Tuesday, January 28, 2014

Ganga behti ho kyun

اے گنگا بہتی ہو کیوں ۔۔۔۔۔
کھلی ہوا ؤں میں لہراتی ۔
گنگناتی ۔۔۔۔۔مسکراتی ۔۔۔
ہنستی شر ماتی ۔۔۔۔۔۔
ایسی تھی چاندنی ۔۔۔
ماں با بو کے دل کا چین ۔۔سونو۔بھیّا کی انکھو ں کی روشنی ۔۔اور گھر کی بہار ۔۔۔ایسی تھی چاندنی ۔۔۔۔مورنی کی طرح نا چتی ہنستی گاتی مسکا تی ۔۔سفید پھو لوں سے لدی پھندی خوشبو بکھراتی وہ اچا نک ہی بڑی ہوگئی ۔۔۔۔
جو ہی کی ڈالی جیسی چاندنی  پر جب چندن کی نظر پڑی تو پھر ہٹ نہ سکی ۔۔۔وہ تو تھا ہی چندر ۔۔۔مگر اسکی روشنیا ں بھی چاندنی کے سامنے ماند پڑ نے لگیں ۔۔۔۔
چاندنی کو شر ما نا آگیا تھا ۔۔
چندر کی نگا ہیں پہچان گئی تھی وہ ۔۔۔اسکی ایک نظر سے وہ مہک اٹھتی  دھان کی بالیو ں کی طرح لہرا اٹھتی سر سرا اٹھتی ۔۔۔
گنگا  کے شفّاف پا نی میں دونوں گھنٹوں اپنا عکس دیکھتے رہتے ۔۔۔تبھی چاندنی نے ایک پتھّر اٹھا کر پانی کی چا در پر اچھال دیا ۔۔۔۔عکس ۔۔۔ٹوٹ گئے ۔۔۔۔بکھر گئے ۔۔۔
چندر نے تڑپ کر اسکا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔"نہیں چاندنی ۔۔۔یہ کیا کیا تم نے ؟؟
دیکھو کیسے بکھر گئے ہم ؟؟
اب ایسا کبھی مت کر نا   ۔۔"معصوم چا ندنی ڈر گئی ۔
"مجھے کبھی چھوڑ کر مت جا نا چاندنی ۔۔۔" اسنے لجا جت سے اسکے ہا تھ تھام لیئے ۔۔۔۔
مگر چاندنی اپنے سماج کی ریتو ں رواجوں کی پابند تھی ۔۔ما ں با بو ،سو نو بھیّا کی پیار کی بندّھی چاندنی ۔۔۔کیا کر تی ؟؟؟
اور وہ باولا ہو گیا ۔۔۔
گا ؤں کے زمیندار کا اکلو تا وارث ۔۔۔۔وہ کیسے بر داشت کرتے ؟؟ کہا ں وہ ۔۔۔۔۔اور کہا ن ایک معمولی کسان کی بیٹی ۔۔۔۔؟
اور وہی سب ہوا ۔۔۔۔اپنی طر ح۔۔۔۔۔پرا نے دھرا نے قصے دہرا ئے گئے ۔۔۔چا ند نی دور ہو گئ چند ر سے ۔۔۔
بنارس کی گمنام گلی رات کا ٹہرا وقت ۔۔۔۔
رشتہ کا ما ما کواڑکھول کر چپ چاپ کھڑا رہا ۔۔۔۔۔
"بھیّا نند نی ۔۔ہوں ۔۔چا ند نی کی ما ں ۔۔۔۔"
چا ند نی کی ماں نے اپنے کو پہچنوا یا ۔۔۔
"ہا ں ہاں جا نتا ہوں۔۔۔۔۔کیسے کشٹ کیا ؟"
"بھیتر آجا ؤں۔۔۔؟ جا ڑے کی پیر سے کپکپا تی ہو ئی ماں اور چاندنی ۔۔۔
ہری چرن راہ سے ہٹ گیا ۔دونوں ما ں بیٹی سہمی سہمی اندر آگئیں ۔سانولی سلونی  بھا بی موٹے موٹے چاندی کے کڑے پہنے ۔ڈھیر سا را سندور لگا ئے آنکھو ں میں کاجل بھر ے مسکرا رہی تھی ۔اسکی طرف سے سوا گت تھا ۔۔۔۔۔۔
پیا ز اور چٹنی سے روٹی کھا کر جب بستر آئیں ،تو بات چھڑی ۔
"کہیں چا ندنی کی نا ؤ با ندھو بھیّا ۔۔۔۔۔اب کون ہمارا ؟سب مر کھپ گئے ،چا ندنی کے ابّا زمیندار کی مجو ری کر کے ہمیں پال رہا ہے ۔۔۔وہاں کو ئی رشتہ نہ ملا تو آگئی ۔۔۔۔۔۔تم بھی ما ما ہو باپ کی طر ح ہو اسکے لیئے ۔۔۔۔۔۔"
اکیلی بو لتے بو لتے وہ تھک گئی ۔۔۔ہا نپ گئی ۔
"ہا ں ہا ں کا ہے نہیں ۔۔۔۔"ما می نے پیار سے چا ندنی کے بال سنوا ردٰیئے
آدھی رات کو رگھّو گھر آگیا ۔۔بڑی بڑی مو نچھو ں والا ۔۔      ۔کر خت چہرے اور غلیظ آنکھو ں والا رگھّو ۔۔۔ہاتھ میں مو ٹی سی لا ٹھی سنبھالے ہو ئے کھٹ کھٹ کر تا ایا تو سارے گھر میں عجیب سی نا گوار سی بو  پھیل گئی ۔
ما می کا چہرہ اتر سا گیا ۔اٹھ کر کھا نا دینے چو لھے کے پاس گئی تو دیکھا رگھّو وہیں بیٹھا آگ تاپ رہا تھا ۔
"ای کون لوگ ہیں امّا ں ۔؟
"تیرے با بو جی کی رشتہ دار ہیں ۔مصیبت میں ہیں بے چاری ۔"
"کبتک ہیا ں رہییین۔۔۔۔" اسنے بڑا سا نوالا منھ میں ڈال کر چبا تے ہو ئے پو چھا ۔
"چلے جینہیں ۔۔۔ابھی تو آئے ہیں کو ئی گھنٹہ بھر پہلے ۔۔۔تم کا کا ہے "اسنے دوسری پیاز اسکی طرف بڑھائی اور وہ اسے مٹھی سے تو ڑ کر کھانے لگا ۔
صبح کےاجا لے میں جب اسنے چا ندنی کو دمکتے دیکھا تو وہ تڑپ اٹھا ۔
معصوم چاندنی
پاکیزہ چاندنی
نکھری چاندنی ۔وہ ادھر ادھر دیکھ رہی تھی شہر پہلی بار دیکھا اسنےما ں کے ساتھ مندر کی سیڑھیا ں چڑھتے چڑھتے بھی اسکا دھیا ن چو ڑی صاف ستھری سڑک اور مو ٹر گا ڑیوں پر ہی رہا ۔دل ہی دل سو چتی رہی کہ کا ش چندن بھی یہا ں ہوتا ۔۔وہ بھی میرے ساتھ یہ جہان دیکھ لیتا ۔۔۔کیسا دھلا دھلایا سا ہے سب کچھ ۔۔۔کیسی پیاری نکھری نکھری دنیا ہے مگر چندن کے بنا سب سونا ہے ۔۔۔
کئی مہینےیو نہی بے رو نق گزر گئے کچھ بھی نہ ہوا ۔غریب کی بیٹی کو کوئی آسانی سے کہا ں قبول کر تا ہے ۔۔
اور رگھّو کی آنکھیں ۔۔۔۔۔سا نپ جیسی ڈ ستی آنکھیں ۔۔۔
"امّا ں ہیا ں ڈر لگتا ہے ۔۔گھر چلو با بو کے پاس ۔"۔۔رات کو امّاں کے پہلو میں چھپ کر فریاد کی اسنے ۔۔۔
"ہا ں چلینگے جلدی ۔۔۔"رات گزرتی رہی اور چاندنی سہم سہم کر سوتی جا گتی ۔۔رہی
ایک دن ما ما نے خوش خبری سنا دی ،لڑکا برا دری کا ہی تھا ۔امّا ں اور مامی خوشی خوشی اس سے ملنے چل پڑیں ۔۔۔
شام ہو نے لگی تھی ابھی تک کوئی نہیں آیا تھا ۔۔اور رگھّو آگیا ۔
چا ندنی ڈرتی سہمتی رہی ۔۔۔روتی رہی منّتیں کر تی رہی اور پھر منھ سے یہی نکلا " چندر ۔۔۔۔مجھے بچا لو ۔۔۔۔۔"
"چندر نے وہا ں دور چونک کر چا روں طرف دیکھا ۔۔۔اسکا دل بری طرح بے چین ہوا ۔۔۔۔پھر یہ سوچکر دل کو تسّلی دی کہ وہ اپنے ما ما کے پاس گئی ہے آجائے گی ۔
رگھّو جیت گیا وہ ہار گئی ۔۔۔۔چا ندنی بجھ گئی ۔۔دنیا ویسے ہی چلتی رہی کو ئی طو فان نہ آیا ۔۔کوئی زلزلہ نہ آیا ۔۔پہاڑ نہ گرا ۔۔مگر وہ تو  مٹ گئی ۔
نا سمجھ بھولی بھالی چاندنی ۔۔۔ایکدم مر جھانے لگی وہ آواز دیتی "چندر ۔۔۔چندر ۔۔۔میرے روم روم میں زہر پھیل رہا ہے مجھے بچاؤ ۔۔"
اور اسکا بیاہ پکّا ہو گیا ۔۔۔
جس دن مندر جاکر منّت پوری کرنی تھی اسے صبح سے چکّر آرہے تھے ۔مندر جانے سے پہلے ہی وہ چکرا کر زمین پر گر گئی ۔
زما نہ شناس ما می فوراً سمجھ گئیں ۔چاندنی کو بکھرا بکھرا انداز ۔اسکی حالت ۔۔اور یہ نہ چھپنے والی بات ۔۔۔
اسدن کو ئی مندر نہیں گیا مانو گھر میں میّت ہو گئی ۔
دوسرے دن شام ہو تے ہوتے سو نو بھیّا آگیا ۔۔۔اور چاندنی اسکو دیکھ کر اپنا رونا رونے دوڑی ۔۔۔تو اسنے ہاتھ جھٹک دیا ۔۔۔
" بھیّا ۔۔۔۔؟؟"معصوم سوال ہو نٹو ں پر آکے ٹو ٹ گیا ۔
"یہ سب چندر کا کیا دھرا ہے نا ۔۔۔"سو نو نے اسے گھور کر پو چھا تو وہ نا سمجھی میں اسے دیکھتی رہی ۔۔۔کیا کیا چندر نے ؟؟ اسے پتہ ہی نہیں ۔
رات کو جب گہرا اندھیرا ہوا تو کسی نے چراغ  پھونک مار کے بجھا دیا ۔۔۔
چاندنی کو سو تے سوتے گلے پر بوجھ سا محسوس ہوا ۔۔اسنے اپنے ہاتھ اٹھا نے چاہے تو دونو ں ہتھیلیا ں کسی گھٹنے تلے دبی رہیں ۔۔۔نا گوار سی بو چا روں طرف چکرا رہی تھی ۔۔۔۔گلے پر دباؤ بڑھ رہا تھا ۔۔۔اور وہ ہوش و حواس سے بیگا نی ہو گئی ۔
"چندر بچاؤ " یہ آخری    کا لمحہ تھا اور پھر خا موشی ۔
آواز گھٹ گئی آنکھیں باہر نکل آئیں چہرہ نیلا ہو گیا ۔۔
سویرے ہی سا نپ ۔۔۔۔سانپ کا شور مچ گیا ۔۔چاندنی کو سا نپ نے ڈس لیا ۔۔سونو بھیّا اور رگھّو نے سب محلّے والوں کو بتا یا ۔
امّا ں پچھا ڑیں کھا تی رہ گئی پر منھ نہیں دکھا یا گیا ۔۔۔کہ سا نپ بہت زہریلا تھا امّا ں منھ دیکھ لے گی تو جی نہ پائے گی ۔
ارتھی اٹھ گئی ۔۔۔سنّا ٹا ہو گیا ۔۔۔چا ندنی سو گئی ۔۔۔
سب ویسے کا ویسا ہی رہا ۔۔۔۔
چندر جو ہی کے پو دے تلے بیٹھا اسکے لیئے گجرے بنا تا رہا ۔۔
دنیا چلتی رہی ۔۔
ختم شد


 ۔۔۔۔


Sadayen peecha karti hain

صدا یئں پیچھا کرتی ہیں                                                                                     


بابا کی یا د بہت آتی ہے ، جیسا کہ نام سے ہی ظا ہر ہے ہمارے والد کے بڑے بھائی تھے ہمارا سارا بچپن انکے سائے میں گز را  ان ہی کی ہدا ئیتیں سن سن کر ہم بڑ ے ہو ئے  کتنی ساری باتیں ہیں جو اکثر یا د آتی ہیں تو ہو نٹو ں پر مسکرا ہٹ آجاتی. ہے ۔  بابا کا ذ ہنی توا زن صحیع نہیں تھا مگر انکی ذات سے کبھی کسی کو کو ئی تکلیف نہیں پہو نچی بلکہ وہ خو د ہی سب کے آرام کا بیحد خیا ل رکھتے تھے با با کی شخصیت بہت پر اثر تھی جو بھی کبھی ایک بار ان سے مل لیتا وہ کبھی نہیں بھو لتا تھا  اچھا خا صہ لمبا قد سفید بال چھو ٹی سی سفید دا ڑھی جو وہ ہر جمعہ کو صحیع کر واتے تھے ،کپڑے پہنے کا بھی انکا الگ ہی انداز تھا ،لایئن یا چک والی لمبی قمیص اور چو ڑے پا یئچو ں کا پا یئجا مہ ،سر دیو ن میں ایک گھر کی سلی واسکٹ پہنتے تھے جسے وہ  "بنڈی "کہتے تھے اسمیں رو ئی بھری  ہو تی تھی ۔سر پر اون کا بنا ہو ا کیپ رہتا تھا جسے وہ "ٹو پا کہتے تھے ۔با با چہرے سے بیحد معصوم نظر آتے تھے  کیو نکہ انکو دنیا داری با لکل نہیں آتی تھی جو کچھ بھی کہتے یا کر تے تھے وہ سچ ہی ہو تا تھا ۔
صبح صبح  فجرکی نماز پڑھ کر جب وہ مسجد سے گھر آتے تو اپنے دا من میں ہا ر سنگھار کے بہت سارے پھو ل بھر کے لے آتے اور ہمارے سو تے ہو ئے چہرو ں پر ٹھنڈے ٹھنڈے پھو ل بر س جاتے  چا رو ں طر ف خو شبو پھیل جا تی  ،ہم ہڑ بڑا کر اٹھتے تو وہ سر ہا نے اپنی معصوم سی مسکرا ہٹ لیئے کھڑے ہو تے ،
"نما ز پڑھ لیجئے بٹیا " وہ نر می سے کہتے
 ذ ہنی کمزو ری کے با وجو د  وہ ایک نا رمل اور شر یعت کی پا بند زند گی گزا ر رہے تھے ،نما ز رو زے کے لیئے وہ ہم پر کافی سختی بھی کر تے اور خو د بھی کبھی لا پر واہی نہیں کر تے تھے مگر کبھی کسی بات پر غصہ آجاتا تو ایک رکعت نماز کے بعد اللہ میا ں سے بھی خفا ہو جاتے
"جاؤ نہیں پڑھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہہ کر مصّلہ لپیٹ  کر رکھ دیتے  اور مسجد سے تیز تیز چلتے ہو ئے کچھ بڑ بڑا تے ہو ئے نکل جاتے   ہمیں نہیں پتہ چل سکا کہ وہ نا را ض کیو ں ہو تے تھے لیکن یقیاً کو ئی دعا جو فوراً قبو ل نہ ہو ئی ہو ،اس پر انہیں بہت غصہ آتا تھا ۔
قران کی تلا وت بھی روز پا بندی سے کرتے اور اکثر با تو ں با توں میں آیات کو ڈ کیا کرتے تھے  مگر کبھی بھو ل بھی جایا کرتے اور غلط پڑھتے اور کسی کے صحیع کر دینے پر سخت          نا را ض ہو تے تھے ۔اشتعال جلدی آجاتا تھا شا ئد یہ انکی کمزوری تھی پھر بڑی مشکل سے قا بو میں آتے ۔
اگر کوئی مہما ن آجاتا تو بے انتہا خو ش ہو جاتے ،
"آگئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔" وہ ڈیو ڑھی سے بڑی تیز رفتا ری سے نمو دار ہو تے ۔۔۔
"کون آگئے  با با ؟؟؟؟"ہمیں تجسس ہو تا
"ارے وہی ۔۔۔۔۔۔۔انکے لڑ کے ۔۔۔۔۔۔" نام ذہن سے نکل چکا ہو تا
"کسکے لڑ کے با با ؟؟؟؟" گا ؤں میں اوّل تو یو ں بھی پہو نچ پا تے تھے  سوائے گر میو ں کی چھٹیو ں کے  اور ایسے کو ئی آجائے تو بہت خو شی ہو تی تھی  ۔با با نام بھو ل جاتے مگر ہمیں انکے انداز سے پتہ چل جاتا کہ ضرور پھو پی جان کے بیٹے ہو نگے کیو نکہ با با ان لو گو ں کے آنے سے بیتہا شہ خو ش ہو تے تھے محبّت بھی بہت کر تے تھے اور نا راض بھی جلدی ہو تے ۔خیر اسوقت یا تو اندر انے والا اندر ہی آجاتا یا پھر کو ئی نو کر اطلاع لیکر آتا ۔۔(کیو نکہ ہر ایک تو اندر نہیں بلا یا جاتا تھا نا )



کو ئی مہمان آجائے تو بابا اسے جانے نہیں دیتے تھےزبر دستی روک لیتے اور جب آنے والا دوسرے دن جانے کو تیّا ر ہو تو  خفا ہو جا تے "کہ اتنی جلد ی جانا تھا تو پھر آئے ہی کیو ں "اگر مہمان نہ مانتا تو اسکا سامان چھپا دیتے تھے  ہم سبھی گھر آئے مہمان کا سامان ڈھو نڈ تے پریشا ن ہو تے اور با با کھڑ ے کھڑے مسکر اتے رہتے ،کہتے
" اب جاؤ بیٹا ۔۔۔کیسے جاؤگے ۔۔۔۔"
مہمان کی خا طر کر نا تو ہما ری تہزیب میں شا مل ہے مگر  وہ اس جا رہا نا انداز میں خا طر مدا رات کر تے کہ سب لو گ پریشا ن ہو جاتے ، اگر مہمان نے کھانے سے ہا تھ روک لیا  تو        زبر دستی اسکی پلیٹ بھر دیتے  اور کھانے پر مجبو ر کر تے اور اگر وہ نہ کھائے تو  بر ی طر ح بھڑک جاتے ۔۔
"کیسے نہ کھیہو   " وہ غصہ میں پو ربی بو لنے لگتے   
" چلو کھاؤ چپ چاپ " غصہ میں اپنا کھانا چھو ڑ کر اسکے پیچھے پڑ جاتے ،ابّی سمجھاتے کہ "بڑے بھیّا آپ ا پنا کھانا تو ختم کیجیئے" مگر وہ غصہ میں کسی کی نہیں سنتے تھے ۔
سارے عزیز ،رشتہ دار انکے اس عا دت سے آگاہ تھے اس لیئے پہلے ہی انکو کسی دو سری با ت میں الجھا لیتے اورکوئی ایسا مو ضوع چھیڑ دیتے  کہ انکے ذہن سے
خاطر کا خیال محو     ہو جا تا  اور مہمان اس جا رہا نا خا طر سے بچ جاتا ۔
گر میو ں کی چھٹیوں میں خا ص طو ر پر ہمارے گھر میں رو نق رہتی تھی ،مہما نو ں کی آمد ذ یا دہ رہتی تھی کیونکہ ابّی کو آم کی دعو ت کر نے کا بیحد شو ق تھا ،انکے دوست احباب اور رشتہ داروں کا آنا جانا لگا رہتا تھا ابّی کے اپنے ہا تھ کے لگائے ہو ئے باغ میں بہا ر آجاتی تھی طرح طرح کے آم اپنی بہار دکھاتے تھے کہیں ذ رد آلو مہک رہا ہے تو کہیں لنگڑا نخرے دکھا رہا ہے ،کہیں لکھنئو کا سفیدہ اور کہیں ملیحہ آبادی سفیدہ ،چونسا اور کالا پہا ڑ تو آخر مین آتے تھے مگر تب تک کافی لو گ گھر آجاتے اور بہت رونق ہو جاتی ،پوری آم کی فصل میں کو ئی نہ کو ئی آ تا ہی رہتا تھا ۔
 

ابّی اپنے ہا تھوں سےعمدہ عمدہ  آم کاٹ کر کھلاتے  ،ایک مر تبہ ہمارے یہا ں لکھنئو کے ایک نو اب صا حب تشریف لائے ،بیحد نفیس طبعیت کے مالک تھے پر وقار شخصیت ،جسم بھاری ،عمر کو ئی سا ٹھ پینسٹھ  کے  درمیان رہی ہو گی  بہترین سفید ململ کا کرتا ،پائیجامہ  شیروانی میں ملبو س ،وہ ہمارے دور کے رشتہ دار بھی تھے اور پہلی بار ہمارے گھر آئے تھے ۔
انکے کھانے کا بھی خا ص اہتمام کیا گیا تھا  با ہر کے تخت پر کھا نا لگایا گیا  کھانے کے درمیان تو کو ئی بد مزگی نہیں ہو ئی  لیکن جب آم کی باری آئی اور ابّی اپنے ہا تھوں سے انھیں آم کھلا نے بیٹھے تو ایک قا ش لینے کے بعد انھوں نے 'بس جنا ب" کہا اور اٹھنے لگے ،ہما رے با با کہا ں تک بر داشت کر تے ۔۔بو لے
"چپ چا پ کھا یئے ابھی بہت آم ہیں "نواب صا حب اس طرز ِتخا طب کے کہا ں عا دی تھے ،حیران ہو کر با با کو دیکھا پھر مر وتاً  ایک قا ش اور لے لی ۔اسکے بعد وہ اٹھے تو با با بھی کھڑے ہو گئے  ملا زم لو ٹا سنبھال کر انکا ہا تھ دھلا نے لگا  تو با با نے ڈانٹا ،
"ابھی کیسے ہا تھ دھو رہے ہیں ؟ آم کھا یئے پہلے ۔۔۔۔۔"
وہ پلٹ کر مسکرائے اور با با دیکھا پھر بو لے
" جناب ہما رہ معدہ اس قابل نہیں کہ ۔۔۔۔۔"مگر با با نے بات پو ری نہ ہو نے دی اور ایک آم کی گٹھلی لیکر انکے پا س آگئے " کھا یئے ۔۔۔" وہ گھبرا کر کبھی ابّی کو دیکھتے اور کبھی گٹھلی کو انھو نے زندگی میں ایسی دعوت کبھی نہیں دیکھی تھی ۔۔۔با با انکے پا س آگئے تو وہ بھاگے ۔۔۔با با انکے پیچھے دو ڑے  اب منظر یہ تھا  کہ نواب صا حب آگے آگے اور با با بڑی سی رسیلی گٹھلی لیئے پیچھے پیچھے  ۔ابْی با با کو آوازیں دیتے رھ گئے
"بڑے بھیّا ۔۔۔۔رکئے ۔۔۔سنئے تو ۔۔۔۔" مگر با با کہا ں سنتے تھے وہ ان کو دوڑا رہے تھے ساتھ ہی ساتھ بولتے جا رہے تھے
"چلو ۔۔۔کھائو چپ چاپ ۔۔۔۔کھا ؤ گے کیسے نہیں ۔۔۔۔" نواب صا حب نے اب با قا ئدہ چیخنا چلاّنا  شروع کر دیا تھا ،
"ارے ضیغم صا حب بچا یئے مجھے ۔۔۔۔۔"وہ ابّی کوآوازیں دے رہے تھے ،مگر با با کو پکڑنا آسان نہیں تھا  وہ   اشتعا ل  میں آچکے تھے اور نو اب صا حب کی شا ن میں گستا خی کر تے ہو ئے انکے سفید کر تے کا برا حال کر چکے تھے ۔ابّی نے کسی طر ح انہیں قا بو میں کیا  سمجھا یا مگر وہ سمجھنے کو تیاّر نہین ۔۔۔۔۔نو اب صا حب سے بھی بہت معزرت کی مگر وہ کچھ سنّے کو تیا ر نہیں وہ اسی وقت جا نے کے لیئے بضد تھے مگر نو بجے رات کو تب آدھی رات ہو جاتی تھی سواری کا انتظام کیو نکر ہو تا ۔بہت مشکل سے انہیں سمجھا بجھا کر کپڑے وغیرہ بد لوا ئے گئے اور سلا یا گیا ،مگر وہ صبح ہو تے ہی وا پس چلے گئے اور پھر کبھی نہیں آئے ۔
کچھ عزیز ایسے بے تکّلف تھے جو اکثر آجایا کر تے  انکو گا ؤں کی بیفکر زندگی بیحد پسند تھی ،مگر وہ با با کو پر یشا ن کر دیتے تھے اس لیئے با با کو انکا آنا پسند نہیں تھا، با با خو ش تو بہت ہو تے مگر ان لو گو ں کے زیا دہ رکنے سے گھبرا جاتے تھے ایک ایسے ہی صا حب تھے جو رشتہ دار ہو نے کے ساتھ بھیّا کے بہت گہر ے دوست بھی تھے ،جو اکثر آجایا کر تے کافی دن رہکر جاتے ،اور پھر کچھ دن بعد دوبارہ آتے تو با با کہتے
"پر کا گو ڑ بھو سیلے ٹھاڑ ۔۔۔۔"(جو جا نور ایک بار کسی بھوسے والی جگہ پر بھو سا کھا لیتا ہے ،بار بار وہیں آجاتا ہے )مگر وہ صا حب شر مندہ ہو نے والو ں میں نہیں تھے ہنستے رہے ۔۔۔۔اور با با بھی ہنس دیے ۔
مہا ورے استمعال کر نے کا ان کو بیحد شو ق تھا اور مہاورے کسی بھی زبان کے ہو ں وہ ان میں پو ربی زبا ن فٹ کر دیا کرتے ،مثلاً کو ئی بہت دیر تک ابّی کے پا س بیٹھا رہتا اور اندر ہم کھانے پر انتظا ر کر رہے ہو تے تو با با کو بہت غصہ آتا کہتے
"منھ چڑھی ڈومنی گا وے تال بے تال ،ٹھاکر مو کا مو سی کہین ۔(منھ چڑھے لوگ الٹی سیدھی با تیں کر کے خو ش ہو رہے ہیں کہ ما لک نے ان کو منھ لگا یا )


اگران کو یہ پتہ چلتا کہ کو ئی کسی کی جا ئیداد پر قا بض ہو رہا ہے تو بہت خفا ہو تے کہتے
"جھیگر بیٹھا بنیا کی جیب پر ،گا ئے بجائے سب مو راے ہے "(جھینگر جب بنیا کی جیب پر بیٹھ جاتا ہے تو سمجھتا ہے کہ جتنا بھی اسنے کما یا سب میرا ہے )
جب وہ کسی سے کو ئی کام کہتے تو چا ہتے کہ فو را ً  ہو جائے اگر وہ کو ئی توجیہ پیش کرتا تو کہتے
"نا چے نا جانے انگنوا ٹیڑھ ،کہو ں انگنؤ ٹیڑھ ہو ت ہے نا چے کے گن چا ہی "( نا چ نا جانے آنگن ٹیھڑا کہیں آنگن بھی ٹیڑھا ہو تا ہے ؟ناچنے کا فن آنا چا ہیئے )
انھیں با تو ں سے انھو نے اپنی سو نی زندگی میں رنگ بھر رکھّا تھا ۔باتیں اور بھی بہت ساری ہیں کیا کہو ں اور کیا نہ کہو ں ۔ہم سب سے انھیں بیحد محبْت تھی ،جب ہم چھو ٹے تھے تو ہم سے کہتے کہ کھر پی لیکر لان کی گھاس کاٹو  اور ہم سے نہ ہو تا تو بہت خفا ہو تے تھے کہتے
"سسرال جا کر کیا کرو گی ؟سب کہیں گے کہ کسی نے گھاس کاٹنا    بھی نہیں سکھا یا ؟"
آخر عمر میں کا فی بیمار رہنے لگے تھے ۔اتفاق سے ان دنو ں میں ہی اکیلی تھی ابّی کے ساتھ گھر میں ۔
وہ دن بھی عجیب سا تھا ہر طرف عجیب سا سنّا ٹا سا چھایا  ہو ا تھا،گر میو ں کی گھبرا دینے والی دو پہر تھی وہ ۔میں با با کے لیئے دلیا بنا چکی تھی  اپنے اور ابّی کے لیئے رو ٹیا ں بنا رہی تھی جب با با نے دالان سے آواز دی ،
"بٹیا "
"جی با با "
"سر میں تھو ڑا تیل لگا دیجئے " وہ اپنا کام یو نہی لجا جت سے کہتے تھے ۔
"جی با با ۔۔۔ بس دو رو ٹیا ں رہ گئی ہیں  پکا کر آتی ہو ں "
"اچھا " بس یہ آخری آواز تھی جو مینے سنی ۔۔۔مجھے کیا پتہ تھا ورنہ میں فو راً بھاگ کے آتی ۔
با ورچی خانے سے نکل کر مینے ہا تھ دھوئے اور سر اٹھا کر دالان کی طر ف دیکھا  وہ با لکل سیدھے لیٹے ہو ئے تھے  اور انکا ایک ہا تھ پلنگ سے نیچے لٹک رہا تھا  ،میں گھبرا کر
دو ڑی
" با با ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" مینے کئی آوا زیں دیں پر انھو نے آنکھیں نہیں کھو لیں ۔مینے بیقرا ری سے انکا ہا تھ تھام کر بستر پر رکھنے کی کو شش کی تو اف میر ے اللہ ۔۔۔۔۔ہا تھ با لکل ٹھنڈا تھا ۔ میں بھاگ کر ڈیو ڑ ھی میں گئی  دروا زے کی زنجیر زور زور سے کھٹکھٹا نے لگی ابّی بھاگتے ہو ئے اندر آئے  انھوں نے با با کو دیکھا پھر میر ی طر ف دیکھ کر مجھے اندر جانے کا اشارہ کیا  اور باہر سے کئی لو گو ں کو بلا لائے ۔
 با با کے آ خری سفر کی تیّا ریا ں شروع ہو گئیں ۔
وہ دن اور وہ اندھیری شا م جبکہ سب انھیں لیکر چلے گئے  میں اکیلی پلنگ پر بیٹھی تھی گا ؤن کی عو رتیں آکر جا چکی تھیں  ،تنہا ئی کے وہ لمحات  جب مجھے یا د آتے ہیں تو میرا دل ڈو بنے لگتا ہے اس دن آسمان پر پو را چا ند تھا ،چا ندنی میں چھت پر بنے ہو ئے با با کے کمرے کا عکس  بھو ت کی
طر ح سیا ہ تھا ، لا لٹین بھڑک
بھڑک کر جل رہی تھی ،
جب میں تنہا ہو تی ہو ں وہ شا م میر ے ساتھ چلنے لگتی ہے  تنہا یئا ں بہت ڈرا تی ہیں  ،با با بہت یا د آتے ہیں ۔
ختم شد
 

چمتکار

چمتکار

شام ہونے لگا تھی سو رج نے آہستہ آہستہ اپنی دھوپ کی چا در سمیٹنا شروع کیا ۔بس درختوں کی پھنگیو ں نے دھو پ کا دامن پکڑ رکھّا تھا ۔گرد اور دھول سے ما حو ل میں ایک عجیب سی گھٹن اور بیزاری کا احساس جاگ اٹھا تھا ،بس اسٹینڈ پر گرد اور ڈیزل کی کی بو کی وجہ سے سانس لینا محال تھا ۔
آج پھر دو پہر والی بس چھو ٹ گئی اسنے کو فت سے آس پا س کے ما حول پر نظر ڈالی ،یہ بس اسٹینڈ گا ؤں کے باہر پکّی سڑک پر بنا تھا ،جہا ں سے لو گو ں کو کام کے لیئے شہر جا نا آسان ہو گیا تھا ۔شا م ہو تے ہو تے سارے لو گ واپس گاؤں آجاتے تھے ۔
وہ سارے کا م نپٹا کر دو پہر کی بس سے شہر جاتی ،پھو ل بیچتی ،پھو لوں کے گجرے بنا تی اور وہ بھی بیچ آتی شام کو خالی ٹوکری اور تھو ڑے سے پیسے لیکر واپس آجاتی ۔۔چند دنو ں کا سہا را ہو جاتا ۔جب سے گو د والا بچہ گھٹنیو ں چلنے لگا تھا اسکو مائی نزیراں کے پاس چھو ڑ کر روز ہی شہر کا چکّر لگا لیتی ۔۔۔۔مگر نکلتے نکلتے اکثر دیر بھی ہو جاتی تھی اور آج بھی یہی ہو ا ۔۔۔گا ؤ ں میں تو کو ئی پھول لیتا ہی نہ تھا ۔۔۔شا ید پھو لو ں کی ضرورت ختم ہو گئی تھی یا انکی جیب اجا زت نہیں دیتی تھی کہ وہ اپنی گھر والی کے لیئے ایک گجرا ہی خرید لیں ۔۔۔۔۔
وہ پھو لو ں کی بھر ی ٹو کری لیئے،بس اسٹینڈ کے پا س بہت دیر سر جھکا ئے بیٹھی رہی ،بھو ک سے اسکا سر چکرا رہا تھا بڑی مشکل سے اسنے اٹھ کر پا س لگے ہینڈ پمپ سے چلّو بھر کے پا نی پیا اور شہر کے راستے کی طر ف دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج پھر واپس گھر جانا پڑے گا  بس تو چھو ٹ چکی ہے ۔۔۔۔۔اور یہ پھو لو ں سے بھر ی ٹو کری ؟؟؟؟کل ان با سی پھو لو ں کو کون خریدے گا ؟آج کل تو لو گ ویسے ہی پھول کم لیتے ہیں ۔۔۔۔شاید اب لوگ انکی قدر کر نا بھو ل گئے ہیں ۔۔۔اسنے جھنجھلا کر  پو ری     ٹو کری پا س لگے ہو ئے پیڑ کے نیچے الٹ دی اور آہستہ آہستہ گا ؤں کی طرف چل پڑی ۔۔۔
رات آگے بڑھ آئی تھی جانے والے واپس آنے لگے بسیں اسٹینڈ پر جمع ہو نے لگے ۔تھکے ما ندے    ڈرایئو ر ۔۔۔۔۔مزدور اور دوسرے مسا فردھیرے دھیرے باتیں کر تے ہو ئے اپنے اپنے گھر کی جانب جا نے لگے  ۔
ایکّا دکّا لوگ  آس پا سکی دو کانو ں سے بیڑی سگریٹ  لینے کے لیئے رک گیئے تھے  ایک ڈرایئور پیپل کے گھنے درخت کے پا س سے گزرا  ،اسنے پتّھر پر پڑے ہو ئے تا زے پھو ل دیکھے تو کچھ حیران ہو ا ۔۔۔۔دل ہی دل میں اپنے لیئے دعا یئں ما نگ کر آگے بڑھ گیا ۔ایک شخص نے رک کر ان پھو لو ں کو دیکھا اور  پاس کی دوکان سے ایک اگر بتّی لیکر وہیں پھو لوں میں اٹکا دی اور اپنے اچھّے دنو ں کی دعا مانگ کر اپنے گھر کی راہ ہو لیا ۔۔۔دو سرے دن صبح صبح کئی لو گو ں نے ان پھو لو ں اور اگر بتّی کو دیکھا ۔۔تو حیرا ن ہو ئے ۔ایک نے تا زے پھول رکھ دیے اور دوسرے نے اگر بتّی اور شمع جلا دی ۔۔۔۔۔۔۔۔شام کو جب سب جمع ہو ئے تو ان پھو لو ں اور اگر بتیو ں کی بات چلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت حیران تھے وہ لوگ کچھ نے بتا شے چڑھائے اور کچھ نے پھول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روشنیا ں بھی جلا ئی گئیں ۔۔۔دعا یئں بھی    ما نگی گیئں ۔۔۔
 بات گھر وں تک پہو نچ گئی ۔۔۔عورتیں جو ق در جوق  پیپل کے پیڑ کے نیچے جمع ہو نے لگے ۔۔۔وہا ں کھڑے ہو کر دکھڑے روئے جاتے  اگر بتّیا
ں جلائی جاتیں اور تھو ڑا سا سکو ن لیکر واپس چلے جاتے ۔
کئی دنو ں تک یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا ابتو آس پاس کی دو کان کے لو گ خو دہی رو شنی اور خو شبو کا انتظام کر دیتے تھے "اور تو اور ۔۔۔اب "پیپل والے با با " کے قصے بھی سنا ئے جانے لگے ۔۔۔
ایسے ہی ایکبار بمبئی میں سمندر کا پا نی میٹھا ہو گیا تھا ،کئی مر یض وہا ں جاکر ٹھیک ہو گئے تھے ۔۔۔دیکھا جائے تو وہا ں بھی سوائے عقیدے کے کچھ نہیں تھا ۔۔۔یو نہی دیوار پر "سا یئں با با " کی تصویر ابھر آئی تھی ۔۔۔۔۔کر شن جی راتو ں رات دو دھ پینے لگے تھے ۔
یہ سب ایک کمزور عقیدے کے سیوا کچھ بھی نہ تھا ۔۔۔اب یہا ن کے قصّے بھی یو ن ہی مشہو ر ہوئے ۔۔۔کہ جب پھو ل دیکھے گئے تو با لکل تا زے تھے اور    اچا نک اگ آئے تھے  کچھ لو گو ں نے آوازیں سنی ،عجیب عجیب قصّے کہا نیا ں آس پا س کے علا قو ں میں گشت کر نے لگیں ۔
کئی دنو ں کی میٹنگ کے بعد طے پا یا کہ با قا ئدہ مزار بنا یا جائے ،ایک چہار دیواری کھینچ کر اس جگہ کو محفو ظ کر نا ہے ۔۔۔بس لو گ لگ گئے ۔۔۔۔کسی نے اینٹو ں کا انتظا م کیا کسی نے سیمنٹ کا ۔۔۔سبھی نے حسبِ حیثیت پیسو ں کا انتظام کیا ۔اور اچھی خا صی عمارت بنکر تیّار ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔با قا ئدہ چا دریں چڑھنے لگیں ،جس روز عمارت بنی اس دن وہا ں ایک جشن ہو ا ۔بسو ں کی گھڑ گھڑا ہٹ لو گو ں کو پسند نہیں آئی تو ایک درخواست دیکربس اسٹینڈ وہا 
چمتکار

شام ہونے لگا تھی سو رج نے آہستہ آہستہ اپنی دھوپ کی چا در سمیٹنا شروع کیا ۔بس درختوں کی پھنگیو ں نے دھو پ کا دامن پکڑ رکھّا تھا ۔گرد اور دھول سے ما حو ل میں ایک عجیب سی گھٹن اور بیزاری کا احساس جاگ اٹھا تھا ،بس اسٹینڈ پر گرد اور ڈیزل کی کی بو کی وجہ سے سانس لینا محال تھا ۔
آج پھر دو پہر والی بس چھو ٹ گئی اسنے کو فت سے آس پا س کے ما حول پر نظر ڈالی ،یہ بس اسٹینڈ گا ؤں کے باہر پکّی سڑک پر بنا تھا ،جہا ں سے لو گو ں کو کام کے لیئے شہر جا نا آسان ہو گیا تھا ۔شا م ہو تے ہو تے سارے لو گ واپس گاؤں آجاتے تھے ۔
وہ سارے کا م نپٹا کر دو پہر کی بس سے شہر جاتی ،پھو ل بیچتی ،پھو لوں کے گجرے بنا تی اور وہ بھی بیچ آتی شام کو خالی ٹوکری اور تھو ڑے سے پیسے لیکر واپس آجاتی ۔۔چند دنو ں کا سہا را ہو جاتا ۔جب سے گو د والا بچہ گھٹنیو ں چلنے لگا تھا اسکو مائی نزیراں کے پاس چھو ڑ کر روز ہی شہر کا چکّر لگا لیتی ۔۔۔۔مگر نکلتے نکلتے اکثر دیر بھی ہو جاتی تھی اور آج بھی یہی ہو ا ۔۔۔گا ؤ ں میں تو کو ئی پھول لیتا ہی نہ تھا ۔۔۔شا ید پھو لو ں کی ضرورت ختم ہو گئی تھی یا انکی جیب اجا زت نہیں دیتی تھی کہ وہ اپنی گھر والی کے لیئے ایک گجرا ہی خرید لیں ۔۔۔۔۔
وہ پھو لو ں کی بھر ی ٹو کری لیئے،بس اسٹینڈ کے پا س بہت دیر سر جھکا ئے بیٹھی رہی ،بھو ک سے اسکا سر چکرا رہا تھا بڑی مشکل سے اسنے اٹھ کر پا س لگے ہینڈ پمپ سے چلّو بھر کے پا نی پیا اور شہر کے راستے کی طر ف دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج پھر واپس گھر جانا پڑے گا  بس تو چھو ٹ چکی ہے ۔۔۔۔۔اور یہ پھو لو ں سے بھر ی ٹو کری ؟؟؟؟کل ان با سی پھو لو ں کو کون خریدے گا ؟آج کل تو لو گ ویسے ہی پھول کم لیتے ہیں ۔۔۔۔شاید اب لوگ انکی قدر کر نا بھو ل گئے ہیں ۔۔۔اسنے جھنجھلا کر  پو ری     ٹو کری پا س لگے ہو ئے پیڑ کے نیچے الٹ دی اور آہستہ آہستہ گا ؤں کی طرف چل پڑی ۔۔۔
رات آگے بڑھ آئی تھی جانے والے واپس آنے لگے بسیں اسٹینڈ پر جمع ہو نے لگے ۔تھکے ما ندے    ڈرایئو ر ۔۔۔۔۔مزدور اور دوسرے مسا فردھیرے دھیرے باتیں کر تے ہو ئے اپنے اپنے گھر کی جانب جا نے لگے  ۔
ایکّا دکّا لوگ  آس پا سکی دو کانو ں سے بیڑی سگریٹ  لینے کے لیئے رک گیئے تھے  ایک ڈرایئور پیپل کے گھنے درخت کے پا س سے گزرا  ،اسنے پتّھر پر پڑے ہو ئے تا زے پھو ل دیکھے تو کچھ حیران ہو ا ۔۔۔۔دل ہی دل میں اپنے لیئے دعا یئں ما نگ کر آگے بڑھ گیا ۔ایک شخص نے رک کر ان پھو لو ں کو دیکھا اور  پاس کی دوکان سے ایک اگر بتّی لیکر وہیں پھو لوں میں اٹکا دی اور اپنے اچھّے دنو ں کی دعا مانگ کر اپنے گھر کی راہ ہو لیا ۔۔۔دو سرے دن صبح صبح کئی لو گو ں نے ان پھو لو ں اور اگر بتّی کو دیکھا ۔۔تو حیرا ن ہو ئے ۔ایک نے تا زے پھول رکھ دیے اور دوسرے نے اگر بتّی اور شمع جلا دی ۔۔۔۔۔۔۔۔شام کو جب سب جمع ہو ئے تو ان پھو لو ں اور اگر بتیو ں کی بات چلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت حیران تھے وہ لوگ کچھ نے بتا شے چڑھائے اور کچھ نے پھول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روشنیا ں بھی جلا ئی گئیں ۔۔۔دعا یئں بھی    ما نگی گیئں ۔۔۔
 بات گھر وں تک پہو نچ گئی ۔۔۔عورتیں جو ق در جوق  پیپل کے پیڑ کے نیچے جمع ہو نے لگے ۔۔۔وہا ں کھڑے ہو کر دکھڑے روئے جاتے  اگر بتّیا
ں جلائی جاتیں اور تھو ڑا سا سکو ن لیکر واپس چلے جاتے ۔
کئی دنو ں تک یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا ابتو آس پاس کی دو کان کے لو گ خو دہی رو شنی اور خو شبو کا انتظام کر دیتے تھے "اور تو اور ۔۔۔اب "پیپل والے با با " کے قصے بھی سنا ئے جانے لگے ۔۔۔
ایسے ہی ایکبار بمبئی میں سمندر کا پا نی میٹھا ہو گیا تھا ،کئی مر یض وہا ں جاکر ٹھیک ہو گئے تھے ۔۔۔دیکھا جائے تو وہا ں بھی سوائے عقیدے کے کچھ نہیں تھا ۔۔۔یو نہی دیوار پر "سا یئں با با " کی تصویر ابھر آئی تھی ۔۔۔۔۔کر شن جی راتو ں رات دو دھ پینے لگے تھے ۔
یہ سب ایک کمزور عقیدے کے سیوا کچھ بھی نہ تھا ۔۔۔اب یہا ن کے قصّے بھی یو ن ہی مشہو ر ہوئے ۔۔۔کہ جب پھو ل دیکھے گئے تو با لکل تا زے تھے اور    اچا نک اگ آئے تھے  کچھ لو گو ں نے آوازیں سنی ،عجیب عجیب قصّے کہا نیا ں آس پا س کے علا قو ں میں گشت کر نے لگیں ۔
کئی دنو ں کی میٹنگ کے بعد طے پا یا کہ با قا ئدہ مزار بنا یا جائے ،ایک چہار دیواری کھینچ کر اس جگہ کو محفو ظ کر نا ہے ۔۔۔بس لو گ لگ گئے ۔۔۔۔کسی نے اینٹو ں کا انتظا م کیا کسی نے سیمنٹ کا ۔۔۔سبھی نے حسبِ حیثیت پیسو ں کا انتظام کیا ۔اور اچھی خا صی عمارت بنکر تیّار ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔با قا ئدہ چا دریں چڑھنے لگیں ،جس روز عمارت بنی اس دن وہا ں ایک جشن ہو ا ۔بسو ں کی گھڑ گھڑا ہٹ لو گو ں کو پسند نہیں آئی تو ایک درخواست دیکربس اسٹینڈ وہا ں سے ہٹا دیا گیا ،آس پا س کی دو کانیں بھی ہٹا نی پڑٰیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لو گو ں کا بہت نقصا ن بھی ہو ا ۔۔
لیکن ایک ہستی ایسی تھی جسکو مزار بننے سے بہت فا ئدہ ہو ا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکو اب شہر جانے والی بس کا انتظار نہیں کر نا پڑ تا تھا   کیو نکہ
اسکے سارے پھول اسی  مزار پر  بِک جاتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد    
   سے ہٹا دیا گیا ،آس پا س کی دو کانیں بھی ہٹا نی پڑٰیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لو گو ں کا بہت نقصا ن بھی ہو ا ۔۔
لیکن ایک ہستی ایسی تھی جسکو مزار بننے سے بہت فا ئدہ ہو ا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکو اب شہر جانے والی بس کا انتظار نہیں کر نا پڑ تا تھا   کیو نکہ
اسکے سارے پھول اسی  مزار پر  بِک جاتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد    


Sunday, October 27, 2013

whi hai pandan unka
wohi takya wohi bistar
wohi gadda wohi chadar
wohi baton ki garmi hai
muhabbat ke whi jumle
hawa main taerti hain ungliyan
tasbeeh ke danon par
sarhane aake mere mathe par
duaon ka wo dam karna
mujhe chadar udhana theek se
pairon ko dhak dena ....
uthana munh andhere
"beta uthja hogai Aazan
kahan hai aye meri pyari si achhi Maaaaan
Jab yaad ka kissa kholu to, kuch dost bohot yad ate hai.
Me guzre pal ko sochu to, kuch dost bohot yad ate hai.
Ab jane koun si nagri me, abad hai jakar muddat se, 
Main der raat tk jaagu to, kuch dost bohot yad ate hai.
Kuch bate thi phulo jaisi, kuch lahme khushbu jaise the,
Mai sare chaman me tehlu to, kuch dost bohot yad ate hai.
Wo pal bhar ki narazgiya aur maan bi jana pal bhar me,
Ab khud se bhi jab ruthu to, kuch dost bohot yad ate hai. :)
(not by me )

Wednesday, October 13, 2010

ARZDAASHT

YE CHICAGO JO K AMERICA KA EK HISSA HAI.
APNE BACHPAN MAIN SUNA KARTI THI IS K QISSE
AAKE DEKHA TO BADI SARD SI KHAMOSHI MAIN
HAATH PHAILAYE BAREHNA SE KHADE HAIN ASHJAAR
HAR TARAF BARF KHYALON PE JAMA RAKKHI HAI
BEHISSI AISI KE PATHTHAR BHI TADAP KAR TUTEN
LOG AISE YAHAN BASTE HAIN KE BAS SNOWMAN
HAR GARAM JOOSHI TO HUM APNE YAHAN CHHORH AAYE
JIS TARAF DEKHO UDHAR EEK AKELA PAN HAI
BHOOL JATE HAIN KE HAN HAATH MILAYA KE NHI
BHOOL JATE HAIN KE HAN NAAM TUMHARA KYA THA ??
BHOOL JATE HAIN MAGAR BHOOL NA JAYEN YE KAHIN
KHUSHBOUN MAIN WO BASI APNE WATAN KI MITTI
ZINDAGI DHONDNE NIKLE THE BADE SHAUQ SE HUM
DOST AHBAB BHUT CHHORH KE AAYE THE YAHAN,
DHUND MAIN DOOB GAYE AAKE IS AMERICA MAIN
ZINDAGI DOOR RAHI TUM BHI NA KHOJAO KAHIN
MERI MANO TO CHALO APNE WATAN LAUT CHALO ..

Sunday, September 5, 2010

Baharpur

YAHIN KAHIN MERA BACHPAN ..YAHIN KAHIN PAR THA
YAHIN HANSA THA
YAHIN PAR KAHIN PE ROYA THA
YAHIN DARAKHTON KE SAYE MAIN THAK KE SOYA THA
YAHIN PE KHEL THE MERE
YAHIN GHARONDE THE
YAHIN KAHIN PE MERE CHODIYON KE DIBBE THE
YAHIN PE TITLIYON SE RANG MANG LETE THE
YAHIN PE JUGNON SE BAT APNI CHALTI THI KOI HANSI THI JO HAR LAMAHA SATH CHALTI THI INHI JHAROKON MAIN KUCH CHAND JHANKTE THE MUJHE YAHIN PE THA MERA BACHPAN YAHIN KAHIN PAR THA .