اجڑے دیارمیں ۔۔۔۔
نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ
اب اسُ پر ندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے
تالاب کے کنارے پیپل کے پیڑ تلے اسکی نکلی ہوئی جڑوں پر بیٹھ کر اسنے بانسری کی لمبی تان لی ۔۔۔شام کا سر مئی اندھیرا بانسر ی کی آواز کے ساتھ چمک اٹھا ۔۔۔کچّے آنگن میں پازیب کی جھنجھناہٹ سی ہوئی اور پھر ایک سریلی سی چھن چھن میں گلابی کبوتر جیسے پاؤں تھرکنے لگے ۔۔۔بانسری کی دھُن گونجتی رہی اور گلابی پاؤں تھرکتے رہے ۔۔۔اور پھر مغرب کی اذان کی آواز سناٹوں کو چیرتی ہوئی ہر طرف چھاگئی ۔۔۔بانسری کی آواز خاموش ہوگئی پیروں نے تھرکنا بند کر دیا ۔۔اور بڑی عقیدت سے چنری کا روبٹہ سر پہ پھیلا لیا ۔
"بھئی پلیز ۔۔۔۔ایسے ڈرامے مجھ سے نہیں ہونگے ۔۔۔بی پریکٹل۔۔میں نہ اتنی خوبصورت ہوں نہ میرے پیر کبوتر جیسے ہیں ۔۔۔" سب کھلکھلا کر ہنس پڑے ۔
"یار اب اتنا بھی کیا پریکٹل ہونا ۔۔۔کہانی اچھی ہے ۔۔اس پر کام کر کے تو دیکھو ۔۔مزا آئیگا ۔۔
"کوئی اور ؟؟
"کوئی اچھّا اسکرپٹ نہیں بچا ہے ۔۔سب ہوچکے ہیں ۔۔۔کسی اور کو لینا نہیں چاہتا پلیز آرادھیا ۔۔۔۔
ثاقب نے اسکی طرف جھک کر خوشامدی نظروں سے اسے دیکھا۔
نا بھئی ۔۔۔۔"اسنے سیڑھیوں سے اٹھ کر اپنا جمپر پیچھے سے جھا ڑا ۔۔۔اور دور سوکھے پتوّں میں اوندھی پڑی دو پتلے پٹوّں کی چپل پیر سے سیدھی کی۔پھر سر اٹھا کر بولی ۔
بہت ذیادہ آرٹسٹک ہے ایسی دُھن جو اس بانسری میں ہے مجھ سے نہ آسکے گی ۔مجھے معاف کردو ۔اور سنو اب شاید کوئی ڈرامہ کر بھی نہ سکوں ۔گاؤں میں دادی کے پاس جانا ہے پتہ نہیں کتنے دن لگ جائیں ۔
ساتھ بیٹھی سبھی لڑکیاں کھڑی ہوگئیں ۔شمشاد نے آگے بڑھ کر اسکے گلے میں باہیں ڈالیں تو وہ نہ جانے کیوں جھنجھلا گئی ۔۔۔
"ارے ایسا کیا ہے ۔۔مر تو نہیں گئی ہوں ،،ملیں گے پھر ۔۔۔"سویرا نے اسکی جھنجھلاہٹ صاف محسوس کر لی تھی ۔۔وہ اسکے ساتھ آگے بڑھ گئی عادل وہیں بیٹھا اسےُ دیکھتا رہا ۔۔۔دیکھتا رہا ۔
۔آرادھیا جب ہوسٹل کے روم میں آئی تو کمرے میں شدید گھٹن کا احساس ہوا ،پنکھا چلا نے سے بھی گھٹن کم نہیں ہوئی ۔ بس آس پاس گھومنے لگی اسُ نے آگے بڑھ کر چھوٹی سی کھڑ کی کا پٹ کھول دیا ۔کھڑکی کھُلتے ہی ایک نرم ہوا کا جھونکا کچھ دیر کھڑکی سے لگا اسکی طرف دیکھتا رہا پھر کود کر اندر آگیا ۔۔۔اور ایک نرم سی خنکی اسُ کے وجود میں بھر گئی ۔۔
جب دلوں میں درار پڑتی ہے تو فاصلے صدیوں پر محیط ہوجاتے ہیں ۔اور ان لمحوں کو بر سوں پر پھیلتے دیکھتی رہی ۔غلط سوچا تھا اسُ نے کہ آسمان پھٹ جائے گا ،وہ دب جائے گی ،ریزہ ریزہ ہوجائے گی ۔مگر یہ سب کچھ نہ ہوا ،نہ کوئی طوفان آیا ۔۔۔نہ آسمان گرا مگر پھر بھی وہ کسی بوجھ تلے دبی رہی ۔سمجھ میں نہیں آتا تھا وہ ذمہ دار کسے ٹہرائے ۔۔۔۔کو ۔۔۔۔شمشاد کو ۔۔یا حالات کو اپنے آپ کو ۔اُسکا گلہ درد کرنے لگتا ۔ایک ٹیس سی اٹھتی دل چاہتا کہ زور سے عادل کو پکارے ۔
٭٭٭٭٭
نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ
اب اسُ پر ندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے
تالاب کے کنارے پیپل کے پیڑ تلے اسکی نکلی ہوئی جڑوں پر بیٹھ کر اسنے بانسری کی لمبی تان لی ۔۔۔شام کا سر مئی اندھیرا بانسر ی کی آواز کے ساتھ چمک اٹھا ۔۔۔کچّے آنگن میں پازیب کی جھنجھناہٹ سی ہوئی اور پھر ایک سریلی سی چھن چھن میں گلابی کبوتر جیسے پاؤں تھرکنے لگے ۔۔۔بانسری کی دھُن گونجتی رہی اور گلابی پاؤں تھرکتے رہے ۔۔۔اور پھر مغرب کی اذان کی آواز سناٹوں کو چیرتی ہوئی ہر طرف چھاگئی ۔۔۔بانسری کی آواز خاموش ہوگئی پیروں نے تھرکنا بند کر دیا ۔۔اور بڑی عقیدت سے چنری کا روبٹہ سر پہ پھیلا لیا ۔
"بھئی پلیز ۔۔۔۔ایسے ڈرامے مجھ سے نہیں ہونگے ۔۔۔بی پریکٹل۔۔میں نہ اتنی خوبصورت ہوں نہ میرے پیر کبوتر جیسے ہیں ۔۔۔" سب کھلکھلا کر ہنس پڑے ۔
"یار اب اتنا بھی کیا پریکٹل ہونا ۔۔۔کہانی اچھی ہے ۔۔اس پر کام کر کے تو دیکھو ۔۔مزا آئیگا ۔۔
"کوئی اور ؟؟
"کوئی اچھّا اسکرپٹ نہیں بچا ہے ۔۔سب ہوچکے ہیں ۔۔۔کسی اور کو لینا نہیں چاہتا پلیز آرادھیا ۔۔۔۔
ثاقب نے اسکی طرف جھک کر خوشامدی نظروں سے اسے دیکھا۔
نا بھئی ۔۔۔۔"اسنے سیڑھیوں سے اٹھ کر اپنا جمپر پیچھے سے جھا ڑا ۔۔۔اور دور سوکھے پتوّں میں اوندھی پڑی دو پتلے پٹوّں کی چپل پیر سے سیدھی کی۔پھر سر اٹھا کر بولی ۔
بہت ذیادہ آرٹسٹک ہے ایسی دُھن جو اس بانسری میں ہے مجھ سے نہ آسکے گی ۔مجھے معاف کردو ۔اور سنو اب شاید کوئی ڈرامہ کر بھی نہ سکوں ۔گاؤں میں دادی کے پاس جانا ہے پتہ نہیں کتنے دن لگ جائیں ۔
ساتھ بیٹھی سبھی لڑکیاں کھڑی ہوگئیں ۔شمشاد نے آگے بڑھ کر اسکے گلے میں باہیں ڈالیں تو وہ نہ جانے کیوں جھنجھلا گئی ۔۔۔
"ارے ایسا کیا ہے ۔۔مر تو نہیں گئی ہوں ،،ملیں گے پھر ۔۔۔"سویرا نے اسکی جھنجھلاہٹ صاف محسوس کر لی تھی ۔۔وہ اسکے ساتھ آگے بڑھ گئی عادل وہیں بیٹھا اسےُ دیکھتا رہا ۔۔۔دیکھتا رہا ۔
۔آرادھیا جب ہوسٹل کے روم میں آئی تو کمرے میں شدید گھٹن کا احساس ہوا ،پنکھا چلا نے سے بھی گھٹن کم نہیں ہوئی ۔ بس آس پاس گھومنے لگی اسُ نے آگے بڑھ کر چھوٹی سی کھڑ کی کا پٹ کھول دیا ۔کھڑکی کھُلتے ہی ایک نرم ہوا کا جھونکا کچھ دیر کھڑکی سے لگا اسکی طرف دیکھتا رہا پھر کود کر اندر آگیا ۔۔۔اور ایک نرم سی خنکی اسُ کے وجود میں بھر گئی ۔۔
جب دلوں میں درار پڑتی ہے تو فاصلے صدیوں پر محیط ہوجاتے ہیں ۔اور ان لمحوں کو بر سوں پر پھیلتے دیکھتی رہی ۔غلط سوچا تھا اسُ نے کہ آسمان پھٹ جائے گا ،وہ دب جائے گی ،ریزہ ریزہ ہوجائے گی ۔مگر یہ سب کچھ نہ ہوا ،نہ کوئی طوفان آیا ۔۔۔نہ آسمان گرا مگر پھر بھی وہ کسی بوجھ تلے دبی رہی ۔سمجھ میں نہیں آتا تھا وہ ذمہ دار کسے ٹہرائے ۔۔۔۔کو ۔۔۔۔شمشاد کو ۔۔یا حالات کو اپنے آپ کو ۔اُسکا گلہ درد کرنے لگتا ۔ایک ٹیس سی اٹھتی دل چاہتا کہ زور سے عادل کو پکارے ۔
٭٭٭٭٭
اپنی بوڑھی بجھتی ہوئی آنکھیں ان سب پر جما کر دیکھا تو بہت
تکلیف سی ہوئی ۔سب ہی بوڑھے ہوگئے تھے ۔۔بالوں کی سفیدی اپنے اپنے طریقے سےچھپا
رہے تھے ، چہرے پر بشاّش مسکراہٹ دکھانے کی ناکام کوشش ۔۔۔
رضیہ ،شمشاد ِ عظمیٰ ۔سویرا ، گجو دھر (گلوّ) اور دور کھڑا عا دل سب ہی جیسے ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے ۔ اور" کول" نظر آنے کی کوشش بھی کر رہے تھے
۔اُس نے اپنے کھچڑی ہوتے بالوں میں نادانستہ انگلیاں پھیریں ۔۔۔
کیا ہوا ہے کچھ بولو گے بھی ۔۔۔۔اُس نے رضیہ کی طرف گھور کے دیکھا ۔
کیا بتائیں آرادھی ۔۔۔ساری عمر یوں ہی نکلتی چلی گئی ۔۔جیسے کچھ کیا ہی نہیں ۔رضیہ نے سسکی سی لی ۔
اسکی بس یہی شکایت ہے ۔۔پتہ ہے آپا ۔۔؟ شمشاد نے آپا کہا تو تھوڑی دیر لگی سمجھنے میں ۔جب یہ کالج میں نئی نئی آئی تھی تو یہ انِ سب سے عمر میں بڑی تھی اسکو شر مندگی سے بچانے کے لئے ہی ان سب نے اسکو اپنے گروپ پ میں شامل کیا تھا اس کی خوشی کے لئے کوشاں رہتے تھے ۔ماسٹرز کے بعد سارا گروپ ٹوٹ سا گیا ۔
۔شمشاد امیر گھر کی لڑکی تھی بیباک بھی تھی جلد ہی سب سے گھل مل گئی پھر اچانک جب عادل اُس سے دور ہوا تواسُ ٹیس کو بھی بر داشت کر گئی ۔اسی کالج میں لکچرر شپ اور پھر اب وایئس پرنسپل بنی بیٹھی تھی ۔
وہ پھر بول پڑی
اسکو تو عمران کا غم کھا ئے جارہا ہے وہ تو مزے کر رہا ہے لندن میں اور یہ آہیں بھر بھر کر سارا ہندوستان گرم کیئے جارہی ہے ۔۔سب کھل کھلا کر ہنس دئے ۔ارادھیا نے غور سے رضیہ کو دیکھا ۔
تم کو معلوم ہے کہ عمران کی شادی کن حالات میں ہوئی ؟؟
ا س پر کتنا دباؤ تھا ۔چچا کی زمین جائیدات فیکٹری کی اسکو کتنی شدید ضرورت تھی ؟
چار بہنیں سب اس سے بڑی ۔کون دیتا اتنی بڑی قر بانی جو اسنے دی َ؟ تم کو تو اسکی عبادت کر نی چاہیئے ۔محبت میں آنکھیں کہاں دکھائی دیتی ہیں ۔۔۔بس درد کے دریا دکھتے ہیں ۔۔کبھی غور کرو اور سوچو تم خوش نصیب ہو ۔۔ایک محبت ساری زندگی تمہارے پاس رہی ۔۔۔قریب نہ سہی ۔۔دور سہی ۔۔۔
چائے کی پیالی میں ایک شو گر فری کی گولی ڈال کر اس نے اپنی طرف کھسکائی ۔رضیہ ۔۔۔کم از کم تم تو
اسکی قدر کرو نہ کہ یہ سستے ڈائیلاگ بول کر اسکی عظمت کم کردو ۔۔
وہ بھی یاد کر تا ہے تم کو ؟؟
پچھلے ماہ فون پر بات ہوئی تھی ۔رضیہ نے سر جھکائے ہوئے کہا
تب تو اور بھی خوشی کی بات ہے ۔ دل سے تو تم کو فراموش نہیں کیا نا ؟
کیا یہ کم ہے ؟
پاس کھڑی عظمیٰ اور سویرا بھی کافی دیر سے چپُ تھیں اردھیا کی بات غور سے سنُ رہی تھیں ۔گلوّ بھائی حسب ِ عادت میز پر رکھے لوازمات پر ہاتھ صاف کر رہے تھے وہ کچھ کہتے اس ُ سے پہلے اُس نے شمشاد سے پوچھ لیا ۔
شمشاد بیٹا ۔۔۔تم تو خوش ہو نا اپنے گھر میں َ
جی آپا ۔۔۔بہت "۔وہ چہکی ۔
تب آردھیا نے مڑ کر عادل کی طرف دیکھا ۔۔وہاں انُ آنکھوں میں سمندر کے سوا کچھ نہ تھا اور اچانک اسُے یہ احساس ہوا ۔۔۔بس ایک احساس ۔ کہ رنج کے اس سفر میں وہ تنہا نہیں ہے ۔
٭٭٭٭٭٭
رضیہ ،شمشاد ِ عظمیٰ ۔سویرا ، گجو دھر (گلوّ) اور دور کھڑا عا دل سب ہی جیسے ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے ۔ اور" کول" نظر آنے کی کوشش بھی کر رہے تھے
۔اُس نے اپنے کھچڑی ہوتے بالوں میں نادانستہ انگلیاں پھیریں ۔۔۔
کیا ہوا ہے کچھ بولو گے بھی ۔۔۔۔اُس نے رضیہ کی طرف گھور کے دیکھا ۔
کیا بتائیں آرادھی ۔۔۔ساری عمر یوں ہی نکلتی چلی گئی ۔۔جیسے کچھ کیا ہی نہیں ۔رضیہ نے سسکی سی لی ۔
اسکی بس یہی شکایت ہے ۔۔پتہ ہے آپا ۔۔؟ شمشاد نے آپا کہا تو تھوڑی دیر لگی سمجھنے میں ۔جب یہ کالج میں نئی نئی آئی تھی تو یہ انِ سب سے عمر میں بڑی تھی اسکو شر مندگی سے بچانے کے لئے ہی ان سب نے اسکو اپنے گروپ پ میں شامل کیا تھا اس کی خوشی کے لئے کوشاں رہتے تھے ۔ماسٹرز کے بعد سارا گروپ ٹوٹ سا گیا ۔
۔شمشاد امیر گھر کی لڑکی تھی بیباک بھی تھی جلد ہی سب سے گھل مل گئی پھر اچانک جب عادل اُس سے دور ہوا تواسُ ٹیس کو بھی بر داشت کر گئی ۔اسی کالج میں لکچرر شپ اور پھر اب وایئس پرنسپل بنی بیٹھی تھی ۔
وہ پھر بول پڑی
اسکو تو عمران کا غم کھا ئے جارہا ہے وہ تو مزے کر رہا ہے لندن میں اور یہ آہیں بھر بھر کر سارا ہندوستان گرم کیئے جارہی ہے ۔۔سب کھل کھلا کر ہنس دئے ۔ارادھیا نے غور سے رضیہ کو دیکھا ۔
تم کو معلوم ہے کہ عمران کی شادی کن حالات میں ہوئی ؟؟
ا س پر کتنا دباؤ تھا ۔چچا کی زمین جائیدات فیکٹری کی اسکو کتنی شدید ضرورت تھی ؟
چار بہنیں سب اس سے بڑی ۔کون دیتا اتنی بڑی قر بانی جو اسنے دی َ؟ تم کو تو اسکی عبادت کر نی چاہیئے ۔محبت میں آنکھیں کہاں دکھائی دیتی ہیں ۔۔۔بس درد کے دریا دکھتے ہیں ۔۔کبھی غور کرو اور سوچو تم خوش نصیب ہو ۔۔ایک محبت ساری زندگی تمہارے پاس رہی ۔۔۔قریب نہ سہی ۔۔دور سہی ۔۔۔
چائے کی پیالی میں ایک شو گر فری کی گولی ڈال کر اس نے اپنی طرف کھسکائی ۔رضیہ ۔۔۔کم از کم تم تو
اسکی قدر کرو نہ کہ یہ سستے ڈائیلاگ بول کر اسکی عظمت کم کردو ۔۔
وہ بھی یاد کر تا ہے تم کو ؟؟
پچھلے ماہ فون پر بات ہوئی تھی ۔رضیہ نے سر جھکائے ہوئے کہا
تب تو اور بھی خوشی کی بات ہے ۔ دل سے تو تم کو فراموش نہیں کیا نا ؟
کیا یہ کم ہے ؟
پاس کھڑی عظمیٰ اور سویرا بھی کافی دیر سے چپُ تھیں اردھیا کی بات غور سے سنُ رہی تھیں ۔گلوّ بھائی حسب ِ عادت میز پر رکھے لوازمات پر ہاتھ صاف کر رہے تھے وہ کچھ کہتے اس ُ سے پہلے اُس نے شمشاد سے پوچھ لیا ۔
شمشاد بیٹا ۔۔۔تم تو خوش ہو نا اپنے گھر میں َ
جی آپا ۔۔۔بہت "۔وہ چہکی ۔
تب آردھیا نے مڑ کر عادل کی طرف دیکھا ۔۔وہاں انُ آنکھوں میں سمندر کے سوا کچھ نہ تھا اور اچانک اسُے یہ احساس ہوا ۔۔۔بس ایک احساس ۔ کہ رنج کے اس سفر میں وہ تنہا نہیں ہے ۔
٭٭٭٭٭٭