انجم ایک حقیقی تخلیق کار ہیں جنکا شعور کائناتی وسعت رکھتا ہے ۔ انکی تحریریں کی خصوصیت انکے اطراف کی زندگیاں اور اپنی مٹی سے ناطہ جو انھیں حقیقت نگاری کی جانب رواں رکھتا ہے ۔ اپنی مٹی سے جڑے رہنے اور مٹی کے ان ذروں سے کہانیوں کی کشید، تجسیم اور تخلیق ان کی تحریروں کو معنوی تکثریت دیتا ہے ۔ یوں انکی جستجو کےمختلف عکس کینوس پر بکھرتے ہیں تو ادب کی نئی کروٹیں قارئین ادب پر وا ہوتی ہیں ۔انجم کی افسانے میں شناخت کی واضح علامتیں ان کی تخلیقیت میں وہ تشکیلات ہیں جو حقائق کے وجدان اور مشاہدات کے دان کے باعث پڑھنے والے کو کہانی سے جوڑے رکھتے ہیں ۔انجم کہانی نویسی کے وقت حقیقت نگاری کے برش سے احساسات، اثرات اور کیفیات کو کچھ اسطرح پینٹ کرتی ہیں کہ وہ انکے تخلیقی عمل کو واضح کرتے چلے جاتے ہیں ۔ انکی تحریروں کے تمام سماجی نفسیاتی رنگ بڑے منطقی ربط کے ساتھ ایک ترتیب میں منعکس ہوتے ہیں ۔
افسانوی
تھیم، اسلوب، متن کردار اور پیغام پر انکا انظباط ایک ایسی حقیقت ہے جسکو جھٹلایا
نہیں جاسکتا ۔ انجم کے قلم کا سحر اپنے سادہ بیانیے اور مخصوص آئیڈیالوجی کی
بدولت اردو ادب میں ایک خاص مقام رکھتا ہے ۔ ان کے ہاں فن کے زندہ نامیاتی اور
متحرک رشتوں کی تلاش اور انھیں قاری تک ابلاغ و ترسیل کے مرحلے تک پہنچانے کی فنی
اہلیت عملی طور پر موجود ہے ۔
انجم کی
افسانوں میں عمدہ پیکر تراشی انکی خوبصورت زہنی تشکیل کی آئنہ دار ہے جو ان کو
دیگر نثر نگاروں سے ممتاز کرتی ہے ۔ ان کا قلم انسانوں کی روحانی اور ذہنی تربیت
بھی کررہا ہے ۔ انجم قدوائی اردو ادب کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں ۔ اور ہمیں اس اثاثے
کو اردو کی بقا اور سلامتی کے تناظر میں ممتاز حیثیت دینی ہوگی ۔انجم قدوائی کہانی
کے ابلاغ پر یقین رکھنے والے قبیلے سے ہیں۔ وہ انوکھے خیال کو کہانی کی بنیادی شرط
گردانتی ہیں۔ میں جب جب ان کے افسانے پڑھتا ہوں ایسا محسوس کرتا ہوں کہ یہ میرے
اردگرد میرے ماحول اور میری ثقافت کی کہانی ھے ۔ جہاں میں اپنے برزگوں کے عکس
بخوبی تلاش کرسکتا ہوں ۔ میں بلا تردد اور پورے انصاف کے ساتھ یہ بات کہ سکتا ہوں
کہ ان کے افسانوں کی روح عالمی ہجرت کے ستائے ان بے جان انسانوں کے جسموں کے لیئے
زندگی کی حرارت سے کم نہیں جو ہجرت کے دکھ اور اذیت کو اب تک سہ رہے ھیں ۔
پروردگار سے دعا ھے کہ ان کا قلم ان کی سوچ اور فکر اور ان کا وژن اردو افسانے کی
تاریخ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو
انجم قدوائی صاحبہ برصغیر کی جمودی
ادب میں زندگی کی حرارت پیدا کرنے والی ایک ایسی افسانہ نگار کے طور پر سامنے آئی
ہیں جنھیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے ظلم، جبر اور زیادتی کے ماحول کو جہنم کی
راہ دیکھائی ہے۔
”ان کے
افسانے پڑھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہم زندگی کا احترام اُس وقت تک نہیں
کرسکتے، جب تک کہ ”ہم جنس“ کا احترام کرنا نہ سیکھیں۔“
عصری افسانے کی مہا افسانہ
نگارخاتون محترمہ انجم قدوائی اپنی کہانیوں میں کرداروں کے ذریعے انسانی دماغ میں
پنپنے والی اُلجھنوں کو بظاہر نہ سلجھائے جانے والے رویے کے ذریعے سے دکھاتی ہیں۔ لیکن
انکا اسلوب اتنا ھی سیدھا، سچا، ہموار اور پررونق ہے کہ قاری ایک ہی نشست میں
انھیں پڑھنے کی لگن کرتا ہے۔
’’ان کے
افسانوں میں موجود کرداروں کی تصوراتی شبہہ اور انکی بولتی حقیقتیں برصغیر کے
معاشرے کی حقیقت کو کئی ضروری پہلوئوں سے ایک زندگی دیتی نظر آتی ہے ۔
انجم قدوائی کا دکھ، کرب زیست کے
مفلوک پہلووں کو ایک نئ حیات بخشتا نظر آتا ہے ۔ انکی تحریر ان کے ماحول کی تحریر
نہیں ہے بلکہ پورے برصغیر کے کینوس پر اس کے رنگ ںظر آتے ہیں۔
اردو زبان کی یہ لکھاری خاتوں، جن
کی تحریروں میں زندگی کی حقیقت پوشیدہ ہے۔ محبت، درد، اداسی، تلاش، جدائی، دکھ،
امید، خزاں اور بہار کے احساسات کانٹوں کی طرح پھولوں کے ہمراہ ان کی
تحریروں میں پروئے ہوئے ہیں۔ انجم بڑے اہتمام سے اپنی فکریاتی پیش قدمیاں عالمی
ادب میں جاری رکھے ہوئی ہیں ۔ جہاں بھوک افلاس اور ہجرت جیسے عنوانات پر انکی
دسترس عالمی توجہ کو اپنی جانب مبذول کررہی ہے ۔ آنے والے ادب میں انجم جس
سرعت سے اپنا مقام بنارہی ہیں اس سے کہیں بڑا مقام انکا منتظر ہے ۔
مجمل طور پر ان کے اردو افسانے کا
نسوانی لحن یہ ثابت کرتا ہے کہ عورت کی جذباتی دنیا، مرد کے مقابلے میں کہیں زیادہ
رنگا رنگ اور بھرپور ہے۔ جزئیات نگاری، خواتین افسانہ نگاروں کا وصفِ خاص ہے، نیز
نفسیاتی الجھیڑوں اور جذباتی تناﺅ کا بیان حد درجہ متنوع۔
میری دعا ہے کہ انجم قدوائی کا قلم
ظلم، جبر اور زیادتی کے خلاف پوری توانائی سے برستا رہے تاوقتیہکہ عورت اپنے وجود
کے احساس کے ساتھ معاشرتی بیٹریوں کو ادھیڑ کررکھ دے جسکا ذرہ زرہ معاشرتی اجارہ
داروں کی رگ و پے میں پیوست ہوجائے اور یوں ایک آذاد معاشرے کا قیام عمل میں آجائے
۔۔آمین
سیّد صداقت حسین ۔پاکستان
سیّد صداقت حسین ۔پاکستان