کبھی لوٹ ائیں تو پو چھنا نہیں دیکھنا انھیں غور
سے
جنھیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور
ہے
مونگ کے لڈّو ۔
جب بھی وہ گھر لوٹ کر آتے تو اپنا پورا سفر تمام
جزّیات کے ساتھ سنایا کرتے تھے ۔
اس دن بھی جب وہ الہ آباد سے گھر آئے تو انکے
ہاتھ میں ایک نیا بیگ دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی ۔۔۔
"پرانا والا بیگ کہاں گیا ؟؟"
"ہاں ۔۔۔ہاں بتاؤنگا بعد میں ۔۔۔"وہ
پاس رکھّے لوٹے سے منھ ہاتھ دھونے لگے ۔۔اور پھر وضو کر کے نماز کے لئے چلے گئے ۔
شام ہوئی ،رات آئی جب عشاءکی نماز پڑھ کر کھانا
وانا کھاکر لیٹے تو میں جلدی سے ہاتھ دھو کر انکے پائتی بیٹھ گئی اور پیر دبانے
لگی ۔۔
"جیو بٹیا جیو ۔۔۔بہت درد محسوس ہورہا تھا
پنڈلیوں میں '
"اچھّا ۔۔۔اب بتایئے پورا قصّہ ۔۔کیسے گئے
کیا ہوا ۔۔اور پرانا والا بیگ ؟؟؟
میری سوئی پرانے بیگ پر ہی اٹک گئی تھی ۔
میری سوئی پرانے بیگ پر ہی اٹک گئی تھی ۔
"ہاں تو ہوا یہ کہ جب ہم جگدیش پور پہونچے
تو سائیکل بر کت کے گھر پر کھڑی کی
۔۔پھر بس اسٹینڈ گئے تو وہاں بہت بھیڑ ۔۔۔خیر اللہ اللہ کر کے بس ملی ۔۔آگے کی سیٹ
مل گئی تو آرام سے بیٹھ گئے ۔۔سلطا ن پور میں پھر بس بدلنا پڑی ۔۔۔وہاں بھی اچھّی
جگہ مل گئی ۔۔۔
الہ آباد آنے سے پہلے جب دریا کا پل آیا تو بس رک گئی ۔۔یہا ں سے وہاں تک بسوں ٹرک ِاور
گاڑیوں کی قطار لگی تھی ۔۔معلوم یہ ہوا کہ
پل کمزور ہے سواریاں ایک ایک کر کے جارہی ہیں ۔عصر کا وقت ہورہا تھا ۔۔۔تو ہم نے
سوچا ابھی بس نکلنے میں وقت لگے گا ۔تسبیح ہاتھ میں تھی ،اترے دریا کے پانی سے وضو کیا ۔۔وہیں کنارے پیڑ کے
نیچے نماز پڑھنے لگے ۔بہت عمدہ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی آرام سے نماز پڑھی کپڑے جھاڑ کر واپس آئے تو ہماری بس
ندارد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تب تک راستہ کھل گیا تھا ساری بسیں نکل گئی تھی ایک دو کھڑی تھیں
۔ہم نے نمبر دیکھا تو ہماری والی نہیں تھی ۔۔۔
"اور بیگ ؟؟؟؟"مجھ سے صبر نہیں ہوا
"ہاں بتا رہے ہیں ۔۔۔پوری بات تو سنو
۔۔۔۔پھر ایک ڈرایئور سے بات کی دوسری بس میں بیٹھ کر الہ آباد پہونچے ۔۔وہاں
اسٹینڈ پر جاکے دیکھا تو وہ بس بھی کھڑی تھی ۔۔مگر اسکے اندر ہمارا بیگ غا ئب
۔۔۔۔۔۔۔پیسے کپڑے اور تمہارا دیا ہوا لڈّو کا ڈبّہ ۔۔۔سب اسی میں تھا ۔۔"
مینے اپنی ہتھیلیوں کو دیکھا ۔۔مونگ کی دال کے لڈ"و بنانے میں جو جلن ہوئی تھی وہ یاد آئی ۔
مینے اپنی ہتھیلیوں کو دیکھا ۔۔مونگ کی دال کے لڈ"و بنانے میں جو جلن ہوئی تھی وہ یاد آئی ۔
"پھر کیا ہوا ابّی ؟؟"
"پھر کیا ۔۔۔۔نہیں ملا ۔۔"انکی آواز
نیند میں ڈوب گئی ۔ہلکے ہلکے خرّاٹے گونجنے لگے ۔۔میں انکے پیروں پر چادر ڈال کر
اپنے بستر پر آگئی ۔۔اسمیں میرا خط بھی تھا ۔۔۔باجی کے نام ۔۔۔یہ دکھ بھی کم نہیں
تھا ۔۔مگر وہ مطمین ،مزے کی نیند سورہے تھے ۔
کئی دن گزر گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک دن دیکھا باہر سے
ہنسے ہوئے چلے آرہے ہیں ۔۔ہاتھ میں وہی بیگ جو الہ آباد لے گئے تھے ۔۔
:ہائیں ۔۔۔؟؟ یہ کہاں سے ملا ۔۔۔؟"
مینے بھاگ کر بیگ تھام لیا ۔۔۔ابّی کا ایک جوڑا
کپڑا ۔میرا باجی کے نام خط ایک لفافے میں پیسے اور ایک ڈبّہ ۔۔جلدی سے کھولا تو
خالی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مینے ابّی کی طرف دیکھا تو عینک لگائے ایک خط پڑھ رہے تھے ۔پھر میری طرف بڑھا دیا ۔۔۔
مینے ابّی کی طرف دیکھا تو عینک لگائے ایک خط پڑھ رہے تھے ۔پھر میری طرف بڑھا دیا ۔۔۔
اسلام والیکم ۔
چور نہیں ہوں میں ۔بس الہ آباد میں رکی تو یہ بیگ لینے والا کوئی نہیں تھا میں اپنے ساتھ لے آیا ۔اسمیں آپکا پتہ مل گیا ۔کپڑے دیکھے سفید کرتا پیجامہ میں پہنتا نہیں ۔۔مگر لڈّو دیکھ کر نیت خراب ہوگئی سارے لڈّو ان چار دنوں میں کھا گیا ۔۔۔بیگ واپس کرنے آپکے گھر آؤنگا مگر آپکا سامنا نہیں کر سکتا ۔
چور نہیں ہوں میں ۔بس الہ آباد میں رکی تو یہ بیگ لینے والا کوئی نہیں تھا میں اپنے ساتھ لے آیا ۔اسمیں آپکا پتہ مل گیا ۔کپڑے دیکھے سفید کرتا پیجامہ میں پہنتا نہیں ۔۔مگر لڈّو دیکھ کر نیت خراب ہوگئی سارے لڈّو ان چار دنوں میں کھا گیا ۔۔۔بیگ واپس کرنے آپکے گھر آؤنگا مگر آپکا سامنا نہیں کر سکتا ۔
لڈّٗو کے لئے معافی چاہتا ہوں ۔
چور نہیں ہوں ۔