خواب خواب منظر تھا ،دھیمے دھیمے بہتی تھی
راگنی ہواؤں کی ، را ت چاند بادل میں
عذرا قیصر نقو ی اردو ادب میں اپنے عہد کی شناخت ہیں ۔اس بات کو کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ وہ ایسے مضوعات و مسا ئل کو افسانوی اور شعری قالب میں ڈھال دیتی ہیں جو کسی اور کے بس کی بات نہیں وہ جتنی عظیم شاعرہ ہیں ،ادیبہ بھی ہیں ۔انُ کی تمام تر تحریریں فکر انگیز اور حساس ہیں اور وہ وہ ہر قدم پر ہمیں حیران کر دیتی ہیں ۔
عذرا قیصر نقوی کی شاعری ۔ انُ کے مضامین اور بے مثال افسانے کسی ایک عہد کے لیئے نہیں وہ ہر عہد کے لیئے ایک مثال ہیں ۔
جناب محمد طارق غاذی صاحب (آٹوا کینڈا ) لکھتے ہیں
"عذرا نقوی سواد آعظم کی شاعرہ ہیں ۔ادب میں وہ ایک ایسی جدا گانہ آواز کے طور پر سامنے آئی ہیں جو فقط نسوانی نہیں جو نسائی بھی ہے اور عمرانی بھی ،عصری بھی ہے افاقی بھی ،فکر انگیز بھی ہے اور تعمیری بھی ۔۔۔۔۔"
شمیم حنفی صاحب کہتے ہیں ۔
"ان کے بیشتر تجر بے کسی نہ کسی ایسی سچائی سے پر دہ اٹھا تے ہیں جو سرّی یا ما بعد الطبیعا تی نہیں ہے ،محض مفروضہ یا تخیل کی وضع کر دہ نہیں ہے اور جسے دیکھنے اور سمجھنے کے لئے ہمیں اپنے آپ سے اور اپنی دنیا سے دور جانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی صاف لفظوں مین کہا جائے تو عذرا کے تجربے ہمارے لیئے اپنے بھی تجر بے ہیں اور ایک جانی پہچانی سطح پر ہم سے دو چار ہوتے ہیں "
عذا قیصر نقوی صاحبہ خود یہ اعتراف کرتی ہیں کہ ان کے اندر یہ فنکا رانہ صلاحیت ان کی امیّ سیّدہ فرحت اور والد قیصر نقوی صاحب کی دین ہیں ۔وہ اپنی شاعری کے بارے میں کہتی ہیں َ
"میں نے شعر و ادب سے مہکے ہوئے ماحول میں ہوش سنبھالا وہ میری زندگی کا قیمتی سر مایہ ہے ۔بچپن کی یاد گلیوں میں جب گزر ہوتا ہے تو ایک گنگنا ہٹ سی ساتھ ساتھ چلتی ہے ۔یہ میری شاعرہ ماں سیدہ فر حت کے گنگنا نے کی آواز ہے ۔یہ گنگنا ہٹ بھی کبھی لوری کی خواب آگیں نغمگی ہوتی ہے تو کبھی کسی سبق آموز منظوم کہانی کا تسلسل ۔۔۔۔۔۔"
اپنی ایک نظم میں کہتی ہیں ۔۔دو لائینیں ملاحظہ کیجئے ۔
"تم کہتے ہو گیت کو گیت ہی رہنے دو
لفظ تو اڑتے بادل جیسے ہوتے ہیں
کیوں بادل کو باندھ کے شکلیں دیتی ہو
بس کوتیا تو ایک دھنک ہے بنتے مٹتے رنگوں کی ۔۔۔۔۔۔"
عذرا نقوی نے کئی ملکوں کے مسائل سامنے رکھ کر افسانے اور مضامین لکھے وہ انسان کو جاننے اور پرکھنے کا ہنر جانتی ہیں ۔وہ وقت کی نبض پہچانتی ہیں ۔ان کی نظمیں ۔غزلیں اور افسانے ملکوں ملکوں کا درد لیئے ہوئے سامنے آتے ہیں ۔
ان کا افسانہ " دو گز زمین " اسِ درد کی مثال ہے جو دیارِ غیر میں انھوں نے محسوس کیا ۔۔عذرا نقوی صاحبہ کی کتاب "آنگن جب پر دیس ہوا " کئی ہجرتوں کے دکھ سمیٹے ہوئے ہے ۔ان کی اس کتاب کے سلسلے میں جناب پروفیسر اقبال اعجاز بیگ صاحب کا کہنا ہے ۔
"افسانہ نگار عذرا نقوی ملکوں ملکوں گھومی ہیں اور دور دراز خطّوں کی سیا حت کی ہے ۔ہجرت کے تجربے اور اس کی تحّیر انگیزی سے گزری ہیں ۔ہجرت کر نے والے کر داروں کے در میان زندگی کی ہے ۔ان کر داروں کے حوالے سے تہذیبی ،فکری ،معاشی اور ثقافتی ڈھانچے کی شکست وریخت اور تازہ صورت پذ یری کا مطالعہ کیا ہے ،لہذٰ ا ان کے افسانوں کا موضوع ہجرت ہی قرار پا تا ہے ۔"
آنگن جب پر دیس ہوا ۔
الہ دین کا چراغ
گھر لوٹ جانے کا تصّور
اس ملبے میں ۔۔
یہ تمام افسانے وطن سے دوری اور وطن کی محبّت کے غم سے شرا بور ہیں ۔اپنی زمین سے چھُٹ کر دکھُ اٹھانے والوں کے درد کو عذرا نقوی نے بخوبی محسوس کیا اور قلم کیا ہے ۔
ان کی ایک اور کتاب کا ذکر نہ ہو تو ناانصافی ہوگی ۔ان کی کتاب "جہاں بنا لیں اپنا نشیمن "مختلف ملکوں میں بسے ہوئے خاندانوں کی زندگی کی بے حد مہارت سے عکاّ سی کی ہے ۔اس کتاب کے بارے میں مجتبیٰ حسین صاحب کہتے ہیں ۔
"خاکہ نگاری ایک ایسا ہنر ہے جیسے سیکھا نہیں جاتا بلکہ جب تک خاکہ نگار میں انسان دوستی ، مردم شناسی اور حالات و واقعات کو صحیع پس منظر میں دیکھنے کا جوہر نہ ہو ، اسُ کے خا کوں میں حقیقت کی عکّا سی نہین ہو سکتی ۔اس اعتبار سے عذرا نقوی کے خاکے ان کے منفرد طرزِ بیان اور باریک بینی کی عکا سی کرتے ہیں ۔مجھے عذرا نقوی کی کتاب پڑھ کر فر حت کا احساس ہوا ۔ہمارے ہم وطن جو بیرونی ملکوں میں مقیم ہیں انھیں اس کتاب کو اس لیئے بھی پڑھنا چاہیئے تاکہ انھیں اندازہ ہو کہ وطن سے دور زندگی کیسے گزار نی چاہیئے ۔"
عذرا نقوی صاحبہ کی شاعری ہو یا نثر انکا انداز منفرد ہے اور ان کی تمام کتابیں اپنی مثال آپ ہیں ۔عذرا نقوی کی کتابیں اردو ادب میں ایک بیش بہا اضافہ ہیں ۔آخر میں ایک نظم سنا نا چاہتی ہوں جو عذرا نقوی صاحبہ نے
راگنی ہواؤں کی ، را ت چاند بادل میں
عذرا قیصر نقو ی اردو ادب میں اپنے عہد کی شناخت ہیں ۔اس بات کو کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ وہ ایسے مضوعات و مسا ئل کو افسانوی اور شعری قالب میں ڈھال دیتی ہیں جو کسی اور کے بس کی بات نہیں وہ جتنی عظیم شاعرہ ہیں ،ادیبہ بھی ہیں ۔انُ کی تمام تر تحریریں فکر انگیز اور حساس ہیں اور وہ وہ ہر قدم پر ہمیں حیران کر دیتی ہیں ۔
عذرا قیصر نقوی کی شاعری ۔ انُ کے مضامین اور بے مثال افسانے کسی ایک عہد کے لیئے نہیں وہ ہر عہد کے لیئے ایک مثال ہیں ۔
جناب محمد طارق غاذی صاحب (آٹوا کینڈا ) لکھتے ہیں
"عذرا نقوی سواد آعظم کی شاعرہ ہیں ۔ادب میں وہ ایک ایسی جدا گانہ آواز کے طور پر سامنے آئی ہیں جو فقط نسوانی نہیں جو نسائی بھی ہے اور عمرانی بھی ،عصری بھی ہے افاقی بھی ،فکر انگیز بھی ہے اور تعمیری بھی ۔۔۔۔۔"
شمیم حنفی صاحب کہتے ہیں ۔
"ان کے بیشتر تجر بے کسی نہ کسی ایسی سچائی سے پر دہ اٹھا تے ہیں جو سرّی یا ما بعد الطبیعا تی نہیں ہے ،محض مفروضہ یا تخیل کی وضع کر دہ نہیں ہے اور جسے دیکھنے اور سمجھنے کے لئے ہمیں اپنے آپ سے اور اپنی دنیا سے دور جانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی صاف لفظوں مین کہا جائے تو عذرا کے تجربے ہمارے لیئے اپنے بھی تجر بے ہیں اور ایک جانی پہچانی سطح پر ہم سے دو چار ہوتے ہیں "
عذا قیصر نقوی صاحبہ خود یہ اعتراف کرتی ہیں کہ ان کے اندر یہ فنکا رانہ صلاحیت ان کی امیّ سیّدہ فرحت اور والد قیصر نقوی صاحب کی دین ہیں ۔وہ اپنی شاعری کے بارے میں کہتی ہیں َ
"میں نے شعر و ادب سے مہکے ہوئے ماحول میں ہوش سنبھالا وہ میری زندگی کا قیمتی سر مایہ ہے ۔بچپن کی یاد گلیوں میں جب گزر ہوتا ہے تو ایک گنگنا ہٹ سی ساتھ ساتھ چلتی ہے ۔یہ میری شاعرہ ماں سیدہ فر حت کے گنگنا نے کی آواز ہے ۔یہ گنگنا ہٹ بھی کبھی لوری کی خواب آگیں نغمگی ہوتی ہے تو کبھی کسی سبق آموز منظوم کہانی کا تسلسل ۔۔۔۔۔۔"
اپنی ایک نظم میں کہتی ہیں ۔۔دو لائینیں ملاحظہ کیجئے ۔
"تم کہتے ہو گیت کو گیت ہی رہنے دو
لفظ تو اڑتے بادل جیسے ہوتے ہیں
کیوں بادل کو باندھ کے شکلیں دیتی ہو
بس کوتیا تو ایک دھنک ہے بنتے مٹتے رنگوں کی ۔۔۔۔۔۔"
عذرا نقوی نے کئی ملکوں کے مسائل سامنے رکھ کر افسانے اور مضامین لکھے وہ انسان کو جاننے اور پرکھنے کا ہنر جانتی ہیں ۔وہ وقت کی نبض پہچانتی ہیں ۔ان کی نظمیں ۔غزلیں اور افسانے ملکوں ملکوں کا درد لیئے ہوئے سامنے آتے ہیں ۔
ان کا افسانہ " دو گز زمین " اسِ درد کی مثال ہے جو دیارِ غیر میں انھوں نے محسوس کیا ۔۔عذرا نقوی صاحبہ کی کتاب "آنگن جب پر دیس ہوا " کئی ہجرتوں کے دکھ سمیٹے ہوئے ہے ۔ان کی اس کتاب کے سلسلے میں جناب پروفیسر اقبال اعجاز بیگ صاحب کا کہنا ہے ۔
"افسانہ نگار عذرا نقوی ملکوں ملکوں گھومی ہیں اور دور دراز خطّوں کی سیا حت کی ہے ۔ہجرت کے تجربے اور اس کی تحّیر انگیزی سے گزری ہیں ۔ہجرت کر نے والے کر داروں کے در میان زندگی کی ہے ۔ان کر داروں کے حوالے سے تہذیبی ،فکری ،معاشی اور ثقافتی ڈھانچے کی شکست وریخت اور تازہ صورت پذ یری کا مطالعہ کیا ہے ،لہذٰ ا ان کے افسانوں کا موضوع ہجرت ہی قرار پا تا ہے ۔"
آنگن جب پر دیس ہوا ۔
الہ دین کا چراغ
گھر لوٹ جانے کا تصّور
اس ملبے میں ۔۔
یہ تمام افسانے وطن سے دوری اور وطن کی محبّت کے غم سے شرا بور ہیں ۔اپنی زمین سے چھُٹ کر دکھُ اٹھانے والوں کے درد کو عذرا نقوی نے بخوبی محسوس کیا اور قلم کیا ہے ۔
ان کی ایک اور کتاب کا ذکر نہ ہو تو ناانصافی ہوگی ۔ان کی کتاب "جہاں بنا لیں اپنا نشیمن "مختلف ملکوں میں بسے ہوئے خاندانوں کی زندگی کی بے حد مہارت سے عکاّ سی کی ہے ۔اس کتاب کے بارے میں مجتبیٰ حسین صاحب کہتے ہیں ۔
"خاکہ نگاری ایک ایسا ہنر ہے جیسے سیکھا نہیں جاتا بلکہ جب تک خاکہ نگار میں انسان دوستی ، مردم شناسی اور حالات و واقعات کو صحیع پس منظر میں دیکھنے کا جوہر نہ ہو ، اسُ کے خا کوں میں حقیقت کی عکّا سی نہین ہو سکتی ۔اس اعتبار سے عذرا نقوی کے خاکے ان کے منفرد طرزِ بیان اور باریک بینی کی عکا سی کرتے ہیں ۔مجھے عذرا نقوی کی کتاب پڑھ کر فر حت کا احساس ہوا ۔ہمارے ہم وطن جو بیرونی ملکوں میں مقیم ہیں انھیں اس کتاب کو اس لیئے بھی پڑھنا چاہیئے تاکہ انھیں اندازہ ہو کہ وطن سے دور زندگی کیسے گزار نی چاہیئے ۔"
عذرا نقوی صاحبہ کی شاعری ہو یا نثر انکا انداز منفرد ہے اور ان کی تمام کتابیں اپنی مثال آپ ہیں ۔عذرا نقوی کی کتابیں اردو ادب میں ایک بیش بہا اضافہ ہیں ۔آخر میں ایک نظم سنا نا چاہتی ہوں جو عذرا نقوی صاحبہ نے