Friday, June 27, 2014

جہاں سے سلسلہ ٹو ٹا

جہاں سے سلسلہ ٹو ٹا ۔۔۔۔۔۔۔
ذکیہ نے دوسری بار چائے گرم کرنے سے منع کر دیا اور غصّے سے کمرے کا دروازہ زور سے بند کرکے چلی گئی ۔
"بس ۔۔لاونج میں بیٹھی بڑ بڑا رہی ہوگی ۔۔۔۔میں کیا کروں آخر کیسے اسکی بات ماںوں ؟؟؟ دل نہیں مانتا میر ا ۔۔۔۔۔"
بھیّا وہا ں دور گاؤں میں بیٹھے کیسے کیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہونگے ۔۔۔میں سیدھے جاکر ان سے کہوں ۔۔مجھے  جایئداد کا حصہّ چاہیئے ۔۔۔۔۔کو ئی با ت ہوئی ؟ ذمہ داری تو کوئی اٹھائی نہیں اور حصْہ مانگنے کھڑا ہو جاؤن ؟؟ کیسی عورت ہے یہ ۔۔۔مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں یہاں آرہا تھا بھیا مجھے رخصت کرتے وقت کیسے کپکپا رہے تھے جیسے انکے  جسم کا کوئی حصّہ کاٹ کر الگ کیا جارہا ہو ۔۔۔مگر میں خوش تھا میری بر سوں کی آرزو پو ری ہو رہی تھی ،میں اپنی خوشی میں انکے درد کو محسوس ہی نہیں کر سکا تھا ۔۔۔مگر آج جب سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ جدائی کا درد مینے بھی سہا ہے بس ۔۔ ۔۔اس وقت مجھے اظہار کرنا نہ آیا ۔۔
ذکیہ تو میری زندگی میں بہت بعد میں آئی وہ بھی یہاں پڑھائی کے دوران ، دوستی کیسے ہوئی ۔۔یہ اب پرانی بات تھی اب تو میری دو بیٹیوں کی ماں تھی ،ہماری دوستی کب کی ختم ہوچکی تھی ۔۔اب ہم صرف شوہر بیوی ہی رہ گئے تھے ،ہمارے درمیان روز جھگڑے ہوتے ،ہنگامہ آرائی ہوتی اور بچیّاں سہم سہم کر کونوں میں دبک جاتین ۔انکے معصوم چہروں پر اک خوف اک بے چارگی ہوتی ۔میں اور ذکیہ کبھی اس بات کی کوئی فکر ہی نہیں کرتے تھے ۔اسکا اصرار تھا کہ میں ہندوستان جاکر بھیّا سے اپنے ابّا کی جایئداد میں حصّہ مانگو ں ۔۔۔اور میں جو اتنے عرصے میں بھیّا کی خیریت کے لیئے ایک فون نہ کر سکا  وہ اچانک ۔۔۔۔۔کبھی کبھی میں اپنے آپ کو بیحد مجبور محسوس کرتا کتنے سارے خرچ منھ پھاڑے ہمارے سامنے کھڑے رہتے ہم دونون ملازمت کرتے تھے مگر ہم نے اپنی ضرورتوں کو اس حد تک بڑھا لیا تھا کہ پوری ہی نہیں ہوتی تھیں ۔۔۔۔
آخر کار میں چل پڑا ۔۔۔۔جس راہ پر وہ مجھے چلا نا چاہتی تھی ۔
بھیّا کو فون کر کے جب مینے اپنے آنے کی خبر دی تو وہ جزبات کی شدّت سے کچھ بول ہی نہ سکے ۔۔۔خاموش رہ گئے ۔۔۔
"بھیّا ۔۔؟ آپ سن رہے ہیں نہ ؟ "
"آں ۔۔۔ہاں تم سچ مچ آرہے ہو نا ؟؟؟" انکی آواز بھّرا رہی تھی ۔
میں پہونچ گیا تھا ۔۔۔انکے شفیق سینے سے لپٹا ہوا تھا انکے جسم سے مجھے ابّا اور امّاں دونوں کی خوشبو آرہی تھی ۔۔وہ ایک دم ابّا جیسے ہو گئے تھے ویسے ہی سفید بال ویسے ہی دبلے پتلے ۔۔۔چہرے پر وقت سے پہلے ویسی ہی جھرّیاں ۔۔۔
گاؤں کی سڑکیں بن گئی تھیں ۔دونوں طرف گھنے گھنے پیڑ ہمارے ساتھ تالیاں بجاتے ہوئے چل رہے تھے ۔نہر کی پلیا پکّی بن گئی تھی چوڑی سی نہر کا پانی شل شل بہہ رہا تھا بچپن کی کتنی ساری یادیں آئیں اور پانی کے ریلے میں ساتھ ساتھ بہہ رہی تھیں  ،میں راستے کی خوشبو سے مد ہوش بیٹھا رہا ،بھیّا مجھ سے باتیں کر رہے تھے  ذکیہ اور بچّوں کے بارے میں ،میرے کام کے بارے میں اور نہ جانے کیا کیا ۔۔مجھے جیسے کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا تھا ۔۔میں جیسے کسی اور ہی دنیا میں پہونچ گیا تھا ۔ذرّے ذرّے میں اپنا بچپن ہنستا  کھیلتا دکھائی دے رہا تھا ۔۔دل کی تمام گر ہیں ایک ایک کر کے کھل رہی تھیں میں جیسے اپنے آپ سے آذاد ہو رہا تھا ۔۔۔جی رہا تھا ۔۔۔ہنس رہا تھا ،رو رہا تھا ۔
گاؤں پہونچ کر ہم سب سے پہلے امّاں اور ابّا کی قبر پر گئے بر سوں بعد میں ان کی یاد میں سسک سسک کر رویا ،مینے کبھی انھیں یاد نہیں کیا تھا ۔۔کبھی انکی یاد میں اس طرح آنسو ں نہیں بہائے تھے مگر آج جزبات کی شدّت میں روتے روتے میری ہچکیاں بندھ گئی تھیں ،بھیْا میری پیٹھ سہلا رہے تھے وہ مجھے سہارا دیے ہوئے تھے ۔
گھر کی ڈیوڑھی میں داخل ہوا تو ایک نرم اور خنک سی خوشبو نے میرے گال سہلا دیئے ۔۔۔
فیّاض دوڑ کر مجھ سے لپٹ گیا ،برامدے میں پلنگ پر ریاض با ہیں پھیلائے بیٹھا   ہوا تھا ۔۔۔مینے حیرت سے بھیّا کی جانب نگاہ کی تو وہ نظریں چرا گئے ۔مینے دوڑ کر اسے لپٹا لیا ۔۔گل مہر کے نیچے بھابی الگنی پر کپڑے پھیلا رہی تھیں ۔مجھے دیکھا تو جلدی سے آکر مجھے گلے سے لگا لیا ۔بھابی کے سامنے کے بال سفید ہورہے تھے ،رنگ کمھلا گیا تھا ،ہاتھوں کی نسیں ابھر آئی تھیں ۔۔میری نگا ہوں میں وہ خوبصورت ،حسین ترین لڑ کی آگئی جو چند برس پہلے پائلیں چھنکاتی اس آنگن میں اتری تھی ،گو را رنگ ،سیاہ گھٹاؤں جیسے بال ۔۔گہرا کاجل لگائے سیاہ شرارتی سی آنکھیں ۔۔۔میں اس ادھیڑ عمر عورت میں اپنی بھابی ڈھونڈ رہا تھا ۔
دونوں بچوں نے مجھے گھیر رکھّا تھا ،بھابی نے دستر خوان بھر دیا تھا ،بھّیا محبّت سے مجھے ایک ایک چیز کھلا رہے تھے ۔۔
باہر کسی نے آواز دی تو بھیّا اٹھکر باہر نکل گئے ۔۔پھر ایک لڑکا مجھے بلانے آگیا ۔۔باہر "ہری " کھڑا تھا ۔۔میرا پیارا دوست ۔۔۔میرا یار "ہری پرشاد 'اور میں اسکی طرف بے تابی سے بڑھا تو وہ جھجھک گیا ۔۔۔شاید میری ظاہری حیثیت سے ۔۔۔مینے اسے ایک دم گلے سے لگا لیا ۔۔
"کیسے ہو دوست ۔۔۔؟؟"
"بہت اچھّا کہیو کہ آئے گیئو ۔۔۔۔۔۔بہت یاد کیا تمکا "
اسنے کا ندھے پر پڑے انگوچھے سے اپنے آنسو پوچھے اور معصوم سی ہنسی ہنس پڑا ۔۔۔
ہم دیر تک ٹہل ٹہل کر باتیں کرتے رہے اسی نے ریاض کے پیر کی چوٹ کا بتایا ۔وہ پیڑ سے گر گیا تھا شروع میں گاؤں میں ہی علاج ہوا ،شہر جاکر علاج کروانا بھیّا کے لیئے مشکل تھا ،اسکے بعد وہ گئے بھی مگر ریاض کا چلنا پھر نا ایک طرح بند ہی ہوگیا ۔۔ایک آپریشن کی ضرورت تھی ۔۔
"اچھّا کیہو تم آئے گئے ،بھیّا بے چارے اکیلے پڑ گئے ہیں "
دوسرے دن اور کئی لوگون سے ملا ،ریاض کی میڈیکل رپورٹس دیکھیں ۔بھیْا سے شہر جاکر رہنے اور اسکے مستقل علاج کی بات بھی کی ،
رات ہو رہی تھی ،باہر کسی نے آواز دی بھیّا اٹھکر باہر چلے گئے ،
میں اپنی چائے کی پیالی لیئے ہوئے ہی باہر نکل آیا ۔وہ گاؤن کی طرف چلے گئے تھے ہری باہر کھڑا تھا مجھے دیکھ کر ہنس پڑا ۔
"کیا ہوا یا ر ۔۔۔۔"
"تمکا ہوش کہا ں رہت ہے ؟ مار چائے پہ چائے اوکے بعد بیڑی سٹا سٹ مارے رہت ہو ۔۔۔
اسنے میری بہترین برانڈ کی سگریٹ کا "بیڑی " کہہ کر ستیا ناس کیا ۔میں کھلکھلا  کے ہنس پرا ۔۔ایک مدّت کے بعد یہ ہنسی مجھے نصیب ہوئی تھی ۔۔۔مینے دل ہی دل میں ذکیہ کو شکریہ ادا کیا کہ اسنے مجھے میری جنّت لو ٹا ئی ۔
"ہوا کیا ہے ؟
"دین محمد منسی  جی یاد ہیں تمکا ؟؟ اور وہی جون بڑے مالک کے جمانے ما حساب کتاب دیکھت رہیں ؟؟بڑے مالک انکا گھر بنوائے دیہن رہے ۔۔کھیت بھی دیہن رہیں ۔۔ابھہن ہم انکا دیکھا ۔۔پلیا پہ بیٹھے گر گرائے رہت رہیں ۔۔انکا اٹھائے کے تپتا پہ بیٹھا وا  چاہ پلاوا ۔۔تب جائے کے جان ماں جان آئی ۔مار روت رہیں ۔۔۔"
"مگر کس لیئے ۔۔۔۔؟"
"ارے میاں بی بی ما ں لڑائی ہوت رہی لڑکے انکا مارن ہیں لاٹھی سے ۔۔بچراؤ کا ۔۔"
"مگر کیوں مارا انکو ۔۔؟
" وہی جایئداد کی کھاتر مارن ہیں ۔۔او تو سنت منئی ہیں لڑ کے چاہت ہیں گھر دوار سب لڑکن کے نام لکھ دیں ،بے چارے دین محمد کا کا تو اب کچھ نہیں بولت ہیں ۔۔۔پہلے کتنا ہنست بولت رہے مگر جانت ہو؟دکھ کا  جھیلئے کا یہو ایک طریکہ ہے کہ آدمی چپ ہو جات ہے ۔۔مگر چپ رہے یا بولئے ۔۔دکھی آدمی تو دکھی رہت ہے نا ۔۔۔"
وہ کیا فلسفہ کہہ گیا تھا ۔۔۔۔جسنے میرے اندر ایک تڑپ سی پیدا کر دی ۔۔۔بھیْا بھی تو بہت چپ رہنے لگے ہیں ۔
دین محمد کا بھی وہی قصّہ تھا جو عام طور سے جائیداد والوں کا ہوتا ہے ،وہ جانتے تھے کہ اگر گھر بچّو ں کے نام لکھا تو وہ اسے بیچ کر اڑا دینگے سر چھپانے کی جگہ بھی نہ بچے گی ،اسی لیئے بچْون سے مار کھاتے رہے مگر گھر اور کھیت انکے نام نہیں کیا ۔۔۔
اور میں کیا کر رہا ہوں ؟؟؟
میرا سر چکرانے لگا تھا ۔۔میں اندر آکر چپ چاپ لیٹ گیا ۔۔نہ جانے کب سوگیا ۔۔۔
صبح روز کی طرح خوبصورت تھی میں بھابی اور بچوں کے ساتھ باتیں کر رہا تھا تب بھیّا آگئے اور کمرے کی طرف جاتے ہوئے بولے
"یہاں آؤ میا ں ۔۔" وہ ابّا کی طرح بلانے لگے تھے مجھے ۔۔۔میں جاکر انکے پاس بیٹھ گیا انھوں نے ایک فایئل میرے سامنے رکھ دی ۔۔
'یہ سب تمہارا حصّہ ہے اسمیں سارے کاغذات ہیں ادھے کھیت دو باغ اور اس گھر میں بھی تمہارا حصّہ بنتا ہے ۔رہنے تو تم آؤگے نہیں ۔۔۔تو اگر مناسب سمجھو تو گھر کا حصّہ مجھے فروخت کر دو ،باقی جیسا تم چاہو ۔۔۔"
میں اٹھکر انکے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔اور انکے ہاتھ تھام لیئے ۔
'بھیْا یہ سب مجھے نہیں چاہیے ۔۔۔بس میں جب بھی آؤں میرا پلنگ اپنے پلنگ کے ساتھ بچھوا ئےگا ۔۔بھابی یونہی میرے لاڈ اٹھائین ۔۔۔بچّے ایسے ہی مجھ سے فر مایشیں کریں ۔۔۔اور مجھے کچھ بھی نہیں چاہیئے ۔۔۔اور بھیا ۔۔۔اگر کچھ حصّہ فروخت ہوسکے تو کر دیجئے اور ریاض کا علاج ٹھیک سے کروا دیجئے ۔۔۔میرے ویزے کی مدّت ختم ہو رہی ہے چھّٹی بھی ۔۔۔۔۔ورنہ میں خود ۔۔اگر یہاں ممکن نہ ہو تو میرے پاس آجایئے ۔۔۔"میری آواز بھّرا نے لگی تو بھیّا نے فائیل رکھ کر مجھے گلے لگا لیا ،ہم دونوں بھائی جدائی کے صدمے سے نڈھال بیٹھے رہے ۔
چلتے وقت  کچھ چیزیں نکال کر مینے اپنا والٹ ہری کی قمیص کی جیب میں زبر دستی ڈالا وہ ناراض ہونے لگا ۔۔
"ای کا کرت ہو ؟؟؟؟"
"پلیز ۔۔۔۔کچھ مت بولو ہری ۔۔۔۔۔":
اسنے بھیگی بھیگی نظروں سے مجھے دیکھا پھر ایک جیسے دو انگوچھے نکالے "

ای دیکھو ہم تمرے واسطے لائے رہیئے ۔۔۔"مینے اسکے ہاتھ سے ایک انگوچھا لیکر چوم کر آنکھو ں سے لگایا اور گلے میں ڈال کر آنسو بھری ہسنی ہنس دیا ۔۔۔
میں واپس لندن آگیا ہوں
۔۔سب کچھ ویسے ہی ہے ۔مینے اپنی بیٹیون کو وہاں کے قصّے سنائے بھا بی کی دی ہوئی سو غاتیں انھیں اور ذکیہ کو دیں مگر ذکیہ نے وہ ساری کی ساری  پھینک دیں۔میں کیا کہتا ۔۔۔۔؟ میرا لڑنے کو  بھی دل نہیں چاہتا ۔۔بس ہری کی ایک بات میرے ساتھ چلتی ہے کہ دکھ کا مقابلہ کر نے کا ایک یہ بھی طریقہ ہے کہ آدمی چپ ہو جائے ۔۔۔۔اور میں چپ ہو گیا ہوں ۔۔۔۔