Monday, April 24, 2023

 

بکری کے چر ویا بھیا ۔"
ایک کسان تھا ۔وہ کھیت بھی دیکھتا اور بکریان بھی چرایا کر تا تھا ۔اس کے اپنے گھر کی بکریاں تھیں ۔کبھی کبھی بہت تھک جاتا تھا بکریوں کے پیچھے بہت بھاگنا پڑتا تھا اور کھیت کا خیال بھی رکھنا پڑتا تھا ۔ایک مر تبہ جب وہ بکریوں کو جنگل کی طرف چھوڑ کر کھیت آیا اور
 اپنے کھیت میں بیٹھا رکھوالی کر رہا تھا تب اسُ نے دیکھا کہ ایک چڑیا اسُ کے کھیت میں بہت سارے کاکن (ایک طرح کے چاول ) کھارہی ہے اسُ نے جلدی سے ڈنڈا اٹھا یا اور اسکو بھگا دیا ۔دوسرے دن پھر وہ چڑیا کھیت میں آگئی اور دیر تک کا کُن کھاتی رہی ۔
جب کسان نے دیکھا تو اسے بہت غصّہ آیا اسُ نے سو چاکہ اس چڑیا کو مزا چکھا نا چاہیئے ۔
تیسرے دن کسان ایک چھوٹی سی ٹوکری لے کر آیا اس نے ٹوکری کے نیچے بہت سارا کا کنُ پھیلا دیا اور ٹوکری کو ایک لکڑی کی مدد سے تر چھا کھڑا کر دیا اسُ لکڑی میں ایک پتلی ڈوری باند کر کسان نے کچھ دور بیٹھ کر  اپنے پاس رکھ لی ۔
جب چڑیا آئی تو اسُ نے دیکھا کہ اور سب طرف تو کم کا کُن ہے مگر ٹوکری کے نیچے بہت سارا پڑا ہے وہ پہلے ادِھر ادُھر دیکھتی رہی اور تھوڑا تھوڑا کھاتی رہی ۔پھر اسُ نے دیکھا کہ ٹوکری کے پاس کوئی نہیں تو وہ چپکے سے آگے بڑی اور ٹوکری کے نیچے والے کا کنُ کھانے لگی کھاتے کھاتے وہ اندر چلی گئی جب وہ ٹوکری کے درمیان پہونچ گئی تو کسان نے ڈوری کھینچ لی اور چڑیا اندر پھنس گئی ۔۔
کسان خوب خوش ہوا ۔اسنے ہاتھ ڈال کر چڑیا کو نکال لیا اور ایک پرانے پنجرے میں بند کر دیا ۔
بے چاری ننھی چڑیا ادِھر ادھُر پھڑ پھڑا تی رہی ۔مگر کسان نے نہیں کھولا ۔
جب شام ہوئی تو چڑیا کو اپنے بچّوں کی فکر ستانے لگی اسُ نے روتے ہوئے کسان سے یوں فر یاد کی ۔

بکری کے
 
 چروییہا بھیا  
مورے لا گدیرا
سیر بھی کاکن کھائی
مورا رین بسیرا
مورے لال گدیرا
لال چون چوں  چوں   
لال چو ں چوں چوں ۔۔۔لال چوں چوں چوں ۔۔
مگر کسان کا دل نہیں پسیجا وہ غصہ میں تھا رات آگئی تب چڑیا اور رونے لگی اور یہی کہنے لگی ۔۔
بکری کے چر ویا بھیا
مورے لال گدیرا
مورا رین بسیرا
سیر بھر کا کُن کھا ئیوں
مورے لال گدےرا
لال چوں چوں چوں ۔۔
مگر رات ہوگئی تھی کسان سو گیا
صبح صبح  دوھ والا آیا تو چڑ یا نے پھر وہی رونا  رویا
گائے کے چر ویا بھیا
مورے لال گدیرا
سیر بھر کاکن کھائی
مورا رین بسیرا
لال چوں چوں چھوں
مگر دودھ والا دودھ  دے کر واپس چلا گیا ۔
کچھ دیر بعد جھاڑو دینے والا آیا تو چڑیا  اس کے آگے بھی رونے لگی
جھاڑو کے دلوایا بھیا

مورے لال گدیرا
سیر بھر کاکن کھائی
مورا رین بسیرا
لال چوں چوں چوں

کسان سب سن رھا تھا
۔تب کسان کو رحم آگیا اور اسُ نے چڑیا کا پنجرہ کھول دیا اور وہ پھُر پُھرا کر دور فضاؤں میں اڑتی چلی گئی ۔۔۔
مگر پھر وہ اسُ کھیت میں کبھی نہیں آئی ۔اسُ کو سبق مل گیا تھا ۔
(یہ کہانی چچی جان سناتی تھیں اور وہ لائینیں جو چڑیا نے گائیں وہ بے حد مترنم آواز میں گا کر سناتی تھیں )

 


ایک بندر یا جو بنی دلھنیا
کسی دور دراز کے ملک میں ایک بادشاہ رہا کر تا تھا جس کے تین بیٹے تھے تینوں بہت ذہیں اور تمام عمل و فن میں یکتا تھے ۔تیر اندازی ہو یا تلوار چلانے کے جوہر ،جنگ کے تمام رموز سے واقف تھے ۔
شہزادے جوان ہوچکے تھے بادشاہ کی خواہش تھی کہ انکی شادی کر دی جائے  ۔بادشاہ نے جیوتشی کو طلب کیا اور اس سے اپنے دل کی بات بتائی ۔جیو تشی نے دو دن کا وقت مانگا اور تیسرے دن دربار میں آکر باد شاہ کو  اپنی رائے سے آگاہ کیا ۔اس نے بتا یا کہ تینوں کی کنڈلی دیکھ کر ایک بات ثا بت ہے کہ ان لوگوں کی شادی کر نا آسان نہیں ایک  لڑکے کی شادی میں مشکل آسکتی ہے اب وہ لڑکا کون ہے یہ میں نہیں بتا سکتا ۔ ان کو میرے ساتھ جنگل بھیج دیجئے میں کوئی تر کیب کر تا ہوں لہذٰا  یہ تینو ں جوتشی کے ساتھ جنگل گئے ۔وہاں ایک درخت کے پاس جاکر جوتشی نے کہا کہ تم تینوں اپنی اپنی کمان سے تیر چلاؤ جہاں بھی جس ملک کی طرف تیر جائے گا وہاں کی  شہزادی کو پیغام بھیج دیا جائے ۔
تینوں بیٹوں نے کمان میں تیر لگا کر چھوڑا  بڑے بیٹے کا تیر ایک بہت بڑی ریاست کی طرف  پایا گیا  دوسرے بیٹے کا تیر دکن کی ریاست کی طرف پایا گیا  تیسرے بیٹے  نے جو تیر چلا یا وہ ایک پیڑ پر بیٹھی بند ر یا کی دم میں اٹک گیا ۔
وہ پیڑ سے اتاری گئی اور طے ہوا کہ چھوٹے بیٹے کی شادی اسی بندریا کے ساتھ کی جائے گی وہ بہت دکھی اور شرمندہ تھا  مگر مجبوری تھی پہلے بچے والدین کی بات نہین ٹالتے تھے اس لیئے وہ خاموش ہوگیا ۔
سب شہزادوں کی شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی  ۔دو ملکوں کی شہزادیاں محل میں اتریں  مگر تیسری کے لیئے چھوٹے شہزادے کی خواہش پر الگ محل کا انتظام کیا گیا ۔
دونوں بڑے شہزادے اپنی رانیوں کے ساتھ  خوش وخرم زندگی بسر کر نے لگے مگر  چھوٹے  شہزادے کے پاس تو دلھن  کے نام پر ایک بندریا تھی وہ بہت مضطرب اور شر مند ہ رہتا تھا ۔
ایک بار بادشاہ  اور ان  کی ملکہ نے کہا کہ وہ اپنی بہووں کا سلیقہ دیکھنا چاہتے ہیں لہذٰ ا ان کو ایک ایک رومال کاڑھنے کے لیئے دیا گیا ۔دونوں  بہویں  اپنے ہنر دکھانے کے لیئے محنت سے رومال پر  پھول بوٹے بنا نے لگیں ۔چھوٹے شہزادے کو بہت شر مندگی ہوئی مگر جب بندریا نے ان سے پوچھا تو اس نے یہ بات بتا دی  بندر یا نے کہا کہ وہ رومال لے آئے ۔
جب سب کے رومال بن کر تیّار ہوے تو  بادشاہ اور ملکہ کی حیرت کی انتہا نہیں رہی کہ سب سے خوبصورت کڑھائی  چھوٹے شہزادے کی بیوی  نے کی تھی ،جبکہ وہ بندریا تھی ۔
دونوں بڑی بہووں کو بہت برا بھی لگا 
۔چند دن بعد بادشاہ اور ملکہ نے کہا کہ وہ  بہووں کے ہاتھ کا بنا کھا نا  کھانا چاہتے ہیں ۔دونوں بہوئیں مستعد ہوئیں  مگر چھوٹا شہزادہ افسردہ ہوگیا ۔بندر یا نے جب پوچھا تو  کہا کوئی بات نہیں میں کھا نا پکا کر دوں گی  آپ بھجوا دیجئے گا ۔سب کے پکائے کھانے تخت  پر چن دئے گئے ۔
دونوں  نئی دلہنوں کے کھانے کی خوب تعریف ہوئی جب تیسرا خوان کھلُا تو خوشبو سے  سارا  دالان مہک گیا ۔۔کھانے اس قدر خوبصورت اور  رنگین تھے کہ سب کی نظریں ان پر جم گئیں ۔اور جب وہ کھا نا بادشاہ اور ملکہ نے کھا یا تو واہ  واہ  کر نے لگے  ۔۔سب سے مزے دار اور نفاست سے  بنا یا ہوا کھا نا چھوٹی رانی کا تھا ۔
ملکہ اور باد شاہ کو ایک بار پھر سب دلھنوں کو ایک ساتھ دیکھنے کا تجسس ہوا ۔
اس بار چھوٹا شہزادہ رو پڑا ۔۔۔کھانے اور رومال تک تو بات ٹھیک تھی مگر ان حسین ترین شہزادیوں کے درمیان یہ بندریا کیسے جائے گی ۔بندر یا کے پوچھنے پر شہزادے نے سارا ماجرہ کہہ  دیا ۔
چھوٹی  بہو نے تسلیّ دی اور کہا شرط یہی ہے کہ آپ وہان نہ جایئے  گا ۔میں ڈولی میں بیٹھ کر اکیلی ہی جاوں گی ۔ شہزادہ پہلے ہی شر مندہ تھا فوراً مان گیا ۔
پہلے بڑی دلھن  سامنے آئیں ۔بہت حسین لڑکی تھی  گلابی لباس میں سج رہی تھی ۔
منجھلی دلھن نے ہرا لباس پہنا تھا اور بہت سارے زیوارت سے آراستہ تھی ۔
پھر ڈولی سے چھوٹی دلھن کو اتارا گیا  اس کے گورے سفید پیروں میں  پازیب  جگمگائی اور جب اس نے چادر الٹی تو ملکہ اور بادشاہ  اس کو دیکھتے ہی رہ گئے گہرے سرخ رنگ میں ایک نگینہ کی صورت  اسُ نے جھکُ کر سلام کیا ۔۔اسُ کے بالوں میں افشاں چمک رہی تھی  گلابی  چہرہ خوبصورت ہونٹ اور  چھریرہ بدن وہ ایک پھولوں کی ڈالی سی محسوس ہو رہی تھی۔تینوں بہویں  ساتھ بیٹھی تھیں اور اس کے چہرے کی روشنی سے سارا محل روشن تھا ۔سارے لوگ حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے ۔
کسی نے چھوٹے شہزادے تک یہ خبر پہونچا دی کہ اس کی دلھن تو ایک پری جیسی ہے ۔شہزادے نے شرط تو ڑ دی اور چھپ کر اسے دیکھا ۔۔اور گھوڑے پر بیٹھ کر واپس اپنے محل پہونچا  ۔اپنی دلھن کے کمرے میں جاکر اس نے دیکھا کہ بندریا کی کھال  ایک  طرف رکھی ہے اس نے فوراً وہ کھال اٹھا ئی اور مشعل سے اس کو آگ دی ۔۔۔ادھُر چھوٹی دلھن کو اچانک بہت بے چینی ہوئی اور وہ اجازت طلب کر کے ڈولی میں بیٹھ گئی  اسکی پازیب سے پیر جھلسنے لگے تھے  دھیرے دھیرے سارے جسم میں آگ بھر نے لگی وہ جلنے لگی ۔ڈولی جب تک محل میں  پہونچی وہ  کافی جل چکی تھی بھاگتی ہوئی کمرے میں آئی اور شہزادے سے اپنی کھال کھینچ لی ۔مگر کھال کا بہت حصہ جل چکا تھا ۔۔اور  وہ بھی بری طرح جل چکی تھی وہ  زمین پر گر کر تڑپنے لگی ۔شہزادہ گھبرا گیا ۔۔حکیم بلائے گئے  سب نے علاج کی کوشش کی مگر جلن کسی طور کم نہ ہوئی ۔
دوسرے ملکوں سے بھی طبیب آئے مگر اس کی جلن کم نہ کر سکے ۔
شہزادہ بہت شر مندہ  تھا اور پریشان بھی ۔
پوری سلطنت کے طبیب آچکے تھے اور طرح طرح کے علاج تجویز کئیے جارہے  تھے مگر جلن کسی صورت کم نہیں ہورہی تھی ۔
شہزادہ بیقرار ہو کر ٹہل رہا تھا اور کھال جلانے پر بیحد شر مندہ تھا ۔وہ ٹہلتا ہوا  محل سے متصّل باغ  میں آگیا  اسُ کی بے چینی کسی طور کم نہیں ہورہی تھی ایک بڑے درخت سے  ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا ۔۔
اسُ درخت پر  دو چڑیاں آپس میں باتیں کر رہی  تھیں شہزادے نے دھیان سے سنا وہ کہہ رہی تھیں ۔
"وہ بند ریا نہیں پر ستان کی شہزادی ہے  ۔اس کی ایک چھوٹی سی غلطی پر اتنی بڑی  سزا ملی ہے "
"مگر اس ُ نے کیا غلطی کی تھی کہ  اسُ کو بندریا بنا دیا ؟دوسری چڑیا نے  پوچھا
"پرستان کے لوگ دنیا میں آنا پسند نہیں کر تے یہاں کے لوگ لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اس لئے  پر ستان میں  کسی کو اس دنیا میں آنے کی اجازت نہیں ۔۔مگر یہ شہزادی کم عمری اور ناسمجھی میں اس بات کو  اہمیت نہ دے سکی اور دنیا میں آگئی ۔اس لیئے ا س  کو بند ریا بنا دیا گیا تاکہ یہ کبھی پرستان واپس نہ جاسکے "
"مگر اب کیا ہوگا ۔۔اس جلن کا کوئی علاج نہیں ہے کیا ؟
"علاج تو ہے ۔اسی پیڑ کے پھل کو پیس کر اگر زخموں پر لگا یا جائے تو ٹھیک ہو سکتی ہے مگر دنیا والے  منہگی دوائیں تو خرید لیتے ہیں پیڑ پودوں کی قدر نہیں کر تے جن میں ہر مرض کی دو ا ہے 'شہزادے نے چہرہ ا وپر اٹھا یا اور چڑیوں کا شکر یہ ادا کیا   پیڑ کے پھل چن کر محل میں واپس آگیا اور نوکروں کی فوج ہوتے ہوئے بھی اپنے ہاتھوں سے وہ پیس کر مرہم تیار کیا اور جاکر اپنی دلھن کے زخموں پر لگا یا ۔حیرت انگیز طریقے سے زخم ٹھیک ہونے لگے  ۔دو ہی دن میں وہ اچھی ہوگئی مگر بہت خاموش تھی تیسری شام جب  شہزادہ  اس کی مسہری کے قریب کر سی پر بیٹھا تھا  ، دروازہ کھلا اور  پر ستان کے راجہ اور رانی اندر آگئے کمرہ ان کے نور سے دمکنے لگا ۔
شہزادی  جلدی سے اٹھی اور ان کے قدموں میں بیٹھ کر رونے لگی اور معافی مانگنے لگی ۔راجہ نے اس کو اٹھا کر گلے سے لگا لیا ۔اور بولے ۔
تم نے بہت تکلیفیں اٹھا لیں   اب تمہاری خطا معاف ہوگئی ہے ۔رانی نے بھی بیٹی کو گلے لگا یا اور شہزادے کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔
پرستان کے راجہ نے شہزادے کو دعائیں دیں اور کہا کہ اگر وہ چاہے تو پرستان  چلے اور وہیں  زندگی گزارے   اسےُ کوئی تکلیف نہیں ہوگی ۔مگر شہزادے نے سہو لت سے انکار کر دیا اور کہا وہ یہیں اسی ملک میں رھ کر اپنے والدین کی خدمت کر نا چاہتا ہے ۔
پرستان کے راجہ اسُ کی اس بات سے بہت خوش ہوئے ۔اور پرستان کے ڈھیروں  سامان  سے گھر بھر دیا ۔۔
اور راجہ رانی پر ستان واپس چلے گئے۔ شہزادہ اور اسُ کی دلھن ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے ۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ کہانی میں نے گاؤں میں رہنے والوں سے سنی ہے )