Wednesday, May 29, 2019

تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے


تو دیکھ  کہ کیا رنگ ہے ۔۔۔
نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ
اب اسُ پر ندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے
تالاب کے کنارے  پیپل کے پیڑ تلے  اس کی جڑوں پر  بیٹھ کر اس نے بانسری کی لمبی تان لی ۔۔۔شام کا  سر مئی اندھیرا بانسر ی کی  آواز کے ساتھ چمک  اٹھا ۔۔۔کچّے آنگن میں  پازیب  کی جھنجھناہٹ سی ہوئی اور پھر ایک سریلی  سی چھن چھن  میں گلابی کبوتر جیسے پاؤں تھرکنے لگے ۔۔۔بانسری کی  دھُن   گونجتی رہی اور گلابی پاؤں تھرکتے رہے ۔۔۔اور پھر مغرب کی اذان کی آواز  سناٹوں کو چیرتی ہوئی ہر طرف چھاگئی ۔۔۔بانسری کی آواز خاموش ہوگئی پیروں نے تھرکنا بند کر دیا ۔۔اور اسُ نے بڑی عقیدت سے  چنری کا روبٹہ  سر پہ پھیلا لیا ۔
"بھئی پلیز ۔۔۔۔ایسے ڈرامے مجھ سے نہیں ہونگے ۔۔۔بی پریکٹل۔۔میں  نہ اتنی خوبصورت ہوں نہ میرے پیر کبوتر جیسے ہیں ۔۔۔" سب کھلکھلا کر ہنس پڑے ۔
"یار اب اتنا بھی کیا پریکٹل ہونا ۔۔۔کہانی اچھی ہے ۔۔اس پر کام کر کے تو دیکھو ۔۔مزا آئیگا ۔۔
"کوئی اور ؟؟
"کوئی اچھّا اسکرپٹ نہیں بچا ہے ۔۔سب ہوچکے ہیں ۔۔۔کسی اور کو لینا نہیں چاہتا   پلیز  آرادھیا ۔۔۔۔
عادل  نے اسکی طرف جھک کر خوشامدی نظروں سے اسے دیکھا۔
نا بھئی ۔۔۔۔"اسنے سیڑھیوں سے اٹھ کر اپنا  جمپر پیچھے سے جھا ڑا ۔۔۔اور دور سوکھے پتوّں میں اوندھی پڑی  دو پتلے پٹوّں  کی چپل پیر سے سیدھی  کی۔پھر سر اٹھا کر بولی ۔  
بہت ذیادہ  آرٹسٹک ہے ایسی دُھن جو اس بانسری میں ہے مجھ سے نہ آسکے گی ۔مجھے معاف کردو  ۔اور سنو اب شاید کوئی ڈرامہ کر بھی نہ سکوں ۔گاؤں میں دادی  کے پاس جانا ہے   پتہ نہیں کتنے دن لگ جائیں ۔
ساتھ بیٹھی سبھی لڑکیاں کھڑی ہوگئیں ۔شمشاد نے آگے بڑھ کر اسکے گلے میں باہیں  ڈالیں تو  اسے اچانک بے  تہا شہ گھٹن کا  احساس ہوا ۔
وہ نہ جانے کیوں جھنجھلا گئی ۔۔۔
"ارے ایسا کیا ہے ۔۔مر تو نہیں گئی ہوں ،،ملیں گے  پھر ۔۔۔"سویرا نے اسکی جھنجھلاہٹ صاف محسوس کر لی تھی ۔۔وہ اس کے ساتھ آگے بڑھ گئی عادل  وہیں بیٹھا اسےُ دیکھتا رہا ۔۔۔دیکھتا رہا  ۔
۔آرادھیا  جب ہوسٹل کے روم میں آئی تو کمرے میں ،پنکھا  چلا نے سے بھی گھٹن کم نہیں ہوئی  ۔ بس آس پاس گھومنے لگی  اسُ نے آگے بڑھ کر چھوٹی سی کھڑ کی کا پٹ کھول دیا ۔کھڑکی کھُلتے ہی ایک نرم ہوا کا جھونکا  کچھ دیر  کھڑکی سے لگا اس کی  طرف دیکھتا  رہا پھر کود کر اندر آگیا ۔۔۔اور ایک  نرم سی خنکی اسُ کے وجود میں بھر گئی ۔۔
جب دلوں میں دراڑ  پڑتی ہے  تو فاصلے صدیوں پر محیط ہوجاتے ہیں ۔اور ان لمحوں کو بر سوں پر پھیلتے دیکھتی رہی ۔غلط سوچا تھا اسُ نے کہ آسمان پھٹ جائے گا ،وہ دب جائے گی ،ریزہ ریزہ ہوجائے گی ۔مگر یہ سب کچھ نہ ہوا ،نہ کوئی طوفان آیا ۔۔۔نہ آسمان گرا  مگر پھر بھی وہ کسی بوجھ تلے دبی رہی ۔سمجھ میں نہیں آتا تھا وہ ذمہ دار کسے ٹہرائے عادل کو ۔۔۔۔شمشاد کو ۔۔یا حالات کو اپنے آپ کو ۔اُس کے  گلے  میں درد  ہو نے  لگتا ۔ایک ٹیس سی اٹھتی دل چاہتا کہ زور سے  عادل  کو پکارے ۔
ڈرامے سے دلچسپی عادل کی وجہ سے ہوئی تھی ۔انار کلی ڈرامہ جو کہ ہر اسٹیج پر ہزاروں  مرتبہ دہرا یا جا چکا ہے ،اس ڈرامے میں آرادھیا نے کمال ہی کر دیا ۔کالج میں ایک بار اسٹیج ہونے والا ڈرامہ کئی بار فر مائشوں سے دوسرے   کالج اور یونیورسٹی میں کر وایا گیا ۔
اکثر طلباء راستے کہیں ملتے تو اس کو "انار کلی " کہہ کر مخاطب کرتے ۔
جب ان  سب   کی ٹیم  کودوسرے شہروں میں  بلایاجانے لگا     تو ڈرامہ کلب کو چار چاند لگ گئے ۔دوستوں کے ساتھ زندگی پَر  کی طرح  ہلکی تھی  ۔۔دوستی دریا کی روانی ہے جو آہستہ آہستہ  بہتی ہے اور لہریں  ایک دوسرے سے گلے ملتی رہتی ہیں۔۔وہ  اپنے دریا میں بے حد خوش اور مطمین تھی۔۔۔ 
وہ ویسے بھی جینیس تھی کلاس میں ہمیشہ پوزیشن رہی ،جب ڈرامے کی طرف رخ کیا تب بھی تعلیمی   میدان میں کچھ کمی نہیں آئی ،چار برس بعد جب   اس کالج میں آخری سال تھا  تبھی شمشاد ڈرامہ کلب میں شامل ہوئی   نکھری نکھری   گلابی سی شمشاد امیرکبیر طبقے سے تعلق رکھتی تھی اور اسی لئے ہر لڑکا اسُ کے آگے پیچھے پھر نے لگا ۔۔
قیامت تو اسُ وقت ٹوٹی جب  عادل  نے اسکو  ٹیم میں ہی نہیں  رکھّا  بلکہ اپنی ہیروین کا رول آفر کیا ۔۔اور اسی پر بس نہیں ہوا ۔۔وہ دیکھ  رہی تھی عادل کتنا دور  ہوگیا تھا ۔۔۔بات کرنے میں بیزاری آگئی تھی ۔اسُ  کا چڑ چڑا پن  سب کو نظر آرہا تھا۔وہ جیسے اپنا دامن کھینچ  کر چھڑا  رہا تھا ۔۔جیسے یہ گہری دوستی اس کے لئے گھٹن پیدا  کر نے لگی تھی ۔۔
 
وہ انسان ہی تو تھی ۔۔
غیر مذہب بھی ۔۔۔لوگوں کی باتیں  اسُ کے لئے ستم بن گئیں ۔۔آخری سال ختم کر کے وہ گاؤں دادی کے پاس رہنے چلی گئی ۔
پھر سناُ کہ عادل نے بیاہ کر لیا ۔۔۔کوئی اور نہیں  اسُ              کی  دلہن وہی  ۔۔شمشاد تھی ۔
سر پہ یتیمی  آئی تو خواب  ہاتھ چھڑا کر دور جا بیٹھے  اب تو بس یہ دھُن تھی  کہ تعلیم مکمل ہو جائے تو گھر سے غریبی کا سا یہ     دور کروں ۔
اسی تگ و دو میں  کچھ چھؤٹی موٹی ملازمت بھی کی  آنکھوں میں جلنے والے  محبت کے دئے تو کب کے بجھ چکے تھے ۔
خاندانی ترکہ تو کچھ ملا نہین ماں نے اپنے زیور  نکالے  اور دونوں بہن بھائیوں  کو محرومیوں سے بچا لیا ۔ماں پنجاب  کے اچھے خاندان سے آئی تھیں   تو  زیور بھی کلو کے حساب سے ملا تھا   گزر بسر اچھّی ہونے لگی ۔  تعلیم بھی مکمل ہوگئی  
 اس کی  آنکھوں کے   سارے جگنو  بجھ چکُے تھے   اب تو اپنا اور بھائی  اور  ماں  کے شکم کی آگ کا سوال تھا  ۔ماں نے پڑھائی کسی طور چھوڑنے نہیں دی تھی بس یہی کرم ہوا ۔اسی لیئے آج اسیُ کالج میں وائس پرنسپل بنی بیٹھی تھی  ۔
پراُ نے دوستوں کو دیکھ کر جہاں خوشی کو احساس ہوا  ایک سنسناتا  ہوا تیر بھی دل  پر آلگا ۔ بالوں میں سفیدی نے ڈیرا جما لیا تھا ۔ایسا لگتا تھا کسی دوڑ میں حصہ لیا  ہے اور ساری طاقت اور خواہشات  اسی دوڑ  میں جھونک دیں  آگے نکل کر  ماں اور بھائی کا سہارا جو بننا تھا ۔

اپنی بوڑھی بجھتی ہوئی آنکھیں ان سب پر جما کر دیکھا تو بہت تکلیف سی ہوئی ۔سب ہی بوڑھے ہوگئے تھے ۔۔بالوں کی سفیدی اپنے اپنے طریقے سےچھپا رہے تھے ، چہرے پر بشاّش مسکراہٹ دکھانے کی ناکام کوشش ۔۔۔
رضیہ ،شمشاد ِ عظمیٰ ۔سویرا ، گجو دھر (گلوّ) اور دور کھڑا  عا دل سب ہی جیسے ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے ۔ اور" کول" نظر آنے کی کوشش بھی کر رہے تھے
۔اُس نے اپنے کھچڑی ہوتے بالوں میں نادانستہ انگلیاں پھیریں ۔۔۔
کیا ہوا ہے کچھ بولو گے بھی ۔۔۔۔اُس نے رضیہ کی طرف گھور کے دیکھا ۔
کیا بتائیں  آرادھی ۔۔۔ساری عمر یوں ہی نکلتی چلی گئی ۔۔جیسے کچھ کیا ہی نہیں ۔رضیہ نے سسکی سی لی ۔
اس کی بس یہی شکایت ہے ۔۔پتہ ہے آپا ۔۔؟ شمشاد نے "آپا "کہا تو تھوڑی دیر لگی سمجھنے    میں ۔
جب یہ کالج میں نئی نئی  آئی تھی تو یہ انِ سب سے عمر میں   بڑی  تھی  ا س کو  شر مندگی  سے بچانے کے لئے ہی  ان سب نے  اپنے گروپ پ میں شامل کیا تھا اس کی خوشی کے لئے کوشاں رہتے تھے  ۔
۔شمشاد امیر گھر کی لڑکی تھی بیباک بھی تھی جلد ہی سب سے گھل مل گئی پھر اچانک جب عادل      اردھیا  سے دور ہوا  تواسُ    نے اس ٹیس کو  کیسے بر داشت کیا یہ وہی جانتی تھی ۔۔۔اور اب  "آپا " ؟  اسُ کا دل چا ہا کہ زور سے قہقہ لگا ئے ۔۔۔
شمشاد پھر بول پڑی
اس کو تو عمران کا غم کھا ئے جارہا ہے  وہ تو مزے کر رہا ہے لندن میں اور یہ آہیں بھر بھر کر سارا ہندوستان گرم کیئے جارہی ہے ۔۔سب کھل کھلا کر ہنس دئے ۔ارادھیا  نے غور سے رضیہ کو دیکھا ۔
تم کو معلوم ہے کہ عمران کی شادی کن حالات میں ہوئی ؟؟
ا س پر کتنا دباؤ تھا ۔چچا کی زمین جائیداد  فیکٹری کی اس کو کتنی شدید ضرورت تھی ؟
چار بہنیں سب اس سے بڑی ۔کون دیتا اتنی بڑی قر بانی جو عمران نے دی َ؟ تم کو تو اس کی عبادت کر نی چاہیئے ۔محبت میں  بہت  کچھ  کھو نا  پڑتا  ہے ۔۔۔بس درد کے دریا دکھائی  دیتے ہیں ۔۔کبھی غور کرو اور سوچو تم خوش نصیب ہو ۔۔ایک محبت ساری زندگی تمہارے پاس رہی ۔۔۔قریب نہ سہی ۔۔دور سہی ۔۔۔
چائے کی پیالی میں ایک شو گر فری کی گولی ڈال کر اس  نے اپنی طرف کھسکائی ۔رضیہ کے کاندھے پر پیار سے ہاتھ رکھتے ہوئے  کہا ۔۔۔کم از کم تم تو
اس کی قدر کرو نہ کہ یہ سستے ڈائیلاگ بول کر  اس کی عظمت کم کردو ۔۔
وہ بھی یاد کر تا ہے تم کو ؟؟
پچھلے ماہ فون پر بات ہوئی تھی ۔رضیہ نے سر جھکائے ہوئے کہا
تب تو اور بھی خوشی کی بات ہے ۔ دل سے تو تم کو فراموش نہیں کیا نا ؟
کیا یہ کم ہے ؟
پاس کھڑی عظمیٰ اور سویرا بھی کافی دیر سے چپُ تھیں اردھیا  کی  بات غور سے سنُ رہی تھیں ۔گلوّ بھائی حسب ِ عادت میز پر رکھے لوازمات پر ہاتھ صاف کر رہے تھے 
اور سویرا تم بتاؤ ۔۔۔۔کیسی گزر رہی ہے ۔۔۔خوش ہونا ۔۔؟
ہاں ۔خوش تو ہوں  بس ایک پتھر سے سر پھوڑ رہی ہوں ۔عجیب بے حس سا انسان ہے  وسیم  خان ۔
ایسا نہ کہو وسیم تو بہت اچھّا ہے ۔۔سجتا ہے تمہارے ساتھ ۔۔
گلوّ بھائی نے  ہاتھ روک کر سویرا پر نظر ڈالی اور کھنکھار کر بولے ۔۔
اچھّا ہے ورنہ کالے پتھر سے  سر پھوڑتیں تو اور زیادہ تکلیف ہوتی ۔نثار احمد جو سویرا کے آگے پیچھے پھرا کر تا تھا اس کا سراپا سوچ کر سب ہنس پڑے ۔۔ماحول بدل گیا ۔۔
وہ کچھ اورکہتے اس ُ سے پہلے  اُس نے شمشاد سے پوچھ لیا ۔

شمشاد بیٹا ۔۔۔تم تو خوش ہو نا اپنے گھر میں َ
جی آپا ۔۔۔بہت "۔وہ چہکی ۔
تب آردھیا  نے مڑ کر عادل  کی طرف دیکھا ۔اسُ کے اس طرح دیکھنے پر  عادل نے گردن خم  کی اور مسکرا  دیا ۔اسُ کے چہرے پر گردِ ملال صاف نظر آرہی تھی  گہرے دکھ اور مایوسی  کا سایہ  آنکھوں سے عیاں تھا
۔وہاں انُ آنکھوں میں  سمندر کے سوا کچھ نہ تھا اور اچانک اسُے  یہ احساس ہوا۔۔بس ایک احساس ۔ کہ ۔ اس  دردمیں  وہ تنہا  نہیں تھی ۔۔۔
 ۔ ۔
٭٭٭٭٭٭