قبرنشین
آدھی رات ادِھر آدھی رات ادُھر ۔۔جب ساری روشنیاں بھُجھنے لگتیں تب کچھ سائے قبروں سے نکل کر سر گو شیوں میں باتیں کر تے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک سر سراتی ہوئی آواز راجہ یوسف علی خان کے گلے سے برامد ہوتی ۔
"اسلام علیکم بھیا حضور ! "
"واعلیکم ۔۔۔"نخووت سے جواب ملتا وہ بھی ادھورا ۔حالا نکہ اس سلام اور جواب ِ سلام کی کوئی اہمیت بھی نہ رہی تھی ۔
"یہ سارے پہرے دار کہاں غائب ہیں آج ؟؟ میرا حقّہ بھی تازہ نہیں کیا گیا "وہ خیالی حقّے کی منال منھ سے لگا لی ۔
"بھیّا حضور یہ اُن کے آرام کا وقت ہے ۔ہم تو بس ۔۔۔"
"آپکو ہمیشہ اِن غریب فقیر لوگوں کی ہی فکر رہی ۔ اسی لئے کچھ بن نہ سکے ۔"
یوسف علی نرمی سے مسکراتے اور اندھیرے کے اسُ پار کہیں پرانے دنوں کی طرف دیکھنے لگتے ۔یہ خاندانی قبرستان تھا ورنہ کہاں وہ اور کہاں بڑے بھیا ۔
"آپکو تو یاد نہیں ہوگا ۔کیا خوبصورت شامیں ہوتی تھیں ہماری ،آج امینہ بائی تو کل روشن آرا ۔مگر آپ کو کہاں فرصت تھی اپنی کتا بوں سے جو کبھی ہماری محفل میں آتے "
"بھیّا حضور وہ آپکے شوق تھے اور کتابیں ہمارا شوق ۔"
"کیا دیا آپکے شوق نے ؟ ایک معمولی زندگی گزاری آپ نے اور ہم ۔۔۔۔"
"جی ۔۔سچ کہا آپ نے ۔۔ہمارے نصیب میں آپ جیسی زندگی کہاں تھی " انکی آواز میں ٹوٹے ہوئے شیشے کی کھنک اور گہری اُداسی جھانک رہی تھی ۔
"آپ نے ہمیں اپنا خاندانی حق بھی نہ ملنے دیا ۔۔۔اور باقی چیزیں تو اضافی تھیں "
آدھی رات ادِھر آدھی رات ادُھر ۔۔جب ساری روشنیاں بھُجھنے لگتیں تب کچھ سائے قبروں سے نکل کر سر گو شیوں میں باتیں کر تے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک سر سراتی ہوئی آواز راجہ یوسف علی خان کے گلے سے برامد ہوتی ۔
"اسلام علیکم بھیا حضور ! "
"واعلیکم ۔۔۔"نخووت سے جواب ملتا وہ بھی ادھورا ۔حالا نکہ اس سلام اور جواب ِ سلام کی کوئی اہمیت بھی نہ رہی تھی ۔
"یہ سارے پہرے دار کہاں غائب ہیں آج ؟؟ میرا حقّہ بھی تازہ نہیں کیا گیا "وہ خیالی حقّے کی منال منھ سے لگا لی ۔
"بھیّا حضور یہ اُن کے آرام کا وقت ہے ۔ہم تو بس ۔۔۔"
"آپکو ہمیشہ اِن غریب فقیر لوگوں کی ہی فکر رہی ۔ اسی لئے کچھ بن نہ سکے ۔"
یوسف علی نرمی سے مسکراتے اور اندھیرے کے اسُ پار کہیں پرانے دنوں کی طرف دیکھنے لگتے ۔یہ خاندانی قبرستان تھا ورنہ کہاں وہ اور کہاں بڑے بھیا ۔
"آپکو تو یاد نہیں ہوگا ۔کیا خوبصورت شامیں ہوتی تھیں ہماری ،آج امینہ بائی تو کل روشن آرا ۔مگر آپ کو کہاں فرصت تھی اپنی کتا بوں سے جو کبھی ہماری محفل میں آتے "
"بھیّا حضور وہ آپکے شوق تھے اور کتابیں ہمارا شوق ۔"
"کیا دیا آپکے شوق نے ؟ ایک معمولی زندگی گزاری آپ نے اور ہم ۔۔۔۔"
"جی ۔۔سچ کہا آپ نے ۔۔ہمارے نصیب میں آپ جیسی زندگی کہاں تھی " انکی آواز میں ٹوٹے ہوئے شیشے کی کھنک اور گہری اُداسی جھانک رہی تھی ۔
"آپ نے ہمیں اپنا خاندانی حق بھی نہ ملنے دیا ۔۔۔اور باقی چیزیں تو اضافی تھیں "
"دیکھئے میاں ! حکومت کر نا ہماری قسمت میں
لکھا تھا ،آپکو راستے سے نہ ہٹا تا تو کوئی اور ذریعہ بن جاتا ۔اور آپکو بھی ہم نے
کہاں ہٹا یا ؟ آپ تو بزدلوں کی طرح محل سے بھاگ نکلے تھے ۔"
"اگر میں اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچا کر نہ نکلتا تو ہماری لاشیں نکلتیں اور خود کشی ہمیں منظور نہ تھی بھیّا حضور ! آپ نے تو حد ہی کر دی تھی ۔اگر ابّا حضور ہم کو ولیعہد بنا نا چہتے تھے تو ہمارا کیا قصور تھا ؟ "
"قصور آپکا ہی تھا میاں ! آپ اتنے نیک اور فرما بردار بنکر سامنے آتے تھے ۔۔۔۔"
"ہم نیک اور فرما بردار بنکر نہیں آتے تھے بھیّا حضور ابّا نے یہ خوبیاں ہم میں خود دیکھی تھیں ۔ہمیں کوئی لالچ نہیں تھا یہ ان ہی کا فیصلہ تھا ۔اور آپ نے بھی تو حد کر دی تھی ۔اب ہم اپنی زبان سے کیا کہیں " انھوں نے سر جھکا لیا ۔
"ہاں ہم نے حد کی تھی ۔ہمارے شوق تھے ۔تعلیم سے ہم دور تھے ۔ہم بازاری عورتوں کو گھر بلاتے تھے ہم ناچ رنگ پسند کرتے تھے ۔اور ابّا حضور ہمارے دشمن بن گئے "
"اور آپ ہمارے ۔۔۔۔اور ہمیں راتوں رات ریاست سے فرار ہو نا پڑا ۔لوگوں نے بتا یا کہ جب ہم آپکو نہیں ملے توآپ نے اپنے عتاب کا نشانہ ہمارے کمرے میں ٹنگی ہوئی شیر وانی کو بنا یا اور اپنی بندوق سے اسپر گولیاں چلائیں ۔بھیّا حضور ہم ۔۔۔۔" یوسف آبدیدہ ہوکر قبر سے اٹھکر ٹہلنے لگے ۔
"ہم آپ سے ان سب با توں کے لئے قطعی شر مندہ نہیں ہیں میاں ۔جو آپ کو ملنا تھا ملا جوہم نے حاصل کر نا تھا کیا ۔ "وہ اٹھکر ٹہلنے لگے پھر رُک کر بولے " ایک بات بتائیے آپ کی قبر میں اتنی روشنی اور خوشبو کسطرح ہے ؟"
یوسف نے سر اٹھا کر گہری سانس لی اور طما نیت بھری نظروں سے اپنی قبر کی طرف دیکھا ۔
"آج کسی بچّے نے قران ختم کیا ہوگا "
"انھ بچّے ۔۔۔۔۔۔۔۔" وہ جھنجھلا کر اٹھے صبح ہونے والی تھی اپنی بے رونق اجاڑ قبر کی طرف بڑھ گئے مگر انکی آنکھیں بھیگ رہی تھیں ۔انکی قبر پر بے رونقی اور اندھیرا بڑھ آیا تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
"اگر میں اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچا کر نہ نکلتا تو ہماری لاشیں نکلتیں اور خود کشی ہمیں منظور نہ تھی بھیّا حضور ! آپ نے تو حد ہی کر دی تھی ۔اگر ابّا حضور ہم کو ولیعہد بنا نا چہتے تھے تو ہمارا کیا قصور تھا ؟ "
"قصور آپکا ہی تھا میاں ! آپ اتنے نیک اور فرما بردار بنکر سامنے آتے تھے ۔۔۔۔"
"ہم نیک اور فرما بردار بنکر نہیں آتے تھے بھیّا حضور ابّا نے یہ خوبیاں ہم میں خود دیکھی تھیں ۔ہمیں کوئی لالچ نہیں تھا یہ ان ہی کا فیصلہ تھا ۔اور آپ نے بھی تو حد کر دی تھی ۔اب ہم اپنی زبان سے کیا کہیں " انھوں نے سر جھکا لیا ۔
"ہاں ہم نے حد کی تھی ۔ہمارے شوق تھے ۔تعلیم سے ہم دور تھے ۔ہم بازاری عورتوں کو گھر بلاتے تھے ہم ناچ رنگ پسند کرتے تھے ۔اور ابّا حضور ہمارے دشمن بن گئے "
"اور آپ ہمارے ۔۔۔۔اور ہمیں راتوں رات ریاست سے فرار ہو نا پڑا ۔لوگوں نے بتا یا کہ جب ہم آپکو نہیں ملے توآپ نے اپنے عتاب کا نشانہ ہمارے کمرے میں ٹنگی ہوئی شیر وانی کو بنا یا اور اپنی بندوق سے اسپر گولیاں چلائیں ۔بھیّا حضور ہم ۔۔۔۔" یوسف آبدیدہ ہوکر قبر سے اٹھکر ٹہلنے لگے ۔
"ہم آپ سے ان سب با توں کے لئے قطعی شر مندہ نہیں ہیں میاں ۔جو آپ کو ملنا تھا ملا جوہم نے حاصل کر نا تھا کیا ۔ "وہ اٹھکر ٹہلنے لگے پھر رُک کر بولے " ایک بات بتائیے آپ کی قبر میں اتنی روشنی اور خوشبو کسطرح ہے ؟"
یوسف نے سر اٹھا کر گہری سانس لی اور طما نیت بھری نظروں سے اپنی قبر کی طرف دیکھا ۔
"آج کسی بچّے نے قران ختم کیا ہوگا "
"انھ بچّے ۔۔۔۔۔۔۔۔" وہ جھنجھلا کر اٹھے صبح ہونے والی تھی اپنی بے رونق اجاڑ قبر کی طرف بڑھ گئے مگر انکی آنکھیں بھیگ رہی تھیں ۔انکی قبر پر بے رونقی اور اندھیرا بڑھ آیا تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭