے ۔ان کر داروں کے حوالے سے  تہذیبی ،فکری ،معاشی اور ثقافتی ڈھانچے کی شکست وریخت اور تازہ صورت  پذ یری کا مطالعہ کیا ہے ،لہذٰ ا ان کے افسانوں کا موضوع ہجرت ہی قرار پا تا ہے ۔"
آنگن جب پر دیس ہوا ۔
الہ دین کا چراغ
گھر لوٹ جانے کا تصّور
اس ملبے میں ۔۔
یہ تمام افسانے وطن سے دوری اور وطن کی محبّت  کے غم سے شرا بور ہیں ۔اپنی زمین سے چھُٹ کر دکھُ اٹھانے والوں کے درد کو عذرا نقوی نے بخوبی محسوس کیا اور قلم کیا ہے ۔
ان کی ایک اور کتاب کا ذکر نہ ہو تو ناانصافی ہوگی ۔ان کی کتاب "جہاں بنا لیں اپنا نشیمن "مختلف ملکوں میں بسے ہوئے خاندانوں کی زندگی کی بے حد مہارت سے عکاّ سی کی ہے ۔اس کتاب کے بارے میں مجتبیٰ حسین صاحب کہتے ہیں ۔
"خاکہ نگاری ایک ایسا ہنر ہے جیسے سیکھا نہیں جاتا  بلکہ جب تک خاکہ نگار میں انسان دوستی ، مردم شناسی اور حالات و واقعات کو صحیع  پس منظر میں دیکھنے کا جوہر نہ ہو ، اسُ کے خا کوں میں حقیقت کی عکّا سی  نہین ہو سکتی ۔اس اعتبار سے عذرا نقوی کے خاکے ان کے منفرد  طرزِ بیان اور باریک بینی کی عکا سی کرتے ہیں ۔مجھے عذرا نقوی کی کتاب پڑھ کر فر حت کا احساس ہوا ۔ہمارے ہم وطن جو بیرونی ملکوں میں مقیم ہیں انھیں اس کتاب کو اس لیئے بھی پڑھنا چاہیئے تاکہ انھیں اندازہ ہو کہ وطن سے دور زندگی کیسے گزار نی چاہیئے ۔"
عذرا نقوی صاحبہ کی شاعری ہو یا نثر انکا انداز منفرد ہے اور ان کی تمام کتابیں اپنی مثال آپ ہیں ۔عذرا نقوی کی کتابیں اردو ادب میں ایک بیش بہا اضافہ ہیں ۔آخر میں ایک نظم سنا نا چاہتی ہوں جو عذرا نقوی صاحبہ نے







Wednesday, May 29, 2019

تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے


تو دیکھ  کہ کیا رنگ ہے ۔۔۔
نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ
اب اسُ پر ندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے
تالاب کے کنارے  پیپل کے پیڑ تلے  اس کی جڑوں پر  بیٹھ کر اس نے بانسری کی لمبی تان لی ۔۔۔شام کا  سر مئی اندھیرا بانسر ی کی  آواز کے ساتھ چمک  اٹھا ۔۔۔کچّے آنگن میں  پازیب  کی جھنجھناہٹ سی ہوئی اور پھر ایک سریلی  سی چھن چھن  میں گلابی کبوتر جیسے پاؤں تھرکنے لگے ۔۔۔بانسری کی  دھُن   گونجتی رہی اور گلابی پاؤں تھرکتے رہے ۔۔۔اور پھر مغرب کی اذان کی آواز  سناٹوں کو چیرتی ہوئی ہر طرف چھاگئی ۔۔۔بانسری کی آواز خاموش ہوگئی پیروں نے تھرکنا بند کر دیا ۔۔اور اسُ نے بڑی عقیدت سے  چنری کا روبٹہ  سر پہ پھیلا لیا ۔
"بھئی پلیز ۔۔۔۔ایسے ڈرامے مجھ سے نہیں ہونگے ۔۔۔بی پریکٹل۔۔میں  نہ اتنی خوبصورت ہوں نہ میرے پیر کبوتر جیسے ہیں ۔۔۔" سب کھلکھلا کر ہنس پڑے ۔
"یار اب اتنا بھی کیا پریکٹل ہونا ۔۔۔کہانی اچھی ہے ۔۔اس پر کام کر کے تو دیکھو ۔۔مزا آئیگا ۔۔
"کوئی اور ؟؟
"کوئی اچھّا اسکرپٹ نہیں بچا ہے ۔۔سب ہوچکے ہیں ۔۔۔کسی اور کو لینا نہیں چاہتا   پلیز  آرادھیا ۔۔۔۔
عادل  نے اسکی طرف جھک کر خوشامدی نظروں سے اسے دیکھا۔
نا بھئی ۔۔۔۔"اسنے سیڑھیوں سے اٹھ کر اپنا  جمپر پیچھے سے جھا ڑا ۔۔۔اور دور سوکھے پتوّں میں اوندھی پڑی  دو پتلے پٹوّں  کی چپل پیر سے سیدھی  کی۔پھر سر اٹھا کر بولی ۔  
بہت ذیادہ  آرٹسٹک ہے ایسی دُھن جو اس بانسری میں ہے مجھ سے نہ آسکے گی ۔مجھے معاف کردو  ۔اور سنو اب شاید کوئی ڈرامہ کر بھی نہ سکوں ۔گاؤں میں دادی  کے پاس جانا ہے   پتہ نہیں کتنے دن لگ جائیں ۔
ساتھ بیٹھی سبھی لڑکیاں کھڑی ہوگئیں ۔شمشاد نے آگے بڑھ کر اسکے گلے میں باہیں  ڈالیں تو  اسے اچانک بے  تہا شہ گھٹن کا  احساس ہوا ۔
وہ نہ جانے کیوں جھنجھلا گئی ۔۔۔
"ارے ایسا کیا ہے ۔۔مر تو نہیں گئی ہوں ،،ملیں گے  پھر ۔۔۔"سویرا نے اسکی جھنجھلاہٹ صاف محسوس کر لی تھی ۔۔وہ اس کے ساتھ آگے بڑھ گئی عادل  وہیں بیٹھا اسےُ دیکھتا رہا ۔۔۔دیکھتا رہا  ۔
۔آرادھیا  جب ہوسٹل کے روم میں آئی تو کمرے میں ،پنکھا  چلا نے سے بھی گھٹن کم نہیں ہوئی  ۔ بس آس پاس گھومنے لگی  اسُ نے آگے بڑھ کر چھوٹی سی کھڑ کی کا پٹ کھول دیا ۔کھڑکی کھُلتے ہی ایک نرم ہوا کا جھونکا  کچھ دیر  کھڑکی سے لگا اس کی  طرف دیکھتا  رہا پھر کود کر اندر آگیا ۔۔۔اور ایک  نرم سی خنکی اسُ کے وجود میں بھر گئی ۔۔
جب دلوں میں دراڑ  پڑتی ہے  تو فاصلے صدیوں پر محیط ہوجاتے ہیں ۔اور ان لمحوں کو بر سوں پر پھیلتے دیکھتی رہی ۔غلط سوچا تھا اسُ نے کہ آسمان پھٹ جائے گا ،وہ دب جائے گی ،ریزہ ریزہ ہوجائے گی ۔مگر یہ سب کچھ نہ ہوا ،نہ کوئی طوفان آیا ۔۔۔نہ آسمان گرا  مگر پھر بھی وہ کسی بوجھ تلے دبی رہی ۔سمجھ میں نہیں آتا تھا وہ ذمہ دار کسے ٹہرائے عادل کو ۔۔۔۔شمشاد کو ۔۔یا حالات کو اپنے آپ کو ۔اُس کے  گلے  میں درد  ہو نے  لگتا ۔ایک ٹیس سی اٹھتی دل چاہتا کہ زور سے  عادل  کو پکارے ۔
ڈرامے سے دلچسپی عادل کی وجہ سے ہوئی تھی ۔انار کلی ڈرامہ جو کہ ہر اسٹیج پر ہزاروں  مرتبہ دہرا یا جا چکا ہے ،اس ڈرامے میں آرادھیا نے کمال ہی کر دیا ۔کالج میں ایک بار اسٹیج ہونے والا ڈرامہ کئی بار فر مائشوں سے دوسرے   کالج اور یونیورسٹی میں کر وایا گیا ۔
اکثر طلباء راستے کہیں ملتے تو اس کو "انار کلی " کہہ کر مخاطب کرتے ۔
جب ان  سب   کی ٹیم  کودوسرے شہروں میں  بلایاجانے لگا     تو ڈرامہ کلب کو چار چاند لگ گئے ۔دوستوں کے ساتھ زندگی پَر  کی طرح  ہلکی تھی  ۔۔دوستی دریا کی روانی ہے جو آہستہ آہستہ  بہتی ہے اور لہریں  ایک دوسرے سے گلے ملتی رہتی ہیں۔۔وہ  اپنے دریا میں بے حد خوش اور مطمین تھی۔۔۔ 
وہ ویسے بھی جینیس تھی کلاس میں ہمیشہ پوزیشن رہی ،جب ڈرامے کی طرف رخ کیا تب بھی تعلیمی   میدان میں کچھ کمی نہیں آئی ،چار برس بعد جب   اس کالج میں آخری سال تھا  تبھی شمشاد ڈرامہ کلب میں شامل ہوئی   نکھری نکھری   گلابی سی شمشاد امیرکبیر طبقے سے تعلق رکھتی تھی اور اسی لئے ہر لڑکا اسُ کے آگے پیچھے پھر نے لگا ۔۔
قیامت تو اسُ وقت ٹوٹی جب  عادل  نے اسکو  ٹیم میں ہی نہیں  رکھّا  بلکہ اپنی ہیروین کا رول آفر کیا ۔۔اور اسی پر بس نہیں ہوا ۔۔وہ دیکھ  رہی تھی عادل کتنا دور  ہوگیا تھا ۔۔۔بات کرنے میں بیزاری آگئی تھی ۔اسُ  کا چڑ چڑا پن  سب کو نظر آرہا تھا۔وہ جیسے اپنا دامن کھینچ  کر چھڑا  رہا تھا ۔۔جیسے یہ گہری دوستی اس کے لئے گھٹن پیدا  کر نے لگی تھی ۔۔
 
وہ انسان ہی تو تھی ۔۔
غیر مذہب بھی ۔۔۔لوگوں کی باتیں  اسُ کے لئے ستم بن گئیں ۔۔آخری سال ختم کر کے وہ گاؤں دادی کے پاس رہنے چلی گئی ۔
پھر سناُ کہ عادل نے بیاہ کر لیا ۔۔۔کوئی اور نہیں  اسُ              کی  دلہن وہی  ۔۔شمشاد تھی ۔
سر پہ یتیمی  آئی تو خواب  ہاتھ چھڑا کر دور جا بیٹھے  اب تو بس یہ دھُن تھی  کہ تعلیم مکمل ہو جائے تو گھر سے غریبی کا سا یہ     دور کروں ۔
اسی تگ و دو میں  کچھ چھؤٹی موٹی ملازمت بھی کی  آنکھوں میں جلنے والے  محبت کے دئے تو کب کے بجھ چکے تھے ۔
خاندانی ترکہ تو کچھ ملا نہین ماں نے اپنے زیور  نکالے  اور دونوں بہن بھائیوں  کو محرومیوں سے بچا لیا ۔ماں پنجاب  کے اچھے خاندان سے آئی تھیں   تو  زیور بھی کلو کے حساب سے ملا تھا   گزر بسر اچھّی ہونے لگی ۔  تعلیم بھی مکمل ہوگئی  
 اس کی  آنکھوں کے   سارے جگنو  بجھ چکُے تھے   اب تو اپنا اور بھائی  اور  ماں  کے شکم کی آگ کا سوال تھا  ۔ماں نے پڑھائی کسی طور چھوڑنے نہیں دی تھی بس یہی کرم ہوا ۔اسی لیئے آج اسیُ کالج میں وائس پرنسپل بنی بیٹھی تھی  ۔
پراُ نے دوستوں کو دیکھ کر جہاں خوشی کو احساس ہوا  ایک سنسناتا  ہوا تیر بھی دل  پر آلگا ۔ بالوں میں سفیدی نے ڈیرا جما لیا تھا ۔ایسا لگتا تھا کسی دوڑ میں حصہ لیا  ہے اور ساری طاقت اور خواہشات  اسی دوڑ  میں جھونک دیں  آگے نکل کر  ماں اور بھائی کا سہارا جو بننا تھا ۔

اپنی بوڑھی بجھتی ہوئی آنکھیں ان سب پر جما کر دیکھا تو بہت تکلیف سی ہوئی ۔سب ہی بوڑھے ہوگئے تھے ۔۔بالوں کی سفیدی اپنے اپنے طریقے سےچھپا رہے تھے ، چہرے پر بشاّش مسکراہٹ دکھانے کی ناکام کوشش ۔۔۔
رضیہ ،شمشاد ِ عظمیٰ ۔سویرا ، گجو دھر (گلوّ) اور دور کھڑا  عا دل سب ہی جیسے ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے ۔ اور" کول" نظر آنے کی کوشش بھی کر رہے تھے
۔اُس نے اپنے کھچڑی ہوتے بالوں میں نادانستہ انگلیاں پھیریں ۔۔۔
کیا ہوا ہے کچھ بولو گے بھی ۔۔۔۔اُس نے رضیہ کی طرف گھور کے دیکھا ۔
کیا بتائیں  آرادھی ۔۔۔ساری عمر یوں ہی نکلتی چلی گئی ۔۔جیسے کچھ کیا ہی نہیں ۔رضیہ نے سسکی سی لی ۔
اس کی بس یہی شکایت ہے ۔۔پتہ ہے آپا ۔۔؟ شمشاد نے "آپا "کہا تو تھوڑی دیر لگی سمجھنے    میں ۔
جب یہ کالج میں نئی نئی  آئی تھی تو یہ انِ سب سے عمر میں   بڑی  تھی  ا س کو  شر مندگی  سے بچانے کے لئے ہی  ان سب نے  اپنے گروپ پ میں شامل کیا تھا اس کی خوشی کے لئے کوشاں رہتے تھے  ۔
۔شمشاد امیر گھر کی لڑکی تھی بیباک بھی تھی جلد ہی سب سے گھل مل گئی پھر اچانک جب عادل      اردھیا  سے دور ہوا  تواسُ    نے اس ٹیس کو  کیسے بر داشت کیا یہ وہی جانتی تھی ۔۔۔اور اب  "آپا " ؟  اسُ کا دل چا ہا کہ زور سے قہقہ لگا ئے ۔۔۔
شمشاد پھر بول پڑی
اس کو تو عمران کا غم کھا ئے جارہا ہے  وہ تو مزے کر رہا ہے لندن میں اور یہ آہیں بھر بھر کر سارا ہندوستان گرم کیئے جارہی ہے ۔۔سب کھل کھلا کر ہنس دئے ۔ارادھیا  نے غور سے رضیہ کو دیکھا ۔
تم کو معلوم ہے کہ عمران کی شادی کن حالات میں ہوئی ؟؟
ا س پر کتنا دباؤ تھا ۔چچا کی زمین جائیداد  فیکٹری کی اس کو کتنی شدید ضرورت تھی ؟
چار بہنیں سب اس سے بڑی ۔کون دیتا اتنی بڑی قر بانی جو عمران نے دی َ؟ تم کو تو اس کی عبادت کر نی چاہیئے ۔محبت میں  بہت  کچھ  کھو نا  پڑتا  ہے ۔۔۔بس درد کے دریا دکھائی  دیتے ہیں ۔۔کبھی غور کرو اور سوچو تم خوش نصیب ہو ۔۔ایک محبت ساری زندگی تمہارے پاس رہی ۔۔۔قریب نہ سہی ۔۔دور سہی ۔۔۔
چائے کی پیالی میں ایک شو گر فری کی گولی ڈال کر اس  نے اپنی طرف کھسکائی ۔رضیہ کے کاندھے پر پیار سے ہاتھ رکھتے ہوئے  کہا ۔۔۔کم از کم تم تو
اس کی قدر کرو نہ کہ یہ سستے ڈائیلاگ بول کر  اس کی عظمت کم کردو ۔۔
وہ بھی یاد کر تا ہے تم کو ؟؟
پچھلے ماہ فون پر بات ہوئی تھی ۔رضیہ نے سر جھکائے ہوئے کہا
تب تو اور بھی خوشی کی بات ہے ۔ دل سے تو تم کو فراموش نہیں کیا نا ؟
کیا یہ کم ہے ؟
پاس کھڑی عظمیٰ اور سویرا بھی کافی دیر سے چپُ تھیں اردھیا  کی  بات غور سے سنُ رہی تھیں ۔گلوّ بھائی حسب ِ عادت میز پر رکھے لوازمات پر ہاتھ صاف کر رہے تھے 
اور سویرا تم بتاؤ ۔۔۔۔کیسی گزر رہی ہے ۔۔۔خوش ہونا ۔۔؟
ہاں ۔خوش تو ہوں  بس ایک پتھر سے سر پھوڑ رہی ہوں ۔عجیب بے حس سا انسان ہے  وسیم  خان ۔
ایسا نہ کہو وسیم تو بہت اچھّا ہے ۔۔سجتا ہے تمہارے ساتھ ۔۔
گلوّ بھائی نے  ہاتھ روک کر سویرا پر نظر ڈالی اور کھنکھار کر بولے ۔۔
اچھّا ہے ورنہ کالے پتھر سے  سر پھوڑتیں تو اور زیادہ تکلیف ہوتی ۔نثار احمد جو سویرا کے آگے پیچھے پھرا کر تا تھا اس کا سراپا سوچ کر سب ہنس پڑے ۔۔ماحول بدل گیا ۔۔
وہ کچھ اورکہتے اس ُ سے پہلے  اُس نے شمشاد سے پوچھ لیا ۔

شمشاد بیٹا ۔۔۔تم تو خوش ہو نا اپنے گھر میں َ
جی آپا ۔۔۔بہت "۔وہ چہکی ۔
تب آردھیا  نے مڑ کر عادل  کی طرف دیکھا ۔اسُ کے اس طرح دیکھنے پر  عادل نے گردن خم  کی اور مسکرا  دیا ۔اسُ کے چہرے پر گردِ ملال صاف نظر آرہی تھی  گہرے دکھ اور مایوسی  کا سایہ  آنکھوں سے عیاں تھا
۔وہاں انُ آنکھوں میں  سمندر کے سوا کچھ نہ تھا اور اچانک اسُے  یہ احساس ہوا۔۔بس ایک احساس ۔ کہ ۔ اس  دردمیں  وہ تنہا  نہیں تھی ۔۔۔
 ۔ ۔
٭٭٭٭٭٭